আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭ টি
হাদীস নং: ৪১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہلاکت ہے ان ایڑیوں کے لئے جو خشک وہ جائیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : ١٢٧١٧) وانظر : مسند احمد (٢/٢٨٤٢٢٨٢، ٤٠٦، ٤٠٧، ٤٠٩، ٤٢٠، ٤٨٢، ٤٩٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر پیروں میں موزے یا جراب نہ ہو تو ان کا دھونا واجب ہے ، مسح کافی نہیں جیسا کہ شیعوں کا مذہب ہے ، کیونکہ اگر مسح سے فرض ادا ہوجاتا تو نبی اکرم ﷺ «ويل للأعقاب وبطون الأقدام من النار» نہ فرماتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 41
حدیث نمبر: 41 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيُّ، وَمُعَيْقِيبٍ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ . قَالَ: وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمَا خُفَّانِ أَوْ جَوْرَبَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو میں ایک ایک مرتبہ اعضاء کو دھونا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو ایک ایک بار دھوئے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عمر، جابر، بریدۃ، ابورافع، اور ابن الفاکہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عباس کی یہ حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ٣- رشدین بن سعد وغیرہ بسند «ضحاک بن شرحبیل عن زید بن اسلم عن أبیہ» سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا ، یہ (روایت) کچھ بھی نہیں ہے صحیح وہی روایت ہے جسے ابن عجلان، ہشام بن سعد، سفیان ثوری اور عبدالعزیز بن محمد نے بسند «زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢٢ (١٥٧) ، سنن ابی داود/ الطھارة ٥٣ (١٣٨) ، سنن النسائی/الطھارة ٦٤ (٨٠) ، ق ٤٥ (٤١١) (تحفة الأشراف : ٥٩٧٦) مسند احمد (١/٣٣٢) ، سنن الدارمی/الطھارة ٢٩ (٧٢٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ فرض تعداد ہے نبی اکرم ﷺ کبھی کبھی بیان جواز کے لیے ایسا کرتے تھے ، ورنہ سنت دو مرتبہ اور تین مرتبہ دھونا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی اعضائے وضو کو دھونے کے بارے میں زید بن اسلم کے طریق سے جو روایت آتی ہے ، اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ مذکورہ سند سے ابن عباس (رض) کی مسند سے ہے ، نہ کہ عمر (رض) کی مسند سے ، رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (411) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 42
حدیث نمبر: 42 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَهَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأبِي رَافِعٍ، وَابْنِ الْفَاكِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، وَرَوَى رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً. قَالَ: وَلَيْسَ هَذَا بِشَيْءٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى ابْنُ عَجْلَانَ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اعضائے وضو کو دو دو مرتبہ دھونا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں جابر (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے، ٤- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٥٢ (١٣٦) (تحفة الأشراف : ١٣٩٤٠) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ہمام بن یحییٰ اور عامر الاحول دونوں سے وہم ہوجایا کرتا تھا ، تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہوگیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کردی ہو ، ویسے ابوہریرہ (رض) سے ایک دوسری ( ضعیف ) سند سے ابن ماجہ ( رقم : ٤١٥) میں ایسی ہی روایت ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، صحيح أبي داود (125) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 43
حدیث نمبر: 43 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ هُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى هَمَّامٌ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو کے اعضاء کو تین تین مرتبہ دھونا
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- علی (رض) کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی (رض) سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٣- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں : جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو (دیوانگی اور وسوسہ) میں مبتلا ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٥٠ (١١٦) سنن النسائی/الطہارة ٧٩ (٩٦) و ٩٣ (١١٥) و ١٠٣ (١٣٦) (تحفة الأشراف : ١٠٣٢١، و ١٠٣٢٢) مسند احمد (١/١٢٢) ویأتي برقم : ٤٨، وانظر ما یأتي برقم ٤٩ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اگر کسی کو شک ہوجائے کہ تین بار دھویا ہے یا دو ہی بار ، تب بھی اسی پر اکتفا کرے کیونکہ اگر تین بار نہیں دھویا ہوگا تو دو بار تو دھویا ہی ہے ، جو کافی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (100) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 44
حدیث نمبر: 44 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَالرُّبَيِّعِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ، وَأَفْضَلُهُ ثَلَاثٌ، وَلَيْسَ بَعْدَهُ شَيْءٌ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَا آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يَزِيدُ عَلَى الثَّلَاثِ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اعضائے وضو کو ایک دو اور تین مرتبہ دھونا
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا : کیا جابر (رض) نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں (بیان کیا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٥ (٤١٠) (تحفة الأشراف : ٢٥٩٢) (ضعیف) (سند میں ابو حمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی، و اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (410) ، //، المشکاة (422) ، ضعيف سنن ابن ماجة (91) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 45 یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر (رض) نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٢- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : (صحیح) (سابقہ ابن عباس کی حدیث اور اس میں مذکور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح بحديث ابن عباس المتقدم برقم (42) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 46
حدیث نمبر: 45 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَجَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا ، قَالَ: نَعَمْ.قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَ 26 جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ، قَالَ: نَعَمْ. وحَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّة، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا، عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ، وَشَرِيكٌ كَثِيرُ الْغَلَطِ، وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ N/A
آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَ 26 جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ، قَالَ: نَعَمْ. وحَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّة، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا، عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ، وَشَرِيكٌ كَثِيرُ الْغَلَطِ، وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو میں بعض اعضاء دو مرتبہ اور بعض تین مرتبہ دھونا
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پیر دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس کے علاوہ اور بھی حدیثوں میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے بعض اعضائے وضو کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا، ٣- بعض اہل علم نے اس بات کی اجازت دی ہے، ان کی رائے میں وضو میں بعض اعضاء کو تین بار، بعض کو دو بار اور بعض کو ایک بار دھونے میں کوئی حرج نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : (صحیح الإسناد) (وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ میں مرتين کا لفظ شاذ ہے، صحیح ابی داود ١٠٩) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد، وقوله فی الرجلين : مرتين شاذ، صحيح أبي داود (109) ، // انظر صحيح سنن أبي داود - باختصار السند - طبع مکتب التربية - برقم (109 - 118) ، ضعيف سنن النسائی (3 / 99) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 47
حدیث نمبر: 47 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذُكِرَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بَعْضَ وُضُوئِهِ مَرَّةً وَبَعْضَهُ ثَلَاثًا، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ: لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بَعْضَ وُضُوئِهِ ثَلَاثًا وَبَعْضَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ مَرَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا وضو
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ١ ؎، پھر کہا : میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ٤٤ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ علی (رض) نے کہا : لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو جائز نہیں سمجھتے ، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے کیا ہے ، اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ، ١- کھڑے ہو کر کبھی کبھی پانی پینا جائز ہے ، ٢- وضو سے بچے ہوئے پانی میں برکت ہوتی ہے اس لیے آپ نے اسے پیا اور کھڑے ہو کر پیا تاکہ لوگ یہ عمل دیکھ لیں ، نہ یہ کہ وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر ہی پینا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (101 - 105) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 48
حدیث نمبر: 48 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالرُّبَيِّعِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا وضو
عبد خیر نے بھی علی (رض) سے، ابوحیہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کی ہے، مگر عبد خیر کی روایت میں ہے کہ جب وہ اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو بچے ہوئے پانی کو انہوں نے اپنے چلو میں لیا اور اسے پیا۔ امام ترمذی نے اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٥٠ (١١١) سنن النسائی/الطہارة ٧٤ (٩١) و ٧٥ (٩٢) و ٧٦ (٩٣) (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٣) مسند احمد (١/١٢٢) سنن الدارمی/الطہارة ٣١ (٧٢٨) وانظر رقم : ٤٤ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر الذي قبله (48) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 49
حدیث نمبر: 49 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ذَكَرَ، عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ، قَالَ: كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، وَعَبْدِ خَيْرٍ، وَالْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَ الْوُضُوءِ بِطُولِهِ، وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ فَأَخْطَأَ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، فَقَالَ: مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: وَرُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: وَرُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ مِثْلُ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، وَالصَّحِيحُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو کے بعد ازار پر پانی چھڑکنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا : اے محمد ! جب آپ وضو کریں تو (شرمگاہ پر) پانی چھڑک لیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ حسن بن علی الھاشمی منکر الحدیث راوی ہیں ٢ ؎، ٣- اس حدیث کی سند میں لوگ اضطراب کا شکار ہیں، ٤- اس باب میں ابوالحکم بن سفیان، ابن عباس، زید بن حارثہ اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ الطہارة ٥٨ (٤٦٣) (تحفة الأشراف : ١٣٦٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بن علی ہاشمی ضعیف ہیں، قولی حدیث ثابت نہیں، فعل رسول ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے، دیکھئے : الضعیفة ١٣١٢، والصحیحة ٨٤١) وضاحت : ١ ؎ : اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ وسوسہ ختم ہوجاتا ہے کہ شاید شرمگاہ کے پاس کپڑے میں جو نمی ہے وہ ہو نہ ہو پیشاب کے قطروں سے ہو ، اور ظاہر بات ہے کہ وضو کے بعد اس طرح کی نمی ملنے پر یہ شک ہوگا ، لیکن اگر پیشاب کے بعد اور وضو سے پہلے نمی ہوگی تو وہ پیشاب ہی کی ہوگی۔ ٢ ؎ : حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث ضعیف ہے ، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (463) ، // ضعيف سنن ابن ماجة (103) ، الضعيفة (1312) ، الصحيحة (2 / 519 - 520) ، المشکاة (367 / الحقيق الثاني) ، ضعيف الجامع الصغير - بترتيبى - رقم (2622) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 50
حدیث نمبر: 50 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍ الْهَاشِمِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ، وَاضْطَرَبُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو مکمل کرنے کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ ﷺ نے فرمایا : ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا ١ ؎ اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا ٢ ؎ اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الطہارة ١٤ (٢٥١) سنن النسائی/الطہارة ١٠٧ (١٤٣) (تحفة الأشراف : ١٣٩٨١) موطا امام مالک/السفر ١٨ (٥٥) مسند احمد (٢/٢٧٧، ٣٠٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنے کا مطلب ہے سخت سردی میں اعضاء کا مکمل طور پر دھونا ، یہ طبیعت پر نہایت گراں ہوتا ہے اس کے باوجود مسلمان محض اللہ کی رضا کے لیے ایسا کرتا ہے اس لیے اس کا اجر زیادہ ہوتا ہے۔ ٢ ؎ : مسجد کا قرب بعض اعتبار سے مفید ہے لیکن گھر کا مسجد سے دور ہونا اس لحاظ سے بہتر ہے کہ جتنے قدم مسجد کی طرف اٹھیں گے اتنا ہی اجر و ثواب زیادہ ہوگا۔ ٣ ؎ : یعنی یہ تینوں اعمال اجر و ثواب میں سرحدوں کی پاسبانی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی طرح ہیں ، یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سرحدوں کی نگرانی کے سبب دشمن ملک کے اندر گھس نہیں پاتا اسی طرح ان اعمال پر مواظبت سے شیطان نفس پر غالب نہیں ہو پاتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (428) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 51
حدیث نمبر: 51 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو مکمل کرنے کے بارے میں
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اس طرح روایت ہے، لیکن قتیبہ نے اپنی روایت میں «فذلکم الرباط فذلکم الرباط فذلکم الرباط» تین بار کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، عبیدہ - یا۔۔۔ عبیدہ بن عمرو - عائشہ، عبدالرحمٰن بن عائش الحضرمی اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١٤٠٧١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر الذي قبله (51) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 52
حدیث نمبر: 52 وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ نَحْوَهُ، وقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبِيدَةَ، وَيُقَالُ: عُبَيْدَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الْجُهَنِيُّ الْحُرَقِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو کے بعد رومال استعمال کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضو کے بعد اپنا بدن پونچھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی روایت درست نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے، ابومعاذ سلیمان بن ارقم محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ٢- اس باب میں معاذ بن جبل (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المولف ( تحفة الأشراف : ١٦٤٥٧) (حسن) (سند میں ” ابو معاذ سلیمان بن ارقم “ ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق کی وجہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی ٥٠٢، والصحیحہ ٢٠٩٩) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، نیز اس باب میں وارد کوئی بھی صریح حدیث صحیح نہیں ہے جیسا کہ امام ترمذی نے صراحت کی ہے ، مگر ام سلمہ (رض) کی حدیث جو صحیحین کی حدیث سے اس سے اس کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے ، اس میں ہے کہ غسل سے فراغت کے بعد ام سلمہ نے نبی اکرم ﷺ کو تولیہ پیش کیا تو آپ نے نہیں لیا ، اس سے ثابت ہوا کہ غسل کے بعد تولیہ استعمال کرنے کی عادت تھی تبھی تو ام سلمہ (رض) نے پیش کیا ، مگر اس وقت کسی وجہ سے آپ نے اسے استعمال نہیں کیا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 53
حدیث نمبر: 53 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ لَيْسَ بِالْقَائِمِ، وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ، وَأَبُو مُعَاذٍ يَقُولُونَ: هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو کے بعد رومال استعمال کرنا
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے، رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں، ٢- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضو کے بعد رومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے، اور جن لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے تو محض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے : وضو کو (قیامت کے دن) تولا جائے گا، یہ بات سعید بن مسیب اور زہری سے روایت کی گئی ہے، ٣- زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لیے مکروہ ہے کہ وضو کا پانی (قیامت کے روز) تولا جائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٣٣٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں رشدین بن سعد اور عبدالرحمن افریقی دونوں ضعیف ہیں) وضاحت : ١ ؎ : اس معنی میں بھی کوئی مرفوع صحیح حدیث وارد نہیں ہے ، اور قیامت کے دن وزن کیے جانے کی بات اجر و ثواب کی بات ہے کوئی چاہے تو اپنے طور پر یہ اجر حاصل کرے ، لیکن اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوگیا کہ تولیہ کا استعمال ہی مکروہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 54
حدیث نمبر: 54 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي التَّمَنْدُلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ، وَمَنْ كَرِهَهُ إِنَّمَا كَرِهَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ قِيلَ إِنَّ الْوُضُوءَ يُوزَنُ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ عَنِّي وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ، عَنْ ثَعْلَبَة، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ الْمِنْدِيلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ، لِأَنَّ الْوُضُوءَ يُوزَنُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو کے بعد کیا پڑھا جائے
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے : «أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- امام ترمذی نے عمر (رض) کی حدیث کے طرق ١ ؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ٣- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم ﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٠٨٠) وأخرجہ بدون قولہ ” اللھم اجعلني … “ کل من : صحیح مسلم/الطھارة ٦ (٢٣٤) ، والطھارة ٦٥ (١٦٩) ، و سنن النسائی/الطھارة ١٠٩ (١٤٨) ، والطھارة ٦٠ (٤٧٠) ، و مسند احمد (١/١٤٦، ١٥١، ١٥٣) من طریق عقبة بن عامر عن عمر ( تحفة الأشراف : ١٠٦٠٩) (صحیح) (سند میں اضطراب ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث مذکور اضافہ کے ساتھ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود رقم ١٦٢) وضاحت : ١ ؎ : عمر (رض) کی اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے اپنی صحیح میں ایک دوسری سند سے کی ہے ( رقم : ٢٣٤) اور اس میں «اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» کا اضافہ نہیں ہے ، اور یہ روایت اضطراب سے پاک اور محفوظ ہے ، احناف اور شوافع نے اپنی کتابوں میں ہر عضو کے دھونے کے وقت جو الگ الگ دعائیں نقل کی ہیں : مثلاً چہرہ دھونے کے وقت «اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه» اور دایاں ہاتھ دھونے کے وقت «اللهم أعطني کتابي في يميني وحاسبني حساباً يسيراً» ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ٣ ؎ : ترمذی کی سند میں ابو ادریس کی روایت براہ راست عمر (رض) سے ہے ، لیکن زید بن حباب ہی سے مسلم کی بھی روایت ہے مگر اس میں ابو ادریس کے بعد جبیر بن نفیر عن عقبہ بن عامر ، عن عمر ہے جیسا کہ ترمذی نے خود تصریح کی ہے ، بہرحال ترمذی کی روایت میں «اللهم أجعلني …» کا اضافہ بزار اور طبرانی کے یہاں ثوبان (رض) کی حدیث میں موجود ہے ، حافظ ابن حجر نے اس کو تلخیص میں ذکر کر کے سکوت اختیار کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو : الإرواء رقم ٩٦ ، وصحیح أبی داود رقم ١٦٢) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (470) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 55
حدیث نمبر: 55 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبيِ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَوَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ایک مد سے وضو کرنے کے بارے میں
سفینہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٦) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١ (٢٦٧) (تحفة الأشراف : ٤٤٧٩) مسند احمد (٥/٢٢٢) سنن الدارمی/الطہارة ٢٣ (٧١٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے جو موجودہ زمانہ کے وزن کے حساب سے ڈھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔ ٢ ؎ : مسلم میں ایک «فرق» پانی سے نبی اکرم ﷺ کے غسل کرنے کی روایت بھی آئی ہے ، «فرق» ایک برتن ہوتا تھا جس میں لگ بھگ سات کیلو پانی آتا تھا ، ایک روایت میں تو یہ بھی مذکور ہے کہ عائشہ (رض) اور نبی اکرم ﷺ دونوں ایک «فرق» پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے ، یہ سب آدمی کے مختلف حالات اور مختلف آدمیوں کے جسموں پر منحصر ہے ، ایک ہی آدمی جاڑا اور گرمی ، یا بدن کی زیادہ یا کم گندگی کے سبب کم و بیش پانی استعمال کرتا ہے ، نیز بعض آدمیوں کے بدن موٹے اور لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور بعض آدمیوں کے ناٹے اور دبلے پتلے ہوتے ہیں ، اس حساب سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے ، بہرحال ضرورت سے زیادہ خواہ مخواہ پانی نہ بہائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (267) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 56
حدیث نمبر: 56 وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَليُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَفِينَةَ، حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو رَيْحَانَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ، وَهَكَذَا رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ وَالْغُسْلَ بِالصَّاعِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَيْسَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى التَّوَقِّي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْثَرُ مِنْهُ وَلَا أَقَلُّ مِنْهُ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْفِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف مکروہ ہے
ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے، ٣- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن (بصریٰ ) سے موقوفاً مروی ہے (یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے) اور اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب ١ ؎ کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٨ (٤٢١) (تحفة الأشراف : ٦٦) ، و مسند احمد (٥/١٣٦) (ضعیف جدا) (خارجہ بن مصعب متروک ہے) وضاحت : ١ ؎ : امام ترمذی جب «اصحابنا» کہتے ہیں تو اس سے محدثین مراد ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، ابن ماجة (421) ، //، المشکاة (419) ، ضعيف الجامع الصغير (1970) ، ضعيف سنن ابن ماجة (94) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 57
حدیث نمبر: 57 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا، يُقَالُ لَهُ: الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَالصَّحِيْحَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، لَأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْحَسَنِ قَوْلَهُ: وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، وَخَارِجَةُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لئے وضو کرنا
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بےوضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس (رض) سے پوچھا : آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ٢ ؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٤٠) (ضعیف) (محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس، اور روایت ” عنعنہ “ سے ہے، لیکن متابعت جو حدیث : ٦٠ پر آرہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔ ٢ ؎ : بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح أبى داود تحت الحديث (163) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 58
حدیث نمبر: 58 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ ، قال: قُلْتُ لِأَنَسٍ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَى الْوُجُوبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لئے وضو کرنا
عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے (انس سے) پوچھا : پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطہارة ٥٤ (٢١٤) سنن النسائی/الطہارة ١٠١ (١٣١) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٢ (٥٠٩) (تحفة الأشراف : ١١١٠) مسند احمد (٣/١٣٢، ١٩٤، ٢٦٠) ، سنن الدارمی/ الطہارة ٤٦ (٧٤٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (509) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 60
حدیث نمبر: 60 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأنْصَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: فَأَنْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لئے وضو کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ١ ؎، ٣- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے : میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٢ (٦٢) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٣ (٥١٢) (تحفة الأشراف : ٨٥٩٠) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، اور ابو غطیف مجہول ہیں) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کے رواۃ مدینہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اہل مشرق ( اہل کوفہ اور بصرہ ) ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے معتبر نہیں ہیں جتنا اہل مدینہ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (512) ، // ضعيف سنن ابن ماجة (114) ، المشکاة (293) ، ضعيف أبي داود (12 / 62) ، ضعيف الجامع الصغير - بترتيب زهير - رقم (5536) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 59
حدیث نمبر: 59 وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ . قَالَ: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَفْرِيقِيُّ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ، وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: ذَكَرَ لِهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ، فَقَالَ: هَذَا إِسْنَادٌ مَشْرِقِيٌ، قال: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
তাহকীক: