আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৪ টি

হাদীস নং: ১৮৭৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حسن بن ربیع، احمد بن جو اس حنفی، ابوالاحوص، عمار بن رزیق، عبداللہ بن عیسی، سعد بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنی تو آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ دروازہ آسمان کا ہے جسے صرف آج کے دن کھولا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا پھر اس سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ آپ ﷺ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ ﷺ کو دیئے گئے جو کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے ایک سورت الفاتحہ اور دوسری سورت البقرہ کی آخری آیات آپ ﷺ ان میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ ﷺ کو اس کے مطابق دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنْ السَّمَائِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَکٌ فَقَالَ هَذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَةُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
احمد بن یونس، زہیر، منصور، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومسعود (رض) سے بیت اللہ کے پاس ملا تو میں نے کہا کہ سورت البقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں آپ ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں رسول اللہ ﷺ نے سورت البقرہ کی آخری دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو اسے رات کو پڑھے گا وہ اسے کافی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ فِي الْآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، جریر، ح، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، علقمہ بن قیس، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی سورت البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کے وقت پڑھے گا وہ اسے کافی ہوجائیں گی راوی عبدالرحمن نے کہا میں حضرت ابومسعود (رض) سے بیت اللہ کے طواف کے دوران ملا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کر کے یہی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
علی بن خشرم، ابن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود (رض) نے نبی ﷺ سے یہی روایت نقل کی ہے۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، سالم، ابی الجعد غطفانی، معدان، ابوطلحہ یعمری، ابودرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو آدمی سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْکَهْف عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، ح، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، ہمام، قتادہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن اس میں شعبہ کی روایت میں سورت کہف کی آخری آیات اور ہمام کی روایت میں سورت کہف کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ آخِرِ الْکَهْفِ و قَالَ هَمَّامٌ مِنْ أَوَّلِ الْکَهْف کَمَا قَالَ هِشَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، جریری، ابوالسلیل، عبداللہ بن رباح انصاری، ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوالمنذر کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت کونسی ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے میں نے کہا ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) آخر تک آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر یہ علم تجھے مبارک ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَعَکَ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَعَکَ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ وَاللَّهِ لِيَهْنِکَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
زہیر بن حرب، محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، قتادہ، سالم بن ابی الجعد، معدان بن ابی طلحہ، حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی رات میں تہائی قرآن مجید پڑھ سکتا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ وہ کیسے پڑھا جاسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا وَکَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، سعید بن ابی عروبہ، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان عطار، حضرت قتادہ سے اس سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین حصے فرمائے ہیں اور قرآن کے ان تین حصوں میں سے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) کو ایک حصہ مقرر فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَائٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْئًا مِنْ أَجْزَائِ الْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن حاتم، یعقوب بن ابراہیم، یحیی، ابن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب اکٹھے ہوجاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں پھر جنہوں نے اکٹھا ہونا تھا وہ اکٹھے ہوگئے پھر نبی ﷺ نکلے اور آپ ﷺ نے سورت قل ہو اللہ احد پڑھی پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے ہم آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے ہیں پھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں سنو آگاہ رہو یہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّي أُرَی هَذَا خَبَرٌ جَائَهُ مِنْ السَّمَائِ فَذَاکَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي قُلْتُ لَکُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، بشیر ابواسماعیل، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا کہ میں تمہارے اوپر تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں پھر آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) اس کے ختم تک پڑھی۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ حَتَّی خَتَمَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
احمد بن عبدالرحمن بن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک سریہ میں امیر بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں قرأت ختم کر کے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) بھی پڑھتے تھے جب وہ لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ اس طرح کیوں کرتا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ اسطرح کیوں کرتا تھا تو اس نے کہا اس سورت میں رحمن (اللہ جل جلالہ) کی صفات بیان کی گئی ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اسے پڑھوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَی سَرِيَّةٍ وَکَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْئٍ يَصْنَعُ ذَلِکَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
قتیبہ بن سعید، جریر، بیان، قیس بن ابی حازم، عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ رات ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتْ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل، قیس، حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھ پر (ایسی آیات) نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ )
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن رافع، ابواسامہ، اسماعیل سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَکَانَ مِنْ رُفَعَائِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہو اور وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن ابن عمر (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ کہ جسے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کے ساتھ اس پر عمل بھی کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اس مال سے رات دن صدقہ کرتا رہتا ہو۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَی اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ هَذَا الْکِتَابَ فَقَامَ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے دانائی عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَی هَلَکَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِکْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا
tahqiq

তাহকীক: