আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৪ টি

হাদীস নং: ১৮৯৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، حضرت عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن حارث نے حضرت عمر (رض) سے عسفان میں ملاقات کی حضرت عمر (رض) نے انہیں مکہ کا امیر مقرر کرنے کا حکم دیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم نے مکہ میں کسے امیر بنایا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ ابن ابزی کو، آپ نے پوچھا کہ ابزی کون آدمی ہے ؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے آپ نے فرمایا کہ تو نے ایک غلام کو ان کا امیر بنادیا ہے ؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور اس کے احکامات پر عمل بھی کرتا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَکَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَی مَکَّةَ فَقَالَ مَنْ اسْتَعْمَلْتَ عَلَی أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ ابْنَ أَبْزَی قَالَ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَی قَالَ مَوْلًی مِنْ مَوَالِينَا قَالَ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًی قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِکِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوبکر بن اسحاق، ابوالیمان، شعیب، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، عبدالرحمن بن عبدالقاری، عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام (رض) بن حکیم بن حزام (رض) سے سنا کہ وہ سورت الفرقان کو اس قرأت پر نہیں پڑھ رہے کہ جس قرأت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پڑھائی قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کرتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ نماز سے فارغ ہوجائیں پھر میں ان کو چادر سے کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے ان کو سورت الفرقان اس طرح پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو تم پڑھو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے تمہیں جس طرح آسانی ہو پڑھو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَکِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّی انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْهُ اقْرَأْ فَقَرَأَ الْقِرَائَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِي اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَئُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، مسوربن مخرمہ، عبدالرحمن بن عبدالقاری، حضرت عمر (رض) بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم (رض) سے سورت الفرقان پڑھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی مبارک ہی میں سنی اس سے آگے حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ فرمایا قریب تھا کہ میں اسے نماز ہی میں گھسیٹ کرلے آتا لیکن میں نے اس کے سلام پھیرنے تک صبر کیا۔ حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فَکِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّی سَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ کَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ، حضرت ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایک حرف پر قرآن مجید پڑھایا میں نے انہیں زیادہ کے لئے کہا یہاں تک کہ سات حرفوں تک قرآن مجید کی قرأت ہوگئی ابن ہشام راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات یاد نہیں ہے کہ سات حرفوں کا معنی ایک ہوتا ہے جس میں حلال اور حرام میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي حَتَّی انْتَهَی إِلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ بَلَغَنِي أَنَّ تِلْکَ السَّبْعَةَ الْأَحْرُفَ إِنَّمَا هِيَ فِي الْأَمْرِ الَّذِي يَکُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے دادا سے، حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور وہ ایسی قرأت پڑھنے لگا کہ جو میرے علم میں نہیں تھی پھر ایک دوسرا آدمی مسجد میں داخل ہوا اور وہ اس کے علاوہ کوئی اور قرأت پڑھنے لگا پھر جب ہم نے نماز پوری کرلی تو ہم سب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے میں نے عرض کیا کہ اس آدمی نے ایسی قرأت پڑھی کہ جس پر مجھے تعجب ہوا اور پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے اس کے علاوہ کوئی اور قرأت پڑھی، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے پڑھا تو نبی ﷺ نے ان دونوں کے پڑھنے کو اچھا فرمایا اور میرے دل میں ایسی تکذیب سی آئی جو زمانہ جاہلیت میں تھی تو جب رسول اللہ ﷺ نے میری اس کیفیت کو دیکھا جو مجھ پر ظاہر ہو رہی تھی تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا گو یا کہ میں اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابی پہلے مجھے حکم تھا کہ میں قرآن کو ایک حرف پر پڑھوں تو میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما دوسری مرتبہ مجھے دو حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا تو میں نے پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما تو تیسری مرتبہ مجھے سات حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا کہ آپ ﷺ نے جتنی مرتبہ امت کی آسانی کے لئے مجھ سے سوال کیا ہے اتنی ہی مرتبہ کے بدلہ میں مجھ سے مانگو، میں نے عرض کیا اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے محفوظ کرلی جس دن ساری مخلوق حتی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی میری طرف آئیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ جَدِّهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَائَةً أَنْکَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَةً سِوَی قَرَائَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَائَةً أَنْکَرْتُهَا عَلَيْهِ وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَی قِرَائَةِ صَاحِبِهِ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنْ التَّکْذِيبِ وَلَا إِذْ کُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا فَقَالَ لِي يَا أُبَيُّ أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَی أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَی حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَی أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَلَکَ بِکُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُکَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ کُلُّهُمْ حَتَّی إِبْرَاهِيمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسی، عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ ، حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہو اس نے نماز پڑھی قرآن مجید پڑھا آگے مذکورہ حدیث کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی فَقَرَأَ قِرَائَةً وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ح، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، مجاہد، ابن ابی لیلیٰ ، حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قبیلہ غفار کے تالاب پر تھے کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تیسری مرتبہ آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو تین حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چوتھی مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیں اور ان حرفوں میں سے جس حرف پر قرآن مجید پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ قَالَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِکَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفَيْنِ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِکَ ثُمَّ جَائَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِکَ ثُمَّ جَائَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَئُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح سے نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر، وکیع، اعمش، حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن ! آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ ؟ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا تو نے اس حرف کے علاوہ پورا قرآن یاد کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا بہت سے لوگ ایسے قرآن پڑھتے ہیں کہ (قرآن) ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا لیکن قرآن دل میں اتر جائے اور اس میں راسخ ہوجائے تو پھر نفع دیتا ہے نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ان نظائر میں سے جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے حضرت علقمہ (رض) ان کے پیچھے گئے پھر وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور نہیک بن سنان نہیں کہا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ أَلِفًا تَجِدُهُ أَمْ يَائً مِنْ مَائٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَائٍ غَيْرِ يَاسِنٍ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَکُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَکِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ کی طرف آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے باقی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر حضرت علقمہ آئے اور وہ حضرت عبداللہ (رض) کی خدمت میں گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان سے ان نظائر کے بارے میں پوچھ لو کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں پڑھتے تھے تو وہ گئے اور ان سے جا کر پوچھا پھر آکر بتایا کہ وہ مفصل میں سے تیس سورتیں ہیں کہ ان کو دس رکعتوں میں پڑھا جاتا تھا اور وہ حضرت عبداللہ (رض) کی تالیف میں سے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَجَائَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنْ النَّظَائِرِ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَکْعَةٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اس سند کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میں ان سورتوں کو پہچانتا ہوں جو شمائل میں ہیں جن میں سے رسول اللہ ﷺ دو دو کو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے دس رکعتوں میں بیس سورتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَقَالَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَکَعَاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
شیبان بن فروخ، مہدی بن میمون، واصل احدب، حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہم اگلے دن صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی طرف گئے اور دروازے سے سلام کیا تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی مگر ہم تھوڑی دیر دروازے کے ساتھ ٹھہرے رہے تو ایک باندی آئی اور اس نے کہا کہ تم اندر کیوں نہیں داخل ہو رہے ہو ؟ تو پھر ہم اندر داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ (رض) بیٹھے تسبیح پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے اندر داخل ہونے سے روکا ہے جبکہ تمہیں اجازت دیدی گئی تھی ! تو ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے خیال کیا کہ گھر والوں میں سے کوئی سو رہا ہو تو عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کیا ؟ راوی نے کہا کہ پھر حضرت عبداللہ نے تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل گیا ہے تو باندی سے فرمایا دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے اس نے دیکھا اور کہا کہ ابھی تک سورج نہیں نکلا تو آپ (رض) نے پھر تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل رہا ہے تو پھر باندی سے فرمایا کہ دیکھو سورج نکل گیا ہے ؟ پھر اس نے دیکھا تو سورج نکل چکا تھا تو حضرت عبداللہ (رض) نے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا) راوی مہدی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ جملہ بھی فرمایا (وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا) اور ہم کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہیں فرمایا جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا میں نے آج کی رات مفصل کی ساری سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا تو نے اس طرح پڑھا ہوگا کہ جس طرح کہ (شاعر) شعر تیزی کے ساتھ پڑھتا ہے بیشک ہم نے قرآن مجید سنا اور مجھے وہ ساری سورتیں یاد ہیں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے اور مفصل کی وہ اٹھارہ سورتیں ہیں اور دو سورتیں ختم کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَنَا قَالَ فَمَکَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً قَالَ فَخَرَجَتْ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ أَلَا تَدْخُلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَکُمْ فَقُلْنَا لَا إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّی ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّی إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا فَقَالَ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ کُلَّهُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي کَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنْ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
عبد بن حمید، حسین بن علی جعفی، زائدہ، منصور، حضرت شقیق (رض) سے روایت ہے کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ (رض) کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک رکعت میں مفصل پڑھتا ہوں حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تم شعر کی طرح تیزی سے پڑھتے ہو گے، میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں جن سے رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابو وائل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود (رض) کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں نے رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تو نے شعر کی طرح تیزی سے پڑھا ہوگا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت ابن مسعود (رض) نے مفصل میں سے بیس (20) سورتوں کا ذکر کیا ایک رکعت میں دو دو سورتیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ کُلَّهُ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ قَالَ فَذَکَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، حضرت ابواسحاق (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اسود بن یزید سے پوچھ رہا تھا اس حال میں کہ وہ مسجد میں قرآن سکھا رہے تھے اس نے کہا کہ آپ اس آیت (فَھَل مِن مُّدَّکِر) (المدثر) کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ کیا دال پڑھتے ہیں یا ذال پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ دال، میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مُدَّکِر دال کے ساتھ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَدَالًا أَمْ ذَالًا قَالَ بَلْ دَالًا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُدَّكِرٍ دَالًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق، اسود، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس حرف کو (فَھَل مِن مُّدَّکِر) پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ (ملک) شام گئے تو ہمارے پاس حضرت ابوالدرداء (رض) تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں کوئی حضرت عبداللہ کی قرأت پر پڑھنے والا ہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں میں ہوں انہوں نے فرمایا کہ تو نے اس آیت کو حضرت عبداللہ کو کبھی پڑھتے سنا ہے (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے کہا کہ میں نے (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن یہ سارے لوگ چاہتے ہیں کہ میں (وَمَا خَلَقَ ) پڑھوں لیکن میں ان کی بات نہیں مانتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَائِ فَقَالَ أَفِيکُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَی قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا قَالَ فَکَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ هَکَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَلَکِنْ هَؤُلَائِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ
tahqiq

তাহকীক: