আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ৪১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
شیبان بن فروخ، حماد ابن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور اس وقت آپ ﷺ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے حضرت جبرائیل نے آپ کو پکڑا، آپ کو پچھاڑا اور دل کو چیر کر اس میں سے جمے ہوئے خون کا ایک لو تھڑا نکالا اور کہا کہ یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا پھر اس دل کو سونے کے طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا پھر اسے جوڑ کر اس جگہ میں رکھ دیا اور لڑکے دوڑتے ہوئے آپ کی رضاعی والدہ کی طرف آئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ قتل کر دئے گئے یہ سن کر سب دوڑے دیکھا صرف آپ کا رنگ خوف کی وجہ سے بدلا ہوا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے سینہ مبارک میں اس سلائی کا نشان دیکھا تھا۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْکَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَکَانِهِ وَجَائَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَی أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ کُنْتُ أَرْئِي أَثَرَ ذَلِکَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان ابن بلال، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) اس رات کے بارے میں سنا جس میں اللہ کے رسول ﷺ کعبہ کی مسجد میں سو رہے تھے کہ آپ کی پاس تین فرشتے آئے نزول وحی سے پہلے، اس کے بعد ثابت کی بیان کردہ روایت کو نقل کیا مگر بعض باتوں کو پہلے اور بعض باتوں کو بعد میں اور بعض کو کم اور بعض کو زیادہ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَةِ أَنَّهُ جَائَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَی إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب انس بن مالک (رض) ، ابوذر (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اترے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت حکمت اور ایمان سے بھر کر لائے اس کو میرے سینہ میں رکھا پھر اس کو جوڑ دیا، پھر حضرت جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر آسمان کی طرف چڑھے پھر جب ہم آسمان دنیا پر آئے تو جبرائیل نے آسمان کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے اس نے کہا کون ؟ کہا جبرائیل اس نے پوچھا کیا تیرے ساتھ کوئی ہے ؟ کہا ہاں میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں اس نے پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ کہا ہاں پھر فرشتے نے دروازہ کھولا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے اس کے دائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے اور اس کے بائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے جب وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے اور اپنے بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے اس نے مجھے دیکھ کر فرمایا خوش آمدید اے نیک نبی اور اے نیک بیٹے ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ یہ کون ہیں حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ آدم (علیہ السلام) ہیں اور ان کے دائیں طرف جنتی اور بائیں طرف والے دوزخی ہیں اس لئے جب دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر حضرت جبرائیل مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے گئے اور اس کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے آپ نے فرمایا کہ دوسرے آسمان کے پہرے دار نے بھی وہی کچھ کہا جو آسمان دنیا کے پہرے دارے نے کہا تھا پھر اس نے دروازہ کھولا حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی آسمانوں پر حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت ادریس حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) سے ملاقات ہوئی اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس آسمان پر کس نبی سے ملاقات ہوئی البتہ یہ بتلایا کہ پہلے آسمان پر حضرت آدم سے اور چھٹے آسمان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی پھر جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور رسول اللہ ﷺ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید کہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ یہ کون ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پھر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو ! میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون ہیں جبرائیل نے کہا یہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا آپ نے فرمایا نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جبرائیل نے کہا کہ یہ حضرت ابراہیم ہیں ایک دوسری سند میں ابن شہاب اور ابن حزم نے کہا کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے معراج کرائی گئی یہاں تک کہ مجھے ایک بلند ہموار مقام پر چڑھایا گیا وہاں میں نے قدموں کی آواز سنی ابن حزم اور حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں آپ نے فرمایا کہ میں ان نمازوں کو لے کر لوٹا تو حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا ان پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں گئی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف واپس گیا تو اللہ نے اس میں سے کچھ نمازیں کم کردیں پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف واپس آیا تو ان کو بتایا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر میں اپنے رب کی طرف گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کردیں اور ثواب میں پچاس نمازوں کا ہی ملے گا اللہ عزوجل نے فرمایا میرے قول میں تبدیلی نہیں آتی پھر جب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف واپس آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے تو میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے جبرائیل (علیہ السلام) لے گئے یہاں تک کہ ہم سدرۃ المنتہی پر آگئے جہاں ایسے ایسے رنگ چھائے ہوئے تھے کہ ہم نہیں جان سکے کہ وہ کیا ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جہاں موتیوں کے گنبد اور اس کی مٹی مشک کی تھی۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَکَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَی السَّمَائِ فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام لِخَازِنِ السَّمَائِ الدُّنْيَا افْتَحْ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَکَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَفَتَحَ قَالَ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ قَالَ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِکَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَکَی قَالَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِکَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَکَی قَالَ ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّی أَتَی السَّمَائَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ قَالَ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَائِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَذَکَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَعِيسَی وَمُوسَی وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ وَلَمْ يُثْبِتْ کَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَکَرَ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي السَّمَائِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَائِ السَّادِسَةِ قَالَ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ مَرَّ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا إِدْرِيسُ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَی قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَی فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَا يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّی ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًی أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَی أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ فَرَجَعْتُ بِذَلِکَ حَتَّی أَمُرَّ بِمُوسَی فَقَالَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام مَاذَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلَی أُمَّتِکَ قَالَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ لِي مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَرَاجِعْ رَبَّکَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَقُلْتُ قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّی نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَی فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ قَالَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤَ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْکُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
محمد بن مثنی، محمد ابن ابوعدی، سعید، قتادہ، انس بن مالک (رض) ، حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے سنا کہ اس نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں بیت اللہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی حالت میں تھا تو میں نے ایک کہنے والے کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ ہم دونوں آدمیوں میں ایک تیسرے ہیں پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا اس میں زم زم کا پانی تھا میرا سینہ کھولا گیا (یہاں سے یہاں تک) راوی قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے معنی کے بارے میں اپنے ساتھی سے پوچھا تو اس نے کہا پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا پھر میرا دل نکال کر اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر اسے اس کی جگہ پر لوٹا دیا گیا پھر ایمان اور حکمت سے اسے بھر دیا گیا پھر سفید رنگ کا ایک جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا جہاں تک اس کی نظر پہنچتی وہاں وہ قدم رکھتا تھا مجھے اس پر سوار کرایا گیا پھر ہم چلے یہاں تک کہ آسمان دنیا پر آئے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا پوچھا گیا کون ؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ کہاں ہاں پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا فرشتوں نے کہا خوش آمدید آپ کا تشریف لانا مبارک ہو آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہماری ملاقات حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی اور پھر باقی واقعہ اسی طرح ہے جس طرح سابقہ حدیث میں گزرا اور یہ بھی ذکر کیا کہ دوسرے آسمان میں حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ سے ملاقات ہوئی اور تیسرے آسمان میں حضرت یوسف سے ملاقات ہوئی اور چوتھے آسمان میں حضرت ادریس (علیہ السلام) پانچویں میں حضرت ہارون سے ملاقات ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے وہاں میری ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سلام کیا موسیٰ نے فرمایا خوش آمدید اے نیک بھائی پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے آواز آئی اے موسیٰ کیوں روتے ہو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار اس نوجوان کو تو نے میرے بعد مبعوث فرمایا اور میری امت کی بہ نسبت اس کی امت کے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا پھر ہم آگے بڑھے یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے وہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی اور ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں جو سدرۃ المنتہی کی جڑ سے نکلتی ہیں دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں۔ باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں پھر مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا میں نے جبرائیل سے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا کہ یہ بیت المعمور ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے (بکثرت تعداد) پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب تھی اور دوسری میں دودھ میں نے دودھ کو پسند کیا پھر کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو پا لیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی وجہ سے آپ ﷺ کی امت کو فطرت عطا فرمائی پھر ہر روز مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں پھر اس واقعہ کو آخر حدیث تک ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَائِ زَمْزَمَ فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَی کَذَا وَکَذَا قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ إِلَی أَسْفَلِ بَطْنِهِ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَکَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِکْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَی طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفَتَحَ لَنَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ قَالَ فَأَتَيْنَا عَلَی آدَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَذَکَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَائِ الثَّانِيَةِ عِيسَی وَيَحْيَی عَلَيْهَا السَّلَام وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَةِ فَأَتَيْتُ عَلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَکَی فَنُودِيَ مَا يُبْکِيکَ قَالَ رَبِّ هَذَا غُلَامٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَکْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَةِ فَأَتَيْتُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَی أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الْأَنْهَارُ قَالَ أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ کُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالْآخَرُ لَبَنٌ فَعُرِضَا عَلَيَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقِيلَ أَصَبْتَ أَصَابَ اللَّهُ بِکَ أُمَّتُکَ عَلَی الْفِطْرَةِ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ کُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلَاةً ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّتَهَا إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، انس بن مالک، حضرت مالک بن صعصعہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اس طرح مذکورہ حدیث کی طرح ذکر فرمایا اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ میرے پاس سونے کا طشت حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا لایا گیا پھر میرے سینے کو پیٹ کے نیچے تک کھولا گیا اسے زمزم کے پانی سے دھویا اور ایمان سے بھر دیا گیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَی مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغُسِلَ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِکْمَةً وَإِيمَانًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھ سے تمہارے نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت ابن عباس (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لمبے قد کے تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوات کے ایک آدمی ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا کہ وہ درمیانہ قد اور گھنگریالے بالوں والے ہیں اور آپ ﷺ نے مالک داروغہ جہنم اور دجال کے بارے میں ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ مُوسَی آدَمُ طُوَالٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَقَالَ عِيسَی جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَکَرَ مَالِکًا خَازِنَ جَهَنَّمَ وَذَکَرَ الدَّجَّالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
عبد بن حمید، یونس بن محمد، شیبان ابن عبدالرحمن، قتادہ، ابوعالیہ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) پر میرا گزر ہوا تو وہ لمبے قد اور گھنگریالے بالوں والے آدمی تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوء کے ایک آدمی ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ درمیانہ قد اور سرخ وسفید رنگ والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور مجھے مالک داروغہ جہنم اور دجال کو دکھایا گیا ان چند نشانیوں میں سے جو اللہ نے مجھے دکھائیں، آپ کی جو ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ سے ہوئی تو اس میں شک نہ کر حضرت قتادہ (رض) اس کی تفسیر میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی ﷺ کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بلا شک وشبہ ملاقات ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَی مُوسَی بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَی الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ وَأُرِيَ مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلَا تَکُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ قَالَ کَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِيَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
احمد بن حنبل، سریج بن یونس، ہشیم، داؤد بن ابی ہند، ابوعالیہ، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر وادی ازرق سے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سی وادی ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا یہ وادی ازرق ہے آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسیٰ کو چوٹی سے اترتا ہوا اور بلند آواز سے لبیک کہتا ہوا دیکھ رہا ہوں اس کے بعد آپ ﷺ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو پوچھا یہ وادی کونسی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ ہرش کی چوٹی ہے آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) کو موٹی اونٹنی پر سوار اور بالوں والا جبہ پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں ابن حنبل (رح) اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ہشیم نے کہا کہ لیفا یعنی کھجور کے درخت کی چھال۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا فَقَالُوا هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام هَابِطًا مِنْ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَی اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ثُمَّ أَتَی عَلَی ثَنِيَّةِ هَرْشَی فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَی قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يُونُسَ بْنِ مَتَّی عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی نَاقَةٍ حَمْرَائَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ هُشَيْمٌ يَعْنِي لِيفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، داؤد، ابوعالیہ، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی سے گزرے آپ ﷺ نے پوچھا یہ کونسی وادی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا یہ ارزق کی وادی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺ نے ان کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ فرمایا جو راوی داؤد کو یاد نہ رہا موسیٰ (علیہ السلام) انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے بلند آواز سے لبیک کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلتے ہوئے ایک چوٹی پر آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا یہ کونسی چوٹی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ہر شیٰ یا لفت کی چوٹی ہے آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کو ایک سرخ اونٹنی پر بالوں کا جبہ پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے درخت کی چھال کی ہے اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا فَقَالُوا وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَی اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّی أَتَيْنَا عَلَی ثَنِيَّةٍ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا هَرْشَی أَوْ لِفْتٌ فَقَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يُونُسَ عَلَی نَاقَةٍ حَمْرَائَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، مجاہد، ابن عباس حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں موجود تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں نے تو یہ آپ ﷺ سے نہیں سنا مگر آپ ﷺ نے یہ ضرور فرمایا کہ حضرت ابراہیم جو تمہارے صاحب جیسے ہیں اور حضرت موسیٰ گندم گوں رنگ اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں اور وہ ایسے سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کا بدن گٹھا ہو اور اس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے گویا کہ میں انہیں اس طرح دیکھ رہا ہو کہ وہ وادی میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے ہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاکَ وَلَکِنَّهُ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ وَأَمَّا مُوسَی فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، ابوزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیا کرام (علیہم السلام) میرے سامنے لائے گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) درمیانے انسان تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوء کے آدمی ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہ عروہ بن مسعود نظر آئے ہیں میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہ تمہارے صاحب ( یعنی آپ ﷺ ہیں اور میں نے حضرت جبرائیل کو دیکھا تو مجھے ان میں سب سے زیادہ مشابہ حضرت دحیہ (رض) نظر آئے اور ابن رمح کی روایت میں ہے کہ دحیہ بن خلیفہ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَائُ فَإِذَا مُوسَی ضَرْبٌ مِنْ الرِّجَالِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُکُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبد، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی پھر آپ ﷺ نے ان کی شکل و صورت کے بارے میں فرمایا میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اس طرح فرمایا راوی کو شک ہے کہ وہ سیدھے بالوں والے قبیلہ شنوء کے آدمیوں جیسے تھے آپ ﷺ نے فرمایا میری ملاقات حضرت عیسیٰ بن مریم سے ہوئی تو وہ درمیانہ قد سرخ رنگ والے تھے گو یا کہ ابھی ابھی حمام سے نکلے ہوں اور میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ان میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ دونوں میں سے جس کو چاہو پسند کرلو میں نے دودھ کو پسند کرلیا اور اسے پیا جبرائیل نے کہا آپ ﷺ کو راہ فطرت نصیب ہوئی یا آپ ﷺ فطرت تک پہنچ گئے اور اگر آپ شراب پسند فرماتے تو آپ ﷺ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَی فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا قَالَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ فَأُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقَالَ هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَّا إِنَّکَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات دکھایا گیا کہ میں بیت اللہ کے پاس ہوں میں نے ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا جیسے تم نے کسی خوبصورت گندمی رنگ والے آدمی کو دیکھا ہو کندھوں تک اس کے بال ہوں جیسے تم نے کسی اچھے کندھوں تک بالوں والے کو دیکھا ہو اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا وہ ٹیک لگائے ہوئے ہیں دو آدمیوں پر یا ان کے کندھوں پر اور بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں اور اس کے بعد میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال زیادہ گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح تھی میں نے پوچھا یہ کون ہے تو کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
محمد بن اسحاق مسیبی، انس، ابن عیاض، موسیٰ ابن عقبہ، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کے بارے میں ذکر فرمایا تو بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں، آگاہ رہو کہ مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے، حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات خواب میں بیت اللہ کے پاس ایک آدمی دکھایا گیا تو وہ خوبصورت گندمی رنگ والوں جیسا گندمی رنگ کا آدمی تھا کندھوں تک اس کے بال تھے اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر تھے اور وہ ان دونوں آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت مسیح بن مریم ہیں اور مجھے ان کے پیچھے ایک اور آدمی نظر آیا جس کے بال بےحد گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا میرے دیکھے ہوئے لوگوں میں بنی قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے وہ بھی دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مُوسَی وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ کَأَحْسَنِ مَا تَرَی مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْکِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَائً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَی کَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنْ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
ابن نمیر، حنظلہ، سالم، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بیت اللہ کے پاس ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا اس کے بال نکلے ہوئے تھے اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا یا اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا یہ کون ہے تو لوگوں نے کہا کہ یہ عیسیٰ بن مریم ہیں یا اس طرح فرمایا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ کہا حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے پیچھے ایک دوسرا آدمی نظر آیا جس کا رنگ سرخ، بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا تھا میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں اس سے سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ الْکَعْبَةِ رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی رَجُلَيْنِ يَسْکُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَ وَرَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَی أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، ابوسلمہ (رض) ، عبدالرحمن، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش نے مجھے جھٹلایا اور میں حطیم میں کھڑا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا اور میں دیکھ کر اس کی نشانیاں بتلانے لگا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا کَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سالم، ابن عمر بن خطاب (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اس دوران کہ میں سو رہا تھا میں نے اپنے آپ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا او ایک سیدھے لمبے بالوں والے آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان دیکھا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا یا اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں پھر میں جاتے ہوئے متوجہ ہوا تو ایک سرخ رنگ بھاری بھر کم آدمی کو دیکھا کہ جس کے بال گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا کہ اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور تھی میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ دجال ہے لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے مشابہ ابن قطن ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَائً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَائً قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
زہیر بن حرب، حجین بن مثنی، عبدالعزیز (ابن ابی سلمہ) ، عبداللہ بن فضل، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے میرے معراج پر جانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی چند ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جن کو میں دوسری اہم چیزوں میں مشغولیت کے باعث محفوظ نہ رکھ سکا تھا، مجھے اس کا اتنا زیادہ افسوس ہوا کہ اتنا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے درمیان پردے اٹھا کر میرے سامنے کردیا میں نے اسے دیکھ کر جس کے بارے میں سوال کرتے وہ انہیں بتلا دیتا اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء (علیہ السلام) کی ایک جماعت میں دیکھا اور حضرت موسیٰ کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا گویا کہ وہ گٹھے ہوئے جسم اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں گو یا کہ وہ قبیلہ شنوء کے ایک آدمی ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا تو لوگوں میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی (رض) ہیں اور حضرت ابراہیم کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا لوگوں میں سے سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں اس کے بعد نماز کا وقت آیا تو میں امام بنا پھر میرے نماز سے فارغ ہونے پر ایک کہنے والے نے کہا کہ اے محمد ﷺ یہ مالک، داروغہ جہنم ہے اس پر سلام کیجئے میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو پہلے اس نے مجھے سلام کیا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَائَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ قَالَ فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَإِذَا مُوسَی قَائِمٌ يُصَلِّي فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَإِذَا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ فَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ قَائِلٌ يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سدرہ المنتہی کا بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، مالک بن مغول، ابن نمیر، زہیر بن حرب، عبداللہ بن نمیر، زبیر بن عدی، طلحہ بن مصرف، مرہ، عبداللہ حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کے لئے سیر کرائی گئی تو آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں واقع ہے زمین سے اوپر چڑھنے والی چیز اور اوپر سے نیچے آنی والی چیز یہاں آکر رک جاتی ہے پھر اسے لے جایا جاتا ہے اللہ نے فرمایا (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53 ۔ النجم : 16) کہ ڈھانک لیتی ہے وہ چیزیں کہ جو ڈھانک لیتی ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا یعنی سونے کے پتنگے۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں پانچ نمازیں سورت البقرہ کی آخری آیتیں اور آپ ﷺ کی امت میں ہر ایک ایسے آدمی کو بخش دیا گیا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَی سِدْرَةِ الْمُنْتَهَی وَهِيَ فِي السَّمَائِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ إِذْ يَغْشَی السِّدْرَةَ مَا يَغْشَی قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِکْ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
ابوربیع، زہرانی، عباد، ابن عوام، شیبانی، حضرت سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زر بن حبیش سے اللہ کے فرمان (فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی) کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
tahqiq

তাহকীক: