আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ৪৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے حق میں مانگتا ہے تو اس کی وہ دعا قبول کی جاتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں اپنی دعا کو قیامت کے دن تک اپنی امت کے شفاعت کے لئے مؤخر کر دوں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ فَاسْتُجِيبَ لَهُ وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوغسان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے لئے مانگتا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کرلیا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
زہیر بن حرب، ابن ابوخلف، روح، شعبہ، قتادہ سے یہی حدیث ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
ابوکریب، وکیع، ابراہیم بن سعید، ابواسامہ، مسعر، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ (رض) سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ قَالَ قَالَ أُعْطِيَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
محمد بن عبدالاعلی، معتمر، انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت قتادہ (رض) نے حضرت انس (رض) کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابن جریج، ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لئے مانگی اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لئے قیامت کے دن بطور شفاعت روک رکھی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ وَخَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اپنی امت کے لئے دعا فرمانا اور بطور شفقت رونے کا بیان
یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکر بن سوادہ، عبدالرحمن بن جبیر، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان جو ابراہیم کے بارے میں ہے کی تلاوت فرمائی (رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اے پروردگار ان معبودان باطلہ نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو جس نے میری تابعداری کی تو وہ مجھ سے ہوا میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی تو تو اس کو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے اور یہ آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) جس میں عیسیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور فرمایا اے اللہ میری امت میری امت اور آپ ﷺ پر گریہ طاری ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرائیل جاؤ محمد ﷺ کے پاس حالانکہ تیرا رب خوب جانتا ہے ان سے پوچھ کہ آپ ﷺ کیوں رو رہے ہیں جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور جو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کو اس کی خبر دی حالانکہ وہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے تو اللہ نے فرمایا اے جبرائیل جاؤ محمد ﷺ کی طرف اور ان سے کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور ہم آپ ﷺ کو نہیں بھولیں گے۔
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بَکْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِيرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي الْآيَةَ وَقَالَ عِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي وَبَکَی فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ وَرَبُّکَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْکِيکَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ وَهُوَ أَعْلَمُ فَقَالَ اللَّهُ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ فَقُلْ إِنَّا سَنُرْضِيکَ فِي أُمَّتِکَ وَلَا نَسُوئُکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کفر پر مرا وہ دوزخی ہے اسے نہ ہی کسی کی شفاعت اور نہ ہی مقربین کی قرابت کوئی فائدہ دے گی۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا باپ کہاں ہے آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں جب وہ آدمی واپس جانے لگا تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور پھر فرمایا کہ میرا باپ اور تیرا باپ دونوں دوزخ میں ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ فَلَمَّا قَفَّی دَعَاهُ فَقَالَ إِنَّ أَبِي وَأَبَاکَ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، عبدالملک بن عمیر، موسیٰ بن طلحہ، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ) نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا عام وخاص سب کو جمع فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے کعب بن لؤی کے قبیلہ والو ! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبدشمس کے قبیلے والو ! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبد مناف کے قبیلہ والو ! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے بنی عبدالمطلب والو ! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے فاطمہ (رض) اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لے کیونکہ میں تمہارے لئے اللہ سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ میں تمہارا رشتہ دار ہوں اور بحثیت رشتہ داری کے میں تم سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ يَا بَنِي کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ کَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَکِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
عبیداللہ بن عمر، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ جَرِيرٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، یونس بن بکیر، ہشام بن عروہ، عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈارئیے، تو رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ محمد کی بیٹی اے صفیہ عبدالمطلب کی بیٹی میری پھوپھی اے عبدالمطلب کی اولاد میں اللہ کے سامنے تمہارے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ یہاں میرے مال میں سے جو چاہو لے لو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَيُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو آپ ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا اے قریش کی جماعت تم اپنی جانوں کو نیک اعمال کے بدلہ میں اللہ سے خرید لو میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی مجھ سے جو چاہو لے لو لیکن میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْکَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْکِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْکِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
عمرو ناقد، معاویہ بن عمرو زائدہ، عبداللہ بن ذکوان، اعرج ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَکْوَانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
ابو کامل، یزید بن زریع تیمی، ابوعثمان، قبیصہ، مخارق، زہیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں، تو رسول اللہ ﷺ پہاڑ کے سب سے بلند پتھر پر کھڑے ہوئے اور پھر آواز دی اے عبدمناف کے بیٹو میں تمہیں (عذاب سے) ڈرا رہا ہوں میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا ہو اور وہ دشمن سے اپنے گھر والوں کو بچا نے کی لئے دوڑ پڑا ہو کہ کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے اور بلند آواز سے پکارا یا یا صباحاہ خبردار آگاہ ہوجاؤ دشمن (یعنی اللہ کا عذاب آرہا ہے) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَا لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا ثُمَّ نَادَی يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَی الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابوعثمان، زہیر بن عمرو، قبیصہ بن مخارق ایک دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو اور اپنی قوم کے مخلص لوگوں کو بھی ڈرائیے، تو رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر چڑھے اور بلند آواز کے ساتھ فرمایا یا صباحاہ سنو آگاہ ہوجاؤ لوگوں نے کہا کہ یہ کون آواز لگا رہا ہے تو سب کہنے لگے کہ محمد ﷺ آواز لگا رہے ہیں تو سب آپ ﷺ کی طرف جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں کے بیٹو اے عبد مناف کے بیٹو اے عبدالمطلب کے بیٹو ! تو وہ سب آپ ﷺ کی طرف جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے نیچے ایک گھڑ سوار لشکر ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے تو سب لوگوں نے کہا کہ ہم نے تو کبھی آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں پایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں بہت سخت عذاب سے ڈرا رہا ہوں، حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ابولہب نے کہا کہ (العیاذ باللہ) آپ ﷺ کے لئے تباہی ہے کیا آپ ﷺ نے ہمیں اسی لئے جمع کیا ہے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو یہ سورت نازل ہوئی ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود بھی ہلاک ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا مُحَمَّدٌ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْکَ کَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَکُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَکَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ کَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَی آخِرِ السُّورَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش اس سند کے ساتھ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صفا پر چڑھے آپ ﷺ نے فرمایا یا صباحاہ سنو آگاہ ہوجاؤ باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزری لیکن اس میں آیت کریمہ کے نزول کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا فَقَالَ يَا صَبَاحَاهْ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ نُزُولَ الْآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر، محمد بن ابی بکر مقدامی، محمد بن عبدالملک، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر بن عبداللہ بن حارث بن نوفل، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا کیونکہ وہ تو آپ ﷺ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ ﷺ کی وجہ سے لوگوں پر غضبناک ہوجاتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ دوزخ کے اوپر کے حصہ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا یعنی ان کے لئے دعا نہ کرتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں ہوتے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْئٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَغْضَبُ لَکَ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَکَانَ فِي الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک، بن عمیر، عبداللہ بن حارث، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابوطالب آپ ﷺ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ ﷺ کی مدد کرتے اور آپ ﷺ کے لئے لوگوں پر غصے ہوتے تھے تو کیا ان باتوں کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ ہوا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے انہیں آگ کی شدت میں پایا تو میں انہیں ہلکی آگ میں نکال کرلے آیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَنْصُرُکَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنْ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَی ضَحْضَاحٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، سفیان، عبدالملک بن عمیر، عبداللہ بن حارث، عباس بن عبدالمطلب نے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی ہے۔
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ
তাহকীক: