আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ৪২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
عنبسہ بن ابی سفیان (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور اس کے بعد کی چار رکعتوں پر محافظت کی تو اللہ اس کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- قاسم دراصل عبدالرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے، وہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے مولیٰ اور ثقہ ہیں، شام کے رہنے والے اور ابوامامہ کے شاگرد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١٥٨٦١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1160) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 428
حدیث نمبر: 428 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ الشَّأْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ هُوَ: ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَال: سَمِعْتُ أُخْتِي أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْقَاسِمُ هُوَ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ شَأْمِيٌّ، وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنا
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان : مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- علی (رض) کی حدیث حسن ہے۔ ٢- اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں : ان کے (علی کے) قول سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر ما تقدم برقم ٤٢٤، وما یأتی برقم ٥٩٨ (تحفة الأشراف : ١٠١٤٢) (حسن) (سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : سلام کے ذریعہ فصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چاروں رکعتیں دو دو رکعت کر کے ادا کرتے تھے ، اہل ایمان کو ملائکہ مقربین کا تابعدار اس لیے کہا گیا ہے کہ اہل ایمان بھی فرشتوں کی طرح اللہ کی توحید اور اس کی عظمت پر ایمان رکھتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1161) ، وهو من تمام الحديث المتقدم (425) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 429
حدیث نمبر: 429 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ هُوَ: الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاخْتَارَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لَا يُفْصَلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ إِسْحَاق: وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُّدَ، وَرَأَى الشافعي، وَأَحْمَدُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب حسن ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد دو رکعت اور قرات
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ ﷺ کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے، ٢- ابن مسعود (رض) کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٢ (١١٦٦) (تحفة الأشراف : ٩٢٧٨) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دونوں سنتوں میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1166) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 431
حدیث نمبر: 431 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی سنتیں گھر پر پڑھنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے مغرب کے بعد دونوں رکعتیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں رافع بن خدیج اور کعب بن عجرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٤٢٥ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1158) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 432
حدیث نمبر: 432 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی سنتیں گھر پر پڑھنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے : دو رکعتیں ظہر سے پہلے ١ ؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ٣٤ (١١٨٠) ، ( تحفة الأشراف : ٧٥٣٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کی ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت پڑھنا ثابت ہے ، مگر یہاں دو کا ذکر ہے ، حافظ ابن حجر نے دونوں میں تطبیق یوں دی ہے کہ آپ کبھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور کبھی چار۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (440) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 433
حدیث نمبر: 433 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ كَانَ يُصَلِّيهَا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی سنتیں گھر پر پڑھنا
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے اسی کے مثل روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ٦٩٥٩) (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 434
حدیث نمبر: 434 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد چھ رکعت نفل کے ثواب کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) سے مروی ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ، ٢- ابوہریرہ (رض) کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٣ (١١٦٧) (تحفة الأشراف : ١٥٤١٢) (ضعیف جداً ) (سند میں عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم نہایت ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، ابن ماجة (1167) // ضعيف سنن ابن ماجة (244) ، الضعيفة (469) ، الروض النضير (719) ، التعليق الرغيب (1 / 204) ، ضعيف الجامع الصغير (5661) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 435
حدیث نمبر: 435 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کے بعد دو رکعت پڑھنا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں علی اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- عبداللہ بن شقیق کی حدیث جسے وہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ المسافرین ١٦ (٧٣٠) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٠ (١٢٥١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٤٧، ١٦٤٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٢٠٧) ، مسند احمد (٦/٣٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 436
حدیث نمبر: 436 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ ثِنْتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْفَجْرِ ثِنْتَيْنِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز دو دو رکعت ہے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن عبسہ (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٢، ٤٧٣) ، والوتر ١ (٩٩٠، ٩٩١، ٩٩٣) ، والتہجد ١٠ (١١٣٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٦٨-١٦٧٥) ، و ٣٥ (١٦٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠) ، ( تحفة الأشراف : ٨٢٨٨) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣) ، مسند احمد (٢/٥، ٩، ١٠، ٤٩، ٥٤، ٦٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : رات کی نماز کا دو رکعت ہونا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل نماز بھی دو دو رکعت ہو ، جبکہ ایک حدیث میں رات اور دن کی نماز دو دو رکعت بھی آیا ہے ، دراصل سوال کے جواب میں کہ رات کی نماز کتنی کتنی پڑھی جائے ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے ، اصل بات یہ ہے کہ نفل نماز عام طور سے دو دو رکعت پڑھنی افضل ہے خاص طور پر رات کی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1319 و 1320) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 437
حدیث نمبر: 437 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی فضلیت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣) ، سنن ابی داود/ الصوم ٥٥ (٢٤٢٩) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٤٣ (١٧٤٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٢٩٢) ، مسند احمد (٣٤٢، ٣٤٤، ٥٣٥) ، (ویأتي عند المؤلف في الصوم ٤٠ برقم ٧٤٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1742) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 438
حدیث نمبر: 438 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَبِلَالٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو بِشْرٍ اسْمُهُ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَاسْمُ أَبِي وَحْشِيَّةَ: إِيَاسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی رات کی نماز کی کیفیت
ابوسلمہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی ؟ کہا : رسول اللہ ﷺ تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ١ ؎، آپ (دو دو کر کے) چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو، پھر مزید چار رکعتیں (دو ، دو کر کے) پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو ٢ ؎، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ فرمایا : عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ١٦ (١١٤٧) ، والتراویح ١ (٢٠١٣) ، والمناقب ٢٤ (٣٥٦٩) ، صحیح مسلم/المسافر ١٧ (٧٣٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٦ (١٣٤١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٣٩) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٦ (١٦٩٨) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٢ (٩) ، مسند احمد (٦/٣٦، ٧٣، ١٠٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح گیارہ رکعت ہے ، اور تہجد اور تراویح دونوں ایک ہی چیز ہے۔ ٢ ؎ : یہاں «نہی» ممانعت مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔ ٣ ؎ : دل نہیں سوتا کا مطلب ہے کہ آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا ، کیونکہ دل بیدار رہتا تھا ، یہ نبی اکرم ﷺ کے خصائص میں سے ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو رات کے آخری حصہ میں اپنے اٹھ جانے کا یقین ہو اسے چاہیئے کہ وتر عشاء کے ساتھ نہ پڑھے ، تہجد کے آخر میں پڑھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صلاة التراويح، صحيح أبي داود (1212) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 439
حدیث نمبر: 439 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَأَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی۔ تو جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب:نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
ابن شہاب سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوحمزہ ضبعی کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ١٠ (١١٣٨) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٤) ، ( تحفة الأشراف : ٦٥٢٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : پیچھے حدیث رقم ٤٣٩ میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے ، تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ، اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں ، کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے ، یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی ، جس نے جیسا دیکھا بیان کردیا ، لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1205) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 442
حدیث نمبر: 442 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨١ (١٣٦٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٩٥١) ، مسند احمد (٦/٣٠، ١٠٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ایسا کبھی کبھی کرتے تھے ، یہ سب نشاط اور چستی پر منحصر تھا ، اس بابت یہ نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں میں تعارض ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1213) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 443 سفیان ثوری نے بھی یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے،
حدیث نمبر: 443 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،وَرَوَاهُ سفيان الثوري، عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا،
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 444
حدیث نمبر: 444 حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ مَا رُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ، وَأَقَلُّ مَا وُصِفَ مِنْ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ تِسْعُ رَكَعَاتٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہوجاتا تو دن میں (اس کے بدلہ میں) بارہ رکعتیں پڑھتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢-
حدیث نمبر: 445 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر رات کو جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ١ ؎ آسمان دنیا پر اترتا ہے ٢ ؎ اور کہتا ہے : میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معاف کر دوں۔ وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں علی بن ابی طالب، ابوسعید، رفاعہ جہنی، جبیر بن مطعم، ابن مسعود، ابو درداء اور عثمان بن ابی العاص (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٣- ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث کئی سندوں سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٤- نیز آپ سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جب وقت رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اترتا ہے ، اور یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ١٤ (١١٤٥) ، والدعوات ١٤ (٦٣٢١) ، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٤) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٤ (٧٥٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١١ (١٣١٥) ، والسنة ٢١ (٤٧٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٢ (١٣٦٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٦٧) ، موطا امام مالک/القرآن ١٨ (٣٠) ، مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٦٧، ٢٨٢، ٤١٩، ٤٨٧) (عند الأکثر ” الآخیر “ ) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : آگے مولف بیان کر رہے ہیں : صحیح بات یہ ہے کہ ایک تہائی رات گزرنے پر نہیں ، بلکہ ایک تہائی رات باقی رہ جانے پر اللہ نزول فرماتے ہیں ۔ ( مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک «الآخر» ہی ہے ) ٢ ؎ : اس سے اللہ عزوجل کا جیسے اس کی ذات اقدس کو لائق ہے آسمان دنیا پر ہر رات کو نزول فرمانا ثابت ہوتا ہے ، اور حقیقی اہل السنہ والجماعہ ، سلف صالحین اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفات میں تاویل نہیں کیا کرتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1366) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 446
حدیث نمبر: 446 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَرِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو قرآن پڑھنا
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : میں (تہجد کے وقت) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی ؟ کہا : میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ (یعنی اللہ کو) آپ نے فرمایا : اپنی آواز کچھ بلند کرلیا کرو ، اور عمر (رض) سے فرمایا : میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی ؟ ، کہا : میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلیا کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ (یعنی : ابوقتادہ (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے) تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٥ (١٣٢٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٠٨٨) ، مسند احمد (١/١٠٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1200) ، المشکاة (1204) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 447
حدیث نمبر: 447 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق هُوَ السَّالَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ فَقَالَ: إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ، قَالَ: ارْفَعْ قَلِيلًا ، وَقَالَ لِعُمَرَ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ قَالَ: إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ، قَالَ: اخْفِضْ قَلِيلًا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَأَنَسٍ، وأُمِّ سَلَمَةَ، وابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَأَكْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلًا.
তাহকীক: