আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ৩৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدہ کی کثرت
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان (رض) سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ١ ؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٨) ، سنن النسائی/التطبیق ٨٠ (١١٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠١ (١٤٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ٢١١٢) ، مسند احمد (٢٧٦٥، ٢٨٠، ٢٨٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھا کرو ، اور ظاہر بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھے گا تو ان میں زیادہ سے زیادہ رکوع اور سجدے ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1423) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 388 معدان کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات ابو الدرداء (رض) سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان (رض) سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور ابوالدرداء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابوامامہ اور ابوفاطمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں (کون راجح ہے اس سلسلہ میں) انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا، الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہوگا، ٤- اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے قیام اللیل (تہجد) کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے، رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٨) ، سنن النسائی/التطبیق ٨٠ (١١٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠١ (١٤٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ٢١١٢) ، مسند احمد (٢٧٦٥، ٢٨٠، ٢٨٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1423) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 389
حدیث نمبر: 388 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ رَجَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ وَيُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ: فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي فَاطِمَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ثَوْبَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فِي كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: طُولُ الْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: كَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ أَفْضَلُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا حَدِيثَانِ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ، وقَالَ إِسْحَاق: أَمَّا فِي النَّهَارِ فَكَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَمَّا بِاللَّيْلِ فَطُولُ الْقِيَامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ جُزْءٌ بِاللَّيْلِ يَأْتِي عَلَيْهِ، فَكَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فِي هَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ يَأْتِي عَلَى جُزْئِهِ، وَقَدْ رَبِحَ كَثْرَةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا قَالَ إِسْحَاق: هَذَا لِأَنَّهُ كَذَا وُصِفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَوُصِفَ طُولُ الْقِيَامِ، وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَلَمْ يُوصَفْ مِنْ صَلَاتِهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ مَا وُصِفَ بِاللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور ابورافع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اور بچھو کے مارنے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نماز خود ایک شغل ہے (اور یہ چیز اس میں مخل ہوگی) پہلا قول (ہی) راجح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٦٩ (٩٢١) ، سنن النسائی/السہو ١٢ (١٢٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٦ (١٢٤٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٥١٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٨ (١٥٤٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1245) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 390
حدیث نمبر: 390 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ وَهُوَ: ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ: أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ قَتْلَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ، وقَالَ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا
عبداللہ ابن بحینہ اسدی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز ظہر میں کھڑے ہوگئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا، چناچہ جب نماز پوری کرچکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے، آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری (رض) دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے، ٤- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے، ٥- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو وہ ابن بحینہ (رض) کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے، ٦- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں، ٧- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، ٨- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے، ٩- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے، ١٠- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو ابن بحینہ (رض) کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ ﷺ کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ١ ١- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤٦ (٨٢٩) ، و ١٤٧ (٨٣٠) ، والسہو ١ (١٢٢٥) ، و ٥ (١٢٣٠) ، والأیمان والنذور ١٥ (٦٦٧٠) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٠) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٠ (١٠٣٤) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٦ (١١٧٨) ، والسہو ٢٨ (١٢٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣١ (١٢٠٦، ١٢٠٧) ، ( تحفة الأشراف : ٩١٥٤) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٧ (٦٥) ، مسند احمد (٣٤٥٥، ٣٤٦) سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : (حديث عبد اللہ ابن بحينة) صحيح، (حديث محمد بن إبراهيم) صحيح الإسناد، إن کان ابن إبراهيم - وهو التيمي المدني - لقي أبا هريرة والسائب وهو ابن عمير .، ابن ماجة (1206 و 1207) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 391
حدیث نمبر: 391 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں کھڑے ہو گئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا، چنانچہ جب نماز پوری کر چکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے، آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری رضی الله عنہما دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے، ۴- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے، ۵- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو وہ ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے، ۶- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں، ۷- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، ۸- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے، ۹- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے، ۱۰- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ۱۱- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پانچ رکعت پڑھی تو آپ سے پوچھا گیا : کیا نماز بڑھا دی گئی ہے ؟ (یعنی چار کے بجائے پانچ رکعت کردی گئی ہے) تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١) ، و ٣٢ (٤٠٤) ، والسہو ٢ (١٢٢٦) ، والأیمان ١٥ (٦٦٧١) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٦ (١٠١٩) ، سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٢) ، و ٢٦ (١٢٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٩ (١٢٠٣) ، و ٣٠ (١٢٠٥) ، و ١٣٣ (١٢١١) ، و ١٣٦ (١٢١٨) ، ( تحفة الأشراف : ٩٤١١) ، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٢٩، ٤٣٨، ٤٥٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1205 و 1211 و 1212 و 1218) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 392
حدیث نمبر: 392 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سہو کے دونوں سجدے بات کرنے کے بعد کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎، ٢- اس باب میں معاویہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ٩٤٢٤) (صحیح ) وضاحت : ا ؎ : یہ حکم نیچے والی حدیث میں موجود ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1212) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 393
حدیث نمبر: 393 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ( ابوہریرہ (رض) کی) یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے ایوب اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابن سیرین سے روایت کیا ہے، ٣- ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ظہر بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہے وہ سہو کے دو سجدے کرلے اگرچہ وہ چوتھی (رکعت) میں نہ بیٹھا ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٥- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے اور چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ یہ قول سفیان ثوری اور بعض کو فیوں کا ہے ا ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم : ٣٩٩ (تحفة الأشراف : ١٥٤٨) (صحیح) وضاحت : ا ؎ : سفیان ثوری ، اہل کوفہ اور ابوحنیفہ کا قول محض رائے پر مبنی ہے ، جب کہ ائمہ کرام مالک بن انس ، شافعی ، احمد بن حنبل اور بقول امام نووی سلف وخلف کے تمام جمہور علماء مذکور بالا عبداللہ بن مسعود (رض) والی صحیح حدیث کی بنیاد پر یہی فتویٰ دیتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں ، کہ اگر کوئی بھول کر اپنی نماز میں ایک رکعت اضافہ کر بیٹھے تو اس کی نماز نہ باطل ہوگی اور نہ ہی فاسد ، بلکہ سلام سے پہلے اگر یاد آ جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کرلے اور اگر سلام کے بعد یاد آئے تو بھی سہو کے دو سجدے کرلے ، یہی اس کے لیے کافی ہے ، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ نے کوئی اور رکعت پڑھ کر اس نماز کو جفت نہیں بنایا تھا۔ ( دیکھئیے : تحفۃ الأحوذی : ١/٣٠٤ طبع ملتا ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1214) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 394
حدیث نمبر: 394 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَصَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَإِنْ لَمْ يَجْلِسْ فِي الرَّابِعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشافعي، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا وَلَمْ يَقْعُدْ فِي الرَّابِعَةِ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو میں تشہد پڑھنا
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہوگیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق : «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین (رض) کی حدیث ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا (اور اس نے پوچھا : کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں) ٣- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے (اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٢ (١٠٣٩) ، سنن النسائی/السہو ٢٣ (١٢٣٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٨٨٥) (شاذ) (حدیث میں تشہد کا تذکرہ شاذ ہے) قال الشيخ الألباني : شاذ بذکر التشهد، الإرواء (403) ، ضعيف أبي داود (193) // هذا رقم الشيخ ناصر الخاص به وعندنا برقم (227 / 1039) //، المشکاة (1019) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 395
حدیث نمبر: 395 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ، وَيُقَالُ أَيْضًا: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ، وَقَدْ رَوَىعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ، وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَا: إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے نماز میں کمی یا زیادتی کا شک ہو
عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری (رض) سے کہا : ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں (یا وہ کیا کرے ؟ ) تو ابو سعید خدری (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے ؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے ۔ (یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد) امام ترمذی کہتے ہیں : ا۔ ابوسعید (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے، ٤- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہوجائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے ۔ اسی پر ہمارے اصحاب (محدثین) کا عمل ہے ١ ؎ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہوجائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟ تو وہ پھر سے لوٹائے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٨ (١٠٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٩ (١٢٠٤) ، ( تحفة الأشراف : ٤٣٩٦) ، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٤) (صحیح) (ہلال بن عیاض یا عیاض بن ہلال مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : اور یہی راجح مسئلہ ہے۔ ٢ ؎ : یہ مرجوح قول ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1204) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 396
حدیث نمبر: 396 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَيْفَ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ وَيَسْجُدْ فِي ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيُعِدْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے نماز میں کمی یا زیادتی کا شک ہو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟ چناچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨) ، والعمل في الصلاة ١٨ (١٢٢٢) ، والسہو ٦ (١٢٣١) ، وبدء الخلق ١١ (٣٢٨٥) ، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٩) ، والمساجد ١٩ (٥٧٠) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٨ (١٠٣٠) ، سنن النسائی/الأذان ٣٠ (٦٧١) ، والسہو ٢٥ (١٢٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٥ (١٢١٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٢٣٩) ، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٥٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (943 - 345) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 397
حدیث نمبر: 397 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے نماز میں کمی یا زیادتی کا شک ہو
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب کوئی شخص نماز بھول جائے اور یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو ؟ تو ایسی صورت میں اسے ایک مانے، اور اگر وہ یہ نہ جاسکے کہ اس نے دو پڑھی ہے یا تین تو ایسی صورت میں دو پر بنا کرے، اور اگر وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے تین پڑھی ہے یا چار تو تین پر بنا کرے، اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (١٢٠٩) ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٢٢) ، مسند احمد (١/١٩٠، ١٩٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1209) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 398
حدیث نمبر: 398 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر وعصر میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (ظہر یا عصر کی) دو رکعت پڑھ کر (مقتدیوں کی طرف) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے پوچھا : کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہاں (آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں) تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ (یعنی سجدہ سہو کیا) امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہوگی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ١ ؎، ٤- رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھالے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی وجہ سے ہے، ٥- امام احمد ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہوچکی ہے کوئی بات کرلے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کرلے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کرلے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جاسکتے تھے۔ اور ذوالیدین (رض) نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہوچکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہوگیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی ١ ؎، ٦- احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٨ (٤٨٢) ، والأذان ٦٩ (٧١٤) ، والسہو ٣ (١٢٢٧) ، و ٤ (١٢٢٨) ، و ٨٥ (١٣٦٧) ، والأدب ٤٥ (٦٠٥١) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٥٠) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٣) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٥ (١٠٠٨) ، سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٤ (١٢١٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٤٤٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٤٣٣، ٤٦٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ، صرف یہ کمزور دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے ، کیونکہ ذوالیدین (رض) کا انتقال غزوہ بدر میں ہوگیا تھا ، اور ابوہریرہ (رض) نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا ، حالانکہ بدر میں ذوالشمالین (رض) کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی ، نیز ابوہریرہ (رض) نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا ( جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے ) پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے۔ ٢ ؎ : یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ ﷺ نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی ، اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع (علیہ السلام) ( نبی اکرم ﷺ ) کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1214) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 399
حدیث نمبر: 399 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ وَهُوَ: أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَذِي الْيَدَيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ: إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَوْ مَا كَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَاةَ، وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَى هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا، فَقَالَ بِهِ، وقَالَ: هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ ، قَالَ الشافعي: وَفَرَّقَ هَؤُلَاءِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَكْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِنْ تَكَلَّمَ الْإِمَامُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَكْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُكْمِلْهَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ، وَمَنْ تَكَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ كَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ صَلَاتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ، وَلَيْسَ هَكَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ عَلَى مَعْنَى مَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، لِأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ، قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْكَلَامِ، وقَالَ إِسْحَاق نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا الْبَابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتیاں پہن کر نماز پڑھنا
سعید بن یزید (ابو مسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ (رض) اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٤ (٣٨٦) ، واللباس ٣٧ (٥٨٥٠) ، صحیح مسلم/المساجد ١٤ (٥٥٥) ، سنن النسائی/القبلة ٢٤ (٧٧٦) ، ( تحفة الأشراف : ٨٦٦) ، مسند احمد (٣/١٠٠، ١٦٦، ١٨٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٣ (١٤١٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہودیوں کی مخالفت کرو وہ جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے ، علماء کہتے ہیں کہ اگر جوتوں میں نجاست نہ لگی ہو تو ان میں نماز یہودیوں کی مخالفت کے پیش نظر مستحب ہوگی ورنہ اسے رخصت پر محمول کیا جائے گا ، مساجد کی تحسین و طہارت کے پیش نظر جہاں دریاں ، قالین وغیرہ بچھے ہوں وہاں جوتے اتار کر نماز پڑھنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صفة الصلاة / الأصل صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 400
حدیث نمبر: 400 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَطَاءٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٥ (١٤٤١) ، سنن النسائی/التطبیق ٢٩ (١٠٧٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٨٢) ، مسند احمد (٤/٢٩٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں ، لیکن اس میں تو مغرب کا تذکرہ بھی ہے ، اس میں کیوں نہیں پڑھتے ؟ دراصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے ( اس سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے ) رسول اکرم ﷺ بوقت مصیبت خاص طور پر فجر میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے ، بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے ، اور جب ضرورت ختم ہوجاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 401
حدیث نمبر: 401 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَخُفَافِ بْنِ أَيْمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يُقْنَتُ فِي الْفَجْرِ إِلَّا عِنْدَ نَازِلَةٍ تَنْزِلُ بِالْمُسْلِمِينَ، فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَةٌ فَلِلْإِمَامِ أَنْ يَدْعُوَ لِجُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قنوت کو ترک کرنا
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ (طارق بن اشیم (رض) ) سے عرض کیا : ابا جان ! آپ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی (رض) کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ (برابر) قنوت (قنوت نازلہ) پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! یہ بدعت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/التطبیق ٣٢ (١٠٨١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤ (١٢٤١) ، ( تحفة الأشراف : ٤٩٧٦) ، مسند احمد (٣/٤٧٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : اس میں برابر پڑھنا مراد ہے نہ کہ مطلق پڑھنا بدعت مقصود ہے ، کیونکہ بوقت ضرورت قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ گزرا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1241) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 402
حدیث نمبر: 402 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَةِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
اسی سند سے اسی مفہوم کی اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو چھینکے نماز میں
رفاعہ بن رافع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضی» کہا جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا : نماز میں کون بول رہا تھا ؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ نماز میں کون بول رہا تھا ؟ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ نماز میں کون بول رہا تھا ؟ رفاعہ بن رافع (رض) نے عرض کیا : میں تھا اللہ کے رسول ! آپ نے پوچھا : تم نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے کہا : یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضی» تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- رفاعہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ١ ؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٧٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٦ (٩٣٢) ، ( تحفة الأشراف : ٣٦٠٦) ، وراجع أیضا : صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٩) ، و سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٧٠) ، وسنن النسائی/التطبیق ٢٢ (١٠٦٣) ، وما/القرآن ٧ (٢٥) ، و مسند احمد (٤/٣٤٠) (صحیح) (سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں : «وأفاد بشر بن عمر الزهراي في روايته عن رفاعة بن يحيى أن تلک الصلاة کانت المغرب» (یہ مغرب تھی ) یہ روایت ان لوگوں کی تردید کرتی ہے جنہوں نے اسے نفل پر محمول کیا ہے۔ مگر دوسری روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابی نے یہ الفاظ رکوع سے اٹھتے وقت کہے تھے اور اسی دوران انہیں چھینک بھی آئی تھی ، تمام روایات صحیحہ اور اس ضمن میں علماء کے اقوال کی جمع و تطبیق یہ ہے کہ اگر نماز میں چھینک آئے تو اونچی آواز سے الحمد للہ کہنے کی بجائے جی میں کہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، صحيح أبي داود (747) ، المشکاة (992) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 404
حدیث نمبر: 404 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ عَفْرَاءَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ: قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ رِفَاعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فِي التَّطَوُّعِ، لِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، قَالُوا: إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِنَّمَا يَحْمَدُ اللَّهَ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُوَسِّعُوا فِي أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کلام کا منسوخ ہونا
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں بات چیت کرلیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کرلیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ : «وقوموا لله قانتين» اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- زید بن ارقم (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کرلے تو نماز دہرائے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہوجائے تو نماز کافی ہوگی، ٤- شافعی اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٢ (١٢٠٠) ، وتفسیر البقرة ٤٢ (٤٥٣٤) ، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٩) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٨ (٩٤٩) ، سنن النسائی/السہو ٢٠ (١٢٢٠) ، ( تحفة الأشراف : ٣٦٦١) ، مسند احمد (٤/٣٦٨) ، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة برقم : ٢٩٨٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے ، بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ بشرطیکہ تھوڑی ہو ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (875) ، الإرواء (393) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 405
حدیث نمبر: 405 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْوَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري، وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ، وَبِهِ يَقُولُ: الشَّافِعِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کی نماز
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو کہتے سنا : میں جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ (کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہے ؟ ) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر (رض) نے بیان کیا اور ابوبکر (رض) نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کردیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا اللہ ولم يصروا علی ما فعلوا وهم يعلمون» اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- علی (رض) کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں، ٣- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥٢١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٣ (١٣٩٥) ، ( تحفة الأشراف : ٦٦١٠) ، مسند احمد (١/٢ ویأتي عند المؤلف في تفسیر آل عمران برقم : ٣٠٠٦) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1395) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 406
حدیث نمبر: 406 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍوَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ سورة آل عمران آية 135 ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَمُعَاذٍ، ووَاثِلَةَ، وَأَبِي الْيَسَرِ وَاسْمُهُ: كَعْبُ بْنُ عَمْرٍ وَقَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، فَرَفَعُوهُ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ سفيان الثوري، وَمِسْعَرٌ فَأَوْقَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا إِلَّا هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے
سبرہ بن معبد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سبرہ بن معبد جہنی (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جو لڑکا دس برس کے ہوجانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٦ (٤٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ٣٨١٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤١ (١٤٧١) (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (572 - 573) ، صحيح أبي داود (247) ، الإرواء (247) ، التعليق علی ابن خزيمة (1002) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 407
حدیث نمبر: 407 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَالَا: مَا تَرَكَ الْغُلَامُ بَعْدَ الْعَشْرِ مِنَ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسَبْرَةُ هُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ، وَيُقَالُ هُوَ: ابْنُ عَوْسَجَةَ.
তাহকীক: