আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৪ টি
হাদীস নং: ১৯১৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ (رض) (ملک) شام آئے وہ مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے اس میں نماز پڑھی پھر ایک حلقہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس میں بیٹھ گئے پھر ایک آدمی آیا میں نے محسوس کیا کہ اسے ان لوگوں سے ناراضگی اور وحشت ہے وہ میرے پہلو میں آکر بیٹھ گئے پھر انہوں نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) کیسے پڑھتے تھے ؟۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَی عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّی فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَی حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ قَالَ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ کَمَا کَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، داود بن ابی ہند، شعبی، حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدردا (رض) سے ملا انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے ؟ میں نے عرض کیا میں عراق والوں میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کہ کس شہر کے ؟ میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے، انہوں نے فرمایا کہ تو نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی قرأت کو پڑھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں، انہوں نے فرمایا کہ تو پڑھ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے پڑھا ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) تو وہ ہنس پڑے پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَی قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی قَالَ فَقَرَأْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داود، عامر، حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں شام آیا اور میں نے حضرت ابوالدردا (رض) سے ملاقات کی پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
داؤد بن رشید، اسماعیل بن سالم، ہشیم، منصور، قتادہ، ابوالعالیہ، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے ایک حضرت عمر بن خطاب (رض) جو مجھے بہت محبوب تھے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَکَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ح، ابوغسان مسمعی، عبدالاعلی، سعید، ح، اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، قتادہ (رض) سے یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ معبد اور ہشام کی روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کے بعد سورج کے چمکنے تک۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَشْرُقَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں اور فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک کوئی نماز نہیں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَحَرَّی أَحَدُکُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سورج کے نکلنے تک نماز کا ارادہ نہ کرو اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب سورج کی شعاعیں ظاہر ہوجائیں تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک سورج اچھی طرح ظاہر نہ ہوجائے اور جب سورج کی کرن غائب ہوجائے تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک کہ سورج مکمل طور پر غائب نہ ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ بِشْرٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَغِيبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
قتیبہ بن سعید، لیث، خیر بن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیرہ، ابوتمیم جیشانی، حضرت ابوبصرہ غفاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ مخمص میں عصر کی نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ نماز تم سے پہلی امتوں پر بھی پیش کی گئی انہوں نے اس کو ضائع کردیا تو جو آدمی اس کی حفاظت کرے گا اسے دوہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ ستارے ظاہر نہ ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا کَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّی يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن اسحاق، برید بن ابی حبیب، خیربن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیر سبائی، ابوتمیم جیشانی، ابوبصرہ غفاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ عصر کی نماز ادا فرمائی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَکَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تین اوقات سے منع فرمایا کرتے تھے کہ (ان تین اوقات میں) نماز نہ پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو دفن کریں ایک یہ کہ سورج کے نکلنے تک جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے دوسرے یہ کہ ٹھیک دوپہر کے وقت جب تک زوال نہ ہوجائے اور تیسرے سورج کے غروب ہونے تک جب تک کہ وہ اچھی طرح نہ غروب ہوجائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا ثَلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّی تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر و بن عبسہ کے اسلام لانے کا بیان
احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبداللہ، ابوعمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ ﷺ تک پہنچ گیا اور آپ ﷺ سے میں نے عرض کیا آپ ﷺ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ ﷺ کے ساتھ اور کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے جو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ ﷺ کی پیروی کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ مجھے پہچانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ ﷺ کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہوجائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کئے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضو کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اس کی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چناچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوامامہ (رض) سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ (رض) نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو ! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ (رض) کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَيَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ عِکْرِمَةُ وَلَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَی الشَّامِ وَأَثْنَی عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ کُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَی ضَلَالَةٍ وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَی شَيْئٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَی رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَئَائُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيٌّ قَالَ أَرْسَلَنِي اللَّهُ فَقُلْتُ وَبِأَيِّ شَيْئٍ أَرْسَلَکَ قَالَ أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ وَکَسْرِ الْأَوْثَانِ وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَکُ بِهِ شَيْئٌ قُلْتُ لَهُ فَمَنْ مَعَکَ عَلَی هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُکَ قَالَ إِنَّکَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِکَ يَوْمَکَ هَذَا أَلَا تَرَی حَالِي وَحَالَ النَّاسِ وَلَکِنْ ارْجِعْ إِلَی أَهْلِکَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَی أَهْلِي وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَکُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّی قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقَالُوا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِکَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَکَّةَ قَالَ فَقُلْتُ بَلَی فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّی تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْئُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ قَالَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوئَ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ مَا مِنْکُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوئَهُ فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَی الْکَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَی هَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَلَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔
محمد بن حاتم، بہز، وہب، عبداللہ بن ط اس، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو وہم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سورج کے طلوع اور سورج کے غروب ہونے کے وقت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔
حسن حلوانی، عبدالرزاق، معمر، ابن ط اس، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، عبداللہ بن وہب، ابن الحارث، بکیر، کریب حضرت ابن عباس (رض) کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ (رض) نے مجھے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ (رض) کی طرف بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں ان سے پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ ﷺ ان کو پڑھتی ہیں اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے ساتھ مل کر اس نماز سے منع کرتا تھا کریب نے کہا کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس گیا جنہوں نے مجھے بھیجا ان کا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ تو ام سلمہ (رض) سے پوچھ تو میں واپس ان کی طرف گیا اور انہیں حضرت عائشہ (رض) کے فرمان کی خبر دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ (رض) کی طرف لوٹا دیا وہی پیغام دے کر جو پیغام دے کر حضرت عائشہ (رض) کی طرف بھیجا تھا تو حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے پھر میں نے آپ ﷺ کو یہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جس وقت آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے پھر آپ ﷺ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی چند عورتیں تھیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے ایک باندی کو آپ ﷺ کی طرف بھیجا میں نے اس سے کہا کہ تو آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑی رہنا پھر آپ ﷺ سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں منع کرتے ہوئے سنا ہے اور پھر آپ ﷺ کو پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر اگر ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے کھڑی رہنا حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس باندی نے ایسے ہی کیا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو وہ پیچھے ہوگئی پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابوامیہ کی بیٹی تو نے عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی عبدالقیس کے کچھ لوگ ان کی قوم میں سے اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے جس میں مشغولیت کی وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں ان کو میں نے پڑھا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ کُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ الرَّکْعَتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، ایوب، ابن جعفر، ابن ابی حرملہ، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، جنہیں رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ آپ ﷺ ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ ﷺ ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول ہوگئے یا آپ ﷺ ان کو پڑھنا بھول گئے تو آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز کے بعد پڑھا پھر آپ ﷺ اسے پڑھتے رہے آپ ﷺ جو نماز بھی پڑھتے تھے اس پر دوام فرماتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَثْبَتَهَا قَالَ يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ قَالَ إِسْمَعِيلُ تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
زہیر بن حرب، جریر، ابن نمیر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ح، علی بن حجر، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسود، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں دو نمازیں کبھی چھوڑیں نہ باطناً نہ ظاہراً فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَاتَانِ مَا تَرَکَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
তাহকীক: