আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ৫১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن ہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ ہوا آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ قیامت کے دن میری شفاعت سے ابوطالب کو فائدہ پہنچے کہ دوزخ کے اوپر والے حصے میں لایا جائے گا کہ جہاں آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس کی شدت سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکیر، زہیر بن محمد، سہیل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں میں سب سے ہلکا جس کو عذاب ہوگا اس کو آگ کی دو جو تیاں پہنائی جائیں گی جن کی شدت کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَی أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، ابوعثمان نہدی، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا اور اسے آگ کی دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، نعمان بن بشیر نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کے پاؤں کے نیچے آگ کے انگارے ہوں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، اعمش، ابواسحاق، نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ جس طرح ہانڈی میں پانی جوش سے کھولتا ہے وہ سمجھ رہا ہوگا کہ اسے سب سے سخت عذاب دیا گیا ہے حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا گیا ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ کَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ مَا يَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ حالت کفر میں مرنے والے کو اسکا کوئی عمل فائدہ نہیں دیگا
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، داود، شعبی، مسروق، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل حالت کفر میں صلہ رحمی کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا تو کیا اس سے اس کو فائدہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کام اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ یعنی اے میرے پروردگار قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمِسْکِينَ فَهَلْ ذَاکَ نَافِعُهُ قَالَ لَا يَنْفَعُهُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومنوں سے تعلق رکھنے اور غیر مومنوں سے قطع تعلق اور برأت کا بیان
احمد بن حنبل، محمد بن جعفر، شعبہ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس، عمروابن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ بلند آواز سے نہ کہ آہستہ آواز سے فرما رہے تھے آگاہ رہو کہ میرے باپ کی اولاد یعنی فلاں خاندان والے میرے دوست نہیں بلکہ میرا دوست تو اللہ ہے اور نیک مومن۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي يَعْنِي فُلَانًا لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَائَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
عبدالرحمن بن سلام بن عبیداللہ، ربیع بن مسلم، محمد بن زیاد، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس آدمی کو ان لوگوں میں سے کر دے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لئے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن زیاد ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے ستر ہزار کی ایک جماعت جنت میں داخل ہوگی جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ عکاشہ بن محصن الاسدی یہ سن کر اپنی چادر سمیٹتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ عکاشہ کو ان میں سے کر دے پھر ایک انصار کا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيئُ وُجُوهُهُمْ إِضَائَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابویونس، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کی ایک جماعت جنت میں داخل ہوگی جن کی صورتیں چاند کی طرح چمک رہی ہوں گی۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا زُمْرَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن خلف باہلی، معتمر، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کون سے لوگ ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جو نہ داغ لگوائیں گے اور نہ منتر کرتے ہوں گے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوں گے عکاشہ یہ سن کر کھڑے ہوگئے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ دعا فرمائیں اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم انہی میں سے ہو پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَکْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوراث، حاجب بن عمر، ابوخشینہ ثقفی، حکم بن اعرج، عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے صحابہ نے عرض کیا وہ کون سے لوگ ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو نہ منتر کرتے ہیں اور نہ برا شگون لیتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَا يَکْتَوُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن ابی حازم، سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی یا سات لاکھ راوی حدیث ابوحازم کو صحیح یاد نہیں کہ حضرت سہل (رض) نے ستر ہزار فرمایا یا سات لاکھ آدمی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں گے اور ان میں سے پہلا آدمی جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ ان کا آخری نہ داخل ہوجائے ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا قَالَ مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّی يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
سعید بن منصور، ہشیم، حصین بن عبدالرحمن، سعید ابن جبیر، حضرت حصین بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر (رض) کے پاس تھا انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کس نے کل رات ٹوٹنے والے ستارہ کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا پھر میں نے عرض کیا کہ میں اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ مجھے بچھو نے ڈسا ہوا تھا حضرت سعید (رض) فرمانے لگے کہ پھر تم نے کیا کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے جھاڑ پھونک کروائی انہوں نے فرمایا تم نے جھاڑ پھونک کیوں کروائی میں نے عرض کیا کہ اس حدیث کی بنا پر جو شعبی نے ہمیں بیان فرمائی انہوں نے فرمایا کہ شعبی (رض) نے تم سے کونسی حدیث بیان کی ہے میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی کے حوالہ سے حدیث بیان کی کہ یہ جھاڑ پھونک نفع نہیں دیتا سوائے نظر لگنے یا کاٹے ہوئے کے علاج کے سلسلہ میں حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے جو کچھ سنا اور اس پر عمل کیا اس نے اچھا کیا مگر ہم سے حضرت ابن عباس (رض) نے حدیث بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں لائی گئیں تو میں نے کسی نبی کے ساتھ دس سے بھی کم دیکھے اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی اور دو آدمی دیکھے اور ایسا نبی بھی دیکھا کہ جن کے ساتھ کوئی بھی نہیں پھر میرے سامنے ایک بڑی جماعت لائی گئی تو میں نے انہیں اپنا امتی خیال کیا تو مجھے کہا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ اور ان کی امت ہے لیکن آپ ﷺ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی پھر مجھ سے کہا گیا کہ آسمان کے دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی تو مجھے کہا گیا کہ یہ آپ ﷺ کی امت ہے اور ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہوں گے جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے پھر اٹھ کر آپ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے تو صحابی نے کہا کہ شاید ان سے مراد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں اور کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا اور بعض لوگوں نے کچھ اور کہا پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور پوچھا کہ تم لوگ کس کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو تو آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ منتر کرتے اور نہ منتر کراتے ہیں اور نہ برا شگون لیتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں، عکاشہ بن محصن کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہی میں سے ہے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ أَيُّکُمْ رَأَی الْکَوْکَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَکُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَکِنِّي لُدِغْتُ قَالَ فَمَاذَا صَنَعْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ فَمَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ فَقَالَ وَمَا حَدَّثَکُمْ الشَّعْبِيُّ قُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَی إِلَی مَا سَمِعَ وَلَکِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي هَذَا مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْمُهُ وَلَکِنْ انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي هَذِهِ أُمَّتُکَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِکُوا بِاللَّهِ وَذَکَرُوا أَشْيَائَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، حصین، حضرت سعد بن جبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے سامنے امتیں لائی گئیں پھر باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائیں لیکن اس میں حدیث کا شروع والا حصہ بیان نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَلَمْ يَذْکُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت والوں میں سے آدھے اس امت محمدیہ میں سے ہونے والوں کا بیان
ہناد بن سری، ابواحوص، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ جنت والوں میں سے چوتھائی تم میں سے ہوں (یہ سن کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے) ہم نے تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ جنت والوں میں ایک تہائی تم میں سے ہوں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم میں سے ہوں گے اور اس کی وجہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مسلمان کافروں میں اسطرح سے ہیں جس طرح کہ ایک سفید بال سیاہ بیل میں یا ایک سیاہ بال سفید بیل میں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ذَلِکَ مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْکُفَّارِ إِلَّا کَشَعْرَةٍ بَيْضَائَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ کَشَعْرَةٍ سَوْدَائَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت والوں میں سے آدھے اس امت محمدیہ میں سے ہونے والوں کا بیان
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے کہ جس میں تقریبا چالیس آدمی ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ جنت والوں میں تمہاری تعداد چوتھائی ہو ہم نے عرض کیا کہ ہاں (ہم خوش ہیں) پھر آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم ہوگے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا اور وہ مسلمان شرک کرنے والوں میں اس طرح سے نمایاں ہوگا کہ جس طرح ایک سفید بال کالے بیل کی کھال میں یا ایک کالا بال سرخ بیل کی کھال میں نمایاں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاکَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت والوں میں سے آدھے اس امت محمدیہ میں سے ہونے والوں کا بیان
محمد بن عبداللہ بن نمیر، مالک ابن مغول، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک چمڑے کے خیمے میں ٹیک لگا کر ایک خطبہ دیا اور فرمایا آگاہ رہو کہ جنت میں سوائے مسلمان کے کوئی داخل نہیں ہوگا اے اللہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے اے اللہ گواہ رہنا، (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جنت والوں میں تم چوتھائی ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جنت والوں میں تمہاری تعداد تہائی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں تعداد میں تم آدھے ہو گے۔ تم دوسری امتوں میں اس طرح سے ہو جس طرح ایک کالا بال سفید بیل میں یا ایک سفید بال سیاہ بیل میں یعنی ہر صورت میں نمایاں نظر آئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَی قُبَّةِ أَدَمٍ فَقَالَ أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ اشْهَدْ أَتُحِبُّونَ أَنَّکُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَتُحِبُّونَ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاکُمْ مِنْ الْأُمَمِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ أَوْ کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس فرمان کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے کہ دوزخیوں کے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکال لو۔
عثمان بن ابی شیبہ عبسی، جریر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے لبیک تیرے حکم کو پورا کرنے لئے میں حاضر ہوں اور نیکی اور بھلائی تیرے ہی قبضہ وقدرت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرمائیں گے کہ دوزخیوں کی ایک جماعت نکالو وہ کہیں گے دوزخیوں کی کیسی جماعت ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرمائیں گے کہ ہزار سے نو سو ننانوے دوزخی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا کہ یہی وہ وقت ہوگا کہ (ڈر اور خوف کی شدت سے) بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور ہر حاملہ عورت اپنے حمل کو گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھے گا حالانکہ حقیقت میں وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا حضرت ابوسعید نے کہا کہ صحابہ (رض) یہ حدیث سن کر بہت پریشان ہوئے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم میں سے کون سا آدمی جنتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا خوش ہوجاؤ کہ ایک ہزار یاجوج ماجوج کے مقابلہ میں تم میں سے ایک آدمی ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم میں سے ہوں گے تمہاری مثال دوسری امتوں میں ایسی ہے جس طرح سفید بال کالے بیل کی کھال میں یا ایک نشان گدھے کے پاؤں میں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ قَالَ يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَذَاکَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْکُمْ رَجُلٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَکُمْ فِي الْأُمَمِ کَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ کَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ
tahqiq

তাহকীক: