আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭ টি
হাদীস নং: ৮১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس سے وضو نہ کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ٣- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ ﷺ سے دو حدیثیں صحیح ہیں : ایک براء بن عازب کی (جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ٤- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٧٢ (١٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٧ (٤٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٨٣) ، مسند احمد (٤/٢٨٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : لوگ اوپر والی روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے مراد وضو لغوی ہے ، لیکن یہ بات درست نہیں ، اس لیے کہ وضو ایک شرعی لفظ ہے جسے بغیر کسی دلیل کے لغوی معنی پر محمول کرنا درست نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (494) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 81
حدیث نمبر: 81 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا ، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: لَا تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَوَى عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ذِي الْغُرَّةِ الْجُهَنِيِّ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ إِسْحَاق: صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثُ الْبَرَاءِ، وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ذکر چھونے سے وضو ہے
بسرہ بنت صفوان (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنی شرمگاہ (عضو تناسل) چھوئے تو جب تک وضو نہ کرلے نماز نہ پڑھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٧٠ (١٨١) ، سنن النسائی/الطہارة ١١٨ (١٦٣) ، والغسل ٣٠ (١٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٣ (٦٧٩) (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٥) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٥ (٥٨ مسند احمد (٦/٤٠٦) ، ٤٠٧) ، سنن الدارمی/الطہارة ٥٠ (٧٥١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہشام کے بعض شاگردوں نے عروہ اور بسرۃ کے درمیان کسی اور واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور بعض نے عروہ اور بسرۃ کے درمیان مروان کے واسطے کا ذکر کیا ہے ، جن لوگوں نے عروۃ اور بسرۃ کے درمیان کسی اور واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ان کی روایت منقطع نہیں ہے کیونکہ عروہ کا بسرۃ سے سماع ثابت ہے ، پہلے عروہ نے اسے مروان کے واسطے سے سنا پھر بسرۃ سے جا کر انہوں نے اس کی تصدیق کی جیسا کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان کی روایت میں اس کی صراحت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (479) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 82 ابواسامہ اور کئی اور لوگوں نے اس حدیث کو بسند «ہشام بن عروہ عن أبیہ عن مروان بسرة عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (82) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 83 نیز اسے ابوالزناد نے «بسند عروہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ١- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ٣- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ (رض) کی حدیث ١ ؎ (بھی) اس باب میں صحیح ہے، ٤- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ٢ ؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ام حبیبہ (رض) کی حدیث کی تخریج ابن ماجہ نے کی ہے ( دیکھئیے : «باب الوضوء من مس الذکر» رقم ٤٨١) ۔ ٢ ؎ : یحییٰ بن معین ، ابوزرعہ ، ابوحاتم اور نسائی نے بھی یہی بات کہی ہے ، لیکن عبدالرحمٰن دحیم نے ان لوگوں کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے مکحول کا عنبسہ سے سماع ثابت کیا ہے ( دحیم اہل شام کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہیں ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (83) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 84
حدیث نمبر: 82 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وأَرْوَى ابْنَةِ أُنَيْسٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ. وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا. وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ، وقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وقَالَ مُحَمَّدٌ: لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَرَوَى مَكْحُولٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ N/A
اس حدیث کو بسند «ہشام بن عروہ عن أبیہ عن مروان بسرة عن النبی صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔
وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ N/A
«بسند عروہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ۱- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ۳- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی الله عنہا کی حدیث ۱؎ ( بھی ) اس باب میں صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ۲؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔
وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ، وقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وقَالَ مُحَمَّدٌ: لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَرَوَى مَكْحُولٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ذکر چھونے سے وضو نہ کرنا
طلق بن علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (عضو تناسل کے سلسلے میں) فرمایا : یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابوامامہ (رض) سے بھی روایت ہے، ٢- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے، ٣- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے، ٤- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ٥- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے، سب سے صحیح اور اچھی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٧١ (١٨٢) ، سنن النسائی/الطہارة ١١٩ (١٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٤ (٤٨٣) (تحفة الأشراف : ٥٠٢٣) مسند احمد (٤/٢٢، ٢٣) (صحیح) (سند میں قیس کے بارے میں قدرے کلام ہے، لیکن اکثر علماء نے توثیق کی ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث اور پچھلی حدیث میں تعارض ہے ، اس تعارض کو محدثین نے ایسے دور کیا ہے کہ طلق بن علی کی یہ روایت بسرہ (رض) کی روایت سے پہلے کی ہے ، اس لیے طلق (رض) کی حدیث منسوخ ہے ، رہی ان تابعین کی بات جو عضو تناسل چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہیں ہیں ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بسرہ کی حدیث نہیں پہنچی ہوگی۔ کچھ علما نے اس تعارض کو ایسے دور کیا ہے کہ بسرہ کی حدیث بغیر کسی حائل ( رکاوٹ ) کے چھونے کے بارے میں ہے ، اور طلق کی حدیث بغیر کسی حائل ( پردہ ) کے چھونے کے بارے میں ہے۔ ٢ ؎ : طلق بن علی (رض) کی اس حدیث کے تمام طریق میں ملازم والا طریق سب سے بہتر ہے ، نہ یہ کہ بسرہ کی حدیث سے طلق کی حدیث بہتر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (483) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 85
حدیث نمبر: 85 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ ؟ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ ؟ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضِ التَّابِعِينَ، أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، وَأَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ، وَحَدِيثُ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، أَصَحُّ وَأَحْسَنُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ بوسہ سے وضو نہیں ٹوٹتا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے) کہا : وہ آپ ہی رہی ہوں گی ؟ تو وہ ہنس پڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو (واجب) نہیں ہے، مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو (واجب) ہے، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے، ٢- ہمارے اصحاب نے عائشہ (رض) کی حدیث پر جو نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ٢ ؎، ٣- یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ «لاشیٔ» کے مشابہ ہے ٣ ؎، ٤- نیز میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے، ٥- نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٦٩ (١٧٩، ١٨٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١٢١ (١٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٩ (٥٠٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٣٧١) ، مسند احمد (٦/٢٠٧) (صحیح) (سند میں حبیب بن ابی ثابت اور عروہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی آپ نے سابق وضو ہی پر نماز پڑھی ، بوسہ لینے سے نیا وضو نہیں کیا ، اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور یہی قول راجح ہے۔ ٢ ؎ : لیکن امام شوکانی نے نیل الأوطار میں اور علامہ البانی نے صحیح أبی داود ( رقم ١٧١- ١٧٢) میں متابعات اور شواہد کی بنیاد پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ، نیز دیگر بہت سے ائمہ نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی ہے ( تفصیل کے لیے دیکھئیے مذکورہ حوالے ) ۔ ٣ ؎ : «لاشئی» کے مشابہ ہے یعنی ضعیف ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (502) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 86
حدیث نمبر: 86 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وأَبو عَمَّارٍ الْحسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ، قَالَ: فَضَحِكَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالُوا: لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَإِنَّمَا تَرَكَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا، لِأَنَّهُ لَا يَصِحُّ عِنْدَهُمْ لِحَالِ الْإِسْنَادِ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: ضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا، وَقَالَ: هُوَ شِبْهُ لَا شَيْءَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ، وقَالَ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ قے اور نکسیر سے وضو کا حکم ہے
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا (معدان کہتے ہیں کہ) پھر میں نے ثوبان (رض) سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ ﷺ پر پانی ڈالا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو (ٹوٹ جاتا) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے ٢ ؎، ٢- حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصوم ٣٢ (٢٣٩١) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٩٦٤) ، مسند احمد (٥/١٩٥، و ٦/٤٤٣) ، سنن الدارمی/الصوم ٢٤ (١٧٦٩) ، (ولفظ الجمیع ” قاء فأفطر “ ) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ان لوگوں کی دلیل باب کی یہی حدیث ہے ، لیکن اس حدیث سے استدلال دو باتوں پر موقوف ہے : ایک یہ کہ : حدیث میں لفظ یوں ہو «قاء فتوضأ» قے کی تو وضو کیا جب کہ یہ لفظ محفوظ نہیں ہے ، زیادہ تر مصادر حدیث میں زیادہ رواۃ کی روایتوں میں «قاء فأفطر» قے کی تو روزہ توڑ لیا ہے «فأفطر» کے بعد بھی «فتوضأ» کا لفظ نہیں ہے ، یا اسی طرح ہے جس طرح اس روایت میں ہے ، یعنی «قاء فأفطرفتوضأ» یعنی قے کی تو روزہ توڑ لیا ، اور اس کے بعد وضو کیا اور اس لفظ سے وضو کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ قے کے بعد آدمی کمزور ہوجاتا ہے اس لیے روزہ توڑ لیتا ہے ، اور نظافت کے طور پر وضو کرلیتا ہے ، اور رسول اللہ ﷺ تو اور زیادہ نظافت پسند تھے ، نیز یہ آپ ﷺ کا صرف فعل تھا جس کے ساتھ آپ کا کوئی حکم بھی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر «قاء فتوضأ» کا لفظ ہی محفوظ ہو تو «فتوضأ» کی فاء سبب کے لیے ہو ، یعنی یہ ہوا کہ قے کی اس لیے وضو کیا اور یہ بات متعین نہیں ہے ، بلکہ یہ فاء تعقیب کے لیے بھی ہوسکتی ہے ، یعنی یہ ہوا کہ قے کی اور اس کے بعد وضو کیا ۔ ٢ ؎ : ان لوگوں کی دلیل جابر (رض) کی وہ روایت ہے جسے امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ ذات الرقاع میں تھے کہ ایک شخص کو ایک تیر آ کر لگا اور خون بہنے لگا لیکن اس نے اپنی نماز جاری رکھی اور اسی حال میں رکوع اور سجدہ کرتا رہا ظاہر ہے اس کی اس نماز کا علم نبی اکرم ﷺ کو یقیناً رہا ہوگا کیونکہ اس کی یہ نماز بحالت پہرہ داری تھی جس کا حکم نبی اکرم ﷺ نے اسے دیا تھا ، اس کے باوجود آپ نے اسے وضو کرنے اور نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (111) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 87
حدیث نمبر: 87 حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ، فَأَفْطَرَ، فَتَوَضَّأ، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وقَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ: مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَابْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ، الْوُضُوءَ مِنَ الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ فِي الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ وُضُوءٌ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَقَدْ جَوَّدَ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ، وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْأَوْزَاعِيَّ، وَقَالَ: عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَإِنَّمَا هُوَ: مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے وضو
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : تمہارے مشکیزے میں کیا ہے ؟ تو میں نے عرض کیا : نبیذ ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا : کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی، ٢- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ٢ ؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑجائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کرلے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ٣- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو (النساء : 43) پوری آیت یوں ہے : «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتی تغتسلوا وإن کنتم مرضی أو علی سفر أو جاء أحد منکم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن اللہ کان عفوا غفورا» تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٤٢ (٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٧ (٣٨٤) ، ( تحفة الأشراف : ٩٦٠٣) ، مسند احمد (١/٤٠٢) (ضعیف) (سند میں ابو زید مجہول راوی ہیں۔ ) وضاحت : ١ ؎ : نبیذ ایک مشروب ہے جو کھجور ، کشمش ، شہد گیہوں اور جو وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔ ٢ ؎ : یہی جمہور علما کا قول ہے ، اور ان کی دلیل یہ ہے کہ نبیذ پانی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» (سورة النساء : 43 ) تو جب پانی نہ ہو تو نبیذ سے وضو کرنے کے بجائے تیمم کرلینا چاہیئے ، اور باب کی اس حدیث کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو استدلال کے لیے احتجاج کے لائق نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (384) ، //، ضعيف أبي داود (14 / 84) ، المشکاة (480) ، ضعيف سنن ابن ماجة (84) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 88
حدیث نمبر: 88 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا فِي إِدَاوَتِكَ ؟ فَقُلْتُ: نَبِيذٌ، فَقَالَ: تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو زَيْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، لَا تُعْرَفُ لَهُ رِوَايَةٌ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالنَّبِيذِ، مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ إِسْحَاق: إِنِ ابْتُلِيَ رَجُلٌ بِهَذَا فَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ وَتَيَمَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَوْلُ مَنْ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ أَقْرَبُ إِلَى الْكِتَابِ، وَأَشْبَهُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ دودھ پی کر کلی کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا : اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ١ ؎ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٢ (٢١١) ، والأشربة ١٢ (٥٦٠٩) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٣٥٨) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٧٧ (١٩٦) ، سنن النسائی/الطہارة ٢٥ (١٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٨ (٤٩٨) ، ( تحفة الأشراف : ٥٨٣٣) ، مسند احمد (١/٢٢٣، ٢٢٧، ٣٢٩، ٣٣٧، ٣٧٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : بعض لوگوں نے اسے واجب کہا ہے ، ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ ابن ماجہ کی ایک روایت ( رقم ٤٩٨) میں «مضمضوا من اللبن» امر کے صیغے کے ساتھ آیا ہے اور امر میں اصل وجوب ہے ، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب استحباب پر محمول کرنے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو اور یہاں استحباب پر محمول کئے جانے کی دلیل موجود ہے کیونکہ ابوداؤد نے ( برقم ١٩٦) انس سے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو نہ کلی کی اور نہ وضو ہی کیا ، اس کی سند حسن ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (498) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 89
حدیث نمبر: 89 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ، وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى الِاسْتِحْبَابِ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمُ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو سلام کو جواب دینا مکروہ ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یا پیشاب کر رہا ہو، بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے ١ ؎، ٢- یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ٣- اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء، جابر اور براء بن عازب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٧٠) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٨ (١٦) ، سنن النسائی/الطہارة ٣٣ (٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٧ (٣٥٣) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٧٢٠ (تحفة الأشراف : ٧٦٩٦) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہی راجح ہے کہ آپ ﷺ پیشاب کی حالت میں ہونے کی وجہ سے جواب نہیں دیا ، نہ کہ وضو کے بغیر سلام کا جواب جائز نہیں ، اور جن حدیثوں میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فراغت کے بعد وضو کیا اور پھر آپ نے جواب دیا تو یہ استحباب پر محمول ہے ، نیز یہ بات آپ کو خاص طور پر پسند تھی کہ آپ اللہ کا نام بغیر طہارت کے نہیں لیتے تھے ، اس حدیث سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ پائخانہ پیشاب کرنے والے پر سلام ہی نہیں کرنا چاہیئے ، یہ حکم وجوبی ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الإرواء (54) ، صحيح أبي داود (12 و 13) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 90
حدیث نمبر: 90 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَليٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ هَذَا عِنْدَنَا، إِذَا كَانَ عَلَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَلِكَ، وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ، وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ کتے کا جھوٹا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ١ ؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ٣- ابوہریرہ (رض) کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ٣- اس باب میں عبداللہ بن مغفل (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٧ (٧٢) ، وانظر أیضا : صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٢) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٣٧ (٧١) ، سنن النسائی/الطہارة ٥١ (٦٣) ، والمیاہ ٧ (٣٣٦) ، و (٣٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣١ (٣٦٣، ٣٦٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٥٠٩) ، موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٥) ، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٣، ٢٦٥، ٢٧١، ٣٦٠، ٣٩٨، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٤٠، ٤٨٠، ٥٠٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونا اور ایک بار مٹی سے دھونا واجب ہے یہی جمہور کا مسلک ہے ، احناف تین بار دھونے سے برتن کے پاک ہونے کے قائل ہیں ، ان کی دلیل دارقطنی اور طحاوی میں منقول ابوہریرہ (رض) کا فتویٰ ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے تین مرتبہ دھونا چاہیئے ، حالانکہ ابوہریرہ سے سات بار دھونے کا بھی فتویٰ منقول ہے اور سند کے اعتبار سے یہ پہلے فتوے سے زیادہ صحیح ہے ، نیز یہ فتویٰ روایت کے موافق بھی ہے ، اس لیے یہ بات درست نہیں ہے کہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں ان کے مرجوح فتوے اور رائے کو ترجیح دی جائے ، رہے وہ اعتراضات جو باب کی اس حدیث پر احناف کی طرف سے وارد کئے گئے ہیں تو ان سب کے تشفی بخش جوابات دیئے جا چکے ہیں ، تفصیل کے لیے دیکھئیے ( تحفۃ الاحوذی ، ج ١ ص ٩٣) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (64 - 66) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 91
حدیث نمبر: 91 حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يُغْسَلُ الْإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً. وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ بلی کا جھوٹا
کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے (ایک برتن) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ (آسانی سے) پی لے، کبشہ کہتی ہیں : ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا : بھتیجی ! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ (بلی) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث مروی ہیں، ٢- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٣- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٨ (٧٥) ، سنن النسائی/الطہارة ٥٤ (٦٨) ، والمیاہ ٩ (٣٤١) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٢ (٣٦٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٢١٤١) ، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩) ، سنن الدارمی/الطہارة ٥٨ (٧٦٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے ، بشرطیکہ اس کے منہ پر نجاست نہ لگی ہو ، اس حدیث میں بلی کو گھر کے خادم سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خادموں کی طرح اس کا بھی گھروں میں آنا جانا بہت رہتا ہے ، اگر اسے نجس و ناپاک قرار دے دیا جاتا تو گھر والوں کو بڑی دشواری پیش آتی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (367) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 92
حدیث نمبر: 92 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا، قَالَتْ: فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي قَتَادَةَ، وَالصَّحِيحُ ابْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا، وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنا
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ (رض) نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا : کیا آپ ایسا کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر (رض) کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورة المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جریر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٥ (٣٧٨) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٢) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٥٩ (١٥٤) ، سنن النسائی/الطہارة ٩٦ (١١٨) ، والقبلة ٢٣ (٧٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٤ (٥٤٣) ، ( تحفة الأشراف : ٣٢٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے موزوں پر مسح کا جواز ثابت ہوتا ہے ، موزوں پر مسح کی احادیث تقریباً اسی ( ٨٠) صحابہ کرام سے آئی ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں ، علامہ ابن عبدالبر نے اس کے ثبوت پر اجماع نقل کیا ہے ، امام کرخی کی رائے ہے کہ «مسح علی خفین» موزوں پر مسح کی احادیث تواتر تک پہنچی ہیں اور جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں مجھے ان کے کفر کا اندیشہ ہے ، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسح خفین کی حدیثیں آیت مائدہ سے منسوخ ہیں ان کا یہ قول درست نہیں کیونکہ «مسح علی خفین» کی حدیث کے راوی جریر (رض) آیت مائدہ کے نزول کے بعد اسلام لائے ، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ یہ احادیث منسوخ ہیں بلکہ یہ آیت مائدہ کی مبیّن اور مخص ہیں ، یعنی آیت میں پیروں کے دھونے کا حکم ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو موزے نہ پہنے ہوں ، رہا موزے پر مسح کا طریقہ تو اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو پانی سے بھگو کر ان کے پوروں کو پاؤں کی انگلیوں سے پنڈلی کے شروع تک کھینچ لیا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (543) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 93
حدیث نمبر: 93 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ، لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ، قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ، وَالْمُغِيرَةِ، وَبِلَالٍ، وَسَعْدٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَسَلْمَانَ، وَبُرَيْدَةَ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَنَسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، وَأَبِي أُمَامَةِ، وَجَابِرٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عُبَادَةَ، وَيُقَالُ: ابْنُ عِمَارَةَ، وَأُبَيُّ بْنُ عِمَارَةَ. قال أبو عيسى: وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنا
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے جب ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے ان سے پوچھا : آپ کا یہ عمل سورة المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے، یا بعد کا ؟ تو کہا : میں تو سورة المائدہ اترنے کے بعد ہی اسلام لایا ہوں، یہ حدیث آیت وضو کی تفسیر کر رہی ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے موزوں پر مسح کا انکار کیا ہے ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں پر جو مسح کیا تھا وہ آیت مائدہ کے نزول سے پہلے کا تھا، جبکہ جریر (رض) نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد نبی اکرم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٢١٣) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب میں کلام ہے، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، الإرواء ١/١٣٧) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (1 / 137) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 94
حدیث نمبر: 94 وَيُرْوَى عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ: أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ ؟ فَقَالَ: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ الْمَائِدَةِ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ التِّرْمِذِيُّ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قال: وَرَوَى بَقِيَّةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ جَرِيرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ، لِأَنَّ بَعْضَ مَنْ أَنْكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ تَأَوَّلَ أَنَّ مَسْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، وَذَكَرَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ مسافر اور مقیم کے لئے مسح کرنا
خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، ٣- اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٦٠ (١٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٦ (٥٥٣) ، ( تحفة الأشراف : ٣٥٢٨) ، مسند احمد (٥/٢١٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (553) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 95
حدیث نمبر: 95 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةٌ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ ، وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ صَحَّحَ حَدِيثَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَسْحِ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَرِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ مسافر اور مقیم کے لئے مسح کرنا
صفوان بن عسال (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن اسماعیل (بخاری) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ٣- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً : سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ (جب تک دل چاہے کرسکتا ہے) یہ مالک بن انس (رح) کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطہارة ٩٨، ١١٣، ١١٤ (١٢٦) ، و ١١٣ (١٥٨) ، و ١١٤ (١٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٣ (٤٧٨) ، ویأتي برقم : ٣٥٣٥ (تحفة الأشراف : ٤٩٥٢) ، مسند احمد (٤/٢٣٩، ٢٤٠) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث موزوں پر مسح کی مدت کی تحدید پر دلالت کرتی ہے : مسافر کے لیے تین دن تین رات ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ، یہ مدت وضو کے ٹوٹنے کے وقت سے شمار ہوگی نہ کہ موزہ پہننے کے وقت سے ، حدث لاحق ہونے کی صورت میں اگر موزہ اتار لیا جائے تو مسح ٹوٹ جاتا ہے ، نیز مدت ختم ہوجانے کے بعد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (478) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 96
حدیث نمبر: 96 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَلَا يَصِحُّ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ. وقَالَ زَائِدَةُ: عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ. قال أبو عيسى: وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا، مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنا
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ٢- یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٦٣ (١٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٥ (٥٥٠) ، ( تحفة الأشراف : ١١٥٣٧) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، راوی ثور بن یزید کا رجاء بن حیوہ سے سماع نہیں ہے، اسی طرح ابو زرعہ اور بخاری کہتے ہیں کہ حیوہ کا بھی کاتب مغیرہ بن شعبہ کا وراد سے سماع نہیں ہے، نیز یہ کاتب مغیرہ کی مرسل روایت ثابت ہے۔ ) نوٹ : ابن ماجہ (٥٥٠) ابوداود (١٦٥) میں غلطی سے موطأ، مسند احمد اور دارمی کا حوالہ آگیا ہے، جب کہ ان کتابوں میں مسح سے متعلق مغیرہ بن شعبہ کی متفق علیہ حدیث آئی ہے جس میں اوپر نیچے کی صراحت نہیں ہے، ہاں آگے آنے والی حدیث (٩٨) میں مغیرہ سے صراحت کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔ وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ امام ترمذی نے خود اس کی صراحت کردی ہے۔ ٢ ؎ : مولف نے یہاں حدیث علت کی واضح فرمائی ہے ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ یہ حدیث مغیرہ کی سند میں سے نہیں بلکہ کاتب مغیرہ ( تابعی ) سے مرسلاً مروی ہے ، ولید بن مسلم کو اس سلسلے میں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ کی مسند میں سے روایت کردیا ہے ، ترمذی نے «لم یسندہ عن ثوربن یزید غیر الولید بن مسلم» کہہ کر اسی کی وضاحت ہے۔ مغیرہ (رض) سے مسنداً روایت اس کے برخلاف ہے جو آگے آرہی ہے اور وہ صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (550) ، //، ضعيف أبي داود (30 / 165) ، المشکاة (521) ، ضعيف سنن ابن ماجة (120) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 97
حدیث نمبر: 97 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَإِسْحَاق، وَهَذَا مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ، وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيحٍ، لِأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ رَوَى هَذَا عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ الْمُغِيرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ موزوں کے اوپر مسح کرنا
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- مغیرہ (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ٢ ؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٦٣ (١٦١) ، (وراجع أیضا ما عندہ برقم : ١٤٩) ، ( تحفة الأشراف : ١١٥١٢) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہ روایت متصلاً و مسنداً حسن صحیح ہے۔ ٢ ؎ : یعنی «علی ظاهرهما» کے الفاظ ذکر کرنے میں عبدالرحمٰن بن ابی زناد منفرد ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (522) ، صحيح أبي داود (151 - 152) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 98
حدیث نمبر: 98 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَسَنٌ، وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا غَيْرَهُ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جوربین اور نعلین پر مسح کرنے کے بارے میں
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بےموٹے ہوں، ٣- اس باب میں ابوموسیٰ (رض) سے بھی روایت آئی ہے، ٤- ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا، اور وضو کیا، وہ پاتا بےپہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان پر مسح کیا، پھر کہا : آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٦١ (١٥٩) ، سنن النسائی/الطہارة ٩٦ (١٢٣) ، و ٩٧/١ (١٢٥/م) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٨ (٥٥٩) ، ( تحفة الأشراف : ١١٥٣٤) ، مسند احمد (٣/٢٥٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (559) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 99
حدیث نمبر: 99 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَعْلَيْنِ إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِيَّ قَال: سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جَوْرَبَانِ، فَمَسْحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ قَالَ: فَعَلْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ أَكُنْ أَفْعَلُهُ، مَسَحْتُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَهُمَا غَيْرُ مُنَعَّلَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا ، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس (رض) ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ (کچھ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، ٤- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کرلے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہوگا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٥٩ (١٥٠) ، ( تحفة الأشراف : ١١٤٩٢) ، مسند احمد (٤/٢٤٤، ٢٤٨، ٢٥٠، ٢٥٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (137 - 138) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 100
حدیث نمبر: 100 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ . قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ذَكَرَ بَعْضُهُمُ الْمَسْحَ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمُ النَّاصِيَةَ، وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةِ، وَسَلْمَانَ، وَثَوْبَانَ، وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَسٌ، وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ، وقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ: لَا يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إِلَّا بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ، يَقُولُ: إِنْ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلْأَثَرِ.
তাহকীক: