আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ২৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھے جائیں
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا : جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو، ٢- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے، ٣- ہمام نے عاصم ٢ ؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٤١ (٨٣٨) ، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٢) ، و ٩٣ (١١٥٥) ، ( تحفة الأشراف : ١١٧٨) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں ہوتی) وضاحت : ١ ؎ : جو لوگ دونوں ہاتھوں سے پہلے دونوں گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے ، شریک عاصم بن کلیب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں جب کہ شریک خود ضعیف ہیں ، اگرچہ اس روایت کو ہمام بن یحییٰ نے بھی دو طریق سے ایک محمد بن حجاوہ کے طریق سے اور دوسرے شقیق کے طریق سے روایت کی ہے لیکن محمد بن حجادہ والی سند منقطع ہے کیونکہ عبدالجبار کا سماع اپنے باپ سے نہیں ہے اور شقیق کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ وہ خود مجہول ہیں۔ ٢ ؎ : ہمام نے اسے عاصم سے نہیں بلکہ شقیق سے روایت کیا ہے اور شقیق نے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے گویا شقیق والی سند میں دو عیب ہیں : ایک شقیق خود مجہول ہیں اور دوسرا عیب یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اس میں وائل بن حجر (رض) کا ذکر نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (882) // ضعيف سنن ابن ماجة (185) ، ضعيف أبي داود (181 / 838) ، الإرواء (357) ، المشکاة (898) ، ابن خزيمة (626 و 629) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 268
حدیث نمبر: 268 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ . زَادَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: وَلَمْ يَرْوَ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ مِثْلَ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ: يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. وَرَوَى هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ هَذَا مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ کی حدیث غریب ہے ہم اسے ابوالزناد کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن سعید مقبری سے بھی روایت کی گئی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٤١ (٨٤٠) ، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩١) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٨٦٦) ، مسند احمد (٢/٣٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٤ (١٣٦٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جس طرح اونٹ بیٹھنے میں پہلے اپنے دونوں گھٹنے رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی چاہتا ہے کہ رکوع سے اٹھ کر جب سجدہ میں جانے لگے تو پہلے اپنے دونوں گھٹنے زمین پر رکھے ، یہ استفہام انکاری ہے ، مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرے ، بلکہ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ رکھے مسند احمد ، سنن ابی داود اور سنن نسائی میں یہ حدیث اس طرح ہے «إذا سجد أحدکم فلايبرك كما يبرک البعير وليضع يديه قبل رکبتيه» یعنی جب تم میں سے کوئی سجدے میں جائے تو وہ اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے ، یہ اونٹ کی بیٹھک کے مخالف بیٹھک ہے ، کیونکہ اونٹ جب بیٹھتا ہے تو اپنے گھٹنے زمین پر پہلے رکھتا ہے اور اس کے گھٹنے اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جیسا کہ لسان العرب اور دیگر کتب لغات میں مرقوم ہے ، حافظ ابن حجر نے سند کے اعتبار سے اس روایت کو وائل بن حجر کی روایت جو اس سے پہلے گزری صحیح تر بتایا ہے کیونکہ ابن عمر (رض) کی ایک روایت جسے ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے اور بخاری نے اسے معلقاً موقوفاً ذکر کیا ہے اس کی شاہد ہے ، اکثر فقہاء عموماً محدثین اور اسی کے قائل ہیں کہ دونوں گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھے جائیں ، ان لوگوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے ، شوافع اور احناف نے جو پہلے گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں اس حدیث کے کئی جوابات دیئے ہیں لیکن سب مخدوش ہیں ، تفصیل کے لیے دیکھئیے تحفۃ الاحوذی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (899) ، الإرواء (2 / 78) ، صفة الصلاة // (122) بلفظ قريب //، صحيح أبي داود (789) ، ولفظه أتم صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 269
حدیث نمبر: 269 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَبْرُكُ فِي صَلَاتِهِ بَرْكَ الْجَمَلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ پیشانی اور ناک پر کیا جاتا ہے
ابو حمید ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، وائل بن حجر اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے، اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہوگا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٠ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سجدے میں پیشانی اور ناک کے زمین پر رکھنے کے سلسلے میں تین اقوال ہیں ١- دونوں کو رکھنا واجب ہے ، ٢- صرف پیشانی رکھنا واجب ہے ، ناک رکھنا مستحب ہے ، ٣- دونوں میں سے کوئی بھی ایک رکھ دے تو کافی ہے دونوں رکھنا مستحب ہے ، دلائل کی روشنی میں احتیاط پہلے قول میں ہے ، ایک متبع سنت کو خواہ مخواہ پخ نکالنے کے چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (723) ، المشکاة (801) ، صفة الصلاة // 123 // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 270
حدیث نمبر: 270 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ أَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَسْجُدَ الرَّجُلُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ، فَإِنْ سَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ دُونَ أَنْفِهِ، فَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: يُجْزِئُهُ، وَقَالَ غَيْرُهُمْ: لَا يُجْزِئُهُ حَتَّى يَسْجُدَ عَلَى الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کیا جائے تو چہرہ کہاں رکھا جائے
ابواسحاق سبیعی سے روایت ہے کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- براء (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں وائل بن حجر اور ابوحمید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں کانوں کے قریب ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٢٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ابوحمید (رض) کی پچھلی حدیث میں گزرا کہ نبی اکرم ﷺ نے سجدے میں اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل رکھے یعنی دونوں صورتیں جائز ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 271
حدیث نمبر: 271 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: أَيْنَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ وَجْهَهُ إِذَا سَجَدَ ؟ فَقَالَ: بَيْنَ كَفَّيْهِ . وَفِي الْبَاب عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ تَكُونَ يَدَاهُ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے
عباس بن عبدالمطلب (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات جوڑ بھی سجدہ کرتے ہیں : اس کا چہرہ ١ ؎ اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، جابر اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١) سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٥ (٨٩١) سنن النسائی/التطبیق ٤١ (١٠٩٥) و ٤٦ (١٠٩٨) سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٥) (تحفة الأشراف : ٥١٢٦) ، مسند احمد (١/٢٠٦، ٢٠٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور چہرے میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (885) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 272
حدیث نمبر: 272 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ، وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدْمَاهُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْعَبَّاسِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩) ، و ٣٤ (٨١٠) ، و ١٣٧ (٨١٥) ، و ١٣٨ (٨١٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٥ (٨٨٩) ، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤) ، و ٤٣ (١٠٩٧) ، و ٤٥ (١٠٩٩) ، و ٥٦ (١١١٢) ، و ٥٨ (١١١٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٣) ، ( تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) ، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (884) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 273
حدیث نمبر: 273 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں اعضا کو الگ الگ رکھنا
عبداللہ بن اقرم خزاعی (رض) کہتے ہیں کہ میں مقام نمرہ کے «قاع» مسطح زمین میں اپنے والد کے ساتھ تھا، تو (وہاں سے) ایک قافلہ گزرا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، میں آپ ﷺ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا جب آپ سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن اقرم (رض) کی حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف داود بن قیس کی سند سے جانتے ہیں۔ عبداللہ بن اقرم خزاعی کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو ہم نہیں جانتے، ٢- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ اور عبداللہ بن ارقم زہری نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ابوبکر صدیق کے منشی تھے، ٣- اس باب میں ابن عباس، ابن بحینہ، جابر، احمر بن جزئ، میمونہ، ابوحمید، ابومسعود، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، براء بن عازب، عدی بن عمیرہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- احمر بن جزء نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی ہیں اور ان کی صرف ایک حدیث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨١) ، ( تحفة الأشراف : ٥١٤٢) ، مسند احمد (٤/٣٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (881) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 274
حدیث نمبر: 274 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَقْرَمِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَمَرَّتْ رَكَبَةٌ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي قَالَ: فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ وأَريْ بَيَاضِهِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ بُحَيْنَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَحْمَرَ بْنِ جَزْءٍ، وَمَيْمُونَةَ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي أُسَيْدٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حَدِيثٌ وَاحِدٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، وَلَا نَعْرِفُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَال: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّهْرِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَاتِبُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں اعتدال
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ١ ؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢١ (٨٩١) ، ( تحفة الأشراف : ٢٣١١) ، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٥، ٣٨٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہیئت درمیانی رکھے اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلوؤں سے جدا ہوں اور پیٹ بھی رانوں سے جدا ہو۔ گویا زمین اور بدن کے اوپر والے آدھے حصے کے درمیان فاصلہ نظر آئے۔ ٢ ؎ : کتے کی طرح سے مراد ہے کہ وہ دونوں کہنیاں زمین پر بچھا کر بیٹھتا ہے ، اس طرح تم سجدہ میں نہ کرو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (891) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 275
حدیث نمبر: 275 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، وَأَنَسٍ، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الِاعْتِدَالَ فِي السُّجُودِ وَيَكْرَهُونَ الِافْتِرَاشَ كَافْتِرَاشِ السَّبُعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں اعتدال
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو، تم میں سے کوئی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٨ (٥٣٢) ، والأذان ١٤١ (٨٢٢) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٨ (٨٩٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ٨٩ (١٠٢٩) ، والتطبیق ٥٠ (١١٠٤) ، و ٥٣ (١١١١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢١ (٨٩٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٣٧) ، مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ١٩١، ٢٠٢، ٢١٤، ٢٣١، ٢٧٤، ٢٧٩، ٢٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥ ٧ (١٣٦١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (892) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 276
حدیث نمبر: 276 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطَنَّ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ بَسْطَ الْكَلْبِ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنا اور پاؤں کھڑے رکھنا
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں کو (زمین پر) رکھنے اور دونوں پاؤں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٨٨٧) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، صفة الصلاة // 126 // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 277 عامر بن سعد سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں کو (زمین پر) رکھنے کا حکم دیا ہے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ انہوں نے اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عامر بن سعد سے مرسلاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں (زمین پر) رکھنے اور دونوں قدموں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے ٢ ؎، ٢- یہ مرسل روایت وہیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ٣ ؎، اور اسی پر اہل علم کا اجماع ہے، اور لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (حسن) (اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یہ روایت عامر کی اپنی ہے ، ان کے باپ سعد (رض) کی نہیں ، اس لیے یہ مرسل روایت ہوئی۔ ٢ ؎ : دونوں ہاتھوں سے مراد دونوں ہتھیلیاں ہیں اور انہیں زمین پر رکھنے سے مراد انہیں دونوں کندھوں یا چہرے کے بالمقابل رکھنا ہے اور دونوں قدموں کے کھڑے رکھنے سے مراد انہیں ان کی انگلیوں کے پیٹوں پر کھڑا رکھنا اور انگلیوں کے سروں سے قبلہ کا استقبال کرنا ہے۔ ٣ ؎ : ان دونوں روایتوں کا ماحصل یہ ہے کہ معلی بن اسد نے یہ حدیث وہیب اور حماد بن مسعدہ دونوں سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے محمد بن عجلان سے اور محمد بن عجلان نے محمد بن ابراہیم سے اور محمد بن ابراہیم نے عامر بن سعد سے روایت کی ہے ، لیکن وہیب نے اسے مسند کردیا ہے اور عامر بن سعد کے بعد ان کے باپ سعد بن ابی وقاص کے واسطے کا اضافہ کیا ہے ، جب کہ حماد بن مسعدۃ نے بغیر سعد بن ابی وقاص کے واسطے کے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ، حماد بن مسعدہ کی مرسل روایت وہیب کی مسند روایت سے زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اور بھی کئی لوگوں نے اسے حماد بن مسعدہ کی طرح مرسلاً ہی روایت کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن بما قبله (277) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 278
حدیث نمبر: 277 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَيْنِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَيْنِ مُرْسَلٌ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، وَهُوَ الَّذِي أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَاخْتَارُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو ( زمین پر ) رکھنے کا حکم دیا ہے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ انہوں نے اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عامر بن سعد سے مرسلاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں ( زمین پر ) رکھنے اور دونوں قدموں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے ۲؎، ۲- یہ مرسل روایت وہیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۳؎، اور اسی پر اہل علم کا اجماع ہے، اور لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَيْنِ مُرْسَلٌ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، وَهُوَ الَّذِي أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَاخْتَارُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب رکوع یا سجدے سے اٹھے تو کمر سیدھی کرے
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے، جب سجدہ کرتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر برابر ہوتی تھی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں انس (رض) سے بھی حدیث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢١ (٧٩٢) ، و ١٢٧ (٨٠١) ، و ١٤٠ (٨٢٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٨ (٤٧١) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٧ (٨٥٢) ، سنن النسائی/التطبیق ٢٤ (١٠٦٦) ، و ٨٩ (١١٤٧) ، والسہو ٧٧ (١٣٣١) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٨١) ، مسند احمد (٤/٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٠ (١٣٧٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر صریحاً دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا ایک ایسا رکن ہے جسے کسی بھی حال میں چھوڑنا صحیح نہیں ، بعض لوگ سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدے کے لیے جھک جاتے ہیں ، اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بغیر سیدھے بیٹھے دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی طرح ان میں تسبیحات کا اعادہ اور ان کا تکرار مسنون نہیں ہے تو یہ دلیل انتہائی کمزور ہے کیونکہ نص کے مقابلہ میں قیاس ہے جو درست نہیں ، نیز رکوع کے بعد جو ذکر مشروع ہے وہ رکوع اور سجدے میں مشروع ذکر سے لمبا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (798) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 279 اس سند سے بھی حکم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- براء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 280
حدیث نمبر: 279 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
حکم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود امام سے پہلے کرنا مکروہ ہے
براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی پیٹھ (سجدے کے لیے) اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ ﷺ سجدے میں نہ چلے جاتے، آپ سجدے میں چلے جاتے تو ہم سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- براء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، معاویہ، ابن مسعدہ صاحب جیوش، اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی اہل علم کہتے ہیں یعنی : جو امام کے پیچھے ہو وہ ان تمام امور میں جنہیں امام کر رہا ہو امام کی پیروی کرے، یعنی اسے امام کے بعد کرے، امام کے رکوع میں جانے کے بعد ہی رکوع میں جائے اور اس کے سر اٹھانے کے بعد ہی اپنا سر اٹھائے، ہمیں اس مسئلہ میں ان کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٥٢ (٦٩٠) ، و ٩١ (٧٤٧) ، و ١٣٣ (٨١١) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٩ (٤٧٤) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٧٥ (٦٢٠) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٧٢) ، مسند احمد (٤/٢٩٢، ٣٠٠، ٣٠٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (631 - 633) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 281
حدیث نمبر: 281 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْجُدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْجُدَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَابْنِ مَسْعَدَةَ صَاحِبِ الْجُيُوشِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ يَقُولُ: أَهْلُ الْعِلْمِ إِنَّ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ إِنَّمَا يَتْبَعُونَ الْإِمَامَ فِيمَا يَصْنَعُ، لَا يَرْكَعُونَ إِلَّا بَعْدَ رُكُوعِهِ وَلَا يَرْفَعُونَ إِلَّا بَعْدَ رَفْعِهِ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدوں کے درمیان اقعاء مکروہ ہے
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے علی ! میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں، اور وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں۔ تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء ١ ؎ نہ کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ہم اسے علی کی حدیث سے صرف ابواسحاق سبیعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے حارث سے اور حارث نے علی سے روایت کی ہے، ٢- بعض اہل علم نے حارث الاعور کو ضعیف قرار دیا ہے ٢ ؎، ٣- اس باب میں عائشہ، انس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٢ (٨٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٠٤١) (ضعیف) (سند میں حارث اعور سخت ضعیف ہے) وضاحت : ١ ؎ : اقعاء کی دو قسمیں ہیں : پہلی قسم یہ ہے کہ دونوں سرین زمین سے چپکے ہوں اور دونوں رانیں کھڑی ہوں اور دونوں ہاتھ زمین پر ہوں یہی اقعاء کلب ہے اور یہی وہ اقعاء ہے جس کی ممانعت آئی ہے ، دوسری قسم یہ ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان قدموں کو کھڑا کر کے سرین کو دونوں ایڑیوں پر رکھ کر بیٹھے ، اس صورت کا ذکر ابن عباس کی حدیث میں ہے جس کی تخریج مسلم اور ابوداؤد نے بھی کی ہے ، اور یہ صورت جائز ہے ، بعض نے اسے بھی منسوخ شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ابن عباس کو اس نسخ کا علم نہ ہوسکا ہو ، لیکن یہ قول درست نہیں کیونکہ دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق ممکن ہے ، صحیح قول یہ ہے کہ اقعاء کی یہ صورت جائز ہے اور افضل سرین پر بیٹھنا ہے اس لیے کہ زیادہ تر آپ کا عمل اسی پر رہا ہے اور کبھی کبھی آپ نے جو اقعاء کیا وہ یا تو کسی عذر کی وجہ سے کیا ہوگا یا بیان جواز کے لیے کیا ہوگا۔ ٢ ؎ : حارث اعور کی وجہ سے یہ روایت تو ضعیف ہے مگر اس باب کی دیگر احادیث صحیح ہیں جن کا ذکر مولف نے «وفی الباب» کر کے کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (894 و 895) // ضعيف الجامع الصغير (6400) ، المشکاة (903) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 282
حدیث نمبر: 282 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ ضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحَارِثَ الْأَعْوَرَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الْإِقْعَاءَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقعاء کی اجازت
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس (رض) سے دونوں قدموں پر اقعاء کرنے کے سلسلے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے، تو ہم نے کہا کہ ہم تو اسے آدمی کا پھوہڑپن سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا : نہیں یہ پھوہڑپن نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام میں بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ اقعاء میں کوئی حرج نہیں جانتے، مکہ کے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، لیکن اکثر اہل علم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کو ناپسند کرتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٣٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٣ (٨٤٥) ، ( تحفة الأشراف : ٥٧٥٣) ، مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (791) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 283
حدیث نمبر: 283 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، قَالَ: هِيَ السُّنَّةُ ، فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ، قَالَ: بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَرَوْنَ بِالْإِقْعَاءِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ، قَالَ: وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الْإِقْعَاءَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني» اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے نقصان کی تلافی فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما کہتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٥ (٨٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٨٩٨) ، ( تحفة الأشراف : ٥٤٧٥) ، مسند احمد (١/٣١٥، ٣٧١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے ، بعض روایات میں «وأرفعني» کا اضافہ ہے اور بعض میں مختصراً «رب اغفرلي» کے الفاظ آئے ہیں ، دوسری روایات میں الفاظ کچھ کمی بیشی ہے ، اس لیے حسب حال جو بھی دعا پڑھ لی جائے درست ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (898) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 284
حدیث نمبر: 284 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے
اس سند سے بھی کامل ابو العلاء سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اسی طرح علی (رض) سے بھی مروی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کامل ابو العلاء سے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے، ٣- شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ان کی رائے ہے کہ یہ فرض اور نفل دونوں میں جائز ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 285
حدیث نمبر: 285 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق يرون هذا جائزا في المكتوبة والتطوع، وروى بعضهم هذا الحديث عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ مُرْسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں سہارا لینا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم ﷺ سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں (تکلیف کی) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا : گھٹنوں سے (ان پر ٹیک لگا کر) مدد لے لیا کرو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے (یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے) جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «سمی عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (اسی طرح) روایت کی ہے، ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٩ (٩٠٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٥٨٠) ، مسند احمد (٢/٣٤٠) (ضعیف) (محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواة نے مرسلاً ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے : ضعیف سنن ابی داود : ج ٩/رقم : ٨٣٢) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (160) // عندنا في ضعيف أبي داود برقم (192 / 902) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 286
حدیث نمبر: 286 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اشْتَكَى بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا، فَقَالَ: اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ اللَّيْثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے سے کیسے اٹھا جائے
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤٥ (٦٧٧) ، و ١٢٧ (٨٠٣) ، و ١٤٢ (٨٢٣) ، و ١٤٣ (٨٢٤) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٢ (٨٤٢، ٨٤٣، ٨٤٤) ، ( تحفة الأشراف : ١١١٨٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس بیٹھک کا نام جلسہ استراحت ہے ، یہ حدیث جلسہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے ، جو لوگ جلسہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں ، لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائق التفات نہیں ، نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2 / 82 - 83) ، صفة الصلاة // 136 // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 287
حدیث نمبر: 287 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَكَانَ إِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ: إِسْحَاق وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا، وَمَالِكٌ يُكْنَى أَبَا سُلَيْمَانَ.
তাহকীক: