আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭ টি
হাদীস নং: ১৪১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اگر دوبارہ صحبت کا ارادہ کرے تو وضو کر لے
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے پھر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عمر (رض) سے بھی روایت آئی ہے، ٢- ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ٣- عمر بن خطاب (رض) کا قول ہے، اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے یہی کہا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو جماع سے پہلے دوبارہ وضو کرے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٨) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٦ (٢٢٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١٦٩ (٢٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٠ (٥٨٧) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٥٠) ، مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٢٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : بعض اہل علم نے اسے وضو لغوی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد شرمگاہ دھونا ہے ، لیکن ابن خزیمہ کی روایت سے جس میں «فليتوضأ وضوئه للصلاة» آیا ہے اس کی نفی ہوتی ہے ، صحیح یہی ہے کہ اس سے وضو لغوی نہیں بلکہ وضو شرعی مراد ہے ، جمہور نے «فليتوضأ» میں امر کے صیغے کے استحباب کے لیے مانا ہے ، لیکن ظاہر یہ کے نزدیک وجوب کا صیغہ ہے ، جمہور کی دلیل عائشہ (رض) کی وہ حدیث ہے جس میں ہے «كان للنبي صلی اللہ عليه وسلم يجامع ثم يعودو لايتوضأ» نیز صحیح ابن خزیمہ میں اس حدیث میں «فإنه أنشط للعود» کا ٹکڑا وارد ہے اس سے بھی اس بات پر دلالت ہوتی ہے کہ امر کا صیغہ یہاں استحباب کے لیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (587) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 141
حدیث نمبر: 141 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وقَالَ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ قَبْلَ أَنْ يَعُودَ، وَأَبُو الْمُتَوَكِّلِ اسْمُهُ: عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ: سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اگر نماز کی اقامت ہوجائے اور کسی کو تقاضہ حاجت ہو تو پہلے بیت الخلاء جائے
عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم (رض) اپنی قوم کے امام تھے، نماز کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جب نماز کے لیے اقامت ہوچکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن ارقم (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ثوبان اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی قول نبی اکرم ﷺ کے صحابہ اور تابعین میں کئی لوگوں کا ہے۔ احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جب آدمی کو پیشاب پاخانہ کی حاجت محسوس ہو تو وہ نماز کے لیے نہ کھڑا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ نماز میں شامل ہوگیا، پھر نماز کے دوران اس کو اس میں سے کچھ محسوس ہو تو وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک یہ حاجت (نماز سے) اس کی توجہ نہ ہٹا دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پاخانے یا پیشاب کی حاجت کے ساتھ نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ چیزیں نماز سے اس کی توجہ نہ ہٹا دیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٤٣ (٨٨) ، سنن النسائی/الإمامة ٥١ (٨٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٤ (٦١٦) ، ( تحفة الأشراف : ٥١٤١) ، موطا امام مالک/ صلاة السفر ١٧ (٤٩) ، مسند احمد (٤/٣٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (616) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 142
حدیث نمبر: 142 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَهُ وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَثَوْبَانَ، وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، وَرَوَى وُهَيْبٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَا: لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَجِدُ شَيْئًا مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَقَالَا: إِنْ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ وَبِهِ غَائِطٌ أَوْ بَوْلٌ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ذَلِكَ عَنِ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ گرد راہ دھونے کے بارے میں
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے کہا : میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، (تو میں کیا کروں ؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اس کے بعد کی (پاک) زمین اسے پاک کردیتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، ٢- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٤٠ (٣٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٩ (٥٣١) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٢٩٦) ، موطا امام مالک/الطہارة ٤ (١٦) ، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٦) ، سنن الدارمی/الطہارة ٦٣ (٧٦٩) (صحیح) (سند میں ام ولد عبدالرحمن یا ام ولد ابراہیم بن عبدالرحمن مبہم ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (531) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 143
حدیث نمبر: 143 حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَتْ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطَإِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا وَطِيءَ الرَّجُلُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ الْقَدَمِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِهُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهُوَ وَهَمٌ، وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالَ لَهُ: هُودٌ، وَإِنَّمَا هُوَ: عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهَذَا الصَّحِيحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بارے میں
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عمار (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہی صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا قول ہے جن میں علی، عمار، ابن عباس (رض) شامل ہیں اور تابعین میں سے بھی کئی لوگوں کا ہے جن میں شعبی، عطاء اور مکحول بھی ہیں، ان سب کا کہنا ہے کہ تیمم چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی بار مارنا ہے، اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں، ٤- بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر (رض)، ابراہیم نخعی اور حسن بصری شامل ہیں کہتے ہیں کہ تیمم چہرہ کے لیے ایک ضربہ اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک ضربہ ہے، اس کے قائل سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی ہیں، ٥- تیمم کے سلسلہ میں عمار سے یہ حدیث جس میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ کا ذکر ہے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٦- عمار (رض) سے تیمم کی حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا۔ ٧- بعض اہل علم نے تیمم کے سلسلہ میں عمار کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کی تضعیف کی ہے کیونکہ ان سے شانوں اور بغلوں والی حدیث بھی مروی ہے، ٨- اسحاق بن ابراہم مخلد حنظلی (ابن راہویہ) کہتے ہیں کہ چہرہ اور دونوں کہنیوں کے لیے ایک ہی ضربہ والی تیمم کے سلسلہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٩- عمار (رض) کی حدیث جس میں ہے کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ عمار (رض) نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے ایسا ایسا کیا، پھر جب انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں صرف چہرے اور دونوں کا حکم دیا، تو وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی پر رک گئے۔ جس کی نبی اکرم ﷺ نے انہیں تعلیم دی، اس کی دلیل تیمم کے سلسلہ کا عمار (رض) کا وہ فتویٰ ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد دیا ہے کہ تیمم صرف چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی کا ہے، اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اسی جگہ رک گئے جس کی نبی اکرم ﷺ نے انہیں تعلیم دی ١ ؎ اور آپ نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں تک ہی محدود تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التیمم ٤ (٣٣٨) ، و ٦ (٣٣٩، ٣٤٠، ٣٤١، ٣٤٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (١١٢/٣٦٨) ، سنن ابی داود/ الطہارة ١٢٣ (٣٢٢) ، سنن النسائی/الطہارة ١٩٦ (٣١٣) ، و ٢٠٠ (٣١٨) ، و ٢٠٢ (٣٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٩ (٥٦٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٣٦٢) ، مسند احمد (٤/٢٦٣، ٢٦٥، ٣١٩، ٣٢٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎: بعض نسخوں میں یہاں سے اخیر تک کا ٹکڑا نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (350 - 353) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 144
حدیث نمبر: 144 حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِالتَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَمَّارٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَعَمَّارٌ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، مِنْهُمْ الشَّعْبِيُّ، وَعَطَاءٌ، وَمَكْحُولٌ، قَالُوا: التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ: ابْنُ عُمَرَ، وَجَابِرٌ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَالْحَسَنُ، قَالُوا: التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكٌ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ، أَنَّهُ قَالَ: لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ قَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، فَضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثَ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، لَمَّا رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثُ الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْلَدٍ الْحَنْظَلِيُّ: حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ عَمَّارٍ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ لَيْسَ هُوَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، لِأَنَّ عَمَّارًا لَمْ يَذْكُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ: فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَلَمَّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، فَانْتَهَى إِلَى مَا عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا أَفْتَى بِهِ عَمَّارٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ، أَنَّهُ قَالَ: الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى مَا عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُ إِلَى الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، يَقُولُ: لَمْ أَرَ بِالْبَصْرَةِ أَحْفَظَ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَابْنِ الشَّاذَكُونِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ الْفَلَّاسِ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: وَرَوَى عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ تیمم کے بارے میں
عکرمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس وقت وضو کا ذکر کیا تو فرمایا اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ، اور تیمم کے بارے میں فرمایا : اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو ، اور فرمایا : چوری کرنے والے مرد و عورت کی سزا یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دو تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں سنت یہ تھی کہ (پہنچے تک) ہتھیلی کاٹی جاتی، لہٰذا تیمم صرف چہرے اور ہتھیلیوں ہی تک ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٠٧٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن خالد قرشی مجہول ہیں، لیکن یہ مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 145
حدیث نمبر: 145 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ دَاودَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ فِي كِتَابِهِ حِينَ ذَكَرَ الْوُضُوءَ: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ سورة المائدة آية 6، وَقَالَ فِي التَّيَمُّمِ: فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ سورة المائدة آية 6، وَقَالَ: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا سورة المائدة آية 38، فَكَانَتِ السُّنَّةُ فِي الْقَطْعِ الْكَفَّيْنِ، إِنَّمَا هُوَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ يَعْنِي التَّيَمُّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص جنبی نہ ہو تو ہر حالت میں قرآن پڑھ سکتا ہے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔ خواہ کوئی بھی حالت ہو جب تک کہ آپ جنبی نہ ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- علی (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎، ٢- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی وضو کے بغیر قرآن پڑھ سکتا ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر اسی وقت پڑھے جب وہ باوضو ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٩١ (٢٢٩) ، سنن النسائی/الطہارة ١٧١ (٢٦٦، ٢٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٥ (٥٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٠١٨٦) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن سلمہ کا حافظہ آخری دور میں کمزور ہوگیا تھا، اور یہ روایت اسی دور کی ہے) وضاحت : ١ ؎ : بلکہ ضعیف ہے جیسا کہ تخریج میں گزرا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (594) ، // ضعيف سنن ابن ماجة (129) ، ضعيف أبي داود (39/229) نحوه، المشکاة (460) ، الإرواء (192 و 485) ، ضعيف سنن النسائي برقم (9/265) وهو في ضعيف ابن ماجة بلفظين هما لا يحجبه - أو يحجزه - عن القرآن شيء إلا الجنابة ، ولفظ لا يقرأ القرآن الجنب ولا الحائض // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 146
حدیث نمبر: 146 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا . قال أبو عيسى: حَدِيثُ عَلِيٍّ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ قَالَ: غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، قَالُوا: يَقْرَأُ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَلَا يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وہ زمین جس میں پیشاب کیا گیا ہو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا : اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی رحمت الٰہی) کو تنگ کردیا ، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس پر ایک ڈول پانی بہا دو ، پھر آپ نے فرمایا : تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٨ (٣٨٠) ، سنن النسائی/السہو ٢٠ (١٣١٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٣١٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٩) (صحیح) وراجع أیضا : صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢٢٠) ، والأدب ٢٧ (٦٠١٠) ، و ٨٠ (٦١٢٨) ، سنن النسائی/الطہارة ٤٤ (٥٦) ، والمیاہ ٢ (٣٣١) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٨ (٥٢٩) ، مسند احمد (٢/٢٨٣، ٥٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٤١١١، ١٥٠٧٣) وضاحت : ١ ؎ : آپ ﷺ نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کو پھٹکارنے پر فرمائی ، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو ، سختی نہ برتو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (529) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 147 اس سند سے انس بن مالک سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٦ (٢١٩) ، و ٥٧ (٢٢١) ، والأدب ٣٥ (٦٠٢٥) ، صحیح مسلم/الطہارة ٣٠ (٢٨٤) ، سنن النسائی/الطہارة ٤٥ (٥٣، ٥٤، ٥٥) ، والمیاہ ٣ (٣٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٨ (٥٢٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٥٧، ولم یذکر الترمذيَّ ) ، مسند احمد (٣/١١٠، ١١٤، ١٦٧) ، سنن الدارمی/الطھارة ٦٢ (٧٦٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود تحت الحديث (405) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 148
حدیث نمبر: 147 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ .قَالَ سَعِيدٌ: قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَ هَذَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক: