আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ১৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کا ایک وقت میں جمع کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے بغیر عذر کے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں سے میں ایک دروازے میں داخل ہوا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- حنش ہی ابوعلی رحبی ہیں اور وہی حسین بن قیس بھی ہے۔ یہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہے، احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے، ٢- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سفر یا عرفہ کے سوا دو نمازیں ایک ساتھ نہ پڑھی جائیں، ٣- تابعین میں سے بعض اہل علم نے مریض کو دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کی رخصت دی ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بارش کے سبب بھی دو نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں۔ شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ البتہ شافعی مریض کے لیے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کو درست قرار نہیں دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٠٢٥) (ضعیف جداً ) (سند میں حسین بن قیس المعروف بہ حنش ضعیف بلکہ متروک ہے) وضاحت : ١ ؎ : سفر میں دو نمازوں کے درمیان جمع کرنے کو ناجائز ہونے پر احناف نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے ، لیکن یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے قطعاً استدلال کے قابل نہیں ، اس کے برعکس سفر میں جمع بین الصلاتین کی جو احادیث دلالت کرتی ہیں ، وہ صحیح ہیں ان کی تخریج مسلم وغیرہ نے کی ہے اور اگر بالفرض یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو عذر سے مراد سفر ہی تو ہے ، نیز دوسرے عذر بھی ہوسکتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، التعليق الرغيب (1 / 198) ، الضعيفة (4581) ، // ضعيف الجامع - بترتيبى - برقم (5546) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 188
حدیث نمبر: 188 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى، وَحَنَشٌ هَذَا هُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ، وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ إِلَّا فِي السَّفَرِ أَوْ بِعَرَفَةَ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ لِلْمَرِيضِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْمَطَرِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَلَمْ يَرَ الشَّافِعِيُّ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتداء
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم نے (مدینہ منورہ میں ایک رات) صبح کی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا ١ ؎ تو آپ نے فرمایا : یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایا گیا ہے، وہ ان پر پیش کرو، وہ اسے زور سے پکار کر کہیں ، جب عمر بن خطاب (رض) نے بلال (رض) کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں نے (بھی) اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے، یہ بات اور پکی ہوگئی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن زید (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- اور ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث محمد بن اسحاق سے اس سے بھی زیادہ کامل اور زیادہ لمبی روایت کی ہے۔ اور اس میں انہوں نے اذان کے کلمات کو دو دو بار اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار کہنے کا واقعہ ذکر کیا ہے، ٤- عبداللہ بن زید ہی ابن عبدربہ ہیں اور انہیں ابن عبدرب بھی کہا جاتا ہے، سوائے اذان کے سلسلے کی اس ایک حدیث کے ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی نبی اکرم ﷺ سے کوئی اور بھی حدیث صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی کی کئی حدیثیں ہیں جنہیں وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، اور یہ عباد بن تمیم کے چچا ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٨ (٤٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ١ (٧٠٦) ، ( تحفة الأشراف : ٥٣٠٩) ، مسند احمد (٤/٤٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣ (١٢٢٤) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے درمیان ایک رات نماز کے لیے لوگوں کو بلانے کی تدابیر پر گفتگو ہوئی ، اسی رات عبداللہ بن زید (رض) نے خواب دیکھا اور آ کر آپ ﷺ سے بیان کیا ( دیکھئیے اگلی حدیث ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (706) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 189
حدیث نمبر: 189 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٍّ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى وَأَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ وَلْيُنَادِ بِذَلِكَ ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلَالٍ بِالصَّلَاةِ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَذَلِكَ أَثْبَتُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق أَتَمَّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَطْوَلَ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةَ الْأَذَانِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْإِقَامَةِ مَرَّةً مَرَّةً، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، وَيُقَالُ: ابْنُ عَبْدِ رَبٍّ، وَلَا نَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يَصِحُّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ فِي الْأَذَانِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ لَهُ أَحَادِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتداء
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ١ ؎ چناچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا : نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن (یعنی کسی جانور کا سینگ) بنا لو۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : اس پر عمر بن خطاب (رض) نے کہا : کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث ابن عمر (رض) کی (اس) روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١ (٦٠٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ١ (٣٧٧) ، سنن النسائی/الأذان ١ (٦٢٧) ، ( تحفة الأشراف : ٧٧٧٥) ، مسند احمد (٢/١٤٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ گفتگو مدینہ میں صحابہ کرام سے ہجرت کے پہلے سال ہوئی تھی ، اس میں بعض لوگوں نے نماز کے لیے ناقوس بجانے کا اور بعض نے اونچائی پر آگ روشن کرنے کا اور بعض نے «بوق» بگل استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا ، اسی دوران عمر کی یہ تجویز آئی کہ کسی کو نماز کے لیے پکارنے پر مامور کردیا جائے ، چناچہ نبی اکرم ﷺ کو یہ رائے پسند آئی اور آپ نے بلال کو باواز بلند «الصلاة جامعة» کہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن زید (رض) نے خواب میں اذان کے کلمات کسی سے سیکھے اور جا کر خواب بیان کیا ، اسی کے بعد موجودہ اذان رائج ہوئی۔ ٢ ؎ : دیکھئیے صحیح البخاری حدیث ٦٠٤ وصحیح مسلم حدیث ٨٣٧۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 190
حدیث نمبر: 190 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع
ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں : اس طرح جیسے ہماری اذان ہے۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا : اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع ١ ؎ کے ساتھ اذان کا ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے، کئی سندوں سے مروی ہے، ٢- اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان ٣ (٦٣٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) (صحیح) (ابو محذورہ (رض) کی اس روایت میں الفاظ اذان کا ذکر نہیں ہے، لیکن مجملاً یہ ذکر ہے کہ اذان کو ترجیع کے ساتھ بیان کیا، جب کہ اسی سند سے نسائی میں وارد حدیث میں اذان کے صرف سترہ کلمات کا ذکر ہے، اور اس میں ترجیع کی صراحت نہیں ہے، اس لیے نسائی والا سیاق منکر ہے، کیونکہ صحیح مسلم، سنن نسائی اور ابن ماجہ (٧٠٨) میں اذان کے کلمات انیس آئے ہیں، دیکھیں مؤلف کی اگلی روایت (١٩٢) اور نسائی کی روایت رقم ٣٠ ٦، ٦٣١، ٦٣٢، ٦٣٣) وضاحت : ١ ؎ : اذان میں شہادتین کے کلمات کو پہلے دو مرتبہ دھیمی آواز سے کہنے پھر دوبارہ دو مرتبہ بلند آواز سے کہنے کو ترجیع کہتے ہیں۔ ٢ ؎ : اذان میں ترجیع مسنون ہے یا نہیں اس بارے میں ائمہ میں اختلاف ہے ، صحیح قول یہ ہے کہ اذان ترجیع کے ساتھ اور بغیر ترجیع کے دونوں طرح سے جائز ہے اور ترجیع والی روایات صحیحین کی ہیں اس لیے راجح ہیں ، اور یہ کہنا کہ جس صحابی سے ترجیع کی روایات آئی ہیں انہیں تعلیم دینا مقصود تھا اس لیے کہ ابو محذورہ (رض) جنہیں آپ نے یہ تعلیم دی پہلی مرتبہ اسے دھیمی آواز میں ادا کیا تھا پھر دوبارہ اسے بلند آواز سے ادا کیا تھا ، درست نہیں ، کیونکہ ابو محذورہ مکہ میں برابر ترجیع کے ساتھ اذان دیتے رہے اور ان کے بعد بھی برابر ترجیع سے اذان ہوتی رہی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (708) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 191
حدیث نمبر: 191 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي،وَجَدِّي جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ َّّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْعَدَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا . قَالَ إِبْرَاهِيمُ: مِثْلَ أَذَانِنَا، قَالَ بِشْرٌ: فَقُلْتُ لَهُ: أَعِدْ عَلَيَّ فَوَصَفَ الْأَذَانَ بِالتَّرْجِيعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ فِي الْأَذَانِ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ بِمَكَّةَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع
ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اذان کے انیس کلمات ١ ؎ اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم اذان کے سلسلے میں اسی طرف گئے ہیں، ٣- ابو محذورہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ اقامت اکہری کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٨ (٥٠٢) ، سنن النسائی/الأذان ٤ (٦٣١) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٢ (٧٠٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢١٦٩) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ انیس کلمات ترجیع کے ساتھ ہوتے ہیں ، یہ حدیث اذان میں ترجیع کے مسنون ہونے پر نص صریح ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (709) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 192
حدیث نمبر: 192 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَحْذُورَةَ اسْمُهُ: سَمُرَةُ بْنُ مِعْيَرٍ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا فِي الْأَذَانِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُ كَانَ يُفْرِدُ الْإِقَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر ایک ایک بارکہنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ بلال (رض) کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١ (٦٠٣) ، و ٢ (٦٠٥) ، و ٣ (٦٠٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢ (٣٧٨) ، سنن النسائی/الصلاة ٢٩ (٥٠٨) ، سنن النسائی/الأذان ٢ (٦٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٦ (٧٣٠) ، ( تحفة الأشراف : ٩٤٣) ، مسند احمد (٣/١٠٣، ١٨٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٦ (١٢٣٠، ١٢٣١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (729 و 730) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 193
حدیث نمبر: 193 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت دو دو بار کہے
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان (کا واقعہ) دیکھا، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول ﷺ کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان (کا واقعہ) دیکھا، ٢- یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٤- ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٣١١) (ضعیف الإسناد) (عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا سماع عبداللہ بن زید سے نہیں ہے) وضاحت : ١ ؎ : مولف کا مقصد یہ ہے کہ : عبداللہ بن زید (رض) کی یہ حدیث تین طرق سے آئی ہے ، ایک یہی بطریق «ابن ابی لیلیٰ ، عن عمرو بن مرۃ ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن عبداللہ» دوسرے بطریق «الاعمش عن عمرو بن مرۃ ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ، عن عبداللہ» تیسرے بطریق : «شعبۃ عن عمرو بن مرۃ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم» اور بقول مؤلف آخرالذکر تیسرا طریق زیادہ صحیح ہے ، ( کیونکہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا عبداللہ بن زید سے سماع نہیں ہے ) اور اس کا مضمون ( نیز دوسرے کا مضمون بھی ) پہلے سے الگ ہے ، یعنی صرف خواب دیکھنے کا بیان ہے اور بس۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 194
حدیث نمبر: 194 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَفْعًا شَفْعًا فِي الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، وقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: ابْنُ أَبِي لَيْلَى هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، كَانَ قَاضِيَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال (رض) سے فرمایا : بلال ! جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر دو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان و اقامت کے درمیان اس قدر وقفہ رکھو کہ کھانے پینے والا اپنے کھانے پینے سے اور پاخانہ پیشاب کی حاجت محسوس کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہوجائے اور اس وقت تک (اقامت کہنے کے لیے) کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٢٢٢ و ٢٤٩٣) (ضعیف جداً ) (سند میں عبدالمنعم متروک ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، لکن قوله : ولا تقوموا .. صحيح ويأتى (517) ، الإرواء (228) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 195
حدیث نمبر: 195 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمنْعِم صَاحِبُ السِّقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِبِلَالٍ: يَا بِلَالُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا
اس سند سے بھی عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : جابر (رض) کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یہ مجہول سند ہے، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں (یعنی ضعیف راوی ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف جداً ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 196
حدیث نمبر: 196 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ، وَعَبْدُ الْمُنْعِمِ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دیتے ہوئے کان میں انگلی ڈالنا
ابوجحیفہ (وہب بن عبداللہ) (رض) کہتے ہیں کہ میں نے بلال کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے ١ ؎ اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال آپ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء (میدان) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے ٢ ؎ کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ آپ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ سفیان کہتے ہیں : ہمارا خیال ہے وہ چادر یمنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوجحیفہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس چیز کو مستحب سمجھتے ہیں کہ مؤذن اذان میں اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ اقامت میں بھی اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرے گا، یہی اوزاعی کا قول ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤ (٥٢٠) ، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤) ، والزینة ٢٣ (٥٣٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١١) ، ( تحفة الأشراف : ١١٨٦) ، مسند احمد (٤/٣٠٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) ، (وراجع أیضا ماعند صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : قیس بن ربیع کی روایت میں جو عون ہی سے مروی ہے یوں ہے «فلما بلغ حي علی الصلاة حي علی الفلاح لوّي عنقه يمينا وشمالاً ولم يستدر» یعنی : بلال جب «حي الصلاة حي علی الفلاح» پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں بائیں گھمائی اور خود نہیں گھومے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جنہوں نے گھومنے کا اثبات کیا ہے انہوں نے اس سے مراد سر کا گھومنا لیا ہے اور جنہوں نے اس کی نفی کی ہے انہوں نے پورے جسم کے گھومنے کی نفی کی ہے۔ ٢ ؎ : یعنی نیزہ اور قبلہ کے درمیان سے نہ کہ آپ کے اور نیزے کے درمیان سے کیونکہ عمر بن ابی زائدہ کی روایت میں «ورأيت الناس والدواب يمرون بين يدي العنزة» ہے ، میں نے دیکھا کہ لوگ اور جانورنیزہ کے آگے سے گزر رہے تھے ۔ ٣ ؎ : اس پر سنت سے کوئی دلیل نہیں ، رہا اسے اذان پر قیاس کرنا تو یہ قیاس مع الفارق ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (711) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 197
حدیث نمبر: 197 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَيُتْبِعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَهُنَا وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ أُرَاهُ قَالَ: مِنْ أَدَمٍ ، فَخَرَجَ بِلَالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ بِالْعَنَزَةِ فَرَكَزَهَا بِالْبَطْحَاءِ، فَصَلَّى إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ. قَالَ سُفْيَانُ: نُرَاهُ حِبَرَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُدْخِلَ الْمُؤَذِّنُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فِي الْأَذَانِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: وَفِي الْإِقَامَةِ أَيْضًا يُدْخِلُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَبُو جُحَيْفَةَ اسْمُهُ: وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی اذان میں تثویب کے بارے میں
بلال (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب ١ ؎ نہ کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابو محذورہ (رض) سے بھی روایت ہے، ٢- بلال (رض) کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے، ٣- ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ٤- اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے ؛ بعض کہتے ہیں : تثویب فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے، اسحاق کہتے ہیں : تثویب اس کے علاوہ ہے، تثویب مکروہ ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کی ہے، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان : «قد قامت الصلاة، حي علی الصلاة، حي علی الفلاح» کہتا، ٥- اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کیا ہے، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں :«الصلاة خير من النوم» کہے تو یہ کہنا صحیح ہے، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے، عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ فجر میں «الصلاة خير من النوم» کہتے تھے، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا : اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی، عبداللہ بن عمر (رض) نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کرلیا تھا ناپسند کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١٥) ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٤٢) ، مسند احمد (٦/١٤، ١٥) (ضعیف) (عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا سماع بلال (رض) سے نہیں ہے، نیز ابو اسرائیل ملائی کو وہم ہوجایا کرتا تھا اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ حدیث میں نے حکم بن عتیبہ سے سنی ہے، اور کبھی کہتے ہیں کہ حسن بن عمارة کے واسطہ سے حکم سے سنی ہے) وضاحت : ١ ؎ : یہاں تثویب سے مراد فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (715) ، // ضعيف سنن ابن ماجة (151) ، الإرواء (235) ، المشکاة (646) ، ضعيف الجامع - الطبعة الثانية المرتبة - برقم (6191) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 198
حدیث نمبر: 198 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بِلَالٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ: إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي إِسْحَاق، وَلَيْسَ هُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ التَّثْوِيبِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَقُولَ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ إِسْحَاق فِي التَّثْوِيبِ غَيْرَ هَذَا، قَالَ: التَّثْوِيبُ الْمَكْرُوهُ هُوَ شَيْءٌ أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَاسْتَبْطَأَ الْقَوْمَ، قَالَ: بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: وَهَذَا الَّذِي قَالَ إِسْحَاقُ: هُوَ التَّثْوِيبُ الَّذِي قَدْ كَرِهَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ، وَالَّذِي أَحْدَثُوهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي فَسَّرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ أَنَّ التَّثْوِيبَ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَهُوَ قَوْلٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ لَهُ: التَّثْوِيبُ أَيْضًا، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ، وَرَأَوْهُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مَسْجِدًا، وَقَدْ أُذِّنَ فِيهِ وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ فَثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: اخْرُجْ بِنَا مِنْ عِنْدِ هَذَا الْمُبْتَدِعِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، قَالَ: وَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ التَّثْوِيبَ الَّذِي أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کہنے والا ہی تکبیر کہے
زیاد بن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال (رض) نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے، ٢- زیاد (رض) کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔ احمد کہتے ہیں : میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠ (٥١٤) سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١٧) (تحفة الأشراف : ٣٦٥٣) مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث ضعیف ہے ، اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں ، اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں ، اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (717) // ضعيف سنن ابن ماجة (152) ، ضعيف أبي داود (102 / 514) ، الإرواء (237) ، المشکاة (648) ، الضعيفة (35) ، ضعيف الجامع الصغير (1377) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 199
حدیث نمبر: 199 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَفْرِيقِيِّ، وَالْأَفْرِيقِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ، قَالَ أَحْمَدُ: لَا أَكْتُبُ حَدِيثَ الْأَفْرِيقِيِّ، قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُقَوِّي أَمْرَهُ وَيَقُولُ: هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر بے وضو اذان دنیا مکروہ ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اذان وہی دے جو باوضو ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٦٠٣) (ضعیف) (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، نیز سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے) وضاحت : ١ ؎ : بہتر یہی ہے کہ اذان باوضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (222) // ضعيف الجامع الصغير (6317) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 200
حدیث نمبر: 200 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: نماز کے لیے وہی اذان دے جو باوضو ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو ابن وہب نے مرفوع روایت نہیں کیا، یہ ۱؎ ولید بن مسلم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- زہری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۴- بغیر وضو کے اذان دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے، اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ وَهْبٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَكَرِهَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَإِسْحَاق، وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اقامت کا زیادہ حق رکھتا ہے
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر بن سمرہ (رض) والی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ہم اسرائیل کی حدیث کو جسے انہوں نے سماک سے روایت کی ہے، صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- اسی طرح بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مؤذن کو اذان کا زیادہ اختیار ہے ١ ؎ اور امام کو اقامت کا زیادہ اختیار ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٤ (٥٣٧) ، ( تحفة الأشراف : ٢١٣٧) ، مسند احمد (٥/٧٦، ٨٧، ٩١، ٩٥، ١٠٤، ١٠٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ مؤذن کو اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے اس لیے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اذان کو مؤخر کرنے یا اسے مقدم کرنے پر اسے مجبور کرے۔ ٢ ؎ : اس لیے اس کے اشارہ یا اجازت کے بغیر تکبیر نہیں کہنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، صحيح أبي داود (548) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 202
حدیث نمبر: 202 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ هُوَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهَكَذَا قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّ الْمُؤَذِّنَ أَمْلَكُ بِالْأَذَانِ وَالْإِمَامُ أَمْلَكُ بِالْإِقَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کو اذان دینا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٣- رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے ١ ؎، یہی سفیان ثوری کہتے ہیں، ٤- حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال (رض) نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر (رض) کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر (رض) کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث ٢ ؎ ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، ٥- اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں ، علی بن مدینی کہتے ہیں : حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦٢٠) ، والصوم ١٧ (١٩١٨) ، والشہادات ١١ (٢٦٥٦) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٨) ، صحیح مسلم/الصوم ٨ (١٠٩٢) ، سنن النسائی/الأذان ٩ (٨٣٨) ، ( تحفة الأشراف : ٦٠٩٠٩) ، موطا امام مالک/الصلاة ٣ (١٤) ، مسند احمد (٢/٩، ٥٧، ١٢٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤ (١٢٢٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہی راجح ہے ، کیونکہ عبداللہ ابن ام مکتوم کی اذان سحری کے غرض سے تھی ، نیز آپ ﷺ نے اس پر اکتفاء بھی نہیں کیا ، بلکہ نماز فجر کے لیے بلال اذان دیا کرتے۔ ٢ ؎ : شاید حماد بن سلمہ کے پیش نظر عمر والا یہی اثر رہا ہو یعنی انہیں اس کے مرفوع ہونے کا وہم ہوگیا ہو ، گویا انہیں یوں کہنا چاہیئے کہ عمر کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیا ، لیکن وہ وہم کے شکار ہوگئے اور اس کے بجائے انہوں نے یوں کہہ دیا کہ بلال نے رات میں اذان دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (219) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 203
حدیث نمبر: 203 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَأُنَيْسَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُعِيدُ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَذَّنَ بِلَيْلٍ أَعَادَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ، مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ أَذَّنَ بِلَيْلٍ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ، وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، لِأَنَّهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ مُنْقَطِعٌ، وَلَعَلَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَمَّادٍ صَحِيحًا لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَإِنَّمَا أَمَرَهُمْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ، وقَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، وَلَوْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِإِعَادَةِ الْأَذَانِ حِينَ أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَمْ يَقُلْ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَأَخْطَأَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنا مکروہ ہے
ابوالشعثاء سلیم بن اسود کہتے ہیں کہ ایک شخص عصر کی اذان ہو چکنے کے بعد مسجد سے نکلا تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : رہا یہ تو اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ کی روایت حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عثمان (رض) سے بھی حدیث ہے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اذان ہوجانے کے بعد بغیر کسی عذر کے مثلاً بےوضو ہو یا کوئی ناگزیر ضرورت آ پڑی ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو کوئی مسجد سے نہ نکلے ١ ؎، ٤- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب تک مؤذن اقامت شروع نہیں کرتا وہ باہر نکل سکتا ہے، ٥- ہمارے نزدیک یہ اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس نکلنے کے لیے کوئی عذر موجود ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٥٥) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٣ (٥٣٦) ، سنن النسائی/الأذان ٤٠ (٦٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٧ (٧٣٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٤٧٧) ، مسند احمد (٢/٤١٠، ٤١٦، ٤١٧، ٥٠٦، ٥٣٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢ (١٢٤١) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ایک عذر یہ بھی ہے کہ آدمی کسی دوسری مسجد کا امام ہو۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (733) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 204
حدیث نمبر: 204 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أُذِّنَ فِيهِ بِالْعَصْرِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ لَا يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ أَنْ يَكُونَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ أَوْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَيُرْوَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَخْرُجُ مَا لَمْ يَأْخُذْ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدَنَا لِمَنْ لَهُ عُذْرٌ فِي الْخُرُوجِ مِنْهُ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ: سُلَيْمُ بْنُ أَسْوَدَ وَهُوَ وَالِدُ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَقَدْ رَوَى أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں اذان
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ میں اور میرے چچا زاد بھائی دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ہم سے فرمایا : جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور اقامت کہو۔ اور امامت وہ کرے جو تم دونوں میں بڑا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں : اقامت کافی ہے، اذان تو اس کے لیے ہے جس کا ارادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨) ، و ٣٥ (٦٥٨) ، و ٤٩ (٦٨٥) ، و ١٤٠ (٨١٩) ، والجہاد ٤٢ (٢٨٤٨) ، وألادب ٢٧ (٢٠٠٨) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٦١ (٥٨٩) ، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥) ، و ٨ (٦٣٦) ، و ٢٩ (٦٧٠) ، والإمامة ٤ (٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٦ (تحفة الأشراف : ١١١٨٢) ، مسند احمد (٣/٤٣٦) ، و (٥/٥٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (979) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 205
حدیث نمبر: 205 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، فَقَالَ لَنَا: إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الْأَذَانَ فِي السَّفَرِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: تُجْزِئُ الْإِقَامَةُ إِنَّمَا الْأَذَانُ عَلَى مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی فضیلت
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ثوبان، معاویہ، انس، ابوہریرہ اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور جابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قرار دیا ہے، ٤- اگر جابر جعفی نہ ہوتے ١ ؎ تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے، اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٧) ، ( تحفة الأشراف : ٦٣٨١) (ضعیف) (سند میں ” جابر جعفی “ ضعیف متروک الحدیث راوی ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس کے باوجود ب اعتراف امام ابوحنیفہ جابر جعفی جھوٹا راوی ہے ، امام ابوحنیفہ کی ہر رائے پر ایک حدیث گھڑ لیا کرتا تھا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (727) // ضعيف سنن ابن ماجة (155) ، المشکاة (664) ، الضعيفة (850) ، ضعيف الجامع الصغير (5378) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 206
حدیث نمبر: 206 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَثَوْبَانَ، وَمُعَاوِيَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ غَرِيبٌ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، ضَعَّفُوهُ تَرَكَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: لَوْلَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ، وَلَوْلَا حَمَّادٌ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام ضامن ہے اور موذن امانت دار ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امام ضامن ہے ١ ؎ اور مؤذن امین ٢ ؎ ہے، اے اللہ ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ٣ ؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما ٤ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عائشہ، سہل بن سعد اور عقبہ بن عامر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٢- مولف نے حدیث کے طرق اور پہلی سند کی متابعت ذکر کرنے اور ابوصالح کی عائشہ سے روایت کے بعد فرمایا : میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی ابوہریرہ سے مروی حدیث ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ نیز میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور بخاری، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ ابوصالح کی حدیث ابوہریرہ سے مروی حدیث ثابت نہیں ہے اور نہ ہی ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢ (٥١٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٤٨٣) ، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٨٤، ٣٧٨، ٣٨٤، ٤١٩، ٤٢٤، ٤٦١، ٤٧٢، ٥١٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا نگراں اور محافظ ہے ، کیونکہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی نماز کی صحت پر موقوف ہے ، اس لیے اسے آداب طہارت اور آداب نماز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ٢ ؎ : یعنی لوگ اس کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں ، اس لیے اسے وقت کا خیال رکھنا چاہیئے ، نہ پہلے اذان دے اور نہ دیر کرے۔ ٣ ؎ : یعنی جو ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ ٤ ؎ : یعنی اس امانت کی ادائیگی میں ان سے جو کوتاہی ہو اسے بخش دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (663) ، الإرواء (217) ، صحيح أبي داود (530) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 207
حدیث نمبر: 207 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ، وَذَكَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ لَمْ يُثْبِتْ حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا.
তাহকীক: