আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭ টি
হাদীস নং: ৬১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ کہ نبی ﷺ کا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنا
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر (رض) نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا ، ٣- سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» (مرسلاً روایت کیا ہے) کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، ٤- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے، ٥- نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٦- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو، ٧- بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، ٨- نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ٩- اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٥ (٢٧٧) سنن ابی داود/ الطہارة ٦٦ (١٧٢) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٢ (٥١٠) (تحفة الأشراف : ١٩٢٨) مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥١، ٣٥٨) سنن الدارمی/الطہارة ٣ (٦٨٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ کی یہ مرسل روایت جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر نہیں ہے وکیع کی مسند روایت سے جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر ہے زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کے رواۃ زیادہ ہیں ، لیکن عبدالرحمٰن بن مہدی کی علقمہ کے طریق سے روایت مرفوع متصل ہے ( جو مولف کی پہلی سند ہے ) اور اس کے متصل ہونے میں سفیان کے کسی شاگرد کا اختلاف نہیں ہے جیسا کہ محارب والے طریق میں ہے ، فافہم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (510) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 61
حدیث نمبر: 61 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ فَعَلْتَهُ. قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ: تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، قَالَ: وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، اسْتِحْبَابًا وَإِرَادَةَ الْفَضْلِ، وَيُرْوَى عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت کا ایک برتن میں وضو کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، ٣- اس باب میں علی، عائشہ، انس، ام ہانی، ام حبیبہ، ام سلمہ اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٢) سنن النسائی/الطہارة ١٤٦ (٢٣٧) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٥ (٣٧٧) (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٧) مسند احمد (٦/٣٢٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور غسل جائز ہے تو وضو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 62
حدیث نمبر: 62 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ: أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَأُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قال أبو عيسى: وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ: جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی کراہت کے بارے میں
قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے (وضو کرنے سے) منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عبداللہ بن سرجس (رض) سے بھی روایت ہے، ٢- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٤٠ (٨٢) سنن النسائی/المیاہ ١٢ (٣٤٥) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٤ (٣٧٣) (تحفة الأشراف : ٣٤٢١) ، مسند احمد (٤/٢١٣، ٦٦٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (373) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 63
حدیث نمبر: 63 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ. قال أبو عيسى: وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق: كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی کراہت کے بارے میں
حکم بن عمرو غفاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا : عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ١ ؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظرما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے ، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے ، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں ، یا یہ ممانعت محمول ہوگی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ «ماء» مستعمل استعمال ہوا پانی ہے۔ ٢ ؎ : مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (63) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 64
حدیث نمبر: 64 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍيُحَدِّثُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ، أَوْ قَالَ: بِسُؤْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ: سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جنبی عورت کے نہائے ہوئے پانی کے بقیہ سے وضو کا جواز
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے ایک لگن (ٹب) سے (پانی لے کر) غسل کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس (بچے ہوئے پانی) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا : پانی جنبی نہیں ہوتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٥ (٦٨) سنن النسائی/المیاہ ١ (٣٢٦) (بلفظ ” لاینجسہ شیٔ “ ٣٣ (٣٧٠، ٣٧١) (تحفة الأشراف : ٦١٠٣) مسند احمد (١/٢٤٣) سنن الدارمی/الطہارة ٥٧ (٧٦١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت ( غسل اور وضو ) حاصل کرنا جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (370) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 65
حدیث نمبر: 65 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ پانی کو کوئی چیز نا پاک نہیں کر تی
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں ١ ؎ سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں ؟۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ٣ ؎، ٣- یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے، ٤- اس باب میں ابن عباس اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٤ (٦٦) سنن النسائی/المیاہ ٢ (٣٢٧، ٣٢٨) (تحفة الأشراف : ٤١٤٤) مسند احمد (٣/١٥، ١٦، ٣١، ٨٦) (صحیح) (سند میں عبید اللہ بن عبد اللہ رافع مجہول الحال ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : بئر بضاعہ مدینہ کے ایک مشہور کنویں کا نام ہے۔ ٢ ؎ : «إن الماء طهور» میں «المائ» میں جو لام ہے وہ عہد کا لام ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سائل کے ذہن میں جس کنویں کا پانی ہے وہ نجاست گرنے سے پاک نہیں ہوگا کیونکہ اس کنویں کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اس میں ناف سے اوپر پانی رہتا تھا اور جب کم ہوتا تو ناف سے نیچے ہوجاتا ، جیسا کہ امام ابوداؤد (رح) نے اپنی سنن میں اس کا ذکر کیا ہے ، یہ ہے کہ جب پانی کثیر مقدار میں ہو ( یعنی دو قلہ سے زیادہ ہو ) تو محض نجاست کا گر جانا اسے ناپاک نہیں کرتا ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطلق پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوگا ، چاہے وہ کم ہو ، یا چاہے اس کا مزہ اور مہک بدل جائے۔ ٣ ؎ : مولف کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث ابو سعید خدری (رض) سے کئی طرق سے مروی ہے ان میں سب سے بہتر طریق یہی ابواسامہ والا ہے ، تمام طرق سے مل کر یہ حدیث صحیح ( لغیرہ ) کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (478) ، صحيح أبي داود (59) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 66
حدیث نمبر: 66 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، والحَسنُ بن علِيّ الْخَلالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَقَدْ جَوَّدَ أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ أَحْسَنَ مِمَّا رَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اسی کے متعلق دوسرا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو میدان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے اور چوپائے آتے جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا : جب پانی دو قلہ ١ ؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دے گا، اسے دفع کر دے گا ٢ ؎۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں : قلہ سے مراد گھڑے ہیں اور قلہ وہ (ڈول) بھی ہے جس سے کھیتوں اور باغات کی سینچائی کی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہی قول شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پانی دو قلہ ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کرسکتی جب تک کہ اس کی بویا مزہ بدل نہ جائے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دو قلہ پانچ مشک کے قریب ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٣ (٦٣) ، سنن النسائی/الطہارة ٤٤ (٥٢) ، والمیاہ ٢ (٣٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٥ (٥١٧، ٥١٨) (تحفة الأشراف : ٧٣٠٥) ، مسند احمد (١/١٢، ٢٦، ٣٨، ١٠٧) ، سنن الدارمی/الطہارة ٥٥ (٧٥٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : قلّہ کے معنی مٹکے کے ہیں ، یہاں مراد قبیلہ ہجر کے مٹکے ہیں ، کیونکہ عرب میں یہی مٹکے مشہور و معروف تھے ، اس مٹکے میں ڈھائی سو رطل پانی سمانے کی گنجائش ہوتی تھی ، لہٰذا دو قلوں کے پانی کی مقدار پانچ سو رطل ہوئی جو موجودہ زمانہ کے پیمانے کے مطابق دو کو ئنٹل ستائیس کلو گرام ہوتی ہے۔ ٢ ؎ : کچھ لوگوں نے «لم يحمل الخبث» کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہوگا یعنی نجس ہوجائے گا ، لیکن یہ ترجمہ دو اسباب کی وجہ سے صحیح نہیں ، ایک یہ کہ ابوداؤد کی ایک صحیح روایت میں «اذابلغ الماء قلتین فإنہ لاینجس» ہے ، یعنی : اگر پانی اس مقدار سے کم ہو تو نجاست گرنے سے ناپاک ہوجائے گا ، چاہے رنگ مزہ اور بو نہ بدلے ، اور اگر اس مقدار سے زیادہ ہو تو نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوگا ، الا یہ کہ اس کا رنگ ، مزہ ، اور بو بدل جائے ، لہٰذا یہ روایت اسی پر محمول ہوگی اور «لم يحمل الخبث» کے معنی «لم ينجس» کے ہوں گے ، دوسری یہ کہ «قلتين» دو قلے سے نبی اکرم ﷺ نے پانی کی تحدید فرما دی ہے اور یہ معنی لینے کی صورت میں تحدید باطل ہوجائے گی کیونکہ قلتین سے کم اور قلتین دونوں ایک ہی حکم میں آ جائیں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (517) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 67
حدیث نمبر: 67 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ . قَالَ عَبْدَةُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق: الْقُلَّةُ هِيَ: الْجِرَارُ، وَالْقُلَّةُ الَّتِي يُسْتَقَى فِيهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ، وَقَالُوا: يَكُونُ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ رکے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ١ ؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٨ (٢٣٩) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨٢) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٣٦ (٦٩) ، سنن النسائی/الطہارة ٤٧ (٥٨) ، و ١٣٩ (٢٢١) ، و ١٤٠ (٢٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٥ (٣٤٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٧٢٢) ، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٦٢، ٣٦٤) ، سنن الدارمی/ الطہارة ٥٤ (٧٥٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جو دریا کی طرح جاری نہ ہو جیسے حوض اور تالاب وغیرہ کا پانی ، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہوگا ، یہ پانی کم ہو یا زیادہ اس میں نجاست ڈالنے سے بچنا چاہیئے تاکہ اس میں مزید بدبو نہ ہو ، ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے بھی سرانڈ پیدا ہوجاتی ہے ، اگر اس میں نجاست ( گندگی ) ڈال دی جائے تو اس کی سڑاند بڑھ جائے گی اور اس سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (344) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 68
حدیث نمبر: 68 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ دریا کا پانی پاک ہونا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سمندر کا پانی پاک ١ ؎ ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور فراسی (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- اور یہی صحابہ کرام (رض) میں سے اکثر فقہاء کا قول ہے جن میں ابوبکر، عمر اور ابن عباس بھی ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ کرام نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ جانا ہے، انہیں میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ہیں عبداللہ بن عمرو کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی آگ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٤١ (٨٣) سنن النسائی/الطہارة ٤٧ (٥٩) والمیاہ ٥ (٣٣٣) والصید ٣٥ (٤٣٥٥) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٩ (٣٨٦) (تحفة الأشراف : ١٤٦١٨) موطا امام مالک/الطہارة ٣ (١٢) مسند احمد (٢/٢٣٧، ٣٦١، ٣٧٨) سنن الدارمی/الطہارة ٥٣ (٧٥٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی «طاہر» (پاک ) اور «مطہر» (پاک کرنے والا ) دونوں ہے۔ ٢ ؎ : سمندر کے مردار سے مراد وہ سمندری اور دریائی جانور ہے جو صرف پانی ہی میں زندہ رہتا ہو ، نیز مردار کا لفظ عام ہے ہر طرح کے جانور جو پانی میں رہتے ہوں خواہ وہ کتے اور خنزیر کے شکل کے ہی کے کیوں نہ ہوں ، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : دو مردے حلال ہیں : مچھلی اور ٹڈی ، اور بعض علماء کہتے ہیں کہ خشکی میں جس حیوان کے نظیر و مثال جانور کھائے جاتے وہی سمندری مردار حلال ہے ، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ سمندر کا ہر وہ جانور ( زندہ یا مردہ ) حلال ہے جو انسانی صحت کے لیے عمومی طور پر نقصان دہ نہ ہو ، اور نہ ہی خبیث قسم کا ہو جیسے کچھوا ، اور کیکڑا وغیرہ ، یہ دونوں اصول ضابطہٰ سمندری غیر سمندری ہر طرح کے جانور کے لیے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (386 - 388) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 69
حدیث نمبر: 69 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَالْفِرَاسِيِّ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِمَاءِ الْبَحْرِ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ بِمَاءِ الْبَحْرِ، مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: هُوَ نَارٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ پیشاب سے بہت زیادہ احتیاط کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے (کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا ١ ؎ اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٥ (٢١٦) و ٥٦ (٢١٨) والجنائز ٩١ (١٣٦١) و ٨٨ (١٣٧٨) والأدب ٤٦ (٦٠٥٢) و ٤٩ (٦٠٥٥) صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٩٢) سنن ابی داود/ الطہارة ١١ (٢٠) سنن النسائی/الطہارة ٢٧ (٣١) والجنائز ١١٦ (٢٠٧٠) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٦ (٣٤٧) (تحفة الأشراف : ٥٧٤٧) مسند احمد (١/٢٢٥) سنن الدارمی/ الطہارة ٦١ (٧٦٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا ، پیشاب کے چھینٹے اس کے بدن یا کپڑوں پر پڑجایا کرتے تھے ، جو قبر میں عذاب کا سبب بنے ، اس لیے اس کی احتیاط کرنی چاہیئے ، اور یہ کوئی بہت بڑی اور مشکل بات نہیں۔ ٢ ؎ : چغلی خود گرچہ بڑا گناہ ہے مگر اس سے بچنا کوئی مشکل بات نہیں ، اس لحاظ سے فرمایا کہ کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (347) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 70
حدیث نمبر: 70 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَنْصُورٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ طَاوُسٍ، وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ الْبَلْخِيَّ مُسْتَمْلِي وَكِيعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ شیر خوار بچہ جب تک کھانا نہ کھائے اس کے پیشاب پر پانی چھڑکنا کافی ہے
ام قیس بنت محصن (رض) کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ١ ؎، اس نے آپ پر پیشاب کردیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٩ (٢٢٣) ، والطب ١٠ (٥٦٩٣) ، صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٨٧) ، سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٧ (٣٧٤) ، سنن النسائی/الطہارة ١٨٩ (٣٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٧ (٥٢٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٣٤٢) موطا امام مالک/٣٠ (١١٠) ، مسند احمد (٦/٣٥٥، ٣٥٦) ، سنن الدارمی/الطہارة ٦٢ (٧٦٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کی غذا صرف دودھ تھی ، ابھی اس نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (524) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 71
حدیث نمبر: 71 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَزَيْنَبَ، وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبِي السَّمْحِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي لَيْلَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى: وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب
انس (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا : تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو (وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہوگئے) تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہوگئے، انہیں (پکڑ کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس (رض) کہتے ہیں : میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ (وہ پیاس بجھانے کے لیے) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مرگئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، ٢- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٦ (٢٣٣) ، والزکاة ٦٨ (١٥٠١) ، والجہاد ١٥٢ (٣٠١٨) ، والمغازی ٣٦ (٤٩٢) ، وتفسیر المائدة ٥ (٤٦١٠) ، والطب ٥ (٥٦٨٥) ، و ٦ (٥٦٨٦) ، و ٢٩ (٥٧٢٧) ، والحدود ١٥ (٦٨٠٢) ، و ١٧ (٦٨٠٤) ، و ١٨ (٦٨٠٥) ، والدیات ٢٢ (٦٨٩٩) ، صحیح مسلم/القسامة ١٣ (١٦٧١) ، سنن ابی داود/ الحدود ٣ (٤٣٦٧، وأیضا ٣٦٤) ، سنن النسائی/الطہارة ١٩١ (٣٠٥) ، والمحاربة ٧ (٤٠٢٩، ٤٠٣٢) ، و ٨ (٤٠٣٣ - ٤٠٤٠) ، و ٩ (٤٠٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٠ (٣٥٠٣) (تحفة الأشراف : ٣١٧) ، مسند احمد (٣/١٠٧، ١٦١، ١٦٣، ١٧٠، ١٧٧، ١٩٨، ٢٠٥، ٢٣٣، ٢٨٧، ٢٩٠، ویأتی عند المؤلف برقم : ١٨٤٥ و ٢٠٤٢ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کا پیشاب نجس نہیں ضرورت پر علاج میں اس کا استعمال جائز ہے ، اور یہی محققین محدثین کا قول ہے ، ناپاکی کے قائلین کے دلائل محض قیاسات ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (177) ، الروض النضير (43) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 72
حدیث نمبر: 72 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ، فَأُتِيَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ. قَالَ أَنَسٌ: فَكُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ: يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود (سزاؤں) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ٥ (الحدود) ٢ (١٤/١٦٧١) سنن النسائی/المحاربة ٩ (٤٠٤٨) (تحفة الأشراف : ٨٧٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (177) ، الروض النضير (43) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 73
حدیث نمبر: 73 حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْتَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَهُمْ، لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ غَيْرَ هَذَا الشَّيْخِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٤ (٥١٥) (تحفة الأشراف : ١٢٦٨٣) مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٣٥، ٤٧١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شک کی وجہ سے کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں وضو نہیں ٹوٹتا ، اور اس سے ایک اہم اصول کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم پر قائم رہتی ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات یقین و وثوق سے ثابت نہ ہوجائے ، محض شبہ سے حکم نہیں بدلتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (515) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 74
حدیث نمبر: 74 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ اپنی سرین سے ہوا نکلنے کا شبہ پائے تو وہ (مسجد سے) نہ نکلے جب تک کہ وہ ہوا کے خارج ہونے کی آواز نہ سن لے، یا بغیر آواز کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا کی بو نہ محسوس کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن زید، علی بن طلق، عائشہ، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی علماء کا قول ہے کہ وضو «حدث» ہی سے واجب ہوتا ہے کہ وہ «حدث» کی آواز سن لے یا بو محسوس کرلے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب «حدث» میں شک ہو تو وضو واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسا یقین نہ ہوجائے کہ اس پر قسم کھا سکے، نیز کہتے ہیں کہ جب عورت کی اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہو تو اس پر وضو واجب ہوجاتا ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦٢) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٦٨ (١٧٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٧١٨) ، مسند احمد (٢/٣٠، ٤١٤) سنن الدارمی/الطہارة ٤٧ (٧٤٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مقصود یہ ہے کہ انسان کو ہوا خارج ہونے کا یقین ہوجائے خواہ ان دونوں ذرائع سے یا کسی اور ذریعہ سے ، ان دونوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ اس باب میں عام طور سے یہی دو ذریعے ہیں جن سے اس کا یقین ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (169) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 75
حدیث نمبر: 75 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رِيحًا بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ فَلَا يَخْرُجْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں کسی کو «حدث» ہوجائے (یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے) ١ ؎ تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢ (١٣٥) ، والحیل ٢ (٦٩٥٤) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٥) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٣١ (تحفة الأشراف : ١٤٦٩٤) ، مسند احمد (٢/٣١٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اسی جملہ میں باب سے مطابقت ہے ، یعنی : ہوا کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (54) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 76
حدیث نمبر: 76 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ الْعُلَمَاءِ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، إِلَّا مِنْ حَدَثٍ يَسْمَعُ صَوْتًا أَوْ يَجِدُ رِيحًا، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ، فَإِنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ اسْتِيقَانًا يَقْدِرُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِذَا خَرَجَ مِنْ قُبُلِ الْمَرْأَةِ الرِّيحُ وَجَبَ عَلَيْهَا الْوُضُوءُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ نیند کے بعد وضو
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو سو گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٨٠ (٢٠٢) ، ( تحفة الأشراف : ٥٤٢٥) ، مسند احمد (١/٢٤٥، ٣٤٣) (ضعیف) (ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دارمی دالانی مدلس ہیں، انہیں بہت زیادہ وہم ہوجایا کرتا تھا، شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے یہ حدیث ابو العالیہ سے نہیں سنی ہے یعنی اس میں انقطاع بھی ہے) وضاحت : ١ ؎ : چت لیٹنے کی صورت میں ہوا کے خارج ہونے کا شک بڑھ جاتا ہے جب کہ ہلکی نیند میں ایسا نہیں ہوتا ، یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ، مگر اس کے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جانے والے ٹکڑے کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (25) ، المشکاة (318) ، // ضعيف الجامع (1808) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 77
حدیث نمبر: 77 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى كُوفِيٌّ، وَهَنَّادٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ، قَالَ: إِنَّ الْوُضُوءَ لَا يَجِبُ إِلَّا عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ نیند کے بعد وضو
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں، ٣- ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» (موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤- نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٣٣ (١٢٣/٣٧٦) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٠ (٢٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٧١) ، مسند احمد (٣/٢٧٧ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ان تینوں میں راجح پہلا مذہب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (114) ، صحيح أبي داود (194) ، المشکاة (317) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 78
حدیث نمبر: 78 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وسَمِعْت صَالِحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَمَّنْ نَامَ قَاعِدًا مُعْتَمِدًا، فَقَالَ: لَا وُضُوءَ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ، فَرَأَى أَكْثَرُهُمْ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا، حَتَّى يَنَامَ مُضْطَجِعًا، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، قَالَ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا نَامَ حَتَّى غُلِبَ عَلَى عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَى رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ، فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ آگ سے پکی چیز کھانے سے وضو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا : ابوہریرہ (رض) (بتائیے) کیا ہم گھی اور گرم پانی (کے استعمال) سے بھی وضو کریں ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : بھتیجے ! تم جب رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنو تو اس پر (عمل کرو) باتیں نہ بناؤ۔ (اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ام حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابوطلحہ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لیکن صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں، (دلیل اگلی حدیث ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٥ (٤٨٥) (تحفة الأشراف : ١٥٠٣٠) مسند احمد (٢/٢٦٥، ٢٧١، ٤٥٨، ٤٧٠، ٤٧٩، ٥٠٢) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (485) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 79
حدیث نمبر: 79 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّهْنِ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا. قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وأُمِّ سَلَمَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي طَلْحَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مدینہ میں) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے (اسے) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے (اسے بھی) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ٢- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٣٦٨) وانظر مسند احمد (٣/١٢٥، ٢٦٩) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سوائے اونٹ کے گوشت کے ، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے ، اونٹ کے گوشت میں ایک خاص قسم کی بو اور چکناہٹ ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے ناقض وضو کہا گیا ہے ، اس سلسلے میں وارد وضو کو صرف ہاتھ منہ دھو لینے کے معنی میں لینا شرعی الفاظ کو خواہ مخواہ اپنے حقیقی معنی سے ہٹانا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، صحيح أبي داود (185) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 80
حدیث نمبر: 80 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ، فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَأُمِّ الْحَكَمِ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، وَأُمِّ عَامِرٍ، وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ، إِنَّمَا هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَكَذَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، وَعِكْرِمَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ، مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
তাহকীক: