আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ৪৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
حجاج بن شاعر، فضل بن دکین، ابوعاصم، محمد بن ابی ایوب، یزید فقیر فرماتے ہیں کہ خارجیوں کی باتوں میں سے ایک بات میرے دل میں جم گئی ( کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہے گا) چناچہ ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ حج کے ارادہ سے نکلے کہ پھر (اس کے بعد خارجیوں والی اس بات کو) لوگوں میں پھیلائیں یزید کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) ایک ستون سے ٹیک لگائے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان فرما رہے ہیں اور جب انہوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے ان سے کہا اے صحابی رسول ﷺ ! یہ آپ لوگوں سے کیسی حدیثیں بیان کر رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتے ہیں (اے رب) بیشک تو نے جسے دوزخ میں داخل کردیا تو تو نے اسے رسوا کردیا۔ (دوسرے مقام پر یہ فرماتا ہے) جب دوزخی لوگ دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو انہیں پھر اسی میں داخل کردیا جائے گا، اس (اللہ کے فرمان) کے بعد اب تم کیا کہتے ہو ؟ حضرت جابر (رض) نے فرمایا کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں انہوں نے فرمایا کہ کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کے مقام کے بارے میں سنا جو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو قیامت کے دن عطا فرمائیں گے حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ پھر یہی تو وہ مقام محمود ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دوزخ سے جسے چاہیں گے نکال دیں گے اس کے بعد انہوں نے پل صراط اور لوگوں کا اس کے اوپر سے گزرنے کے بارے میں تذکرہ فرمایا حضرت یزید کہتے ہیں کہ میں اس کو اچھی طرح یاد نہیں رکھ سکا تاہم انہوں نے یہ فرمایا کہ کچھ لوگ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد دوزخ سے نکال لئے جائیں گے ابونعیم نے کہا کہ وہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکلیں گے کہ جس طرح آبنوس کی جلی ہوئی لکڑیاں ہوتی ہیں پھر وہ لوگ جنت کی نہروں میں سے کسی نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں یہ نہائیں گے اور پھر اس نہر سے کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے ( یہ حدیث سن کر) پھر ہم وہاں سے لوٹے اور ہم نے کہا افسوس (تم خارجی لوگوں) پر کیا تمہار اخیال ہے کہ شیخ جابر بن عبداللہ جیسا شخص بھی رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ہم میں سے ایک آدمی کے علاوہ سب خارجی تھے عقائد سے تائب ہوگئے جیسا کہا ابونعیم نے کہا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ قَالَ کُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَی النَّاسِ قَالَ فَمَرَرْنَا عَلَی الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَالِسٌ إِلَی سَارِيَةٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَکَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ وَاللَّهُ يَقُولُ إِنَّکَ مَنْ تُدْخِلْ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَ کُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ قَالَ فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَام يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ قَالَ ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ قَالَ وَأَخَافُ أَنْ لَا أَکُونَ أَحْفَظُ ذَاکَ قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَکُونُوا فِيهَا قَالَ يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ کَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ قَالَ فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ کَأَنَّهُمْ الْقَرَاطِيسُ فَرَجَعْنَا قُلْنَا وَيْحَکُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَکْذِبُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ کَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمہ، ابی عمران، ثابت، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ چار آدمی دوزخ سے نکال کر اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے ان میں سے ایک آدمی دوزخ کی طرف دیکھ کر کہے گا اے میرے پروردگار جب آپ نے مجھے اس دوزخ سے نکال لیا ہے تو اب اس میں دوبارہ نہ لوٹانا تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ سے نجات عطا فرما دیں گے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَی اللَّهِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلَا تُعِدْنِي فِيهَا فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوکامل، فضیل بن حسین جحدری، محمد بن عبیداللہ عنبری، ابوکامل، ابوعوانہ، قتادہ، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور وہ اس پریشانی سے بچنے کی کوشش کریں گے اور ابن عبید نے کہا ہے کہ یہ کوشش ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی وہ کہیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کی طرف اگر کسی سے شفاعت کرائیں تاکہ اس جگہ سے ہم آرام حاصل کریں تو سب لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام مخلوق انسانی کے باپ ہیں آپ کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور اپنی پیدا کی ہوئی روح آپ میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں آپ اپنے پروردگار کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں تاکہ ہم اس جگہ سے راحت حاصل کریں، حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور اپنی خطا کو یاد کریں گے جو ان سے ہوئی، اللہ تعالیٰ سے شرمائیں گے اور کہیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے بھیجا، وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور اپنی خطا یاد کریں گے جو دنیا میں ان سے سرزد ہوئی اور اپنے رب سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ ان کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا وہ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں وہ بھی اپنی اس خطا کو یاد کر کے جو دنیا میں ان سے ہوئی تھی اپنے رب سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت موسیٰ کے پاس جاؤ جو اللہ کے کلیم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تو راہ عطا فرمائی وہ لوگ حضرت موسیٰ کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور اپنی خطا کو یاد کر کے جو دنیا میں ان سے ہوئی اپنے رب سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور کلمہ اللہ ہیں چناچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ روح اللہ اور کلمۃ اللہ کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ جن کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اگلی پچھلی تمام خطاؤں کو معاف فرما دیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر سارے لوگ میرے پاس آئیں گے میں اپنے پروردگار سے شفاعت کی اجازت مانگوں گا مجھے اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اپنے آپ کو دیکھوں گا کہ میں سجدہ میں میں گرا پڑا ہوں، جب تک اللہ چاہیں گے مجھے اس حال میں رکھیں گے پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھائیے، فرمائیے ! سنا جائے گا، مانگئے ! دیا جائے گا، شفاعت فرمائیے ! شفاعت قبول کی جائے گی، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ان کلمات کے ساتھ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے اس وقت سکھائے گا پھر میں شفاعت کروں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھائیے ! فرمائیے ! سنا جائے گا، مانگئے ! دیا جائے گا، شفاعت کیجئے ! شفاعت قبول کی جائے گی، پھر میں اپنا سر سجدہ سے اٹھاؤں گا پھر میں اپنے رب کی حمد بیان کروں گا میرے لئے ایک حد مقرر کی جائے گی جس کے مطابق میں لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا راوی فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ رسول اللہ ﷺ شفاعت فرما کر لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے دوزخ میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جن کے حق میں قرآن نے ہمیشہ کا عذاب لازم کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِکَ و قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِکَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا هَذَا قَالَ فَيَأْتُونَ آدَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا هَذَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ قَالَ فَيَأْتُونَ نُوحًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا عِيسَی رُوحَ اللَّهِ وَکَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَی رُوحَ اللَّهِ وَکَلِمَتَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَلَکِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ قُلْ تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجَهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ قَتَادَةُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حشر کے دن سارے مومن جمع کئے جائیں گے وہ اس دن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یا ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی یہ حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ چوتھی بار میں ان کی شفاعت کروں گا اور یہ عرض کروں گا اے پروردگار اب دوزخ میں صرف وہ لوگ باقی وہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روکا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِکَ أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِکَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن مومنوں کو جمع فرمائیں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی کہ وہ اس دن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ چوتھی مرتبہ فرمائیں گے اے پروردگار اب تو دوزخ میں کوئی بھی باقی نہیں سوائے ان کے جن کو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی ان پر دوزخ میں رہنا ہمیشہ کے لئے لازم ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِکَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَذَکَرَ فِي الرَّابِعَةِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، سعید بن ابی عروبہ، ہشام، قتادہ، انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں سے ہر وہ آدمی نکال لیا جائے گا جس نے بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا جس نے بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا اور اس کے دل میں گندم کے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی ہوگی اسے بھی دوزخ کی آگ سے نکال لیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ يَزِيدُ فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ فَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ جَعَلَ مَکَانَ الذَّرَّةِ ذُرَةً قَالَ يَزِيدُ صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوربیع عتکی، حماد بن زید، معبد بن ہلال عنزی، سعید بن منصور، حماد بن زید، معبد بن ہلال کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک (رض) سے ملنا چاہتے تھے اور ان سے ملاقات کے لئے ہم نے حضرت ثابت (رض) کی سفارش چاہی جب ہم ان تک پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے حضرت ثابت (رض) نے ہمارے لئے اندر آنے کی اجازت مانگی ہم اندر داخل ہوئے حضرت انس (رض) بن مالک نے ثابت کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھا کر فرمایا اے ابوحمزہ) یہ ان کی کنیت ہے (تیرے بصرہ والے بھائی تجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم ان سے شفاعت والی حدیث بیان کرو حضرت ثابت (رض) فرمانے لگے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے پھر سب سے پہلے حضرت آدم کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنی اولاد کے لئے شفاعت فرمائیں وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں سب لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں مگر تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ وہ روح اللہ اور کلمہ اللہ ہیں چناچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ وہ سب میرے پاس آئیں گے میں ان سے کہوں گا کہ ہاں میں اس کا اہل ہوں اور میں ان کے ساتھ چل پڑوں گا اور اللہ سے اجازت مانگوں گا مجھے اجازت ملے گی اور میں اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی ایسی حمد وثنا بیان کروں گا کہ آج میں اس پر قادر نہیں ہوں وہ حمد وثناء اللہ اسی وقت القاء فرمائیں گے اس کے بعد میں سجدہ میں گر جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد اپنا سر اٹھائیے اور فرمائیے سنا جائے گا اور مانگئے دیا جائے گا اور شفاعت کیجئے شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے پروردگار میری امت میری امت۔ تو پھر اللہ فرمائیں گے جاؤ جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسے سب لوگوں کو دوزخ سے نکال لوں گا پھر اپنے پروردگار کے سامنے آکر اسی طرح حمد بیان کروں گا اور سجدہ میں پڑجاؤں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائیے فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کیجئے شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ پھر اللہ پاک مجھے فرمائیں گے کہ جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گے اور پھر لوٹ کر اپنے رب کے پاس آؤں گے اور اسی طرح حمد بیان کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا مجھ سے کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائیے اور فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ پھر اللہ پاک مجھے فرمائیں گے کہ جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گا اور پھر لوٹ کو اپنے رب کے پاس آؤں گا اور اسی طرح حمد بیان کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا مجھ سے کہا جائے گا اے محمد فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ مجھ سے اللہ پاک فرمائیں گے کہ جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانہ سے بھی کم بہت کم اور بہت ہی کم ہو اسے بھی دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گا۔ معبد بن ہلال کہتے ہیں کہ یہ حضرت انس (رض) کی روایت ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کی جب ہم ان کے پاس سے نکلے اور حبان قبرستان کی بلندی پر پہنچے تو ہم نے کہا کاش کہ ہم حضرت حسن بصری کی طرف چلیں اور انہیں سلام عرض کریں وہ ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے (حجاج بن یوسف کے خوف سے) پھر ہم ان کے پاس گئے اور انہیں سلام کہا ہم نے کہا اے ابوسعید ہم تمہارے بھائی ابوحمزہ کے پاس سے آرہے ہیں انہوں نے شفاعت کے بارے میں ہم سے ایک حدیث بیان کی اس طرح کی حدیث ہم نے نہیں سنی انہوں نے کہا بیان کرو ہم نے جواب دیا بس اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی انہوں نے کہا کہ یہ حدیث تو ہم سے حضرت انس (رض) نے بیس سال قبل بیان کی تھی جب وہ طاقتور تھے اب انہوں نے کچھ چھوڑ دیا میں نہیں جانتا کہ وہ بھول گئے یا تم سے بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا ایسا نہ ہو کہ تم اسی پر بھروسہ کر بیٹھو اور نیک اعمال میں سستی کرنے لگو ہم نے ان سے کہا کہ وہ کیا ہم سے بیان کیجئے یہ سن کر حضرت حسن بصری ہنسے اور کہنے لگے کہ انسان کی پیدائش میں جلدی ہے میں نے تم سے یہ واقعہ اس لئے بیان کیا تھا کہ میں تم سے اس حصہ کو جو انس بن مالک نے چھوڑ دیا تھا وہ بیان کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر میں چوتھی مرتبہ اللہ کے پاس واپس لوٹ کر جاؤں گا اور اسی طرح حمد بیان کروں گا اور سجدہ میں پڑجاؤں گا۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد اپنا سر اٹھائیے فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی اس وقت میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار اس آدمی کو بھی مجھے جہنم سے نکالنے کی اجازت دیجئے جو کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا قائل ہو اللہ فرمائیں گے کہ یہ تیر اکام نہیں لیکن میری عزت و بزرگی اور جاہ و جلال کی قسم میں دوزخ سے ایسے آدمی کو بھی نکال دوں گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا حضرت معبد کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث جو انہوں نے ہم سے بیان کی اس کو انہوں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے سنا ہے اور میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے بیس سال قبل سنی ہوگی جب حضرت انس جوان تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ قَالَ انْطَلَقْنَا إِلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَی فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَی سَرِيرِهِ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ إِخْوَانَکَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَکَ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ لَهُ اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِکَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّهُ کَلِيمُ اللَّهِ فَيُؤْتَی مُوسَی فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِعِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَکَلِمَتُهُ فَيُؤتَی عِيسَی فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُوتَی فَأَقُولُ أَنَا لَهَا فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الْآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَی رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي انْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَعُودُ إِلَی رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي انْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَی أَدْنَی أَدْنَی مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا کُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ قُلْنَا لَوْ مِلْنَا إِلَی الْحَسَنِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا يَا أَبَا سَعِيدٍ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيکَ أَبِي حَمْزَةَ فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ قَالَ هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ هِيَهِ قُلْنَا مَا زَادَنَا قَالَ قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ وَلَقَدْ تَرَکَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ کَرِهَ أَنْ يُحَدِّثَکُمْ فَتَتَّکِلُوا قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِکَ وَقَالَ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ مَا ذَکَرْتُ لَکُمْ هَذَا إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوهُ ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَی رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَيْسَ ذَاکَ لَکَ أَوْ قَالَ لَيْسَ ذَاکَ إِلَيْکَ وَلَکِنْ وَعِزَّتِي وَکِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي وَجِبْرِيَائِي لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَأَشْهَدُ عَلَی الْحَسَنِ أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أُرَاهُ قَالَ قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، یزید، محمد بن بشر، ابوحیان، ابوزرعہ، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا رسول اللہ ﷺ کو دستی کا گوشت پسند تھا اس لئے پوری دستی پیش کی گئی آپ ﷺ نے اسے اپنے دانتوں سے کھانا شروع کیا پھر فرمایا میں قیامت کے دن سب کا سردار ہوں گا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سب کس وجہ سے ہوگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین وآخرین کو ایک ایسے ہموار میدان میں جمع فرمائیں گے کہ وہ سب آواز دینے والے کی آواز سنیں گے اور ہر آدمی کی نگاہ (یا اللہ کی نظر) سب کے پار جائے گی اور سورج قریب ہوجائے گا اور لوگوں کو ناقابل برداشت گھبراہٹ اور پریشانی کا سامنا ہوگا اس وقت بعض لوگ دوسرے لوگوں سے کہیں گے کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارا کیا حال ہے اور کیا نہیں سوچتے کہ تم کس قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوچکے ہو آؤ ایسے آدمی کی تلاش کریں جو اللہ کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے پھر بعض لوگ ایک دوسرے سے مشورہ کرکے کہیں گے کہ چلو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس چلو پھر لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم (علیہ السلام) آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے اور آپ میں اپنی روح پھونکی ہے اور تمام فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا آپ اللہ کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کن پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور کیا آپ ہماری تکلیفوں کا مشاہدہ نہیں کر رہے ؟ حضرت آدم فرمائیں گے کہ آج میرا رب اس قدر جلال میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے جلال میں نہیں آیا اور بات دراصل یہ ہے کہ اللہ نے مجھے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا اور میں نے اس کی نافرمانی کی آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ لوگ حضرت نوح کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں آپ کا نام اللہ نے شکر گزار بندہ رکھا ہے آج اللہ کے ہاں ہماری شفاعت کر دیجئے کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہماری تکلیف کس حد تک پہنچ گئی ہے حضرت نوح فرمائیں گے کہ آج میرا رب اس قدر غضبناک ہے کہ نہ اس سے پہلے انتا غضبناک ہوا اور نہ اس کے بعد اتنا غضبناک ہوگا میں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی جس کی وجہ سے وہ تباہ ہوگئی آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم ابراہیم کے پاس جاؤ لوگ ابراہیم کے پاس جا کر عرض کریں گے آپ اللہ کے نبی ہیں اور ساری زمین والوں میں سے اللہ کے خلیل ہیں ہماری اللہ کے ہاں شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں اور کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہماری تکلیف کس حد تک پہنچ چکی ہے حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ آج میرا پروردگار اتنا غضبناک ہے نہ اس سے پہلے اتنا غضبناک ہوا اور نہ اس کے بعد اتنا غضبناک ہوگا حضرت ابراہیم اپنے جھوٹ بولنے کو یاد کر کے فرمائیں گے کہ آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ لوگ موسیٰ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت اور ہم کلامی دونوں سے نوازا ہے آپ اللہ کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حال میں ہیں اور ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں پھر ان سے حضرت موسیٰ فرمائیں گے کہ آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اتنا غضبناک نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا اور میں نے بغیر حکم کے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم عیسیٰ کے پاس جاؤ، لوگ عیسیٰ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے عیسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ نے گہوارے میں بات کی آپ کلمہ اللہ ہیں اور روح اللہ ہیں آج اللہ کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ آج میرا رب اتنا غضبناک ہے، اتنا غضبناک نہ اس سے پہلے کبھی ہو اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا حضرت عیسیٰ نے اپنے قصور کا ذکر نہیں فرمایا اور فرمائیں گے کہ آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ محمد ﷺ کے پاس جاؤ، لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سارے قصور معاف فرما دئیے ہیں اپنے پروردگار کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں کیا آپ ہیں جانتے کہ ہماری تکلیف کس حد تک پہنچ گئی ہے پھر میں چلوں گا عرش کے نیچے آؤں گا پھر سجدہ میں پڑجاؤں گا پھر اللہ میرے سینہ کو کھول دے گا اور مجھے حمد وثناء کے ایسے کلمات القاء فرمائے گا جو مجھے پہلے القاء نہیں کئے گئے پھر کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھائیے مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا پھر عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت پھر کہا جائے گا کہ اے محمد اپنی امت میں سے جن کا حساب نہیں لیا گیا انہیں جنت کے دائیں دروازوں سے داخل کردو اور یہ لوگ اس کے علاوہ دوسرے دروزاوں سے بھی داخل ہوسکتے ہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ جنت کے دروازوں کے کو اڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر کے درمیان یا مکہ اور بصرٰی کے درمیان ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنْ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاکَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ ائْتُوا آدَمَ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی الْأَرْضِ وَسَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ کَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا عَلَی قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَذَکَرَ کَذَبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُوسَی فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَکَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَکْلِيمِهِ عَلَی النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونَ عِيسَی فَيَقُولُونَ يَا عِيسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَکَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ لَهُ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَائِ وَغَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَائِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَکَائُ النَّاسِ فِيمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْأَبْوَابِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَکَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَبُصْرَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ثرید اور گوشت کا ایک پیالہ رکھا آپ ﷺ نے پیالے میں سے بکری کی ایک دستی اٹھائی کیونکہ گوشت میں سے دستی ہی آپ ﷺ کو پسند تھی آپ ﷺ نے اسے دانتوں سے کھانا شروع کردیا اور فرمایا قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا پھر دوبارہ آپ نے وہ دستی کھائی پھر فرمایا میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ صحابہ اس کی وجہ نہیں پوچھ رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کیوں نہیں کہہ رہے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ پھر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس دن تمام لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے پھر اس کے بعد وہی حدیث بیان فرمائی جو گزر چکی البتہ اس سند میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جب لوگ جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں نے ستاروں کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ میرا رب ہے اور اسی طرح میں نے اپنی قوم کے معبود ان باطلہ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہاں میں بیمار ہوں اور جنت کے دروازوں اور کو اڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے مقام میں ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ وَکَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ فَنَهَسَ نَهْسَةً فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَی فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا رَأَی أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ قَالَ أَلَا تَقُولُونَ کَيْفَهْ قَالُوا کَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ وَذَکَرَ قَوْلَهُ فِي الْکَوْکَبِ هَذَا رَبِّي و قَوْله لِآلِهَتِهِمْ بَلْ فَعَلَهُ کَبِيرُهُمْ هَذَا و قَوْله إِنِّي سَقِيمٌ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَی عِضَادَتَيْ الْبَابِ لَکَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ هَجَرٍ وَمَکَّةَ قَالَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
محمد بن طریف بن خلیفہ بجلی، محمد بن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، ابوہریرہ، ابومالک، ربعی بن حراش، حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مومنوں کو جمع فرمائیں گے اور جنت ان کے قریب کردی جائے گی پھر سارے مومن حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے ہمارے باپ ہمارے لئے جنت کا دراوزہ کھلوائیے تو وہ فرمائیں گے کہ تمہارے باپ کی ایک ہی خطا نے تو تم کو جنت سے نکالا تھا میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ میرے بیٹے ابراہیم کے پاس وہ اللہ کے خلیل ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں میرے خلیل ہونے کا مقام تو اس سے بہت پیچھے ہے جاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جن کو اللہ نے اپنے کلام سے نوازا ہے پھر لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ محمد ﷺ کے پاس وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوں گے اور آپ ﷺ کو شفاعت کی اجازت دیدی جائے گی اور امانت اور رحم کو چھوڑ دیا جائے گا اور وہ دونوں پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہوں جائیں گے تم میں سے پہلا آدمی بجلی کی طرح گزر جائے گا میں نے عرض کیا وہ کونسی چیز ہے جو بجلی کی طرح گزر جائے گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے بجلی کی طرف نہیں دیکھا کہ کس طرح گزرتی ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے اس کے بعد وہ لوگ پل صراط سے گزریں گے جو آندھی کی طرح گزر جائیں گے اس کے بعد پرندوں کی رفتار سے گزریں گے پھر اس کے بعد آدمیوں کے دوڑنے کی رفتار سے گزریں گے ہر آدمی اپنے اعمال کے مطابق رفتار سے دوڑے گا اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے ہوئے فرما رہے ہوں گے اے میرے پروردگار انہیں سلامتی سے گزار دے پھر ایک وقت آئے گا کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے اور لوگوں میں چلنے کی طاقت نہیں ہوگی اور وہ اپنے آپ کو پل صراط سے گھسیٹتے ہوئے گزاریں گے اور پل صراط کے دونوں طرف لوہے کے کانٹے لٹک رہے ہوں گے اور جس آدمی کے بارے میں حکم ہوگا وہ اس کو پکڑ لے لگا بعض ان سے الجھ کر دوزخ میں گرجائیں گے حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ابوہریرہ (رض) کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِکٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّی تُزْلَفَ لَهُمْ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ أَخْرَجَکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيکُمْ آدَمَ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ اذْهَبُوا إِلَی ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ قَالَ فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ إِنَّمَا کُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَائَ وَرَائَ اعْمِدُوا إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ تَکْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی کَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيْ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُکُمْ کَالْبَرْقِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْئٍ کَمَرِّ الْبَرْقِ قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْبَرْقِ کَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ ثُمَّ کَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ کَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّکُمْ قَائِمٌ عَلَی الصِّرَاطِ يَقُولُ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتَّی تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّی يَجِيئَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا قَالَ وَفِي حَافَتَيْ الصِّرَاطِ کَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمَکْدُوسٌ فِي النَّارِ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ، جریر، مختار بن فلفل، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سارے لوگوں میں سے سب سے پہلے میں جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَکْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
ابوکریب، محمد بن علاء، معاویہ بن ہشام، سفیان، مختار بن فلفل، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے اور سب سے پہلا میں ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَکْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی زائدہ، مختار بن فلفل، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جنت میں میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی کہ میری تصدیق کی گئی اور یہاں تک کہ انبیاء کرام میں سے بعض نبی ایسے ہوں گے کہ ان کی امت میں سے ان کی تصدیق کرنے والا صرف ایک آدمی ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
عمرو بن محمد ناقد، زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن جنت کے دروازہ پر آؤں گا اور اسے کھلواؤں گا جنت کا داروغہ کہے گا آپ کون ہیں تو میں کہوں گا محمد وہ کہے گا کہ مجھے آپ ﷺ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ کھولنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ بِکَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھوں۔
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
زہیر بن حرب، عبد بن حمید، زہیر، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو کہ یقینًا قبول ہوتی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میں چاہوں گا کہ میں اپنی یہ دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن کروں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ وَأَرَدْتُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
زہیر بن حرب، عبد بن حمید، زہیر، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی، ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے اور وہ اللہ کے ہاں یقینًا قبول ہوتی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھوں، حضرت کعب (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کہا کہ کیا آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا ہاں !
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لِکَعْبِ الْأَحْبَارِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ کَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کر لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے تو ہر نبی نے جلدی کی کہ اپنی اس دعا کو مانگ لیا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میری شفاعت میری امت کے ہر اس آدمی کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرگیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
قتیبہ بن سعید، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ (رض) ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے جب بھی وہ اپنی امت کیلئے اس دعا کو مانگتا ہے تو اسے وہ دیا جاتا ہے اور میں نے (اپنی دعا) قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক: