আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ৪৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو قرآن پڑھنا
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رات میں نبی اکرم ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے ؟ کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری، تو میں نے کہا : اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٧) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٣ (١٦٦٣) ، (التحفہ : ١٦٢٩٧) ، مسند احمد (٦/١٤٩) ، ویاتي عند المؤلف في ثواب القرآن ٢٣ (برقم : ٢٩٢٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1291) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 449
حدیث نمبر: 449 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ فَقَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ بِالْقِرَاءَةِ وَرُبَّمَا جَهَرَ فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو قرآن پڑھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٨٠٢) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دھرا دھرا کر پڑھتے رہے۔ اور وہ آیت کریمہ یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم» (سورة المائدة : ) ، ( رواہ النسائی وابن ماجہ ) ، اے رب کریم ! اگر تو ان ( میری امت کے اہل ایمان ، مسلمانوں ) کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں ، ( سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا ) اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 448
حدیث نمبر: 448 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَيْلَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل گھر میں پڑھنے کی فضلیت
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو، سوائے فرض کے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- زید بن ثابت (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عمر بن خطاب، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعد، اور زید بن خالد جہنی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٣١) ، والأدب ٧٥ (٦١١٣) ، والاعتصام ٣ (٧٢٩٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٨١) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٤) ، و ٣٤٦ (١٤٤٧) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٦٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ٣٦٩٨) ، موطا امام مالک/الجماعة ١ (٤) ، مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٤، ١٨٦، ١٨٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٦ (١٤٠٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1301) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 450
حدیث نمبر: 450 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفْضَلُ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَرَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَرْفُوعًا وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَالْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل گھر میں پڑھنے کی فضلیت
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو ١ ؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٥٢ (٤٣٢) ، والتہجد ٣٧ (١١٨٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٧٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٣) ، و ٣٤٦ (٤٨ ١٤) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٥٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٦ (١٣٧٧) ، ( تحفة الأشراف : ٨٠١٠) ، وکذا (٨١٤٢) ، مسند احمد (٢/٦، ١٦، ١٢٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد نوافل اور سنن ہیں۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں ، اور جن گھروں میں نوافل وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ قبرستان کے مثل ہیں ، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل و عبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (958 و 1302) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 451
حدیث نمبر: 451 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: