আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৭৩৭৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے وصف اور اس مدینہ کی حرمت اور اس کا مومن کو قتل اور زندہ کرنے کے بیان میں
عمرو ناقد حسن حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابن ابراہیم بن سعد ابوصالح ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہم سے دجال کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کی اسی حدیث کے درمیان ہمیں آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ آئے گا لیکن مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا وہ مدینہ کے قریب بعض بنجر زمینوں تک پہنچے گا پس ایک دن اس کی طرف ایک ایسا آدمی نکلے گا جو لوگوں میں سے سب سے افضل یا افضل لوگوں میں سے ہوگا وہ بزرگ اس سے کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حدیث بیان کی تھی تو دجال کہے گا اگر میں اس آدمی کو قتل کر دوں اور پھر اسے زندہ کروں تو تمہاری کیا رائے ہے پھر بھی تم میرے معاملہ میں شک کرو گے وہ کہیں گے نہیں تو وہ اسے قتل کرے گا پھر اسے زندہ کرے گا تو وہ آدمی کہے گا جب اسے زندہ کیا جائے گا اللہ کی قسم مجھے تیرے بارے میں اب جتنی بصیرت ہے اتنی پہلے نہ تھی پھر دجال اسے دوبارہ قتل کرنے کا ارادہ کرے گا لیکن اس پر قادر نہ ہوگا ابواسحاق نے کہا، کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی حضرت خضر (علیہ السلام) ہوں گے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنْ الدَّجَّالِ فَکَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا قَالَ يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْتَهِي إِلَی بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فَيَقُولُ لَهُ أَشْهَدُ أَنَّکَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُکُّونَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا کُنْتُ فِيکَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْآنَ قَالَ فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَام
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৭৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے وصف اور اس مدینہ کی حرمت اور اس کا مومن کو قتل اور زندہ کرنے کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری (رض) اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৭৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے وصف اور اس مدینہ کی حرمت اور اس کا مومن کو قتل اور زندہ کرنے کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن قہزاد عبداللہ بن عثمان ابی حمزہ قیس بن وہب ابی وداک حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال نکلے گا تو مومنین میں ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوگا تو اس سے دجال کے پہرہ دار ملیں گے وہ اس سے کہیں گے کہاں کا ارادہ ہے وہ کہے گا میں اس کی طرف کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا خروج ہوا ہے وہ اس سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتے وہ کہے گا ہمارے رب میں تو کوئی پوشیدگی نہیں ہے تو وہ کہیں گے اسے قتل کردو پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے منع نہیں کیا کہ تم اس کے علاوہ کسی کو قتل نہ کرنا پس وہ اس کو دجال کی طرف لے جائیں گے جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ دجال ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا پھر دجال اس کا سر پھاڑ نے کا حکم دے گا تو کہے گا اسے پکڑ لو اور اس کا سر پھاڑ ڈالو پھر اس کی کمر اور پیٹ پر سخت ضرب لگوائے گا پھر دجال اس سے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا تو مسیح الکذاب ہے پھر دجال اسے آرے کے ساتھ چیرنے کا حکم دے گا اور اس کی مانگ سے شروع کر کے اس کے دونوں پاؤں تک کو آرے سے چیر کر جدا کردیا جائے گا پھر دجال اس کے جسم کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر کہے گا کھڑا ہوجا تو وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہوجائے گا پھر اس سے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا مجھے تیرے بارے میں پہلے سے زیادہ بصیرت عطا ہوگئی ہے پھر وہ کہے گا اے لوگو یہ دجال میرے بعد کسی بھی اور آدمی سے ایسا نہ کرسکے گا پھر دجال اسے ذبح کرنے کے لئے پکڑے گا اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان کی جگہ تانبے کی ہوجائے گی اور اسے ذبح کرنے کا کوئی راستہ نہ ملے گا پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر پھینک دے گا تو وہ لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھنکا ہے حالانکہ اسے جنت میں ڈال دیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاکِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ فَيَقُولُونَ لَهُ أَيْنَ تَعْمِدُ فَيَقُولُ أَعْمِدُ إِلَی هَذَا الَّذِي خَرَجَ قَالَ فَيَقُولُونَ لَهُ أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا فَيَقُولُ مَا بِرَبِّنَا خَفَائٌ فَيَقُولُونَ اقْتُلُوهُ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَلَيْسَ قَدْ نَهَاکُمْ رَبُّکُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ قَالَ فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَی الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ فَيَقُولُ خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا قَالَ فَيَقُولُ أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي قَالَ فَيَقُولُ أَنْتَ الْمَسِيحُ الْکَذَّابُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّی يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ قَالَ ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ قُمْ فَيَسْتَوِي قَائِمًا قَالَ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي فَيَقُولُ مَا ازْدَدْتُ فِيکَ إِلَّا بَصِيرَةً قَالَ ثُمَّ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَی تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَی النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৭৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا اللہ کے نزدیک حقیر ہونے کے بیان میں
شہاب بن عباد عبدی ابراہیم بن حمید رواسی اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے رایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مجھ سے زیادہ کسی نے بھی دجال کے متعلق سوال نہیں کئے آپ ﷺ نے فرمایا تم اس بارے میں کیوں زیادہ فکر مند ہو وہ تجھے کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور نہریں ہوں گی آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہوگا۔
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَکْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ قَالَ وَمَا يُنْصِبُکَ مِنْهُ إِنَّهُ لَا يَضُرُّکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالْأَنْهَارَ قَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَی اللَّهِ مِنْ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৭৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا اللہ کے نزدیک حقیر ہونے کے بیان میں
سریج بن یونس ہشیم اسماعیل قیس حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ کسی نے بھی نبی ﷺ سے دجال کے متعلق مجھ سے زیادہ نہیں پوچھا راوی نے کہا تم نے کیا پوچھا تھا میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی اور گوشت کے پہاڑ ہوں گے اور پانی کی نہر ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہوگا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَکْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ قَالَ وَمَا سُؤَالُکَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَائٍ قَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَی اللَّهِ مِنْ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا اللہ کے نزدیک حقیر ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر وکیع، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابن ابی عمر سفیان، ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، محمد بن رافع ابواسامہ اسماعیل ابراہیم بن حمید ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ یزید کی سند میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اے میرے بیٹے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ شعبہ، نعمان بن سالم حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا اور ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یہ حدیث کیسے ہے جسے آپ روایت کرتے ہیں کہ قیامت اس اس طرح قائم ہوگی انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ یا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا کہ میں نے پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ میں کسی سے بھی کبھی کوئی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو یہ کہا تھا : عنقریب تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر کو جلادے گا اور جو ہونا ہے وہ ضرور ہوگا پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال میری امت میں خروج کرے گا اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا اور میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود (رض) ہیں (یعنی ان کے مشابہ ہوں گے) تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے پھر لوگ سات سال اسی طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گا کہ اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا تو وہ اس میں اس تک پہنچ کر اسے قبض کر کے ہی چھوڑے گی اسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بےعقل درندہ صفت ہوں گے وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے تو وہ کہیں گے کہ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش و عشرت کی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھا لے گا اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا وہ بےہوش ہوجائے گا اور دوسرے لوگ بھی بےہوش ہوجائیں گے پھر اللہ بھیجے گا یا اللہ شبنم کی طرح بارش نازل کرے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا دوزخ کے لئے ایک جماعت نکالو تو کہا جائے گا کتنے لوگوں کی جماعت کہا جائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَی کَذَا وَکَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ کَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَکُونُ وَيَکُونُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْکُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ کَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِکُهُ ثُمَّ يَمْکُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ فَلَا يَبْقَی عَلَی وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّی لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ دَخَلَ فِي کَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّی تَقْبِضَهُ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْکِرُونَ مُنْکَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ فَيَقُولُونَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِکَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَی لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ قَالَ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا کَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاکُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَی فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَی رَبِّکُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ فَيُقَالُ مِنْ کَمْ فَيُقَالُ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَذَاکَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِکَ يَوْمَ يُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، نعمان بن سالم حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو عبداللہ بن عمرو سے کہتے ہوئے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں فلاں علامات پر قائم ہوگی تو انہوں نے کہا میں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ میں تم سے کوئی بھی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو صرف یہی کہا تھا کہ تم تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے گویا کہ گھر جل گیا حضرت شعبہ نے اسی طرح یا اس کی مثل روایت کی عبداللہ بن عمرو نے کہا رسول اللہ فرمایا دجال میری امت میں نکلے گا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر کے ہی چھوڑے گی محمد بن جعفر نے کہا شعبہ نے یہ حدیث مجھے بار بار بیان کی اور میں نے بھی ان کے سامنے یہ حدیث پیش کی۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّکَ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَی کَذَا وَکَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَکُمْ بِشَيْئٍ إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّکُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا فَکَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَلَا يَبْقَی أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر ابی حبان ابی زرعہ حضررت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث یاد کی جسے میں رسول اللہ ﷺ سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ ﷺ فرماتے تھے قیامت کی ابتدائی علا مت میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابہ الارض کا نکلنا ہے ان دونوں میں سے کسی کا بھی دوسرے سے پہلے ظہور ہوگا تو اس کے قریب ہی زمانہ میں دوسری علامت ظاہر ہوجائیں گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَی النَّاسِ ضُحًی وَأَيُّهُمَا مَا کَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَی عَلَی إِثْرِهَا قَرِيبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوحیان حضرت ابوزرعہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس مدینہ میں مسلمانوں میں سے تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے پس انہوں نے مروان سے سنا اور وہ علامات قیامت کے بارے میں روایات بیان کر رہا تھا بیشک ان میں سب سے پہلی علامت خروج دجال ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا مروان نے کچھ بھی نہیں کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث یاد کی جسے رسول اللہ ﷺ سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ ﷺ فرماتے تھے باقی حدیث مذکور حدیث ہی کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ جَلَسَ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں
نصر بن علی ابواحمد سفیان، ابوحیان حضرت ابوزرعہ (رض) سے روایت ہے کہ مروان کے پاس لوگوں نے قیامت کا تذکرہ کیا تو عبداللہ بن عمرو (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا لیکن اس میں چاشت کے وقت کا ذکر نہیں باقی حدیث اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ تَذَاکَرُوا السَّاعَةَ عِنْدَ مَرْوَانَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ ضُحًی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جساسہ کے قصہ کے بیان میں
عبدالوارث ابن عبدالصمد بن عبدالوارث حجاج بن شاعر، عبدالوارث بن عبدالصمد ابی جدی حسین بن ذکوان بن بریدہ، حضرت عامر بن شراحیل شعبی سے روایت ہے کہ اس فاطمہ بنت قیس، ضحاک بن قیس کی بہن سے پوچھا کہ مجھے ایسی حدیث روایت کی جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہو اور اس میں کسی اور کا واسطہ بیان نہ کرنا حضرت فاطمہ نے کہا اگر تم چاہتے ہو تو میں ایسی حدیث روایت کرتی ہوں انہوں نے حضرت فاطمہ سے کہا ہاں ایسی حدیث مجھے بیان کرو تو انہوں نے کہا میں نے ابن مغیرہ سے نکاح کیا اور وہ ان دنوں قریش کے عمدہ نوجوان میں سے تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شہید ہوگئے پس جب میں بیوہ ہوگئی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اصحاب رسول ﷺ کی ایک جماعت میں مجھے پیغام نکاح دیا اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے آزاد کردہ غلام اسامہ بن زید کے لئے پیغام نکاح دیا اور میں یہ حدیث سن چکی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسامہ سے محبت کرے پس رسول اللہ ﷺ نے جب مجھ سے (اس معاملہ میں) گفتگو کی تو میں نے عرض کیا میرا معاملہ آپ ﷺ کے سپرد ہے آپ ﷺ جس سے چاہیں میرا نکاح کردیں آپ نے فرمایا ام شریک کے ہاں منتقل ہوجا اور ام شریک انصار میں سے غنی عورت تھیں اور اللہ کے راستہ میں بہت خرچ کرنے والی تھیں اس کے ہاں مہمان آتے رہتے تھے تو میں نے عرض کیا میں عنقریب ایسا کروں گی تو آپ ﷺ نے فرمایا تو ایسا نہ کر کیونکہ ام شریک ایسی عورت ہیں جن کے پاس مہمان کثرت سے آتے رہتے ہیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تجھ سے تیرا دو ٹپہ گرجائے یا تیری پنڈلی سے کپڑا ہٹ جائے اور لوگ تیرا وہ بعض حصہ دیکھ لیں جسے تو ناپسند کرتی ہو بلکہ تو اپنے چچا زاد عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا اور وہ قریش کے خاندان بن فہر سے تعلق رکھتے ہیں (اور وہ اسی خاندان سے تھے جس سے فاطمہ بنت قیس تھیں) میں ان کے پاس منتقل ہوگئی جب میری عدت پوری ہوگئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نداء دینے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا نماز کی جاعت ہونے والی ہے پس میں مسجد کی طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اس حال میں کہ میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کی پشتوں سے ملی ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو مسکراتے ہوئے منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا ہر آدمی اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھا رہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری نصرانی آدمی تھے پس وہ آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہوگئے اور مجھے ایک بات بتائی جو اس خبر کے موافق ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں پہلے ہی بتاچکا ہوں چناچہ انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ بنو لخم اور بنو جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے پس انہیں ایک ماہ تک بحری موجیں دھکیلتی رہیں پھر وہ سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف پہچنے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ وہ نہ پہچان سکے تو انہوں نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا اے قوم اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے پس جب اس نے ہمارا نام لیا تو ہم گھبرا گئے کہ وہ کہیں جن ہی نہ ہو پس ہم جلدی جلدی چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہوگئے وہاں ایک بہت بڑا انسان تھا کہ اس سے پہلے ہم نے اتنا بڑا آدمی اتنی سختی کے ساتھ بندھا ہوا کہیں نہ دیکھا تھا اس کے دونوں ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا ہم نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا تم میری خبر معلوم کرنے پر قادر ہو ہی گئے ہو تو تم ہی بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں ہم دریائی جہاز میں سوار ہوئے پس جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پس موجیں ایک مہینہ تک ہم سے کھیلتی رہیں پھر ہمیں تمہارے اس جزیرہ تک پہنچا دیا پس ہم چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار ہوئے اور جزیرہ کے اندر داخل ہوگئے تو ہمیں بہت موٹے اور گھنے بالوں والا جانور ملا جس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ پہچانا نہ جاتا تھا ہم نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا میں جساسہ ہوں ہم نے کہا جساسہ کیا ہوتا ہے اس نے کہا گرجے میں اس آدمی کا قصد کرو کیونکہ وہ تمہاری خبر کا بہت شوق رکھتا ہے پس ہم تیری طرف جلدی سے چلے اور ہم گھبرائے اور اس (جانور) سے پر امن نہ تھے کہ وہ جن ہو اس نے کہا مجھے بیسان کے باغ کے بارے میں خبر دو ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا میں اس کی کھجوروں کے پھل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ہم نے اس سے کہا ہاں پھل آتا ہے اس نے کہا عنقریب یہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہ درخت پھل نہ دیں گے اس نے کہا مجھے بحیرہ طبریہ کے بارے میں خبر دو ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا کیا اس میں پانی ہے ہم نے کہا اس میں پانی کثرت کے ساتھ موجود ہے اس نے کہا عنقریب اس کا سارا پانی ختم ہوجائے گا اس نے کہا مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا کیا اس چشمہ میں وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ہم نے کہا ہاں یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں پھر اس نے کہا مجھے امیوں کے نبی کے بارے میں خبر دو کہ اس نے کیا کیا ہم نے کہا وہ مکہ سے نکلے اور یثرب یعنی مدینہ میں اترے ہیں اس نے کہا کیا راستے میں عروہ (رض) نے جنگ کی ہے ہم نے کہا ہاں اس نے کہا اس نے اہل عرب کے ساتھ کیا سلوک کیا ہم نے اسے خبر دی کہ وہ اپنے ملحقہ حدود کے عرب پر غالب آگئے ہیں اور انہوں نے اس کی اطاعت کی ہے اس نے کہا کیا ایسا ہوچکا ہے ہم نے کہا ہاں اس نے کہا ان کے حق میں یہ بات بہتر ہے کہ وہ اس کے تابعدار ہوجائیں اور میں تمہیں اپنے بارے میں خبر دیتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی پس میں نکلوں گا اور میں زمین میں چکر لگاؤں گا اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور مدینہ طبیہ کے علاوہ کیونکہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لئے حرام کردیا جائے گا اور اس میں داخل ہونے سے مجھے روکا جائے گا اور اس کی ہر گھاٹی پر فرشتے پہرہ دار ہوں گے حضرت فاطمہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی کو منبر پر چبھویا اور فرمایا یہ طبیہ ہے یہ طبیہ ہے یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ ہے کیا میں نے تمہیں یہ باتیں پہلے ہی بیان نہ کردیں تھیں لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، فرمایا بیشک مجھے تمیم کی اس خبر سے خوشی ہوئی ہے کہ وہ اس حدیث کے موافق ہے جو میں نے تمہیں دجال اور مدینہ اور مکہ کے بارے میں بیان کی تھی آگاہ رہو دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے، نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا پس میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے یاد کرلی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَکْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ شَعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاکِ بْنِ قَيْسٍ وَکَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ فَقَالَ حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسْنِدِيهِ إِلَی أَحَدٍ غَيْرِهِ فَقَالَتْ لَئِنْ شِئْتَ لَأَفْعَلَنَّ فَقَالَ لَهَا أَجَلْ حَدِّثِينِي فَقَالَتْ نَکَحْتُ ابْنَ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ فَأُصِيبَ فِي أَوَّلِ الْجِهَادِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَوْلَاهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَکُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ فَلَمَّا کَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِکَ فَأَنْکِحْنِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ انْتَقِلِي إِلَی أُمِّ شَرِيکٍ وَأُمُّ شَرِيکٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ فَقَالَ لَا تَفْعَلِي إِنَّ أُمَّ شَرِيکٍ امْرَأَةٌ کَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَکْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْکِ خِمَارُکِ أَوْ يَنْکَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْکِ فَيَرَی الْقَوْمُ مِنْکِ بَعْضَ مَا تَکْرَهِينَ وَلَکِنْ انْتَقِلِي إِلَی ابْنِ عَمِّکِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فِهْرِ قُرَيْشٍ وَهُوَ مِنْ الْبَطْنِ الَّذِي هِيَ مِنْهُ فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي سَمِعْتُ نِدَائَ الْمُنَادِي مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَخَرَجْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکُنْتُ فِي صَفِّ النِّسَائِ الَّتِي تَلِي ظُهُورَ الْقَوْمِ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَکُ فَقَالَ لِيَلْزَمْ کُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُکُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُکُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَکِنْ جَمَعْتُکُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ کَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَائَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي کُنْتُ أُحَدِّثُکُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَکِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ فَلَعِبَ بِهِمْ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ ثُمَّ أَرْفَئُوا إِلَی جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَتَّی مَغْرِبِ الشَّمْسِ فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبْ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ کَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ کَثْرَةِ الشَّعَرِ فَقَالُوا وَيْلَکِ مَا أَنْتِ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ قَالُوا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَتْ أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَی هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَی خَبَرِکُمْ بِالْأَشْوَاقِ قَالَ لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَکُونَ شَيْطَانَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّی دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَی عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُکْبَتَيْهِ إِلَی کَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ قُلْنَا وَيْلَکَ مَا أَنْتَ قَالَ قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَی خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ قَالُوا نَحْنُ أُنَاسٌ مِنْ الْعَرَبِ رَکِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَی جَزِيرَتِکَ هَذِهِ فَجَلَسْنَا فِي أَقْرُبِهَا فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ کَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يُدْرَی مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ کَثْرَةِ الشَّعَرِ فَقُلْنَا وَيْلَکِ مَا أَنْتِ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ قُلْنَا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَتْ اعْمِدُوا إِلَی هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَی خَبَرِکُمْ بِالْأَشْوَاقِ فَأَقْبَلْنَا إِلَيْکَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَکُونَ شَيْطَانَةً فَقَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ أَسْأَلُکُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ يُثْمِرُ قُلْنَا لَهُ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يُوشِکُ أَنْ لَا تُثْمِرَ قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ قُلْنَا عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ هَلْ فِيهَا مَائٌ قَالُوا هِيَ کَثِيرَةُ الْمَائِ قَالَ أَمَا إِنَّ مَائَهَا يُوشِکُ أَنْ يَذْهَبَ قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ قَالُوا عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ هَلْ فِي الْعَيْنِ مَائٌ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَائِ الْعَيْنِ قُلْنَا لَهُ نَعَمْ هِيَ کَثِيرَةُ الْمَائِ وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ قَالُوا قَدْ خَرَجَ مِنْ مَکَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ قَالَ أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ کَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَی مَنْ يَلِيهِ مِنْ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ قَالَ لَهُمْ قَدْ کَانَ ذَلِکَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَاکَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ وَإِنِّي مُخْبِرُکُمْ عَنِّي إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنِّي أُوشِکُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعَ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَکَّةَ وَطَيْبَةَ فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ کِلْتَاهُمَا کُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَکٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا وَإِنَّ عَلَی کُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِکَةً يَحْرُسُونَهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَلَا هَلْ کُنْتُ حَدَّثْتُکُمْ ذَلِکَ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي کُنْتُ أُحَدِّثُکُمْ عَنْهُ وَعَنْ الْمَدِينَةِ وَمَکَّةَ أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّأْمِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَی الْمَشْرِقِ قَالَتْ فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جساسہ کے قصہ کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، ابوعثمان سیاد ابوحکم، حضرت شعبی (رض) سے روایت ہے کہ ہم فاطمہ بنت قیس (رض) کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کا تحفہ دیا اور انہیں ابن طاب کی کھجوریں کہا جاتا تھا اور مجھے جو کا ستو پلایا تو میں نے ان سے مطلقہ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ اپنی عدت کہاں گزارے ؟ انہوں نے کہا میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے اہل میں عدت گزارنے کی اجازت دی پھر لوگوں میں ندا دی گئی کہ نماز کی جماعت کھڑی ہونے والی ہے تو میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اگلی صف میں تھی اور وہ مردوں کی آخری صف کے ساتھ تھی اور میں نے نبی ﷺ سے سنا اور آپ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا تمیم داری کے چچا زاد سمندر میں سوار ہوئے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے کہا گویا کہ میں نبی ﷺ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ ﷺ اپنی انگلی کو زمین کی طرف جھکا کر فرما رہے ہیں کہ یہ طیبہ یعنی مدینہ منورہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي قَالَتْ فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فِيمَنْ انْطَلَقَ مِنْ النَّاسِ قَالَتْ فَکُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنْ النِّسَائِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنْ الرِّجَالِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ فَقَالَ إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَکِبُوا فِي الْبَحْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْوَی بِمِخْصَرَتِهِ إِلَی الْأَرْضِ وَقَالَ هَذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جساسہ کے قصہ کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی احمد بن عثمان نوفلی وہب بن جریر، غیلان بن جریر ثقفی حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت تمیم داری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ وہ سمندر میں سوار ہوئے اور ان کی کشتی راستہ سے ہٹ گئی تو اس نے انہیں ایک جزیرہ میں گرایا یہ اس جزیرے میں پانی تلاش کرنے کے لئے نکلے اور وہاں ایک انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بال کھینچ رہا تھا باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ ہے کہ اس نے کہا اگر مجھے نکلنے کی اجازت دیدی گئی تو میں مدینہ طیبہ کے علاوہ تمام شہروں کو روند ڈالوں گا پھر رسول اللہ حضرت تمیم داری کو لوگوں کی طرف لے گئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے یہ سارا واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا یہ طیبہ ہے اور وہ دجال ہے۔
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَکِبَ الْبَحْرَ فَتَاهَتْ بِهِ سَفِينَتُهُ فَسَقَطَ إِلَی جَزِيرَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْهَا يَلْتَمِسُ الْمَائَ فَلَقِيَ إِنْسَانًا يَجُرُّ شَعَرَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَدْ وَطِئْتُ الْبِلَادَ کُلَّهَا غَيْرَ طَيْبَةَ فَأَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی النَّاسِ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ هَذِهِ طَيْبَةُ وَذَاکَ الدَّجَّالُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جساسہ کے قصہ کے بیان میں
ابوبکر بن اسحاق یحییٰ بن بکیر مغیرہ حزامی ابوزناد شعبی، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا اے لوگو تمیم داری نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کی قوم میں سے کچھ لوگ سمندر میں اپنی کشتی میں تھے کہ وہ ٹوٹ گئی تو ان میں بعض لوگ کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ پر سوار ہوگئے اور وہ سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف نکلے باقی حدیث گزر چکی۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ کَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ فَانْکَسَرَتْ بِهِمْ فَرَکِبَ بَعْضُهُمْ عَلَی لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَخَرَجُوا إِلَی جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৯০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جساسہ کے قصہ کے بیان میں
علی بن حجر سعد ولید بن مسلم، ابن عمر اوزاعی اسحاق ابن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر شہر کو دجال روند ڈالے گا اور مکہ مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے پہرہ دینے کے لئے صف باندھے کھڑے ہوئے ہوں گے پھر وہ دلدلی زمین میں اترے گا اور مدینہ تین مرتبہ لرزے گا اور مدینہ سے ہر کافر منافق نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَکَّةَ وَالْمَدِينَةَ وَلَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِکَةُ صَافِّينَ تَحْرُسُهَا فَيَنْزِلُ بِالسِّبْخَةِ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ مِنْهَا کُلُّ کَافِرٍ وَمُنَافِقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৯১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جساسہ کے قصہ کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد حماد بن سلمہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح حدیث روایت کی اس میں یہ بھی ہے کہ پھر وہ اپنا خیمہ جرف کی شور والی زمین میں لگائے گا اور فرمایا ہر منافق مرد اور منافق عورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيَأْتِي سِبْخَةَ الْجُرُفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ وَقَالَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ کُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৯২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
منصور بن ابی مزاحم یحییٰ بن حمزہ اوزاعی اسود بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَصْبَهَانَ کے ستر ہزار یہودی دجال کے پیروکار ہوجائیں گے جن پر سبنر رنگ کی چادریں ہوں گی۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمْ الطَّيَالِسَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৯৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
ہارون بن عبداللہ حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر (رض) جابر بن عبداللہ، حضرت ام شریک سے روایت ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ دجال سے پہاڑوں کی طرف بھاگیں گے ام شریک نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ان دنوں عرب کہاں ہوں گے آپ نے فرمایا وہ بہت کم ہوں گے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيکٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنْ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ قَالَتْ أُمُّ شَرِيکٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ هُمْ قَلِيلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৯৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
محمد بن بشار، بد بن حمید ابوعاصم، ابن جریج، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক: