আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ৩৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابن عبدالرحمن، معبد بن کعب سلمی، عبداللہ بن کعب، ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارا تو اللہ اس کے لئے دوزخ کو لازم کر دے گا اور اس پر جنت کو حرام کر دے گا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگرچہ وہ معمولی چیز ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَلَائُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ السَّلَمِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ولید بن کثیر، محمد بن کعب سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوامامہ حارثی (رض) نے فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ کَعْبٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، اعمش ابوائل، عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی آدمی نے کسی حاکم کے حکم سے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لئے قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر اللہ ناراض ہوگا، روای کہتے ہیں کہ اشعث بن قیس (رض) حاضرین کے پاس آکر کہنے لگے کہ ابوعبدالرحمن نے تم سے کیا بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح، حضرت اشعث (رض) نے کہا کہ ابوعبدالرحمن نے سچ فرمایا ہے اس حدیث کا تعلق مجھ سے ہے، یمن میں میرے اور ایک آدمی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا یہ جھگڑا نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا آپ ﷺ نے فرمایا اس آدمی سے قسم لے لو میں نے عرض کیا وہ تو جھوٹی قسم اٹھا لے گا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جو آدمی کسی مسلمان کا مال دبانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا پھر یہ آیت نازل ہوئی یقینا جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کے بدلہ میں (ثمناً قلیلاً ) تھوڑا مول لے لیتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں یہ آیت کریمہ آخر تک تلاوت فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا کَذَا وَکَذَا قَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ نَزَلَتْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ فَخَاصَمْتُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ لَکَ بَيِّنَةٌ فَقُلْتُ لَا قَالَ فَيَمِينُهُ قُلْتُ إِذَنْ يَحْلِفُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے کسی کا مال دبانے کی خاطر جھوٹی قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے پھر اعمش کی حدیث کی طرح ذکر کیا مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میرے اور ایک آدمی کے درمیان ایک کنوئیں کا جھگڑا تھا ہم نے یہ جھگڑا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ ﷺ نے مدعی سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر ورنہ مدعا علیہ پر قسم ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاکَ أَوْ يَمِينُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
ابن ابی عمر مکی، سفیان، جامع بن ابوراشد، عبدالملک، ابن اعین، شقیق بن سلمہ، ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے کسی مسلمان آدمی کا مال دبانے کے لئے ناحق قسم اٹھائی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی تصدیق میں اللہ کی کتاب قرآن مجید میں آیت کریمہ پڑھی (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا الخ۔ ) 3 ۔ آل عمران : 77) آخر تک جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کے بدلہ میں ثمنا قلیلا لے لیتے ہیں آخرت میں ان کا حصہ نہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَعَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَعْيَنَ سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَی مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن سری، ابوعاصم حنفی، ابوالاحوص، سماک، علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرموت کا اور ایک آدمی کندہ کا دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں آئے حضری نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس آدمی نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے جو کہ مجھے میرے باپ سے ملی تھی، کندی نے کہا کہ یہ زمین میری ہے میں اس میں کاشت کرتا ہوں اس زمین میں اس کا کوئی حق نہیں، نبی ﷺ نے حضری سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تو اس سے قسم لے لے، اس حضری نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ آدمی فاجر ہے جھوٹی قسم کھانے میں بھی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور کسی چیز سے پرہیز بھی نہیں کرے گا ہر طرح اپنی بات منوانے کی کوشش کرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا اب تیرے لئے اس کی قسم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں پھر وہ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اس نے دوسرے کا مال ظلماً مارنے کی خاطر قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے اعراض کرے گا بوجہ ناراضگی اس پر متوجہ نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو عَاصِمٍ الْحَنَفِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَی أَرْضٍ لِي کَانَتْ لِأَبِي فَقَالَ الْکِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ أَلَکَ بَيِّنَةٌ قَالَ لَا قَالَ فَلَکَ يَمِينُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَی مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَيْسَ لَکَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِکَ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالِهِ لِيَأْکُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابی ولید، زہیر، ہشام بن عبدالملک، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، علقمہ بن وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں دو آدمی ایک زمین کے سلسلہ میں جھگڑتے ہوئے آئے ان میں سے ایک نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اس آدمی نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین چھین لی وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف جس سے جھگڑا ہوا وہ ربیعہ بن عبد ان تھا آپ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اس بات کے گواہ ہیں ؟ اس نے کہا میرے پاس گواہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر مدعا علیہ پر قسم ہے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ تو میرا مال دبالے گا، آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لئے کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ظلمًا کسی کی زمین دبائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا اسحاق کی روایت میں ریبعہ بن عیدان ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا إِنَّ هَذَا انْتَزَی عَلَی أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْکِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ قَالَ بَيِّنَتُکَ قَالَ لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ قَالَ يَمِينُهُ قَالَ إِذَنْ يَذْهَبُ بِهَا قَالَ لَيْسَ لَکَ إِلَّا ذَاکَ قَالَ فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ إِسْحَقُ فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔
ابوکریب، محمد بن علاء، ابن مخلد، محمد بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی میرا مال لینے (چھیننے کیلئے) آئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو نہ دے، اس نے عرض کیا اگر وہ مجھ سے لڑے تو آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو بھی اس سے لڑ، اس نے عرض کیا اگر وہ مجھے مار ڈالے ؟ (قتل کردے) آپ ﷺ نے فرمایا تو شہید ہوگا، اس نے عرض کیا اگر میں اس کو مار ڈالوں (قتل کردوں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا۔
حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَائَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي قَالَ فَلَا تُعْطِهِ مَالَکَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي قَالَ قَاتِلْهُ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي قَالَ فَأَنْتَ شَهِيدٌ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ قَالَ هُوَ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔
حسن بن علی حلوانی، اسحاق بن منصور، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سلیمان، ثابت سے روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اور عنبسہ بن ابی سفیان (رض) دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا دونوں لڑنے کے لئے تیار ہوگئے تو حضرت خالد بن العاص (رض) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی طرف سوار ہو کر آئے اور انہیں سمجھایا تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنا مال بچاتے ہوئے قتل ہوجائے وہ شہید ہے۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا کَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا کَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ فَرَکِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان
شیبان بن فروخ، ابواشہب، حسن کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار (رض) کے مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو حضرت معقل (رض) نے فرمایا کہ میں تجھے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے اگر مجھے اپنے زندہ رہنے کا علم ہوتا تو میں تجھے بیان نہ کرتا میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ اللہ اسے رعایا پر حاکم بنائے اور وہ ان کے حقوق میں خیانت کرے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، یونس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار (رض) کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے آئے ان کا حال پوچھا حضرت معقل (رض) کہنے لگے کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابھی تک بیان نہیں کی وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جسے لوگوں کا حکمران بناتا ہے اور پھر وہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے مرتا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کردیتا ہے، ابن زیادہ کہنے لگا کیا تم مجھ سے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں بیان کرچکے ؟ حضرت معقل (رض) نے فرمایا میں نے تجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی یا یہ فرمایا کہ میں تجھے اس سے پہلے یہ حدیث بیان نہیں کرسکا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَی مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا لَمْ أَکُنْ حَدَّثْتُکَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ قَالَ أَلَّا کُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُکَ أَوْ لَمْ أَکُنْ لَأُحَدِّثَکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان
قاسم بن زکریا، حسین، زائدہ، ہشام سے روایت ہے کہ حضرت حسن نے فرمایا کہ ہم حضرت معقل بن یسار (رض) کے پاس ان کی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے اتنے میں عبیداللہ بن زیاد آگیا تو حضرت معقل (رض) نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے پھر دونوں حدیثوں کی طرح بیان کیا جو اس سے قبل ذکر کی گئیں۔
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ کُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَجَائَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي سَأُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، معاذ بن ہشام، قتادہ، ابی ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار (رض) کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس آیا تو اس سے حضرت معقل (رض) نے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں کہ اگر میں مرنے والا نہ ہوتا تو میں تجھ سے وہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مسلمانوں کا حکمران ہو اور پھر ان کی بھلائی کے لئے جدوجہد نہ کرے اور خلوص نیت سے ان کا خیر خواہ نہ ہو تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمْ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حذیفہ فرماتے ہیں کہ ہم سے اللہ کے رسول ﷺ نے دو حدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک تو میں دیکھ چکا اور دوسری کے انتظار میں ہوں، آپ ﷺ نے ہمیں بیان فرمایا کہ امانت کا نزول لوگوں کے دلوں کی جڑوں پر ہوا۔ پھر قرآن نازل ہوا اور انہوں نے قرآن وسنت کا علم حاصل کیا پھر آپ ﷺ نے ہمیں دوسری حدیث امانت کے اٹھ جانے کے متعلق بیان فرمائی آپ نے فرمایا ایک آدمی تھوڑی دیر سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھالی جائے گی اس کا ہلکا سا نشان رہ جائے گا پھر ایک بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھ جائے گی اس کا نشان ایک انگارہ کی طرح رہ جائے گا جس طرح کہ ایک انگارہ تو اپنے پاؤں پر لڑھکا دے اور کھال پھول کر چھالے کی شکل اختیار کرلے اور اس کے اندر کچھ نہ ہو، پھر آپ نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا دیا اور پھر فرمایا کہ لوگ خریدو فروخت کریں گے اور ان میں سے کوئی امانت کا حق ادا کرنے والا نہیں ہوگا یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک آدمی صاحب امانت ہے اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ کس قدر ہوشیار ہے کس قدر خوش اخلاق ہے کس قدر عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا اور حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایسے دور سے گزر چکا ہوں جب میں ہر ایک سے بےتکلف اور بغیر غور و فکر کے معاملہ کرلیتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اسے بےایمانی سے روکے رکھتا اور اگر یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا حاکم اسے بےایمانی نہ کرنے دیتا مگر آج تو میں فلاں فلاں کے علاوہ اور کسی سے معاملہ نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنْ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنْ السُّنَّةِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ قَالَ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَکْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ کَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَی رِجْلِکَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ أَخَذَ حَصًی فَدَحْرَجَهُ عَلَی رِجْلِهِ فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا يَکَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّی يُقَالَ إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا حَتَّی يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ مَا أَظْرَفَهُ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَی عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّکُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ کَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ وَلَئِنْ کَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا کُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْکُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان
ابن نمیر، ابو وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس ایک دوسری سند میں حضرت اعمش (رض) سے یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوخالد سلیمان بن حیان، سعد بن طارق، ربیع، حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کس نے اللہ کے رسول ﷺ سے فتنوں کا ذکر سنا ہے ایک جماعت کے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ شاید تمہاری مراد ان فتنوں سے وہ فتنے ہیں جو اس کے گھر والوں میں، مال میں اور ہمسایوں میں ہوتے ہیں لوگوں نے عرض کیا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ان فتنوں کا کفارہ تو نماز، روزہ اور صدقہ سے ہوجاتا ہے لیکن تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے ان فتنوں کے بارے میں سنا ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح امڈ آئیں گے، حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ لوگ یہ سن کر خاموش ہوگئے میں نے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تیرا والد بہت اچھا تھا (کہ تم بھی ان کے بیٹے ہو) حضرت حذیفہ (رض) کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ فتنے دلوں پر ایک کے بعد ایک اس طرح آئیں گے کہ جس طرح بوریا اور چٹائی کے تنکے ایک کے بعد ایک ہوتے ہیں جو دل اس فتنہ میں مبتلا ہوگا وہ فتنہ اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ ڈال دے گا اور جو دل اسے رد کرے یعنی قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اس کے دل میں ایک سفید نقطہ لگ جائے گا یہاں تک کہ اس کے دو دل ہوجائیں گے ایک سفید دل کہ جس کی سفیدی بڑھ کر کوہ صفا کی طرح ہوجائے گی جب تک زمین و آسمان رہیں گے اسے کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا اور دوسرا دل سیاہ راکھ کے کوزہ کی طرح علوم سے خالی ہوگا نہ نیکی کو پہنچانے گا اور نہ ہی بدی کا انکار کرے گا مگر اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا، حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے یہ حدیث بیان کی کہ تیرے اور ان فتنوں کے درمیان ایک بند دروازہ ہے اور قریب ہے کہ وہ ٹوٹ جائے حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ وہ توڑ دیا جائے گا تیرا باپ نہ رہے اگر وہ کھلتا تو شاید بند ہوجاتا میں نے عرض کیا وہ کھلے گا نہیں بلکہ ٹوٹ جائے گا اور میں نے حضرت عمر سے فرمایا وہ توڑ دیا جائے گا ؟ ایک آدمی ہے یا تو قتل کردیا جائے گا یا اس کا انتقال ہوجائے گا یہ حدیث غلط باتوں میں سے نہ تھی ابوخالد نے کہا کہ میں نے سعد سے عرض کیا کہ اسود مرباد سے کیا مراد ہے فرمایا سیاہی میں سفیدی کی شدت۔ میں نے عرض کیا اِنَّ الکَوزَ مَجخِیَّا سے کیا مراد ہے فرمایا الٹا ہوا کوزہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّکُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْفِتَنَ فَقَالَ قَوْمٌ نَحْنُ سَمِعْنَاهُ فَقَالَ لَعَلَّکُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ قَالُوا أَجَلْ قَالَ تِلْکَ تُکَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَکِنْ أَيُّکُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْفِتَنَ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ حُذَيْفَةُ فَأَسْکَتَ الْقَوْمُ فَقُلْتُ أَنَا قَالَ أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوکَ قَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوبِ کَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُکِتَ فِيهِ نُکْتَةٌ سَوْدَائُ وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْکَرَهَا نُکِتَ فِيهِ نُکْتَةٌ بَيْضَائُ حَتَّی تَصِيرَ عَلَی قَلْبَيْنِ عَلَی أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا کَالْکُوزِ مُجَخِّيًا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْکِرُ مُنْکَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بَيْنَکَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا يُوشِکُ أَنْ يُکْسَرَ قَالَ عُمَرُ أَکَسْرًا لَا أَبَا لَکَ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ کَانَ يُعَادُ قُلْتُ لَا بَلْ يُکْسَرُ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِکَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ أَبُو خَالِدٍ فَقُلْتُ لِسَعْدٍ يَا أَبَا مَالِکٍ مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا قَالَ شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْکُوزُ مُجَخِّيًا قَالَ مَنْکُوسًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان
ابن ابی عمر، مروان، ابومالک، ربعی سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) جب حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو بیٹھ کر ہم سے حدیث بیان فرمانے لگے کہ کل جب میں امیر المومنین کے پاس بیٹھا تھا تو انہوں نے صحابہ (رض) سے پوچھا کہ تم میں سے کس کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان فتنوں کے بارے میں یاد ہے پھر ابوخالد سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث روایت کی مگر اس میں ابومالک کی مرباد اور مَجخِیَّا کی تفسیر ذکر نہیں کی۔
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا فَقَالَ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَيُّکُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ وَلَمْ يَذْکُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِکٍ لِقَوْلِهِ مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض دلوں سے ایمان وامانت اٹھ جانے اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان
محمد بن مثنی، عمرو بن علی، عقبہ بن مکرم، محمد بن ابی عدی، سلیمان تیمی، نعیم بن ابی ہند، ربعی بن حراش، حذیفہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ ہم سے حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ تم سے کس نے رسول اللہ ﷺ سے فتنوں کے بارے میں حدیث سنی ہے ان میں حضرت حذیفہ بھی تھے انہوں نے کہا کہ میں نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنا ہے اور پھر اس اس طرح حدیث بیان کی جس طرح کہ ابومالک نے ربعی سے روایت کی ہے اور اس روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے ان سے ایک حدیث بیان کی جو غلط نہیں تھی بلکہ وہ بالکل اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَعُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ مَنْ يُحَدِّثُنَا أَوْ قَالَ أَيُّکُمْ يُحَدِّثُنَا وَفِيهِمْ حُذَيْفَةُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ کَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِکٍ عَنْ رِبْعِيٍّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ حُذَيْفَةُ حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ وَقَالَ يَعْنِي أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور اتنہا میں بھی اجنبی ہوجائے گا اور یہ کہ سمٹ کر مسجدوں میں گھس جائے گا
محمد بن عباد، ابی عمر، مروان، ابن عباد، یزید، ابن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام کی ابتداء غربت سے ہوئی اور پھر یہ حالت غربت کی طرف لوٹ آئے گا پس غرباء کے لئے خوشخبری ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ کَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَی لِلْغُرَبَائِ
তাহকীক: