আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ৪৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، شیبانی، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی میں دیکھنے سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھنا ہے آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عبنری، شعبہ، سلیمان، شیبانی، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں (لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی) یعنی آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں اس دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبدالملک، عطاء، ابوہریرہ (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) نے ( وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) کے بارے میں فرمایا کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، عبدالملک، عطاء، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَآهُ بِقَلْبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، عبدالملک، عطاء، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں دو مرتبہ دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، زیاد بن حصین، ابی جہمہ، ابوعالیہ سے روایت ہے کہ ہم سے حضرت ابوجہمہ نے اسی سند کے ساتھ روایت نقل فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسماعیل ابن ابراہیم، داود، شعبی، حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا انہوں نے فرمایا اے ابوعائشہ (یہ ان کی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی ان کا قائل ہوجائے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا میں نے عرض کیا وہ تین باتیں کونسی ہیں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا ایک تو یہ ہے کہ جس نے خیال کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا مسروق کہتے ہیں کہ میں تکیہ لگائے بیٹھا تھا میں نے یہ سنا تو اٹھ کر بیٹھ گیا میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے بات کرنے دیں اور جلدی نہ کریں کیا اللہ نے نہیں فرمایا (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى) 53 ۔ النجم : 3) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرمانے لگیں کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا ان آیتوں سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں میں نے انہیں ان کی اصل صورت میں نہیں دیکھا سوائے دو مرتبہ کے جس کا ان آیتوں میں ذکر ہے میں نے دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور ان کے تن وتوش کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک کو گھیر رکھا ہے اس کے بعد حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 6 ۔ الانعام : 103) کیا تو نے اللہ عز وجل کا یہ ارشاد نہیں سنا (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَا ي ِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِه مَا يَشَا ءُ اِنَّه عَلِيٌّ حَكِيْمٌ) 42 ۔ الشوری : 51) یعنی اس کی آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہی لطیف وخبیر ہے اور کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ سے باتیں کرے مگر وحی یا پردے کے پیچھے سے اور دوسری آیت یہ ہے کہ جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپالیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ) اے رسول ﷺ جو آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اترا ہے اس کی تبلیغ کیجئے اگر آپ ﷺ ایسا نہ کریں گے تو آپ حق رسالت ادا نہ کریں گے اور تیسری بات یہ کہ جو آدمی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ آئندہ ہونے والی باتوں کو جانتے تھے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا اور اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کوئی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلَاثٌ مَنْ تَکَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ قَالَ وَکُنْتُ مُتَّکِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَی صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَقَالَتْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَا تُدْرِکُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِکُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَائُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَکِيمٌ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَمَ شَيْئًا مِنْ کِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَکُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، داؤد نے اسی سند کے ساتھ ابن علیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ اگر محمد ﷺ اس میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے جو آپ پر نازل ہوا تو اس آیت کو چھپاتے ( وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخْ فِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰ ىهُ ) 33 ۔ الاحزاب : 37) اور جب آپ ﷺ اس آدمی سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ ﷺ نے بھی انعام کیا کہ اپنی زوجہ مطہرہ زینب (رض) کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور آپ ﷺ اپنے دل میں وہ بات بھی چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ آخر میں ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں کے طعن سے ڈر رہے تھے اور ڈرنا تو اللہ ہی سے سزاوار ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ قَالَتْ وَلَوْ کَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ لَکَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِکْ عَلَيْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِکَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابن نمیر، اسماعیل، شعبی، مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ آپ کی یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور پھر واقعہ اس طرح بیان کیا اور داؤد کی روایت زیادہ پوری اور لمبی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ رَأَی مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابن نمیر، اسماعیل شعبی، مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِهِ مَا أَوْحَی) پھر نزدیک ہوئے جبرائیل اور محمد ﷺ کے قریب ہوگئے اور دو کمانوں یا اس کے بھی قریب کا فاصلہ رہ گیا اس کے بعد اللہ نے اپنے بندہ کی طرف وحی کی جو بھی کی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں وہ آپ ﷺ کے پاس مردوں کی صورت میں آتے تھے اور اس مرتبہ اپنی اصل صورت میں آئے ہیں جس سے آسمان کا سارا کنارہ بھر گیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ فَأَيْنَ قَوْله ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِهِ مَا أَوْحَی قَالَتْ إِنَّمَا ذَاکَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَائِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان کہ وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں اور اس فرمان کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یزید بن ابراہیم، قتادہ، عبداللہ بن شقیق، حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّکَ قَالَ نُورٌ أَنَّی أَرَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان کہ وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں اور اس فرمان کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے کے بیان میں
محمد بن بشار، معاذ بن ہشام، حجاج، بن شاعر، عفان بن مسلم، قتادہ، عبداللہ بن شقیق، ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے کہا کہ تم کس بات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ رہے ہو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ فَقَالَ عَنْ أَيِّ شَيْئٍ کُنْتَ تَسْأَلُهُ قَالَ کُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّکَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَدْ سَأَلْتُ فَقَالَ رَأَيْتُ نُورًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان کہ اللہ سوتا نہیں اور اس فرمان ککہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے اپنی مخلوق کو جلا ڈالے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، عمرو بن مرہ، ابوعبیدہ، ابوموسی، عبداللہ بن شقیق حضرت ابوموسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں فرمائیں کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ ہی سونا اس کی شان ہے میزان اعمال کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے اس کی طرف رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے بلند کیا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ اس کا حجاب آگ ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں جہاں تک اس کی نگاہیں پہنچتی ہیں مخلوق کو جلا دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ حِجَابُهُ النُّورُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ النَّارُ لَوْ کَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان کہ اللہ سوتا نہیں اور اس فرمان ککہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے اپنی مخلوق کو جلا ڈالے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش حضرت اعمش سے یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے مگر اس میں چار باتوں کا ذکر ہے اور مخلوق کا ذکر نہیں اور فرمایا اس کا حجاب نور ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ خَلْقِهِ وَقَالَ حِجَابُهُ النُّورُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے اس فرمان کہ اللہ سوتا نہیں اور اس فرمان ککہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے اپنی مخلوق کو جلا ڈالے کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، ابوعبیدہ، حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر چار باتیں ارشاد فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ ہی سونا اس کی شان کے لائق ہے اللہ تعالیٰ میزان اعمال کو اونچا نیچا کرتا ہے دن کے اعمال رات اور رات کے اعمال دن کو اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُهُ وَيُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ وَعَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں مومنوں کے لئے اللہ سبحانہ وتعالی کے دیدار کے بیان میں
نصر بن علی جہضمی، ابوغسان، مسمعی، اسحاق بن ابراہیم، عبدالعزیز بن عبدالصمد، ابوغسان، ابوعمران، جونی، ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں کہ دو جنتیں تو چاندی کی ہوں گی اور دونوں کے برتن اور ان میں جو کچھ ہوگا وہ بھی چاندی کا ہوگا اور اسی طرح دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان دونوں کے برتن اور ان میں جو کچھ ہوگا وہ سونے کا ہوگا اور اہل جنت کے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار کے درمیان کبریائی کی چادر ہوگی جو جنتِ عدن میں اللہ کے چہرے پر ہوگی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَأَبُو غَسَّانَ الْمَسْمَعِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَی رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَائُ الْکِبْرِيَائِ عَلَی وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں مومنوں کے لئے اللہ سبحانہ وتعالی کے دیدار کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر بن میسرہ، عبدالرحمن بن مہدی، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، عبدالرحمن بن ابی لیلی حضرت صہیب (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تمام جنت والے جنت میں چلے جائیں گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ کیا تم مزید کچھ چاہتے ہو وہ جنتی عرض کریں گے اے اللہ کیا تو نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا ؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ کیا تو نے ہم کو دوزخ سے نجات نہیں دی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ ان کے اور اپنے درمیان سے پردے اٹھا دے گا اور جنتی اللہ کا دیدار کریں گے تو ان کو اس دیدار سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ہوگی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ صُهَيْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُکُمْ فَيَقُولُونَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنْ النَّارِ قَالَ فَيَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ النَّظَرِ إِلَی رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں مومنوں کے لئے اللہ سبحانہ وتعالی کے دیدار کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، صہیب، حضرت حماد بن سلمہ (رض) سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت ہے لیکن اس میں اتنا زائد ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (لِلَّذِيْنَ اَحْسَ نُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰ ى ِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) 10 ۔ یونس : 26) نیک لوگوں کے لئے نیک انجام اور مزید انعام ہے یعنی دیدار الہی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِيَادَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عطاء بن یزید، لیثی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا جس وقت بادل نہ ہوں کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کرو گے اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے گا اور اس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورتوں میں ان کے سامنے آئے گا کہ جن صورتوں میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے، پھر وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بیشک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم (اے اللہ سلامتی رکھ) ہوگی اور جہنم میں سعدان خاردار جھاڑی کی طرح اس میں کانٹے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے نیک اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو پہچان لیں گے اور ایسوں کو بھی پہچان لیں گے کہ ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تر وتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہوگا تو ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ جنت والوں میں سے آخری ہوگا جو جنت میں داخل ہوگا وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا وہ کہے گا کہ اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا پھر پرو ردگار اس سے اس کے وعدہ کی پختگی پر اپنی منشا کے مطابق عہد و پیمان لیں گے پھر اللہ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے اور جنت کی طرف کردیں گے اور جب وہ جنت کو اپنے سامنے دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے میرے پروردگار ! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ پھر عرض کرے گا اے پروردگار……۔ وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم، اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں نفیس اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا افسوس ابن آدم تو کتنا دھو کے باز ہے وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں ہی تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت، وہ اسی طرح اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آجائے گی تو فرمائیں گے جنت میں داخل ہوجا اور جب اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیں گے تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ اپنی تمنائیں اور آرزوئیں ظاہر کر پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمائیں گے اور یاد دلائیں گے فلاں چیز مانگ فلاں چیز مانگ جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ یہ نعمتیں بھی لے لو اور ان جیسی اور نعمتیں بھی لے لو۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے بھی اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے مطابق بیان کیا صرف اس بات میں اختلاف ہوا کہ جب حضرت ابوہریرہ (رض) نے یہ بیان کیا کہ ہم نے یہ چیزیں دیں اور اس جیسی اور بھی دیں تو حضرت ابوسعید خدری (رض) نے فرمایا کہ دس گنا زائد دیں حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ مجھے تو یہی یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سب چیزیں دیں اور اس جیسی اور دیں حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم نے یہ سب دیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ دیں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ وہ آدمی ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاسًا قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ کَذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتَّبِعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتَّبِعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَيَتَّبِعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَائَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ تَعَالَی فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ فَأَکُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَلَا يَتَکَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَی الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ السَّعْدَانَ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُجَازَی حَتَّی يُنَجَّی حَتَّی إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلَائِکَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ کَانَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَی أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْکُلُ النَّارُ مِنْ ابْنِ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرَجُونَ مِنْ النَّارِ وَقَدْ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَائُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَی مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَی رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَی النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَکَاؤُهَا فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِکَ بِکَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَائَ اللَّهُ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَی الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَکَتَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَکَ وَمَوَاثِيقَکَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُکَ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّی يَقُولَ لَهُ فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُکَ ذَلِکَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَائَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ فَيُقَدِّمُهُ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا قَامَ عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَرَأَی مَا فِيهَا مِنْ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ فَيَسْکُتُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَکَ وَمَوَاثِيقَکَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ لَا أَکُونُ أَشْقَی خَلْقِکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّی يَضْحَکَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مِنْهُ فَإِذَا ضَحِکَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ ادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّی حَتَّی إِنَّ اللَّهَ لَيُذَکِّرُهُ مِنْ کَذَا وَکَذَا حَتَّی إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی ذَلِکَ لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا حَتَّی إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ قَالَ لِذَلِکَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِکَ لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِکَ لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِکَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان، شعیب، زہری، سعید بن مسیب، عطاء بن یزید، لیثی، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ (رض) نے نبی ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے پھر اس کے بعد وہی حدیث ہے جو گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ
tahqiq

তাহকীক: