আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ৩৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور اتنہا میں بھی اجنبی ہوجائے گا اور یہ کہ سمٹ کر مسجدوں میں گھس جائے گا
محمد بن رافع، فضل بن سہل، اعرج، شبابہ، سوار، عاصم، ابن محمد، عمری، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی ابتداء غربت کی حالت میں ہوئی اور پھر ایسا وقت آئے گا کہ یہ (اسلام) ابتداء کی طرح غربت کی حالت میں ہوجائے گا اور وہ سمٹ کردو سجدوں میں آجائے گا جیسا کہ سانپ سمٹ کر اپنے سوارخ میں چلا جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا کَمَا بَدَأَ وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور اتنہا میں بھی اجنبی ہوجائے گا اور یہ کہ سمٹ کر مسجدوں میں گھس جائے گا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ بن عمر، خبیب بن عبدالرحمن، حفص بن عاصم، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان اس طرح سمٹ کر مدینہ منورہ میں آجائے گا جس طرح کہ سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ میں چلا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَی الْمَدِينَةِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَی جُحْرِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کیں کہ آخری زمانہ میں ایمان رخصت ہوجائے گا
زہیر بن حرب، عفان، حماد، ثابت، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ زمین میں اللہ اللہ کیا جاتا رہے گا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کیں کہ آخری زمانہ میں ایمان رخصت ہوجائے گا
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ثابت، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ایک بھی اللہ اللہ کہنے والا باقی رہے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَی أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوفزدہ کے لئے ایمان کو پو شیدہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے مجھے شمار کر کے فرمایا کہ اسلام کے قائل ( کھلا اظہار کرنے والے) کتنے ہیں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ کو ہم پر (دشمنوں کی طرف سے کسی سازش کا) خوف ہے ؟ اور ہماری تعداد چھ سو سے سات سو تک ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے شاید کہ تم کسی آزمائش میں پڑجاؤ، حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ہم آزمائش میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نماز بھی چھپ کر پڑھنے لگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحْصُوا لِي کَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةٍ إِلَی السَّبْعِ مِائَةٍ قَالَ إِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّکُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيَنَا حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغٰیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، زہری، عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ فلاں کو دیجئے کیونکہ وہ مومن ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ مسلمان ہے ( مومن نہیں ظاہری طور پر عبادت گزار ہے) ، میں نے تین مرتبہ عرض کیا کہ وہ مومن ہے اور آپ ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی فرمایا کہ وہ مسلمان ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس آدمی کو دیتا ہوں حالانکہ میں دوسرے کو اس سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں صرف اس ڈر سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں اللہ اسے منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمٌ أَقُولُهَا ثَلَاثًا وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يَکُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عامر بن سعد ابن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مال عطا فرمایا اور حضرت سعد (رض) بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کچھ ایسے لوگوں کو مال عطا نہیں فرمایا جو میرے نزدیک زیادہ مستحق تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں کو عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلم ؟ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھے وہی خیال غالب آنے لگا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں آدمی کو کیوں عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن جانتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا مسلم ؟ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں پھر کچھ دیر خاموش رہا پھر مجھ پر وہی خیال غالب آ نے لگا جس کے بارے میں میں آگاہ تھا میں نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں آدمی کو مال عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن ہونے کو جانتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا مسلم ؟ اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں ایک آدمی کو دے دیتا ہوں حالانکہ دوسرا آدمی مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے اور میں صرف اس ڈر سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں وہ ( کفر کر کے) منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دیا جائے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَی رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد، صالح، ابن شہاب، عامر بن سعد، سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو عطا فرمایا اور میں انہیں میں بیٹھا ہوا تھا پھر آپ ﷺ نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح فرمایا لیکن اس سند کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کھڑا ہوا اور آپ ﷺ سے خاموشی سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فلاں آدمی کو کیوں نہیں عطا فرمایا ؟
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ فَقُمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغیر دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں
حسن حلوانی، یعقوب، صالح، اسماعیل بن محمد بن سعد ایک دوسری سند میں یہی روایت بیان کی گئی ہے لیکن اس حدیث میں ہے کہ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک میری گردن اور کندھے کے درمیان مارا اور فرمایا اے سعد کیا تو جھگڑتا ہے کہ میں ایک آدمی کو نہیں دیتا آخر حدیث تک۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَکَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے دکھلا دیجئے کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے اللہ نے فرمایا کیا تجھے اس بات کا یقین نہیں عرض کیا کیوں نہیں ! یقین ہے، لیکن اس غرض سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے دل کو اطمینان ہوجائے آپ ﷺ نے فرمایا اور اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ ایک مضبوط پایہ کی پناہ چاہتے تھے اور اگر میں اتنے عرصے تک قید رہتا جتنے عرصے تک حضرت یو سف (علیہ السلام) رہے تو میں بلا نے والے کے بلانے پر فورًا چلا جاتا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي کَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَی قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ کَانَ يَأْوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہونے کے بیان میں
عبداللہ بن محمد، اسماء، جویریہ، مالک، زہری، سعید بن مسیب، ابوعبید، ابوہریرہ (رض) ایک دوسری سند میں حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے زہری کی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔ اور مالک کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا وَلٰکِنَّ لِیَطمَئِنَّ قَلبِی پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ (آپ ﷺ نے) اس کو پورا پڑھ دیا۔
حَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِ مَالِکٍ وَلَکِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی جَازَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہونے کے بیان میں
عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابواویس، زہری، مالک، زہری کی روایت اس سند کے ساتھ مالک کی روایت کی طرح ہے فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی یہاں تک کہ پوری پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ کَرِوَايَةِ مَالِکٍ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی أَنْجَزَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث سعید بن ابی سعید، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الٰہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء (علیہم السلام) کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ الْأَنْبِيَائِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنْ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَی اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو، ابویونس، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اس امت کا کوئی بھی یہودی اور نصرانی جو میری بات سنے (شریعت) جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں (یعنی اسلام) اور وہ اس پر ایمان نہ لائے تو اس کا ٹھکانہ جہنم والوں میں سے ہوگا۔
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، صالح بن صالح ہمدانی، شعبی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو خراسان کا رہنے والا تھا اس نے شعبی سے پوچھا کہ اے ابوعمرو خراسان کے لوگ کہتے ہیں کہ کسی آدمی کا اپنی باندی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرلینا اس آدمی کی طرح ہے جو اپنی قربانی کے جانور پر سوار ہو حضرت شعبی کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوبردہ (رض) نے اپنے والد حضرت ابوموسی اشعری کے حوالہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کو دوہرا ثواب دیا جائے گا ایک تو وہ آدمی جو اہل کتاب میں سے ہو اپنے نبی پر ایمان لایا ہو اس نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا آپ ﷺ پر بھی ایمان لایا آپ ﷺ کی پیروی اور تصدیق کی تو اس کے لئے دوہرا ثواب ہے اور ایک وہ آدمی ہے جس کے پاس ایک باندی ہو اسے اچھی طرح کھلائے پلائے اس کی اچھے طریقے سے تعلیم و تربیت کرے اس کے بعد اسے آزاد کر کے خود اس سے نکاح کرلے تو اس کے لئے بھی دوہرا ثواب ہے پھر حضرت شعبی نے اس خراسانی سے فرمایا کہ یہ حدیث بغیر کسی چیز کے (محنت ومشقت کے بغیر) لے لو ورنہ ایک آدمی کو اس جیسی حدیث کے لئے مدینہ منورہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ سَأَلَ الشَّعْبِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ کَالرَّاکِبِ بَدَنَتَهُ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَأَدْرَکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ مَمْلُوکٌ أَدَّی حَقَّ اللَّهِ تَعَالَی وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ وَرَجُلٌ کَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَائَهَا ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْئٍ فَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَی الْمَدِينَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتون کی منسوخ ماننے کے وجوب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ابن ابی عمر، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، صالح بن صالح ایک دوسری روایت کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم لوگوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نزول فرمائیں گے شریعت محمدیہ کے مطابق حکم دیں گے اور عدل و انصاف کریں گے صلیب (سولی) توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کریں گے اور مال بہت دیں گے یہاں تک کہ کوئی مال قبول کرنے والا نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
عبدالاعلی بن حماد، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح زہری سے یہ حدیث بھی اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انصاف کرنے والے امام اور عدل کرنے والے حکمران ہوں گے اور یونس کی روایت میں ہے کہ عدل کرنے والے حاکم ہوں گے اور اس میں انصاف کرنے والے امام کا ذکر نہیں کیا گیا جیسا کہ لیث نے اپنی روایت میں کہا ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ اس زمانہ میں ایک سجدہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہوگا پھر حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو پڑھو (وَاِنَّ مِن اَہلِ الکِتَابِ اِلَّا لَیُومِنَنَّ بِہ قَبلَ مَوتِہ) یعنی کوئی آدمی اہل کتاب میں سے نہیں رہتا مگر وہ اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق ضرور کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَکَمًا عَدْلًا وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ حَکَمًا عَادِلًا وَلَمْ يَذْکُرْ إِمَامًا مُقْسِطًا وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ حَکَمًا مُقْسِطًا کَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنْ الزِّيَادَةِ وَحَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، عطاء بن میناء، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم حضرت عیسیٰ ابن مریم ضرور اتریں گے وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑیں گے مگر ان پر کوئی متوجہ نہیں ہوگا یعنی ان سے بار برداری کے لئے کام نہیں لے گا لوگوں کے دلوں سے کینہ بغض اور حسد ختم ہوجائے گا اور وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے مگر کوئی بھی مال قبول نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَادِلًا فَلَيَکْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَتُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَی عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَائُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَی الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، نافع، قتادہ انصاری، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس وقت کس حال میں ہو گے جب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے اور تمہارے امام ہوں گے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ
তাহকীক: