আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ৩৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
محمد بن حاتم بن میمون، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، نافع، ابوقتادہ (رض) انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اتریں گے اور تمہارے امام بنیں گے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَأَمَّکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، ابن ابی ذنب، ابن شہاب، نافع، ابوقتادہ، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تم ہی میں سے تمہارے امام بنیں گے ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ تمہارا امام تم ہی میں سے بنے گا ابن ابی ذئب نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا اس کا کیا مطلب ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے بتائیے، آپ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔ تمہاری امامت کریں گے (وہ اس کے مطابق فیصلے کریں گے) ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّکُمْ مِنْکُمْ فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ إِنَّ الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَنَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ تَدْرِي مَا أَمَّکُمْ مِنْکُمْ قُلْتُ تُخْبِرُنِي قَالَ فَأَمَّکُمْ بِکِتَابِ رَبِّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَسُنَّةِ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
ولید بن شجاع، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، ابن محمد، ابن جریج، ابوزبیر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا اور فرمایا کہ پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اتریں گے لوگوں کا امیر ان سے نماز پڑھانے کے لے عرض کرے گا آپ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایک دوسرے پر امیر ہو یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالُوا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ أُمَرَائُ تَکْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن حعفر، علاء ابن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا پھر جب سورج مغرب سے نکلے گا تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے مگر اس وقت کا ایمان لانا کسی کو فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے (یقینی قیامت کی نشانی سے قبل) ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا آمَنَ النَّاسُ کُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب، ابن فضیل، زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابی زرعہ، ابوہریرہ (رض) ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عبداللہ بن ذکوان، عبدالرحمن اعرج، ابوہریرہ (رض) ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ لْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، زہیر بن حرب، اسحاق بن یوسف، فضیل بن غزوان، ابوکریب، محمد بن علاء، ابن فضیل، ابی حازم، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین چیزوں کے ظاہر ہوجانے کے بعد کسی ایسے آدمی کا ایمان لانا اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا جو کہ ان سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام کیا ہو ان تین میں سے ایک سورج کا مغرب سے نکلنا دوسرے دجال کا نکلنا تیسرے دَابَّةُ الْأَرْضِ کا نکلنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
یحییٰ بن ایوب، اسحاق بن ابراہیم، ابن علیہ، ابن ایوب، ابن علیہ، یونس، ابراہیم بن یزید تمیمی، ابوذر (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے قیام کی جگہ عرش کے نیچے آجاتا ہے اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے سجدے میں پڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اٹھنے کا (بلند ہونے) کا حکم ملتا ہے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں پر لوٹ جا پھر صبح کو نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے پہنچ جاتا ہے اور پھر سجدہ میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ اسے حکم ہوتا ہے کہ اٹھ کر جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ لوٹ جاتا ہے پھر صبح کو اپنے نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر اس طرح چلتا رہتا ہے پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کو اس کے چلنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے آجائے گا پھر اسے کہا جائے گا کہ اٹھ اور مغرب کی طرف سے نکل چناچہ وہ اس وقت مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کب ہوگا یہ اس وقت ہوگا جب کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہ دے گا جب تک کہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان کی حالت میں اس نے نیک کام نہ کئے ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً فَلَا تَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً وَلَا تَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْکِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا ذَاکَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ لَهَا ارْتَفِعِي أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِکِ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَتَی ذَاکُمْ ذَاکَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
عبدالحمید بن بیان، واسطی، خالد، ابن عبداللہ بن یونس، ابراہیم تیمی، ابوذر (رض) ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے پھر جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ سورج جا کر اللہ تعالیٰ سے سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے اور ایک مرتبہ قیامت کے قریب اسے کہا جائے گا کہ جہاں سے نکلا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ مغرب کی طرف سے نکلے گا حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ (رض) کی قرأت کی مطابق پڑھا ( ذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا) یعنی یہی مقام سورج کے ٹھہرنے کا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَکَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔
ابوسعید اشج، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، اعمش، ابراہیم تیمی، ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا) کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا قَالَ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر (رض) ، عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ پر وحی کا آغاز اس طرح سے ہوا کہ آپ ﷺ کے خواب سچے ہونے لگے آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوتا پھر آپ ﷺ کو تنہائی پسند ہونے لگی، غار حرا میں تنہا تشریف لے جاتے کئی کئی رات گھر میں تشریف نہ لاتے اور عبادت کرتے رہتے (دین ابراہیمی کے مطابق) اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان رکھتے پھر ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) کے پاس واپس تشریف لاتے، حضرت خدیجہ (رض) پھر اسی طرح کھانے پینے کا سامان پکا دیتیں یہاں تک کہ اچانک غار حرا میں آپ ﷺ پر وحی اتری فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر کہا پڑھئے ! آپ ﷺ فرمایا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ نے مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں تھک گیا پھر مجھے چھوڑ کر فرمایا پڑھیے ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ نے دوبارہ مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں تھک گیا اس کے بعد مجھے چھوڑ دیا آپ ﷺ نے فرمایا فرشتہ نے پھر تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں تھک گیا پھر مجھے چھوڑ کر کہا (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ) پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے، پڑھ ! تیرا پروردگار بڑی عزت والا ہے جس نے قلم سے سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ واپس گھر تشریف لائے تو وحی کے جلال سے آپ کے شانہ مبارک اور گردن کے درمیان کا گوشت کانپ رہا تھا، حضرت خدیجہ (رض) کے پاس تشریف لا کر فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو ! آپ ﷺ پر کپڑا اوڑھا دیا گیا یہاں تک کہ جب گھبراہٹ ختم ہوگئی تو فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے، حضرت خدیجہ (رض) فرمانے لگیں کہ ہرگز نہیں آپ ﷺ خوش رہیں، اللہ کی قسم اللہ آپ ﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا آپ ﷺ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، یتیموں مسکینوں اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور ناداروں کو دینے کی خاطر کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور پریشان لوگوں کی پریشانی میں لوگوں کے کام آتے ہیں، اس کے بعد حضرت خدیجہ (رض) آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی کے پاس لے گئیں، ورقہ دور جاہلیت میں اسلام سے قبل نصرانی ہوگئے تھے، وہ عربی لکھنا جانتے تھے اور انجیل کو عربی زبان میں جتنا اللہ کو منظور ہوتا لکھتے تھے یہ بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے، حضرت خدیجہ (رض) نے ورقہ سے کہا اے چچا ! (ان کی بزرگی کی وجہ سے اس طرح خطاب کیا اصل میں وہ چچا زاد بھائی تھے) اپنے بھتیجے کی بات سنئے ورقہ نے آپ ﷺ کو مخاطب کرکے کہا اے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا اس سے آگاہ کیا، ورقہ کہنے لگا یہ تو وہ ناموس ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب تیری قوم تجھے نکالے گی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے ورقہ نے کہا ہاں جو بھی آپ ﷺ جیسا نبی بن کر دنیا میں آیا لوگ اس کے دشمن ہوگئے اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا يَرَی رُؤْيَا إِلَّا جَائَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَائُ فَکَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَائٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُوْلَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِکَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَی خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّی فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَائٍ فَجَائَهُ الْمَلَکُ فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ أَقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّی ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ أَيْ خَدِيجَةُ مَا لِي وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَی نَفْسِي قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ کَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيکَ اللَّهُ أَبَدًا وَاللَّهِ إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّی أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ يَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَکْتُبُ مِنْ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَکْتُبَ وَکَانَ شَيْخًا کَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَی فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَکُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُکَ قَوْمُکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِکْنِي يَوْمُکَ أَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابتدا میں رسول اللہ ﷺ پر وحی کا آغاز اس طرح سے ہوا اور پھر اسی طرح حدیث بیان کی جو گزر گئی، لیکن اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اللہ کی قسم اللہ کبھی آپ کو رنجیدہ نہیں کرے گا اور راوی کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ (رض) نے ورقہ سے کہا اے چچا کے لڑکے اپنے بھتیجے ( اللہ کے رسول ﷺ کی بات سنو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَا يُحْزِنُکَ اللَّهُ أَبَدًا وَقَالَ قَالَتْ خَدِيجَةُ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
عبدالملک، ابن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ (رض) بن زبیر سے سنا کہتے تھے کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہ (رض) کے پاس جب واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کا دل کانپ رہا تھا پھر اسی طرح حدیث بیان کی جو گزر چکی لیکن اس حدیث میں یہ نہیں کہ شروع میں آپ ﷺ پر وحی کا آغاز سچے خواب سے ہوا اور دوسری روایت کی طرح اس روایت میں ہے کہ اللہ کی قسم اللہ آپ ﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا اور حضرت خدیجہ (رض) کا یہ قول نقل کیا کہ اے چچا کے بیٹے اپنے بھیجے کی بات سنو۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَی خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَی قَوْلِهِ فَوَاللَّهِ لَا يَخْزِيکَ اللَّهُ أَبَدًا وَذَکَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، جابر بن عبداللہ انصاری رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (رض) میں سے ایک انصاری حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپ ﷺ وحی کے رک جانے کے زمانہ کا تذکرہ فرما رہے تھے کہ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ حضرت جبرائیل ہے جو غار حرا میں میرے پاس وحی لے کر آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ دیکھ کر گھبرا گیا مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی پھر میں لوٹ کر گھر آیا تو میں نے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو ، تو مجھے گھر والوں نے کپڑا اوڑھا دیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ سورت (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَکَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَهِيَ الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ ) اے کپڑے میں لپٹنے والے اٹھو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور بتوں سے علیحدہ رہو، آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر برابر وحی آنے لگی۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ جَالِسًا عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَکَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَهِيَ الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، جابر بن عبداللہ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں ڈر کی وجہ سے سہم گیا یہاں تک کہ میں زمین پر گرپڑا اور ابوسلمہ کہتے ہیں کہ وَالرُّجْزَ سے مراد بت ہیں پھر برابر لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّی هَوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ قَالَ و قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرُّجْزُ الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، یونس ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرض نماز سے پہلے یہ آیات مبارکہ (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سے فَاھجُر) تک نازل فرمائیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ إِلَی قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ وَقَالَ فَجُئِثْتُ مِنْهُ کَمَا قَالَ عُقَيْلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
زہیر بن حرب، ولید، ابن مسلم، اوزاعی، یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسلمہ (رض) سے پوچھا کہ قرآن کی سب سے پہلے کون سی آیات نازل ہوئیں فرمایا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) 74 ۔ المدثر : 1) میں نے کہا یا (اقْرَأْ ) تو وہ کہنے لگے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے پوچھا کہ قرآن میں سب سے پہلے کونسی آیات نازل ہوئیں تو انہوں نے فرمایا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) 74 ۔ المدثر : 1) میں نے کہا یا (اقْرَأْ ) تو حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں غار حرا میں ایک مہینہ تک ٹھہرا رہا جب میری ٹھہر نے کی مدت ختم ہوگئی تو میں وادی میں اتر کر چلنے لگا تو مجھے آوازی دی گئی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا اس کے بعد پھر آواز دی گئی اور میں نے نظر ڈالی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا اس کے بعد مجھے پھر آواز دی گئی اور میں نے اپنا سر اٹھایا تو ہوا میں ایک درخت پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا مجھ پر اس مشاہدہ سے کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے حضرت خدیجہ (رض) کے پاس آکر کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) 74 ۔ المدثر : 1)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی يَقُولُ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ قَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُکُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَائٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِي الْهَوَائِ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي فَصَبُّوا عَلَيَّ مَائً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَکَ فَطَهِّرْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں
محمد بن مثنی، عثمان بن عمر، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر ایک دوسری سند کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسماں و زمین کے درمیان عرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَی عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے براق لایا گیا، براق ایک سفید لمبا گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا جانور ہے منتہائے نگاہ تک اپنے پاؤں رکھتا ہے میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس آیا اور اسے اس حلقہ سے باندھا جس سے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے جانور باندھا کرتے تھے پھر میں مسجد میں داخل ہو اور میں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نکلا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دو برتن لائے ایک برتن میں شراب اور دوسرے برتن میں دودھ تھا میں نے دودھ کو پسند کیا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے فطرت کو پسند کیا، پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہمارے ساتھ آسمان کی طرف چڑھے، فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو فرشتوں نے پوچھا آپ کون ؟ کہا جبرائیل کہا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمد ﷺ فرشتوں نے پوچھا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں، پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو ہم نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ملاقات کی آدم (علیہ السلام) نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو پھر پوچھا گیا کون ؟ کہا جبرائیل اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمد ﷺ ہیں انہوں نے پوچھا کیا بلائے گئے ہیں ؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کو دیکھا دونوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر گئے تو دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں ؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمد ﷺ فرشتوں نے پوچھا کیا بلائے گئے ہیں ؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں، پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا اور اللہ نے انہیں حسن کا نصف حصہ عطا فرمایا تھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو پوچھا کون ؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کہ کیا بلائے گئے ہیں ؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں ہمارے لئے دروازہ کھلا تو میں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کو دیکھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، حضرت ادریس کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ( وَرَفَعْنَاهُ مَکَانًا عَلِيًّا) ہم نے ان کو بلند مقام عطا فرمایا ہے، پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف چڑھایا گیا حضرت جبرائیل نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کون ؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کیا بلائے گئے ہیں ؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا تو میں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو دیکھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کون ؟ کہا کہ جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ کہا محمد ﷺ پھر پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ کہاں کہ ہاں یہ بلائے گئے ہیں ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف چڑھایا گیا حضرت جبرائیل ﷺ نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو فرشتوں نے پوچھا کون ؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ کہا کہ محمد ﷺ پوچھا گیا کہ کیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ کہا ہاں ان کو بلانے کا حکم ہوا ہے پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت المعمور کی طرف پشت کئے اور ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا اور بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ آنے کا موقع نہیں ملتا ( فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے) پھر حضرت جبرائیل مجھے سدرۃ المنتہی کی طرف لے گئے اس کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح بڑے بڑے تھے اور اس کے پھل بیر جیسے اور بڑے گھڑے کے برابر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب اس درخت کو اللہ کے حکم سے ڈھانکا گیا تو اس کا حال ایسا پوشیدہ ہوگیا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اس کے حسن کو بیان کرسکے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں پھر میں وہاں سے واپس حضرت موسیٰ تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا پچاس نمازیں دن رات میں، موسیٰ نے فرمایا کہ اپنے رب کے پاس واپس جا کر ان سے کم کا سوال کریں اس لئے کہ آپ کی امت میں اتنی طاقت نہ ہوگی کیونکہ میں بنی اسرائیل پر اس کا تجربہ کرچکا اور آزماچکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے پھر واپس جا کر اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر تخفیف فرما دیں تو اللہ نے پانچ نمازیں کم کردیں میں پھر واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گیا اور کہا کہ اللہ نے پانچ نمازیں کم کردیں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کی امت میں اس کی بھی طاقت نہیں اپنے رب کے پاس جا کر ان میں تخفیف کا سوال کریں۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس طرح اپنے اللہ کے پاس سے موسیٰ کے پاس اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے اللہ کے بارگاہ میں آتا جاتا رہا اور پانچ پانچ نمازیں کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا کہ اے محمد ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں اور ہر نماز کا ثواب اب دس نمازوں کے برابر ہے پس اس طرح ثواب کے اعتبار سے پچاس نمازیں ہوگئیں اور جو آدمی کسی نیک کام کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرسکے تو میں اسے ایک نیکی کا ثواب عطا کروں گا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو میں اسے دس نیکیوں کا ثواب عطا کروں گا اور جو آدمی کسی برائی کا ارادہ کرے لیکن اس کا ارتکاب نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں یہ برائی نہیں لکھی جاتی اور اگر برائی اس سے سرزد ہوجائے تو میں اس کے نامہ اعمال میں ایک ہی برائی لکھوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پھر واپس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور ان کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس جا کر تخفیف کا سوال کریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اپنے پروردگار کے پاس اس سلسلہ میں بار بار آ جا چکا ہوں یہاں تک کہ اب مجھے اس کے متعلق اپنے اللہ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَی طَرْفِهِ قَالَ فَرَکِبْتُهُ حَتَّی أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَائُ قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَائَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَی بْنِ زَکَرِيَّائَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَی السَّمَائِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَفَعْنَاهُ مَکَانًا عَلِيًّا ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ کُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَی السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَی وَإِذَا وَرَقُهَا کَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا کَالْقِلَالِ قَالَ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَی فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلَی أُمَّتِکَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِکَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَبِّي فَقُلْتُ يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَی أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِکَ فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَبَيْنَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّی قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ کُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِکُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذَلِکَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُکْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً قَالَ فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ رَجَعْتُ إِلَی رَبِّي حَتَّی اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
عبداللہ بن ہاشم عبدی، بہز بن اسد، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے فرشتے زم زم کی طرف لے گئے پھر میرا سینہ چاک کرکے اسے زمزم کے پانی سے دھویا اس کے بعد مجھے واپس اپنی جگہ پر چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَی زَمْزَمَ فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي ثُمَّ غُسِلَ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُنْزِلْتُ
তাহকীক: