আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৭৩৩৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر عبیداللہ بن نافع حضرت ابن عمر (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم یہودیوں سے لڑو گے تو انہیں قتل کردو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان ادھر آ یہ یہودی ہے اسے قتل کر دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّی يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৩৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
محمد بن مثنی عبیداللہ بن سعید یحییٰ عبیداللہ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ پتھر کہے گا یہ میرے پیچھے یہودی ہے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৩৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عمر بن حمزہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اور یہودی باہم جنگ کرو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے ادھر آؤ اور اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّی يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৩৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم ابن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم یہود سے جنگ کرو گے پس تم ان پر غالب آجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا کہ اے مسلمان میرے پیچھے یہود ہے اسے قتل کر دے۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقَاتِلُکُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّی يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৩৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمْ الْمُسْلِمُونَ حَتَّی يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَائِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ ابوبکر ابوالاحوص، ابوکامل جحدری ابوعوانہ، سماک حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت سے پہلے کئی کذاب ہوں گے اور ابوالاحوص نے یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے ان سے کہا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ کَذَّابِينَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، سماک اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ حضرت جابر (رض) نے کہا ان سے بچو۔
و حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ سِمَاکٌ وَسَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ قَالَ جَابِرٌ فَاحْذَرُوهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
زہیر بن حرب، اسحاق بن منصور اسحاق زہیر عبدالرحمن ابن مہدی مالک ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تیس کے قریب دجالوں اور کذابوں کو بھیجے جانے تک قیامت قائم نہ ہوگی وہ سب دعوی کریں گے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يُبْعَثَ دَجَّالُونَ کَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، اس سند سے بھی حضرت ابوہریرہ (رض) سے نبی ﷺ کی وہی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں يَنْبَعِثَ کا لفظ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ يَنْبَعِثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چند بچوں کے پاس سے گزرے ان میں ابن صیاد بھی تھا پس بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا تو گویا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو پسند نہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا نہیں بلکہ کیا آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں عمر بن خطاب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ وہی ہو جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے تو تم اسے قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ فَکَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَرِهَ ذَلِکَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَدَاکَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّی أَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْ الَّذِي تَرَی فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابی کریب ابن نمیر، ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ پیدل چل رہے تھے کہ آپ ﷺ ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا میں نے تیرے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے ؟ بتا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا دخ ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دور ہوجا اور تو اپنے اندازے سے تجاوز نہیں کرسکتا حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو پس اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خدشہ ہے تو تم اس کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ دُخٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنْ يَکُنْ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
محمد بن مثنی، سالم بن نوح جریر، ابی نضرہ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر وعمر (رض) کی ملاقات ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ ﷺ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر۔ تو نے کیا دیکھا اس نے کہا میں نے پانی پر تخت دیکھا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھا ہے اور کیا دیکھا اس نے کہا میں نے دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے اس لئے اسے چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ مَا تَرَی قَالَ أَرَی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَی عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَی الْبَحْرِ وَمَا تَرَی قَالَ أَرَی صَادِقَيْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب، محمد بن عبدالاعلی معتمر ابونضرہ (رض) ، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ابن صائد سے ملے اور آپ ﷺ کے ساتھ ابوبکر وعمر (رض) بھی تھے اور ابن صائد کے ساتھ لڑکے تھے باقی حدیث جریری کی حدیث ہی کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر قواریری محمد بن مثنی، عبدالاعلی داؤد ابی نضرہ حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ میں مکہ میں ابن صائد کے ساتھ رہا تو اس نے مجھے کہا میں جن لوگوں سے ملا ہوں وہ گمان کرتے ہیں کہ میں دجال ہوں کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا حالانکہ میری تو اولاد ہے پھر اس نے کہا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا میں تو مدینہ میں پیدا ہوچکا ہوں اور یہ کہ میں اب مکہ کا ارادہ کرتا ہوں پھر اس نے اپنی آخری بات میں مجھے کہا اللہ کی قسم میں دجال کے پیدا ہونے اور اس کے رہنے اور اس کے رہنے کی جگہ کو اور اس وقت وہ کہاں ہے جانتا ہوں اس اخیری کلام نے معاملہ کو مجھ پر مشتبہ کردیا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَی مَکَّةَ فَقَالَ لِي أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنْ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَقَدْ وُلِدَ لِي أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَکَّةَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَکَّةَ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَکَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فَلَبَسَنِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب، محمد بن عبد الاعلی معتمر ابی نضرہ (رض) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ابن صائد نے مجھ سے بات کہی جس سے مجھے شرم آئی کہنے لگا کہ لوگوں کو تو میں نے معذور جانا اور تمہیں میرے بارے میں اصحاب محمد کیا ہوگیا ؟ کیا اللہ کے نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال یہودی ہوگا حالانکہ میں اسلام لا چکا ہوں اور کہنے لگا کہ اور اس کی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میری تو اولاد بھی ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اس پر مکہ کو حرام کردیا ہے میں تحقیق حج کرچکا ہوں اور وہ مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا قریب تھا کہ میں اس کی باتوں میں آجاتا اس نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اس بلکہ وقت (دَجَّال) کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور والدہ کو بھی جانتا ہوں اور اس سے کہا گیا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو ہی وہ آدمی (دَجَّال) ہو اس نے کہا اگر یہ بات مجھ پر پیش کی گئی تو میں اسے ناپسند نہ کروں گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي وَلَکُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ وَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ وَلَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَکَّةَ وَقَدْ حَجَجْتُ قَالَ فَمَا زَالَ حَتَّی کَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّکَ أَنَّکَ ذَاکَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا کَرِهْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৫০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
محمد بن مثنی، سالم بن نوح جریر، ابی نضرہ حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کرنے کی غرض سے چلے اور ابن صائد ہمارے ساتھ تھا ہم ایک جگہ اترے تو لوگ منتشر ہوگئے میں اور وہ باقی رہ گئے اور مجھے اس سے سخت وحشت و خوف آیا جو اس کے بارے میں کہا جاتا تھا اور اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا تو میں نے کہا گرمی سخت ہے اگر تو اپنا سامان درخت کے نیچے رکھ دے ( تو بہتر ہے) پس اس نے ایسا ہی کیا پھر ہمیں کچھ بکریاں نظر پڑیں وہ گیا اور ایک (دودھ کا) بھرا ہوا پیالہ لے آیا اور کہنے لگا اے ابوسعید پیو میں نے کہا گرمی بہت سخت ہے اور دودھ بھی گرم ہے اور دودھ کے ناپسند کرنے کے سوائے اس کے ہاتھ سے بچنے کی اور کوئی بات نہ تھی یا کہا اس کے ہاتھ سے لینا ہی ناپسند تھا تو اس نے کہا اے ابوسعید میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی لے کر درخت کے ساتھ لٹکاؤں پھر اپنا گلا گھونٹ لوں اس وجہ سے جو میرے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں اے ابوسعید جن سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث مخفی ہے (ان کی تو الگ بات ہے) اے انصار کی جماعت ! تجھ پر تو پوشیدہ نہیں ہے کیا تو لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ کی حدیث کو جاننے والا نہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا وہ بانجھ ہوگا کہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میں اپنی اولاد مدینہ میں چھوڑ کر آیا ہوں کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہ ہوگا حالانکہ میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ ہے حضرت ابوسعید خدری نے کہا قریب تھا کہ میں اس کے عذر قبول کرلیتا پھر اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے پہچانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش سے بھی واقف ہوں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے میں نے اس سے کہا تیرے لئے سارے دن کی ہلاکت و بربادی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ قَالَ وَجَائَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْکَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَائَ بِعُسٍّ فَقَالَ اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَکْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيْکُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ کَافِرٌ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ تَرَکْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَکَّةَ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَکَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حَتَّی کِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْيَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৫১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
نصر بن علی بشر ابن مفضل ابی مسلمہ ابی نضرہ (رض) حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صائد سے فرمایا جنت کی مٹی کیسی ہوگی اس نے کہا اے ابوالقاسم سفید باریک مشک کی طرح ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ قَالَ دَرْمَکَةٌ بَيْضَائُ مِسْکٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ صَدَقْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৫২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ جریر، ابی نضرہ (رض) حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے نبی سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا خالص سفید باریک مشک۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَکَةٌ بَيْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৫৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، سعد بن ابراہیم، حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کو قسم کھا کر کہتے ہوئے دیکھا کہ ابن صائد دجال ہے تو میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو انہوں نے کہا میں نے عمر کو سنا وہ اس بات پر نبی ﷺ کے پاس قسم اٹھا رہے تھے اور نبی ﷺ نے انکار نہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ فَقُلْتُ أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْکِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৫৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن حرملہ بن عمران ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا اور اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب ماری پھر رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ ﷺ کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کیا آپ ﷺ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر پھر رسول ﷺ نے اس سے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ دخ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنے اندازہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا پھر عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّی وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّی ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَی قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَکَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِّطَ عَلَيْکَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَکَ فِي قَتْلِهِ
তাহকীক: