আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৪ টি

হাদীস নং: ১৮৫৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت الکہف پڑھ رہا تھا اور اس کے گھر میں ایک جانور تھا اچانک وہ جانور بدکنے لگا اس نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس ڈھانپا ہوا ہے اس آدمی نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن پڑھو کیونکہ یہ سکینہ ہے جو قرآن کی تلاوت کے وقت نازل ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا قَرَأَ رَجُلٌ الْکَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
ابن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، ابوداد، شعبہ، ابواسحاق، براء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی حضرت براء (رض) نے اسی طرح روایت کی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا فَذَکَرَا نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا تَنْقُزُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، حجاج شاعر، یعقوب بن ابراہیم، یزید بن الہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) ایک رات اپنی کھجوروں کے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ انکا گھوڑا بدکنے لگا، آپ (رض) نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا آپ نے پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، حضرت اسید کہتے ہیں کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے میں اس کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح میرے سر پر ہے وہ چراغوں سے روشن ہے وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا، صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں رات کے وقت اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو ابن حضیر کہتے ہیں کہ میں پڑھ کر فارغ ہوا تو یحییٰ اس کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے اور میں نے ایک سائبان کی طرح دیکھا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور اوپر کی طرف چڑھا یہاں تک کہ اسے میں نہ دیکھ سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَی فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا قَالَ أُسَيْدٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَی فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا قَالَ فَغَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ يَحْيَی قَرِيبًا مِنْهَا خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْمَلَائِکَةُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، قتادہ، انس، حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کے قرآن مجید پڑھنے کی مثال ترنج کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو پاکیزہ اور ذائقہ خوشگوار ہے اور قرآن مجید نہ پڑھنے والے مومن کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے اور منافق کے قرآن پڑھنے کی مثال ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور منافق کے قرآن نہ پڑھنے کی مثال حنظلہ کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں
ہداب بن خالد، ہمام، ح، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ (رض) سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں منافق کی جگہ فاجر کا لفظ ہے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ بَدَلَ الْمُنَافِقِ الْفَاجِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید غبری، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی قرآن مجید میں ماہر ہو وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو معزز اور بزرگی والے ہیں اور جو قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْکِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام دستوائی، حضرت قتادہ (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ و قَالَ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں
ہداب بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤں انہوں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرا نام لے کر مجھے فرمایا ہے راوی نے کہا کہ حضرت ابی (رض) یہ سن کر رونے لگ پڑے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَکَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاکَ لِي قَالَ فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْکِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے (لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا) پڑھ کر سناؤں حضرت ابی بن کعب (رض) نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں حضرت ابی (رض) یہ سن کر رو پڑے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبَکَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب حارثی، ابن الحارث، شعبہ، حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی (رض) سے فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے سورت النسا پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ جب میں اس (فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے آنسو جاری ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ النِّسَائَ حَتَّی إِذَا بَلَغْتُ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَی جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
ہناد بن سری، منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تو اس وقت آپ ﷺ منبر پر تھے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ اقْرَأْ عَلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، مسعر، عمرو بن مرہ، حضرت ابراہیم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ ! میں نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے آپ ﷺ کو سورت النساء کے شروع سے سنانا شروع کیا جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4 ۔ النسآء : 41) تو آپ ﷺ رو پڑے، مسعر کہتے ہیں کہ مجھے سے معن، جعفر بن عمرو بن حریث نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ) 5 ۔ المائدہ : 117) کہ میں امت کے حال سے اس وقت تک واقف تھا جب تک کہ میں ان میں تھا مسعر کو شک ہے کہ دُمْتُ فرمایا یا کُنتُ فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ وَقَالَ أَبُو کُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَائِ إِلَی قَوْلِهِ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا فَبَکَی قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا کُنْتُ فِيهِمْ شَکَّ مِسْعَرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورت یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سورت اسی طرح سنائی تھا اس آدمی نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب میں اس سے بات کر رہا تھا تو میں نے اس کے منہ سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا تو تو شراب پیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے میں تجھے یہاں سے نہیں جانے دوں گا یہاں تک کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ پھر میں نے (اسے شراب کی حد میں) کوڑے لگائے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ اقْرَأْ عَلَيْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَکَذَا أُنْزِلَتْ قَالَ قُلْتُ وَيْحَکَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُکَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُکَذِّبُ بِالْکِتَابِ لَا تَبْرَحُ حَتَّی أَجْلِدَکَ قَالَ فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، حضرت اعمش (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائے تو وہاں تین حاملہ اونٹنیاں موجود ہوں اور وہ بہت بڑی اور موٹی ہوں ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے وہ تین بڑی بڑی موٹی اونٹنیوں سے اس کے لئے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، فضل بن دکین، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ اس حال میں تشریف لائے کہ ہم صفہ میں تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان کی طرف یا عقیق کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے ؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد کی طرف نہیں جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں خود سیکھے یا سکھائے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین تین سے بہتر ہے اور چار چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّکُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ کُلَّ يَوْمٍ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ إِلَی الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ کَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ (ربیع بن نافع) ، ابن سلام، زید، حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سورت البقرہ اور سورت آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی، سورت البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَئُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَئُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَکَةٌ وَتَرْکَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ مُعَاوِيَةُ بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَأَنَّهُمَا فِي کِلَيْهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ بَلَغَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
اسحاق بن منصور، یزید بن عبدربہ، ولید بن مسلم، محمد بن مہاجر، ولید بن عبدالرحمن جرشی، جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نو اس (رض) بن سمعان کلابی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن مجید اور ان لوگوں کو جو اس پر عمل کرنے والے تھے لایا جائے گا ان کے آگے سورت البقرہ اور سورت آل عمران ہوں گی رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں ارشاد فرمائی ہیں جنہیں میں اب تک نہیں بھولا وہ اس طرح سے ہیں جس طرح کہ دو بادل ہوں یا دو سیاہ سائبان ہوں اور ان دونوں کے درمیان روشنی ہو یا صف بندھی ہوئی پرندوں کی دو قطاریں ہوں وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَی بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ کَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ کَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا
tahqiq

তাহকীক: