আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ৭৩৫৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
سالم بن عبداللہ ابن عمر (رض) حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ اور حضرت ابی بن کعب انصاری (رض) اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں پس رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے اور کچھ گنگنا رہا ہے پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف اور یہ ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فورا اٹھ کھڑا ہوا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کردیتا۔
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَی النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّی إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی پھر دجال کا ذکر کیا تو فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی (علیہم السلام) نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے تحقیق نوح بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرا چکے ہیں لیکن میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی ﷺ نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان رکھو کہ وہ (دجال) بیشک کانا ہوگا اور اللہ تبارک وتعالی کانا نہیں ہے ابن شہاب نے کہا مجھے عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ آپ نے دجال سے ڈراتے ہوئے اس دن فرمایا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جسے وہی پڑھ سکے گا جو اس کے عمل کو ناپسند کرتا ہوگا یا ہر مومن اسے پڑھ سکے گا اور آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنے رب العزت کو مرنے تک ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔
قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُکُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَکِنْ أَقُولُ لَکُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ مَنْ کَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ وَقَالَ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَی أَحَدٌ مِنْکُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی يَمُوتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی بن حمید یعقوب بن ابراہیم، سعد ابوصالح ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ چلے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی جن میں عمر بن خطاب (رض) بھی تھے یہاں تک کہ ابن صیاد بچے کو پایا جو کہ بلوغت کے قریب تھا اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کاش اس کی والدہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا سارا معاملہ واضح ہوجاتا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّی وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَی مُنْتَهَی حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ قَالَ لَوْ تَرَکَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
عبد بن حمید سلمہ بن شبیب عبدالرزاق، معمر، زہری سالم حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو وہ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ بھی لڑکا تھا حضرت ابن عمر (رض) کی اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی ﷺ ابی بن کعب کے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف تشریف لے گئے۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِلَی النَّخْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
عبد بن حمید روح بن عبادہ، ہشام ایوب حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کی ابن صیاد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملاقات ہوگئی تو ابن عمر نے اس سے ایسی بات کہی جو اسے غصۃ دلانے والی تھی پس وہ اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا پھر ابن عمر (رض) ام المومنین سیدہ حفصہ کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی تو انہوں نے ابن عمر (رض) سے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے تو نے ابن صائد کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا کیا تو نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کسی پر غصہ کرنے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّی مَلَأَ السِّکَّةَ فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَی حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا فَقَالَتْ لَهُ رَحِمَکَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
محمد بن مثنی حسین ابن حسن بن یسار ابن عون حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر نے کہا میں نے ابن صیاد سے دو مرتبہ ملاقات کی میں اس سے ملا تو میں نے بعض لوگوں سے کہا کیا تم بیان کرتے ہو کہ وہ وہی (دجال) ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا تم نے مجھے جھوٹا کردیا اللہ کی قسم تم میں سے بعض نے مجھے خبر دی کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا یہاں تک کہ تم میں سے زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہوجائے گا پس وہ ان دنوں لوگوں کے گمان میں ایسا ہی ہے پھر ابن صیاد ہم سے باتیں کر کے جدا ہوگیا پھر میں اس سے دوسری مرتبہ ملا تو اس کی آنکھ پھول چکی تھی تو میں نے اس سے کہا میں تیری آنکھ جو اس طرح دیکھ رہا ہوں یہ کب سے ہوئی ہے اس نے کہا میں نہیں جانتا میں نے کہا تو جانتا ہی نہیں حالانکہ یہ تو تیرے سر میں موجود ہے اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیری لاٹھی میں اسے پیدا کر دے گا پھر اس نے گدھے کی طرح زور سے آواز نکالی اس سے زیادہ سخت آواز میں نے نہیں سنی تھی اور میرے بعض ساتھیوں نے اندازہ لگایا کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئی ہے حالانکہ اللہ کی قسم مجھے اس کا علم تک نہ تھا یہاں تک کہ ام المومنین کے پاس حاضر ہوئے تو انہیں یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا تیرا اس سے کیا کام تھا کیا تو جانتا نہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کے پاس دجال کو بھیجنے والی سب سے پہلے وہ غصہ ہوگا جو اسے کسی پر آئے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ نَافِعٌ يَقُولُ ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ قَالَ لَا وَاللَّهِ قَالَ قُلْتُ کَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُکُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّی يَکُونَ أَکْثَرَکُمْ مَالًا وَوَلَدًا فَکَذَلِکَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ قَالَ فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ قَالَ فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَی وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ قَالَ فَقُلْتُ مَتَی فَعَلَتْ عَيْنُکَ مَا أَرَی قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ قُلْتُ لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِکَ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاکَ هَذِهِ قَالَ فَنَخَرَ کَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ قَالَ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا کَانَتْ مَعِيَ حَتَّی تَکَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ قَالَ وَجَائَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَی النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، محمد بن بشر عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال آنکھ سے کانا ہوگا گویا کہ اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
ابوربیع ابوکامل حماد ابن زید ایوب محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل موسیٰ بن عقبہ نافع ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو کانے دجال سے ڈرایا ہے آگاہ رہو بیشک وہ کانا ہوگا اور بیشک تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر، لکھا ہوا ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْکَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّکُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَمَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ک ف ر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
ابن مثنی ابن بشار ابن مثنی معاذ بن ہشام ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کفر یعنی کافر لکھا ہوا ہوگا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّجَّالُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ک ف ر أَيْ کَافِرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
زہیر بن حرب عفان عبدالوارث شعیب بن حبحاب حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی ایک آنکھ اندھی ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہے پھر اس کے ہجے کئے یعنی ک، ف، ر اور ہر مسلمان اسے پڑھ لے گا۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ ثُمَّ تَهَجَّاهَا ک ف ر يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُسْلِمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہم اسحاق ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی گھنے بالوں والا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اور (در حقیقت) اس کی دوزخ جنت اور اس کی جنت جہنم ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَی جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون ابی مالک اشجعی ربعی بن حراش حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی ان میں سے ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہوگا اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی پس اگر کوئی آدمی اس کو پالے تو اس نہر میں جائے جسے بھڑکتی ہوئی آگ تصور کرے اور آنکھ بند کر کے اپنے سر کو جھکائے پھر اس سے پئے بیشک وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور بیشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پھلی ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ہر لکھنے والا اور جاہل مومن اسے پڑھے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَائٌ أَبْيَضُ وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِمَّا أَدْرَکَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ ثُمَّ لْيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَيَشْرَبَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مَائٌ بَارِدٌ وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ کَاتِبٍ وَغَيْرِ کَاتِبٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
عیبد اللہ بن معاذ ابی شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر ربعی حراش حضرت حذیفہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کی پانی آگ ہوگی پس تم ہلاک نہ ہونا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ إِنَّ مَعَهُ مَائً وَنَارًا فَنَارُهُ مَائٌ بَارِدٌ وَمَاؤُهُ نَارٌ فَلَا تَهْلِکُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حضرت ابومسعود (رض) سے روایت ہے کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی۔
قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
علی بن حجر شعیب بن صفوان عبدالملک بن عمیر ربعی حراش عقبہ بن عمرو ابی مسعود انصاری (رض) حضرت ربعی بن حراش (رض) سے روایت ہے کہ میں عقبہ بن عمرو بن ابی مسعود انصاری (رض) کے ساتھ حذیفہ بن یمان کی طرف چلا تو عقبہ نے ان سے کہا مجھ سے وہ حدیث روایت کریں جو آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنی کہا بیشک دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس لوگ جسے آگ تصور کریں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ ٹھنڈا میٹھا اور پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہ نے حذیفہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آپ ﷺ سے اسی طرح سنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَی حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَائً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَائً فَنَارٌ تُحْرِقُ وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا فَمَائٌ بَارِدٌ عَذْبٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَإِنَّهُ مَائٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ فَقَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
علی بن حجر اسحاق ابن حجر جریر، مغیرہ، نعیم، ابی ہند، ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ اور ابومسعود (رض) اکٹھے ہوگئے تو حذیفہ نے کہا میں ان سے زیادہ جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا ؟ بیشک اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی اور ایک نہر آگ کی ہوگی پس جسے تم آگ تصور کرو گے وہ پانی ہوگا اور جسے تم پانی تصور کرو گے وہ آگ ہوگی پس تم میں سے جو اسے پالے اور پانی کا ارادہ کرے تو چاہے کہ وہ اسی سے پیے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ اسے پانی ہی پائے گا ابومسعود نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ مَائٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَائٌ وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَائٌ نَارٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَأَرَادَ الْمَائَ فَلْيَشْرَبْ مِنْ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَائً قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَکَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
محمد بن رافع حسین بن محمد شیبان یحییٰ ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی خبر نہ دوں جو کسی نبی ﷺ نے اپنی قوم کو نہیں دی بیشک وہ کانا ہوگا اور وہ جنت اور دوزخ کی مثل لے کر آئے گا پس جسے وہ جنت کہے گا وہ جہنم ہوگا اور میں تمہیں اس سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّهُ يَجِيئُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أَنْذَرْتُکُمْ بِهِ کَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
ابوخیثمہ زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، یحییٰ بن جا رب طائی (رض) حضرت نو اس (رض) بن سمعان سے روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے نے کبھی تحقیر کی (یعنی گھٹایا) اور کبھی بڑا کر کے بیان فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے پس جب ہم شام کو آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ہم سے اس بارے میں معلوم کرلیا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے صبح دجال کا ذکر کیا اور اس میں آپ ﷺ نے کبھی تحقیر کی اور کبھی اس فتنہ کو بڑا کر کے بیان کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا بیشک دجال نوجوان گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے بیشک اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان سے ہوگا پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا آپ ﷺ نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے ایک دن کی نمازیں پڑھنا کافی ہوں گیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کرلینا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی آپ نے فرمایا اس بادل کی طرح جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو پس وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور اسے چرنے والے جانور شام کے وقت آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے تھن بڑے اور کوکھیں تنی ہوئی ہوں گی پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کردیں گے تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا پس وہ قحط زدہ ہوجائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا اور اسے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس آتی ہیں، پھر وہ ایک کڑیل اور کامل الشباب آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کردے گا اور دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے ایک تیر کی مسافت پر رکھ دے گا، پھر وہ اس (مردہ) کو آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔ دجال کے اسی افعال کے دوران اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس زرد رنگ کے حلے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے جب وہ اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس سے قطرے گریں گے اور جب اپنے سر کو اٹھائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے اور جو کافر بھی ان کی خوشبو سونگھے گا وہ مرے بغیر رہ نہ سکے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ پس حضرت مسیح (علیہ السلام) (دجال کو) طلب کریں گے، اسے باب لد پر پائیں گے تو اسے قتل کردیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے پاس وہ قوم آئے گی جسے اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تھا، پس عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے چہروں کو صاف کریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے۔ پس اسی دوران حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائٰں گے کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لئے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے، ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائٰیں گے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا اور اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ محصور ہوجائیں گے، یہاں تک کہ ان میں کسی ایک کے لئے بیل کی سری بھی تم میں سے کسی ایک کے لئے آج کل کے سو دینار سے افضل و بہتر ہوگی۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، وہ ایک جان کی موت کی طرح سب کے سب یک لخت مرجائیں گے، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت کی جگہ بھی یاجوج ماجوج کی علامات اور بدبو سے انہیں خالی نہ ملے گی۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے بھیجیں گے جو انہیں اٹھا کرلے جائیں گے اور جہاں اللہ چاہے وہ انہیں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا جس سے ہر مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا بالوں کا آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا اور زمین مثل باغ یا حوض کے دھل جائے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا : اپنے پھل کو اگا دے اور اپنی برکت کو لوٹا دے، پس ان دنوں ایسی برکت ہوگی کہ ایک انار کو ایک پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے میں سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں اتنی برکت دے دی جائے گی کہ ایک دودھ دینے والی گائے قبیلہ کے لوگوں کے لئے کافی ہوجائے گی اور ایک دودھ دینے والی اونٹنی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہوگی اور ایک دودھ دینے والی بکری پوری گھرانے کے لئے کفایت کرجائے گی، اسی دوران اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے تک پہنچ جائے گی، پھر ہر مسلمان اور ہر مومن کی روح قبض کرلی جائے گی اور بد لوگ ہی باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح کھلے بندوں جماع کریں گے، پس انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِکَ فِينَا فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَکَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَقَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْکُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيکُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَکُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيکُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ کَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَکَهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْکَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ کَسَنَةٍ وَيَوْمٌ کَشَهْرٍ وَيَوْمٌ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ کَأَيَّامِکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِکَ الْيَوْمُ الَّذِي کَسَنَةٍ أَتَکْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ کَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَی الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَائَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا کَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي کُنُوزَکِ فَتَتْبَعُهُ کُنُوزُهَا کَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَکُ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَائِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا کَفَّيْهِ عَلَی أَجْنِحَةِ مَلَکَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ کَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يَحِلُّ لِکَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّی يُدْرِکَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ أَوْحَی اللَّهُ إِلَی عِيسَی إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَی الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَی بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَائٌ وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ حَتَّی يَکُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِکُمْ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا کَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَکُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّی يَتْرُکَهَا کَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَکِ وَرُدِّي بَرَکَتَکِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْکُلُ الْعِصَابَةُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَکُ فِي الرِّسْلِ حَتَّی أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ لَتَکْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ لَتَکْفِي الْقَبِيلَةَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْغَنَمِ لَتَکْفِي الْفَخِذَ مِنْ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَکُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
علی بن حجر سعدی عبداللہ بن عبدالرحمن بن یزید بن جابر، ولید بن مسلم، ابن حجر حضرت جابر (رض) سے بھی یہ حدیث اس سند سے مروی ہے اس میں اس جملہ کے بعد کہ اس جگہ کسی موقعہ پر پانی تھا یہ اضافہ ہے کہ پھر وہ حمر کے پہاڑ کے پاس پہنچیں گے اور وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے تو وہ کہیں گے تحقیق ہم نے زمین والے سب کو قتل کردیا آؤ ہم آسمان والوں کو بھی قتل کریں پھر وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے پس اللہ تعالیٰ ان پر ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹائے گا اور ابن حجر کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو نازل کیا ہے جنہیں قتل کرنے پر کسی کو قدرت حاصل نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الْآخَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ مَا ذَکَرْنَا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَائٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّی يَنْتَهُوا إِلَی جَبَلِ الْخَمَرِ وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَائِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَی السَّمَائِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَيْ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ
tahqiq

তাহকীক: