আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭ টি
হাদীস নং: ১০১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں
ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! (یہ) سنت ہے۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : بالوں کو چھوؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣١٦٥) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : پانی سے بالوں کو مس کرو ، یعنی : عمامہ پر مسح نہ کرو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 102
حدیث نمبر: 102 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هُوَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ، فَقَالَ: أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَاءَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں
بلال (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٥) ، سنن النسائی/الطہارة ٨٦ (١٠٤، ١٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٩ (٥٦١) ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٤٧) ، مسند احمد (٦/١٢، ١٣، ١٤، ١٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (561) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 101
حدیث نمبر: 101 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کے بارے میں
ام المؤمنین میمونہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٩) ، و ٥ (٢٥٧) ، و ٧ (٢٥٩) ، و ٨ (٢٦٠) ، و ١٠ (٢٦٥) ، و ١١ (٢٦٦) ، و ١٦ (٢٧٤) ، و ١٨ (٢٧٦) ، و ٢١ (٢٨١) ، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٧) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٥) ، سنن النسائی/الطہارة ١٦١ (٢٥٤) ، والغسل ٧ (٤٠٨) ، و ١٤ (٤١٨) ، و ٢٢ (٤٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩٤ (٥٧٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٠٦٤) ، مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٦) ، سنن الدارمی/الطہارة ٣٩ (٧٣٨) ، و ٦٦ (٧٧٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (573) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 103
حدیث نمبر: 103 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِمَيْمُونَةَ، قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الْأَرْضَ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کے بارے میں
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر شرمگاہ دھوتے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے، پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے، پھر اپنے پاؤں دھوئے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، نیز ان لوگوں نے کہا کہ اگر جنبی پانی میں غوطہٰ مارے اور وضو نہ کرے تو یہ اسے کافی ہوگا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٨) ، و ٩ (٢٦٢) ، و ١٥ (٢٧٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٢) ، سنن النسائی/الطہارة ١٥٦ (٢٤٨) ، و ١٥٧ (٢٤٩، ٢٥٠) ، والغسل ١٦ (٤٢٠) ، و ١٩ (٤٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٩٣٥) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٧ (٦٧) ، مسند احمد (٦/٥٢، ١٠١) ، ہذا من طریق عروة عنہا، ولہ طرق عنہا، انظر : صحیح البخاری/الغسل ٦ (٢٥٨) ، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٨) ، و ١٠ (٣٢٠، ٣٢١) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١٥٢ (٢٤٤) ، و ٢٥٣، و ١٥٤ (٢٤٦) ، و ١٥٥ (٢٤٧) ، والغسل ١٩ (٤٢٤) ، مسند احمد (٦/١٤٣، ١٦١، ١٧٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (132) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 104
حدیث نمبر: 104 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُشَرِّبُ شَعْرَهُ الْمَاءَ، ثُمَّ يَحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِنِ انْغَمَسَ الْجُنُبُ فِي الْمَاءِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کے بارے میں
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں۔ کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے۔ پھر پورے بدن پر پانی بہا دو تو پاک ہوگئی، یا فرمایا : جب تم ایسا کرلے تو پاک ہوگئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے تو یہ اس کے لیے اس کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہوجائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١٥٠ (٢٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٨ (٦٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٨١٧٢) ، مسند احمد (٦/٣١٥) ، سنن الدارمی/الطہارة ١١٤ (١١٩٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہی جمہور کا مذہب ہے کہ عورت خواہ جنابت کا غسل کر رہی ہو یا حیض سے پاکی کا : کسی میں بھی اس کے لیے بال کھولنا ضروری نہیں لیکن حسن بصری اور طاؤس نے ان دونوں میں تفریق کی ہے ، یہ کہتے ہیں کہ جنابت کے غسل میں تو ضروری نہیں لیکن حیض کے غسل میں ضروری ہے ، اور عائشہ (رض) کی روایت کو جس میں رسول اللہ ﷺ نے ان سے «انقضی رأسک وامتشطي» فرمایا ہے جمہور نے استحباب پر محمول کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (603) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 105
حدیث نمبر: 105 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِينَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ أَوْ قَالَ: فَإِذَا أَنْتِ قَدْ تَطَهَّرْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَلَمْ تَنْقُضْ شَعْرَهَا، أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهَا بَعْدَ أَنْ تُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں علی اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ١ ؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٦ (٥٩٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٥٠٢) (ضعیف) (سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس لفظ قوی نہیں ہیں کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے ، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں ، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (597) ، // ضعيف سنن ابن ماجة (132) ، ضعيف أبي داود (46 / 248) ، المشکاة (443) ، الروض النضير (704) ، ضعيف الجامع الصغير - بترتيبي - رقم (1847) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 106
حدیث نمبر: 106 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، وَيُقَالُ: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ وَجْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ غسل کے بعد وضو کے بارے میں
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا قول ہے کہ غسل کے بعد وضو نہ کرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطہارة ١٦٠ (١٥٣) ، والغسل ٢٤ (٤٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩٦ (٥٧٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٠٢٥) ، مسند احمد (٦/٦٨، ١١٩، ١٥٤، ١٩٢، ٢٥٣، ٢٥٨) ، وانظر أیضا : سنن ابی داود/ الطہارة ٩٩ (٢٥٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : درمیان غسل جو وضو کرچکا ہے وہ کافی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (579) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 107
حدیث نمبر: 107 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنْ لَا يَتَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جب دو شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہوتا ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا ١ ؎، میں نے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١١ (٢٠٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٤٩٩) ، وراجع أیضا : صحیح مسلم/الحیض ٢٢ (٣٤٩) ، وط/الطہارة ١٨ (٧٣) ، و مسند احمد (٦/٤٧، ٩٧، ١١٢، ٢٢٧، ٢٣٩، ٢٦٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا ، پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہو تب غسل واجب ہوگا ، جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا ، دیکھئیے اگلی حدیث۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (608) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 108
حدیث نمبر: 108 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جب دو شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہوتا ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی سندوں سے عائشہ (رض) کی نبی اکرم ﷺ مرفوع حدیث مروی ہے کہ جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عائشہ (رض) بھی شامل ہیں، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١٦١١٩) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح (بما قبله) ، الإرواء (1 / 121) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 109
حدیث نمبر: 109 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَعَائِشَةُ، وَالْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ منی نکلنے سے غسل فرض ہوتا ہے
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ صرف منی (نکلنے) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٨٤ (٢١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١١ (٩٠٦) ، ( تحفة الأشراف : ٢٧) ، مسند احمد (٥/١١٥، ١١٦) ، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور حکم دیا گیا کہ منی خواہ نکلے یا نہ نکلے اگر ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (609) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 110 اس سند سے بھی زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، ٣- اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج (رض) بھی شامل ہیں، مروی ہے، ٤- اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی (شرمگاہ) میں جماع کرے تو دونوں (میاں بیوی) پر غسل واجب ہوجائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 111
حدیث نمبر: 110 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي الْفَرْجِ وَجَبَ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ N/A
زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، ۳- اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج رضی الله عنہما بھی شامل ہیں، مروی ہے، ۴- اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی ( شرمگاہ ) میں جماع کرے تو دونوں ( میاں بیوی ) پر غسل واجب ہو جائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي الْفَرْجِ وَجَبَ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ منی نکلنے سے غسل فرض ہوتا ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ منی نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے کا تعلق احتلام سے ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، ابوایوب اور ابوسعید (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا منی نکلنے ہی پر غسل واجب ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٠٨٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، اور یہ موقوف ہے، لیکن اصل حدیث إنما الماء من الماء مرفوعا صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اور مؤلف نے باب میں وارد احادیث کا ذکر کیا، لیکن مرفوع میں (في الاحتلام) کا لفظ نہیں ہے) وضاحت : ١ ؎ : یہ توجیہ حدیث «إنما الماء من الماء» انزال ہونے پر غسل واجب ہے کی ایک دوسری توجیہ ہے ، یعنی خواب میں ہمبستری دیکھے اور کپڑے میں منی دیکھے تب غسل واجب ہے ورنہ نہیں ، مگر بقول علامہ البانی ابن عباس (رض) کا یہ قول بھی بغیر «في الاحتلام» کے ہے ، یہ لفظ ان کے قول سے بھی ثابت نہیں ہے کیونکہ یہ سند ضعیف ہے ، اور «إنما الماء من الماء» شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : (حديث ابن عباس) صحيح دون قوله فی الاحتلام وهو ضعيف الإسناد موقوف، (حديث أبي سعيد) صحيح (حديث أبي سعيد) ، ابن ماجة (606 - 607) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 112
حدیث نمبر: 112 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الِاحْتِلَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَمْ نَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا عِنْدَ شَرِيكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، والزبير، وطلحة، وأبي أيوب، وأبي سعيد، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ آدمی نیند سے بیداد ہو اور وہ اپنے کپڑوں میں تری دیکھے اور احتلام کا خیال نہ ہو تو
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یاد نہ آئے، آپ نے فرمایا : وہ غسل کرے اور اس شخص کے بارے میں (پوچھا گیا) جسے یہ یاد ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے تو آپ نے فرمایا : اس پر غسل نہیں ام سلمہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا : عورتیں بھی (شرعی احکام میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ کی حدیث کو جس میں ہے کہ آدمی تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ آئے صرف عبداللہ ابن عمر عمری ہی نے عبیداللہ سے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن عمر عمری کی یحییٰ بن سعید نے حدیث کے سلسلے میں ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ١ ؎، ٢- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جب آدمی جاگے اور تری دیکھے تو غسل کرے، یہی سفیان ثوری اور احمد کا بھی قول ہے۔ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس پر غسل اس وقت واجب ہوگا جب وہ تری نطفے کی تری ہو، یہ شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور جب وہ احتلام دیکھے اور تری نہ پائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر غسل نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٩٥ (٢٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٢ (٦١٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٥٣٩) ، مسند احمد (٦/٢٥٦) (صحیح) (ام سلمہ (یا ام سلیم) کا قول صرف عبداللہ العمری کی اس روایت میں ہے اور وہ ضعیف ہیں، بقیہ ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں، ملاحظہ ہو : صحیح سنن ابی داود ٢٣٤) وضاحت : ١ ؎ : فی الواقع عبداللہ العمری حفظ میں کمی کے سبب تمام ائمہ کے نزدیک ضعیف ہیں ، لیکن اس حدیث کا آخری ٹکڑا صحیحین میں ام سلمہ (رض) کی حدیث سے مروی ہے ، اور پہلا ٹکڑا خولہ بنت حکیم کی حدیث جو حسن ہے سے تقویت پا کر صحیح ہے ( خولہ کی حدیث ابن ماجہ میں ہے ، دیکھئیے رقم : ٦٠٢) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (234) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 113
حدیث نمبر: 113 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ هُوَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: يَغْتَسِلُ ، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَجِدْ بَلَلًا، قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدِيثَ عَائِشَةَ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ فِي الْحَدِيثِ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَرَأَى بِلَّةً أَنَّهُ يَغْتَسِلُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ: إِنَّمَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْغُسْلُ إِذَا كَانَتِ الْبِلَّةُ بِلَّةَ نُطْفَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاق، وَإِذَا رَأَى احْتِلَامًا وَلَمْ يَرَ بِلَّةً، فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ منی اور مذی کے بارے میں
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے مذی ١ ؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- علی بن ابی طالب (رض) سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل ، ٤- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٠ (٥٠٤) ، مسند احمد (١/٨٧، ١١٠، ١١٢، ١٢١) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٢٢٥) ، وراجع أیضا : صحیح البخاری/الغسل ١٣ (٢٦٩) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٣ (٢٠٦) ، سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٢) ، والغسل ٢٨ (٤٣٦) ، مسند احمد (١/ ٨٢، ١٠٨) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا ، اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے ، مذی سفید ، پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔ ٢ ؎ : خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے ، یا خواب ( نیند ) میں ، بہرحال اس سے غسل واجب ہوجاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (504) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 114
حدیث نمبر: 114 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ. ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ: مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ مذی کپڑے پر لگ جائے
سہل بن حنیف (رض) کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں، ٣- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہوگا۔ امام احمد کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٨٣ (٢١٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٠ (٥٠٦) ، ( تحفة الأشراف : ٤٦٦٤) ، مسند احمد (٣/٤٨٥) ، سنن الدارمی/الطہارة ٤٩ (٧٥٠) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں «نضح» چھڑکنا ہی آیا ہے ، ہاں بطور نظافت کوئی دھو لے تو یہ اس کی اپنی پسند ہے ، واجب نہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (506) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 115
حدیث نمبر: 115 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ هُوَ ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً وَعَنَاءً فَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنْهُ الْغُسْلَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق فِي الْمَذْيِ مِثْلَ هَذَا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَذْيِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُجْزِئُ إِلَّا الْغَسْلُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاق، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يُجْزِئُهُ النَّضْحُ، وقَالَ أَحْمَدُ: أَرْجُو أَنْ يُجْزِئَهُ النَّضْحُ بِالْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ منی جب کپڑے پر لگ جائے
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے (اوڑھنے کے لیے) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہوگیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چناچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ (رض) نے کہا : اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ١ ؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٢ (٥٣٨) ، مسند احمد (٦/٤٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٦٧٧) ، وانظر أیضا : صحیح مسلم/الطہارة ٣٢ (٢٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٨٨ (٢٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٢ (٥٣٧) ، مسند احمد (٦/٦٧، ١٢٥، ١٣٥، ٢١٣، ٢٣٩، ٢٦٣، ٢٨٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی کو کپڑے سے دھونا واجب نہیں خشک ہو تو اسے کھرچ دینے اور تر ہو تو کسی چیز سے صاف کردینے سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے ، منی پاک ہے یا ناپاک اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے ، امام شافعی داود ظاہری اور امام احمد کی رائے ہے کہ منی ناک کے پانی اور منہ کے لعاب کی طرح پاک ہے ، صحابہ کرام میں سے علی ، سعد بن ابی وقاص ، ابن عمر اور عائشہ (رض) کا بھی یہی مسلک ہے اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم کا بھی یہی مسلک ہے شیخ الاسلام کا فتوی الفتاوی الکبریٰ میں مفصل موجود ہے ، جسے ابن القیم نے بدائع النوائد میں بعض فقہاء کہہ کر ذکر کیا ہے اور جن حدیثوں میں منی دھونے کا تذکرہ ہے وہ بطور نظافت کے ہے ، وجوب کے نہیں ( دیکھئیے اگلی حدیث کے تحت امام ترمذی کی توجیہ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (538) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 116
حدیث نمبر: 116 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: ضَافَ عَائِشَةَ ضَيْفٌ، فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ، فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ، فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَبِهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، وَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، مِثْلِ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا فِي الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ: يُجْزِئُهُ الْفَرْكُ وَإِنْ لَمْ يُغْسَلْ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ، وَرَوَى أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ منی جب کپڑے پر لگ جائے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- اور عائشہ (رض) کی حدیث کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ١ ؎۔ اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ (کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے) ابن عباس کہتے ہیں : منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کرلو چاہے اذخر (گھاس) ہی سے ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٤ (٢٢٩) ، و ٦٥ (٢٣٢) ، صحیح مسلم/الطہارة ٣٢ (٢٨٩) ، سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٦ (٣٧٣) ، سنن النسائی/الطہارة ١٨٧ (٢٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨١ (٥٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٦١٣٥) ، مسند احمد (٢/١٤٢، ٢٣٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس لیے کہ ان دونوں میں مطابقت واضح ہے ، جو لوگ منی کی طہارت کے قائل ہیں وہ دھونے والی روایت کو استحباب پر محمول کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ دھونا بطور وجوب نہیں تھا بلکہ بطور نظافت تھا ، کیونکہ اگر دھونا واجب ہوتا تو خشک ہونے کی صورت میں بھی صرف کھرچنا کافی نہ ہوتا ، حالانکہ عائشہ (رض) نے صرف کھرچنے پر اکتفاء کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (536) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 117
حدیث نمبر: 117 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْفَرْكِ، لِأَنَّهُ وَإِنْ كَانَ الْفَرْكُ يُجْزِئُ فَقَدْ يُسْتَحَبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ لَا يُرَى عَلَى ثَوْبِهِ أَثَرُهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْمَنِيُّ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ فَأَمِطْهُ عَنْكَ وَلَوْ بِإِذْخِرَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جنبی کا بغیر غسل کئے سونا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٩٠ (٢٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩٨ (٥٨١) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٠٢٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضو اور غسل کے بغیر سو سکتا ہے ، رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے تاکہ امت پریشانی میں نہ پڑے ، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرما لیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے ، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (581) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 118 اس سند سے بھی ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ٢- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ٣- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث (رقم ١١٨) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١٦٠٢٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ان کا سب کا ماحصل یہ ہے کہ اسود کے تلامذہ میں سے صرف ابواسحاق سبیعی نے اس حدیث کو «كان النبي صلی اللہ عليه وسلم ينام وهو جنب لايمس ماء» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ، اس کے برخلاف ان کے دوسرے تلامذہ نے اسے «إنه کان يتوضأ قبل أن ينام» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ، لیکن کسی ثقہ راوی کا کسی لفظ کا اضافہ جو مخالف نہ ہو حدیث کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہے ، اور ابواسحاق سبیعی ثقہ راوی ہیں ، نیز یہ کہ احمد کی ایک روایت ( ٦/١٠٢) میں اسود سے سننے کی صراحت موجود ہے ، نیز سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سبیعی سے یہ روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی سے ان کی روایت سب سے معتبر مانی جاتی ( دیکھئیے صحیح ابوداودرقم : ٢٣٤ ، اور سنن ابن ماجہ رقم : ٥٨٣) ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 119
حدیث نمبر: 118 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً .حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفِيانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَيَرَوْنَ أَنَّ هَذَا غَلَطٌ مِنْ أَبِي إِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ N/A
ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ۳- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث ( رقم ۱۱۸ ) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفِيانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَيَرَوْنَ أَنَّ هَذَا غَلَطٌ مِنْ أَبِي إِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০
طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
পরিচ্ছেদঃ جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرے
عمر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، جب وہ وضو کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عمار، عائشہ، جابر، ابوسعید اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- عمر (رض) والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ٣- یہی قول نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کرلے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٥٥٢) ، مسند احمد (١/١٧، ٣٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد وضو شرعی ہے لغوی نہیں ، یہ وضو واجب ہے یا غیر واجب اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے ، جمہور اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ واجب نہیں ہے اور داود ظاہری اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ واجب ہے۔ اور پہلا قول ہی راجح ہے جس کی دلیل پچھلی حدیث ہے۔ ٢ ؎ : یعنی مستحب ہے کہ وضو کرلے ، یہی جمہور کا مذہب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (585) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 120
حدیث نمبر: 120 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَمَّارٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا أَرَادَ الْجُنُبُ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ.
তাহকীক: