আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ৪৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام، ابن منبہ، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سب سے کم درجہ کا وہ جنتی ہوگا جس سے اللہ فرمائے گا کہ تم تمنا کرو وہ تمنا کرے گا پھر اللہ اس سے فرمائیں گے کیا تو نے تمنا کرلی ہے وہ کہے گا ہاں پھر اللہ اس سے فرمائیں گے کہ تیرے لئے ہے وہ جو تو نے تمنا کی اور اس جتنا اور بھی لے لو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَدْنَی مَقْعَدِ أَحَدِکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ تَمَنَّ فَيَتَمَنَّی وَيَتَمَنَّی فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَمَنَّيْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ لَهُ فَإِنَّ لَکَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے (صحابہ کرام (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں جب سورج نصف النہار پر ہو اس کے ساتھ بادل بھی نہ ہوں اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ اور جب چودہویں کے چاند کی رات آسمان پر چاند جلوہ آرا ہو اور بادل بھی نہ ہوں تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ ۔ تو رسول ﷺ نے فرمایا پس جس کیفیت کے ساتھ تم دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہو اسی کیفیت کے ساتھ تم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ وہ گروہ اس کی پیروی کرے جس کی پیروی وہ دنیا میں کرتا تھا اس اعلان کے بعد جتنے لوگ بھی اللہ سبحانہ وتعالی کے سوا بتوں وغیرہ کو پوجتے تھے سب جہنم میں جاگریں گے اور صرف وہ لوگ بچ جائیں گے جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے تھے چاہے وہ نیک ہوں یا برے اور کچھ لوگ اہل کتاب میں سے بھی باقی بچ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے چاہے وہ نیک ہوں یا برے پھر یہودیوں کو بلا کر ان سے پو جھا جائے گا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں اللہ کے بیٹے حضرت عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اللہ کی نہ تو کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا، اب تم کیا چاہتے ہو ! وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا دیں پھر انہیں اشارے سے کہا جائے گا کہ تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے پھر انہیں دوزخ کی طرف دھکیلا جائے گا وہ جہنم سراب (پانی کی جگہ) کی طرح دکھائی دے گی پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اللہ تعالیٰ کی نہ تو کوئی بیوی ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے پھر ان سے کہا جائے گا اب تم کیا چاہتے ہو ! وہ کہیں گے کہ ہم بہت پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا دیان سے اشارے سے کہا جائے گا تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے پھر انہیں دوزخ کی طرف دھکیلا جائے گا وہ دوزخ انہیں سراب کی طرح دکھائی دے گا پھر وہ دوزخ میں جا گریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو دنیا میں صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے چاہے وہ نیک ہوں یا برے پھر ان کے پاس اللہ تعالیٰ ایک ایسی عورت بھیجیں گے جس عورت کو وہ دنیا میں کسی نہ کسی وجہ سے پہچانتے ہوں گے دنیا میں ان کو دیکھا ہوگا بحیثیت مخلوق کے نہ کہ معبود کے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب تم کس چیز کا انتظار کرتے ہو ہر گروہ اپنے معبود (دنیا میں جس جس کی عبادت یا جس جس کی پیروی کرتے تھے) کے ساتھ چلا گیا ہے وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ہم دنیا میں ان لوگوں سے علیحدہ رہے حالانکہ ہم ان کے سب سے زیادہ محتاج تھے اور ہم ان لوگوں کے ساتھ بھی نہیں رہے اس عورت سے آواز آئے گی کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تم سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے وہ دو یا تین مرتبہ کہیں گے یہاں تک کہ ان کے دل ڈگمگانے لگیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ایسی نشانی ہے جس سے اپنے اللہ کو پہچان لو وہ کہیں گے ہاں پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی منکشف فرمائیں گے اس منظر کو دیکھ کر جو آدمی بھی دنیا میں صرف اللہ کے خوف اور اس کی رضا کے لئے سجدہ کرتا تھا اسے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور جو آدمی کسی دنیوی خوف یا دکھلاوے کے لئے دنیا میں سجدہ کرتا تھا اسے سجدہ کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کی پشت ایک تختہ کی طرح ہوجائے گی اور جب بھی سجدہ کرنا چاہے گا اپنی پشت کے بل گرجائے گا پھر مسلمان اپنا سر سجدہ سے اٹھائیں گے اور اللہ اس صورت میں ہوں گے جس صورت میں انہوں نے پہلی مرتبہ اسے دیکھا ہوگا اللہ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں مسلمان کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے پھر جہنم پر پل صراط بچھایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی اس وقت سب کہیں گے اللَّهُمَّ سَلِّمْ اللَّهُمَّ سَلِّمْ (اے اللہ سلامتی فرما اے اللہ سلامتی فرما) آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ وہ پل کیسا ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا ایک ایسی چیز جس میں پھسلن ہوگی اور اس میں دانے دار کانٹے ہوں گے وہ لوہے کے کانٹے ہوں گے وہ لوہے کے کانٹے سعد ان جھاڑی کے کانٹوں کی طرح ہوں گے بعض مسلمان اس پل سے پلک جھپکتے میں گزر جائیں گے بعض بجلی کی طرح بعض آندھی کی طرح بعض پرندوں کیطرح بعض تیز رفتار اعلی نسل کے گھوڑوں کی طرح اور بعض اونٹوں کی طرح یہ سب صحیح سلامت پل صراط سے گزر جائیں گے اور بعض مسلمان کانٹوں سے الجھتے ہوئے وہاں سے گزریں گے اور بعض کانٹوں سے زخمی ہو کر دوزخ میں گرپڑیں گے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو مومن نجات پا کر جنت میں چلے جائیں گے وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو جو دوزخ میں گرے پڑے ہوں گے ان کو چھڑانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے اس طرح جھگڑیں جس طرح کہ کوئی اپنا حق مانگنے کے لئے بھی نہیں جھگڑتا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے ہمارے رب یہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے ہمارے ساتھ حج کرتے تھے ان سے کہا جائے گا جن کو تم پہچانتے ہو ان کو دوزخ سے نکال لو ان لوگوں پر دوزخ حرام کردی جائے گی پھر جنتی مسلمان بہت سی تعداد میں ان لوگوں کو دوزخ سے نکلوا لائیں گے جن میں سے بعض کی آدھی پنڈلیوں کو اور بعض کو گھٹنوں تک دوزخ کی آگ نے جلا ڈالا ہوگا پھر جنتی لوگ کہیں گے اے اللہ اب ان لوگوں میں سے کوئی باقی نہیں بچا جن کو دوزخ سے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی کوئی بھلائی ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ پھر جنتی لوگ بہت سی تعداد میں لوگوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے اللہ جن لوگوں کو تو نے ہمیں دوزخ سے نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا پھر اللہ فرمائیں گے جاؤ جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھی اگر کوئی بھلائی ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ جنتی لوگ پھرجائیں گے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے اللہ جن لوگوں کو تو نے ہمیں دوزخ سے نکالنے کو حکم دیا تھا ہم نے ان میں کسی کو نہیں چھوڑا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس کے دل میں تم ایک ذرہ کے برابر بھی کوئی بھلائی پاؤ اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ جنتی لوگ پھرجائیں گے اور دوزخ سے بہت بڑی تعداد میں اللہ کی مخلوق کو نکال لائیں گے پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے اللہ اب دوزخ میں بھلائی کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے۔ ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ لو (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا) 4 ۔ النساء : 40) اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرمائیں گے اور جو نیکی ہوگی اسے دوگنا فرمائیں گے اور اپنے پاس سے بہت سا ثواب عطا فرمائیں گے اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے فرشتوں نے شفاعت کردی انبیاء (علیہ السلام) نے شفاعت فرما دی مومنوں نے شفاعت کردی اور أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ کے علاوہ کوئی ذات بھی باقی نہ رہی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر آدمیوں کو جہنم سے نکالیں گے یہ وہ آدمی ہوں گے جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ہوگی اور یہ لوگ جل کر کوئلہ ہوگئے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ایک نہر میں ڈالیں گے جو جنت کے دروازوں پر ہوگی جس کا نام نہر الحیاہ ہے اس میں اتنی جلدی تر وتازہ ہوں گے جس طرح کہ دانہ پانی کے بہاؤ میں کوڑے کچرے کی جگہ اگ آتا ہے تم دیکھتے ہو کبھی وہ دانہ پتھر کے پاس ہوتا ہے اور کبھی درخت کے پاس اور جو سورج کے رخ پر ہوتا ہے وہ زرد یا سبز اگتا ہے اور جو سائے میں ہوتا ہے وہ سفید رہتا ہے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ تو ایسے بیان فرما رہے ہیں گویا کہ آپ ﷺ جنگل میں جانوروں کو چراتے رہے ہوں پھر آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ اس نہر سے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلتے ہوں گے اور ان کی گردنوں میں سونے کے پٹے پڑے ہوئے ہوں گے جن کی وجہ سے جنت والے ان کو پہچان لیں گے اور ان کے بارے میں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے دوزخ سے آزاد فرمایا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے جنت میں داخل ہوجاؤ اور تم جس چیز کو بھی دیکھو گے وہ چیز تمہاری ہوجائے گی وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو جہاں والوں میں سے کسی کو بھی عطا نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تمہارے لئے میرے پاس اس سے افضل چیز ہے وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار وہ کونسی چیز ہے ؟ جو اس سے بھی افضل ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ افضل چیز ہے میری رضا۔ اب آج کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا کَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ کُلُّ أُمَّةٍ مَا کَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَی أَحَدٌ کَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنْ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَغُبَّرِ أَهْلِ الْکِتَابِ فَيُدْعَی الْيَهُودُ فَيُقَالُ لَهُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا کُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ فَيُقَالُ کَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَمَاذَا تَبْغُونَ قَالُوا عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَی النَّارِ کَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ثُمَّ يُدْعَی النَّصَارَی فَيُقَالُ لَهُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا کُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُمْ کَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَيُقَالُ لَهُمْ مَاذَا تَبْغُونَ فَيَقُولُونَ عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَی جَهَنَّمَ کَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ تَعَالَی مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی فِي أَدْنَی صُورَةٍ مِنْ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا قَالَ فَمَا تَنْتَظِرُونَ تَتْبَعُ کُلُّ أُمَّةٍ مَا کَانَتْ تَعْبُدُ قَالُوا يَا رَبَّنَا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا کُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ لَا نُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَکَادُ أَنْ يَنْقَلِبَ فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَی مَنْ کَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ وَلَا يَبْقَی مَنْ کَانَ يَسْجُدُ اتِّقَائً وَرِيَائً إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً کُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَی قَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُئُوسَهُمْ وَقَدْ تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَی جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْجِسْرُ قَالَ دَحْضٌ مَزِلَّةٌ فِيهِ خَطَاطِيفُ وَکَلَالِيبُ وَحَسَکٌ تَکُونُ بِنَجْدٍ فِيهَا شُوَيْکَةٌ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ کَطَرْفِ الْعَيْنِ وَکَالْبَرْقِ وَکَالرِّيحِ وَکَالطَّيْرِ وَکَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّکَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمَکْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّی إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً لِلَّهِ فِي اسْتِقْصَائِ الْحَقِّ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ فِي النَّارِ يَقُولُونَ رَبَّنَا کَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَی النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا قَدْ أَخَذَتْ النَّارُ إِلَی نِصْفِ سَاقَيْهِ وَإِلَی رُکْبَتَيْهِ ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ فَيَقُولُ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَحَدًا ثُمَّ يَقُولُ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا وَکَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَقُولُ إِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي بِهَذَا الْحَدِيثِ فَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَفَعَتْ الْمَلَائِکَةُ وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنْ النَّارِ فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهَرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَاةِ فَيَخْرُجُونَ کَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَهَا تَکُونُ إِلَی الْحَجَرِ أَوْ إِلَی الشَّجَرِ مَا يَکُونُ إِلَی الشَّمْسِ أُصَيْفِرُ وَأُخَيْضِرُ وَمَا يَکُونُ مِنْهَا إِلَی الظِّلِّ يَکُونُ أَبْيَضَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَأَنَّکَ کُنْتَ تَرْعَی بِالْبَادِيَةِ قَالَ فَيَخْرُجُونَ کَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمْ الْخَوَاتِمُ يَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَائِ عُتَقَائُ اللَّهِ الَّذِينَ أَدْخَلَهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ ثُمَّ يَقُولُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا رَأَيْتُمُوهُ فَهُوَ لَکُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ لَکُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا فَيَقُولُونَ يَا رَبَّنَا أَيُّ شَيْئٍ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا فَيَقُولُ رِضَايَ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْکُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان
مسلم، عیسیٰ بن حماد، لیث بن سعد، عیسیٰ بن حماد، خالد بن یزید، سعید بن ابوہلال، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب دن صاف ہو تو کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشورای آتی ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں اور باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہوگا تو ان سے اللہ فرمائے گا کہ جنت میں جو کچھ تم نے دیکھا وہ بھی لے لو اور اس جیسا اتنا اور بھی لے لو حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ تک نبی ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ پل صراط بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہوگا اور لیث کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جو تمام جہاں والوں کو نہیں دیا۔
قَالَ مُسْلِم قَرَأْتُ عَلَی عِيسَی بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ وَقُلْتُ لَهُ أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْکَ أَنَّکَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ لِعِيسَی بْنِ حَمَّادٍ أَخْبَرَکُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَی رَبَّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا کَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ قُلْنَا لَا وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّی انْقَضَی آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَکُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنْ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنْ السَّيْفِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، ہشام بن سعد، زید بن اسلم سے ایک دوسری سند کے ساتھ کچھ کمی بیشی کے ساتھ اسی طرح کی ایک روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَی آخِرِهِ وَقَدْ زَادَ وَنَقَصَ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مالک بن انس، عمرو بن یحییٰ بن عمارہ، ابوسعید خدری (رض) حضرت عمرو بن یحییٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے چاہیں گے جنت میں داخل فرمائیں گے اور دوزخ والوں کو دو ذخ میں داخل فرمائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو چناچہ وہ لوگ کوئلہ کی طرح جلے ہوئے ہوں گے پھر انہیں نہر الحیوۃ یا حیاء (راوی کو شک ہے) میں ڈالا جائے گا وہ اس میں اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ پانی کے بہاؤ والی مٹی سے زردی مائل ہو کر اگ پڑتا ہے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يُدْخِلُ مَنْ يَشَائُ بِرَحْمَتِهِ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ انْظُرُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدْ امْتَحَشُوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوْ الْحَيَا فَيَنْبُتُونَ فِيهِ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَی جَانِبِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْهَا کَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَائَ مُلْتَوِيَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، وہیب، حجاج بن شاعر، عمرو بن عون، خالد، عمرو بن یحیی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں دانہ کے بجائے کوڑا کرکٹ کے اگنے کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ح و حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ الْحَيَاةُ وَلَمْ يَشُکَّا وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ کَمَا تَنْبُتُ الْغُثَائَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں
نصر بن علی جہضمی، بشر ابن مفضل، ابومسلمہ، ابونضرہ ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو دوزخ والے ہیں (کافر) وہ اس میں نہ تو مریں گے اور نہ زندہ رہیں گے لیکن کچھ لوگ جو اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے آگ انہیں جلا کر کوئلہ بنادے گی اس کے بعد شفاعت کی اجازت دی جائے گی تو یہ لوگ گروہ در گروہ لائے جائیں گے پھر انہیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا پھر جنت والوں سے کہا جائے گا کہ اے جنت والو ان پر پانی ڈالو جس سے وہ تر تازہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے جس طرح پانی کے بہاؤ سے آنے والی مٹی میں سے دانہ سرسبز و شاداب ہو کر نکل آتا ہے یہ سن کر صحابہ (رض) میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ دیہات میں رہے ہوں۔ (مطلب یہ کہ آپ ﷺ دانہ اگنے کی جو اتنی درست تمثیل دے رہے ہیں)
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَکِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمْ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً حَتَّی إِذَا کَانُوا فَحْمًا أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ فَجِيئَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَی أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ثُمَّ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَکُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ کَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ بِالْبَادِيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابومسلمہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری (رض) حضرت عبداللہ بن مسعود ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اس میں دانہ اگنے تک کا ذکر ہے اس کے بعد کوئی ذکر نہیں۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَی قَوْلِهِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخیوں میں سے سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والے کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ سب سے آخر میں دوزخ میں سے کون نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں کون جنت میں داخل ہوگا وہ ایک آدمی ہوگا جو سرینوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا اللہ اس سے فرمائیں گے جا جنت میں داخل ہوجا وہ جنت کے قریب آئے گا تو اسے افسوس ہوگا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹ آئے گا اور اللہ سے کہے گا اے میرے رب جنت تو بھری ہوئی ہے اللہ پھر فرمائیں گے جا جنت میں داخل ہوجا وہ پھر آئے گا اس کے خیال میں یہ بات ڈال دی جائے گی کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹ آئے گا اور کہے گا اے میرے رب جنت تو بھری ہوئی ہے تو اللہ اس سے فرمائیں گے جا جنت میں چلا جا تیرے لئے دنیا اور دس گنا دنیا کے برابر ہے تو وہ کہے گا کہ آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں یا ہنس رہے ہیں اور آپ تو بادشاہ ہیں ! حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے اگلے دانت ظاہر ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اس سے کہا جائے گا کہ یہ جنت والوں کے لئے سب سے کم تر درجہ ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَکَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي أَوْ أَتَضْحَکُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِکُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ فَکَانَ يُقَالُ ذَاکَ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخیوں میں سے سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس آدمی کو پہچا نتا ہوں جو دوزخ والوں میں سے سب آخر میں دوزخ سے نکلے گا، ایک آدمی جو سرین کے بل گھسٹتا ہوا دوزخ سے نکلے گا اللہ اس سے فرمائیں گے کہ جنت میں چلا جا وہ جائے گا پھر جنت میں داخل ہوگا تو دیکھے گا کہ سب جگہوں پر جنتی ہیں اس سے کہا جائے گا کہ کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا ؟ (دوزخ میں) وہ کہے گا جی ہاں یاد ہے تو پھر اس سے کہا جائے گا کہ اپنی تمنا کرو اور وہ تمنا کرے گا کہ تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ جس قدر تو نے تمنا کی وہ بھی تیرے لئے اور اس سے دس گنا دنیا کے برابر بھی وہ کہے گا کہ کیا آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں اور آپ تو بادشاہوں کے بادشاہ ہیں حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيُقَالُ لَهُ انْطَلِقْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ فَيُقَالُ لَهُ أَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِي کُنْتَ فِيهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ تَمَنَّ فَيَتَمَنَّی فَيُقَالُ لَهُ لَکَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِکُ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخیوں میں سے سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، حماد بن سلمہ، ثابت، انس، ابن مسعود حضرت ابوسعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ گرتا پڑتا اور گھسٹتا ہوا دوزخ سے اس حال میں نکلے گا کہ دوزخ کی آگ اسے جلا رہی ہوگی پھر جب دوزخ سے نکل جائے گا تو پھر دوزخ کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور دوزخ سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نعمت عطا فرمائی ہے کہ اولین وآخرین میں سے کسی کو بھی وہ نعمت عطا نہیں فرمائی پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا وہ آدمی کہے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب کر دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ کو حاصل کرسکوں اور اس کے پھلوں سے پانی پیوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے ابن آدم اگر میں تجھے یہ دے دوں تو پھر اس کے علاوہ اور کچھ تو نہیں مانگے گا وہ عرض کرے گا کہ نہیں اے میرے پروردگار، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے علاوہ اور نہ مانگنے کا معاہدہ فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائیں گے کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھ چکا ہوگا کہ جس پر اسے صبر نہ ہوگا اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردیں گے وہ اس کے سائے میں آرام کرے گا اور اس کے پھلوں کے پانی سے پیاس بجھائے گا پھر اس کے لئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو پہلے درخت سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوگا وہ آدمی عرض کرے گا اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پانی پیوں اور اس کے بعد میں اور کوئی سوال نہیں کروں گا اللہ فرمائیں گے اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اور کوئی سوال نہیں کرے گا اور اب اگر تجھے اس درخت کے قریب پہنچا دیا تو پھر تو اور سوال کرے گا اللہ تعالیٰ پھر اس سے اس بات کا وعدہ لیں گے کہ وہ اور کوئی سوال نہیں کرے گا تاہم اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ معذور ہوگا کیونکہ وہ ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہ کرسکے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کو درخت کے قریب کردیں گے وہ اس کے سایہ میں آرام کرے گا اور اس کا پانی پئے گا پھر اسے جنت کے دروزاے پر ایک درخت دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا وہ آدمی کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں آرام کروں اور پھر اس کا پانی پیؤں اور اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا پھر اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائیں گے اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے بعد اور کوئی سوال نہیں کرے گا وہ عرض کرے گا ہاں اے میرے پروردگار اب میں اس کے بعد اس کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کروں گا اللہ اسے معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہیں کرسکے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردیں گے جب وہ اس درخت کے قریب پہنچے گا تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا تو وہ پھر عرض کرے گا اے میرے رب مجھے اس میں داخل کر دے تو اللہ فرمائیں گے اے ابن آدم تیرے سوال کو کون سی چیز روک سکتی ہے کیا تو اس پر راضی ہے کہ تجھے دنیا اور دنیا کے برابر دے دیا جائے وہ کہے گا اے رب ! اے رب العالمین تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یہ حدیث بیان کر کے حضرت عبداللہ (رض) ہنس پڑے اور لوگوں سے فرمایا کہ تم مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنسا لوگوں نے کہا کہ آپ کس وجہ سے ہنسے ؟ فرمایا رسول اللہ ﷺ اسی طرح ہنسے تھے فرمایا اللہ رب العالمین کے ہنسنے کی وجہ سے جب وہ آدمی کہے گا کہ آپ رب العالمین ہونے کے باوجود مجھ سے مذاق فرما رہے ہیں تو اللہ فرمائیں گے کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا مگر جو چاہوں کرنے پر قادر ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَکْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ تَبَارَکَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْکِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُکَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَی مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَی فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُکَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَی مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَيَيْنِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا قَالَ بَلَی يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَی مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْکَ أَيُرْضِيکَ أَنْ أُعْطِيَکَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا قَالَ يَا رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَضَحِکَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَکُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَکُ قَالَ هَکَذَا ضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَکُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِنْ ضِحْکِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْکَ وَلَکِنِّي عَلَی مَا أَشَائُ قَادِرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن بکیر، زہیر بن محمد، سہل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت والوں میں سے سب سے کم درجے کا وہ جنتی ہوگا جس کا چہرہ اللہ جہنم سے پھیر کر جنت کی طرف فرما دیں گے اور اس کے لئے ایک سایہ دار درخت بنادیں گے وہ آدمی کہے گا اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں رہوں باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ اے ابن آدم تیری آرزؤں کو کیا چیز ختم کرسکتی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ اللہ اس سے فرمائیں گے کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کر پھر جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ بھی تیرے لئے اور اس سے دس گنا زائد بھی تیرے لئے ہے پھر اللہ اسے اس کے گھر میں داخل فرما دیں گے اور خوبصورت آنکھوں والی دو حوریں اس کی زوجیت میں داخل ہو کر اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ہمارے لئے زندہ کیا اور ہمیں تیرے لئے زندہ کیا وہ آدمی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا عطا فرمایا ہے کہ کسی کو بھی اتنا نہیں عطا فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَی هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَکُونُ فِي ظِلِّهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْکَ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ وَيُذَکِّرُهُ اللَّهُ سَلْ کَذَا وَکَذَا فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ هُوَ لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولَانِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاکَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَکَ قَالَ فَيَقُولُ مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
سعید بن عمرو اشعثی، سفیان بن عیینہ، مطرف، ابن ابجر، شعبی، مغیرہ بن شعبہ، ابن ابی عمر، سفیان، مطرف بن طریف، عبدالملک بن سعید، شعبی، مغیرہ بن شعبہ ایک مرتبہ منبر پر (تشریف رکھے) فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ اپنے رب سے پوچھا کہ جنت والوں میں سے سب کم درجہ کا کونسا آدمی ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ ایک آدمی ہوگا جو سارے جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوگا اس آدمی سے کہا جائے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ آدمی عرض کرے گا اے میرے رب میں کیسے جاؤں وہاں تو سب لوگوں نے اپنے اپنے مراتب اپنی اپنی جگہوں کو متعین کرلیا ہے یعنی جنت کے تمام محلات پر سب جنتیوں نے قبضہ کرلیا ہے تو پھر اس آدمی سے اللہ فرمائیں گے کہ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملک دیا جائے جتنا دنیا کے بادشاہ کے پاس تھا وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں راضی ہوں پروردگار اس سے فرمائیں گے جاؤ اتنا ملک ہم نے تجھے دے دیا اور اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، پانچویں مرتبہ وہ آدمی کہے گا میں راضی ہوگیا اے میرے پروردگار ! اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے تو یہ بھی لے لو اور اس کا دس گنا اور لے اور جو تیری طبیعت چاہے اور تیری آنکھوں کو پیارا لگے وہ بھی لے لو وہ کہے گا پروردگار میں راضی ہوگیا اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ سب سے بڑے درجے والا جنتی کونسا ہے اللہ نے فرمایا وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود منتخب کیا ہے اور ان کی بزرگی اور عزت کو اپنے دست قدرت سے بند کردیا اور پھر اس پر مہر بھی لگا دی تو یہ چیزیں نہ تو کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان نعمتوں اور مرتبوں کا خیال گزرا اور اس چیز کی تصدیق کی جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے وہ کہتا ہے (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ) یعنی کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان چھپا کر رکھا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ وَابْنِ أَبْجَرَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَائَ اللَّهُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ سَعِيدٍ سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُخْبِرُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ عَلَی الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ وَابْنُ أَبْجَرَ سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ سُفْيَانُ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ قَالَ سَأَلَ مُوسَی رَبَّهُ مَا أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً قَالَ هُوَ رَجُلٌ يَجِيئُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيُقَالُ لَهُ ادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ کَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ فَيُقَالُ لَهُ أَتَرْضَی أَنْ يَکُونَ لَکَ مِثْلُ مُلْکِ مَلِکٍ مِنْ مُلُوکِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ فَيَقُولُ لَکَ ذَلِکَ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ فَقَالَ فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ فَيَقُولُ هَذَا لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ وَلَکَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَيْنُکَ فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ قَالَ رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً قَالَ أُولَئِکَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ کَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ قَالَ وَمِصْدَاقُهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوکریب، عبیداللہ اشجعی، عبدالملک بن ابجر، مغیرہ بن شعبہ منبر پر فرما رہے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے جنت والوں میں سے سب سے کم درجے کے جنتی کے بارے میں پوچھا باقی وہی حدیث ہے جو گذر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُا عَلَی الْمِنْبَرِ إِنَّ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابواعمش، معرور، ابن سوید، ابوذر (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس آدمی کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا اور سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا وہ ایک آدمی ہوگا جو قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور بڑے گناہ مت پیش کرو چناچہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ فلاں دن تو نے یہ کام کیا اور فلاں دن ایسا کیا وغیرہ، وہ اقرار کرے گا اور انکار نہ کرسکے گا اور اپنے بڑے گناہوں سے ڈرے گا کہ کہیں وہ بھی پیش نہ ہوجائیں حکم ہوگا کہ ہم نے تجھے ہر ایک گناہ کے بدلے ایک نیکی دی۔ وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تو اور بھی بہت سے گناہ کے کام کئے ہیں جنہیں میں آج یہاں نہیں دیکھ رہا راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سامنے والے دانت ظاہر ہوگئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ کِبَارَهَا فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْکِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ کِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَکَ مَکَانَ کُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً فَيَقُولُ رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَائَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابن نمیر، ابومعاویہ، وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حضرت حماد بن زید ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
عبیداللہ بن سعید، اسحاق بن منصور، روح بن عبادہ قیسی، ابن جریج، ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا کہ ان سے لوگ قیامت کے دن لوگوں کے حال کے بارے میں پوچھ رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم قیامت کے دن تمام امتوں سے بلندی پر ہوں گے پھر باقی امتوں کو ترتیب کے لحاظ سے ان کے بتوں کے ساتھ بلایا جائے گا اس کے بعد ہمارا رب جلوہ افروز ہوگا، اللہ فرمائیں گے کہ تم کسے دیکھ رہے ہو وہ کہیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے شایان شان ان کے ساتھ چل پڑیں گے اور سارے لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے اور ہر ایک کو ایک نور ملے گا چاہے وہ مومن ہو یا منافق ہو اور لوگ اس نور کے پیچھے چلیں گے پل صراط پر کانٹے ہوں گے جسے اللہ تعالیٰ چاہیں گے پکڑ لیں گے پھر منافقوں کا نور بجھ جائے گا اور مومن نجات پاجائیں گے مومنوں کا پہلا گروہ جو نجات پا جائے گا ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور یہ ستر ہزار ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا پھر ان کے بعد ایک گروہ خوب چمکتے ہوئے تاروں کے طریقے پر ہوگا پھر اسی طرح شفاعت کا وقت آئے گا اور نیک لوگ شفاعت کریں گے یہاں تک کہ جن لوگوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا اور ان کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھی اگر کوئی بھلائی ہوگی تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور انہیں جنت کے سامنے ڈال دیا جائے گا اور جنت والے ان پر پانی چھڑکیں گے جس سے وہ اس طرح تروتازہ ہوجائیں گے جیسے سیلاب کے پانی کی مٹی میں سے دانہ ہرا بھرا اگ پڑتا ہے ان سے جلنے کے سارے آثار جاتے رہیں گے پھر ان سے پوچھا جائے گا پھر ہر ایک کو دنیا اور دس گنا دنیا کے برابر (انہیں جنت میں مقام) دیا جائے گا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ کِلَاهُمَا عَنْ رَوْحٍ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ الْوُرُودِ فَقَالَ نَجِيئُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ کَذَا وَکَذَا انْظُرْ أَيْ ذَلِکَ فَوْقَ النَّاسِ قَالَ فَتُدْعَی الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا کَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِکَ فَيَقُولُ مَنْ تَنْظُرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْظُرُ رَبَّنَا فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَيْکَ فَيَتَجَلَّی لَهُمْ يَضْحَکُ قَالَ فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ وَيُعْطَی کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَی جِسْرِ جَهَنَّمَ کَلَالِيبُ وَحَسَکٌ تَأْخُذُ مَنْ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ کَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ کَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَائِ ثُمَّ کَذَلِکَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَشْفَعُونَ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً فَيُجْعَلُونَ بِفِنَائِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَائَ حَتَّی يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْئِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّی تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمر، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنْ النَّارِ فَيُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوربیع، حمادابن زید حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے یہ حدیث سنی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کی بنا پر کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے ! انہوں نے فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنْ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
حجاج بن شاعر، ابواحمد، زبیری، قیس ابن سلیم، عنبری، یزید فقیر، جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ جہنم سے نکال کر جنت میں اس حالت میں داخل کئے جائیں گے کہ ان کے چہروں کے علاوہ ان کا سارا جسم جل چکا ہوگا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنْ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّی يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ
তাহকীক: