আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ৩৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
زہیر بن حرب، وکیع، مسعر، ہشام، اسحاق بن منصور، حسین بن علی، زائدہ، شیبان، قتادہ (رض) سے یہ روایت بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَهِشَامٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ابن عیینہ، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے اس کے نامہ اعمال میں نہ لکھو اگر وہ اس پر عمل کرے تو ایک گناہ لکھو اور جب کسی نیکی کا ارادہ کرے لگے اس نیکی پر عمل نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھو اور اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو اس کی ایک نیکی کے بدلہ میں اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَکْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا سَيِّئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاکْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا عَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، علاء، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو میں دس گنا نیکیوں سے سات سو گنا نیکیوں تک لکھتا ہوں اور جب گناہ کا ارادہ کرے اور اس گناہ پر عمل نہ کرے تو میں اس کا گناہ نہیں لکھتا اگر وہ اس گناہ پر عمل کرلے تو میں ایک ہی گناہ لکھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا کَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَکْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا کَتَبْتُهَا سَيِّئَةً وَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ (رض) حضرت محمد ﷺ سے کچھ احادیث ذکر فرما رہے تھے ان میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میرا بندہ کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے جب اسپر عمل کرے تو میں ایک نیکی کے بدلہ دس نیکیاں لکھتا ہوں اور جب کسی گناہ کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے اور جب اس گناہ پر عمل کرے تو ایک ہی گناہ لکھتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سچے دل سے اسلام قبول کرلیتا ہے تو اس کی ہر نیکی کو دس سے لے کر سات سو نیکیوں تک لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَکْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَکْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَکْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْمَلَائِکَةُ رَبِّ ذَاکَ عَبْدُکَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ فَقَالَ ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَإِنْ تَرَکَهَا فَاکْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً إِنَّمَا تَرَکَهَا مِنْ جَرَّايَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُکُمْ إِسْلَامَهُ فَکُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُکْتَبُ بِمِثْلِهَا حَتَّی يَلْقَی اللَّهَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
ابوکریب، ابوخالد احمر، ہشام، ابن سیرین، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرنے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرے تو اس کے لئے اس کے نامہ اعمال میں سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہیں اور جس نے برائی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا اور اگر اس گناہ پر عمل کرلے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا کُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُکْتَبْ وَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
شیبان بن فروخ، عبدالوارث جعدانی، ابورجاء، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پروردگار سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھیں پھر ان کو بیان فرمایا پس جس آدمی نے نیکی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں پوری ایک نیکی لکھیں گے اگر اس نیکی کے ارادے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک بلکہ اس سے بھی زیادہ لکھیں گے اور اگر برائی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ ایک ہی برائی لکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِکَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً کَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِيرَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً کَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ابوعثمان، عبدالوارث ایک دوسری سند کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بھی مٹا دیں گے اور عذاب میں وہی مبتلا ہوگا جس کے مقدر میں ہلاکت لکھی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَزَادَ وَمَحَاهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِکُ عَلَی اللَّهِ إِلَّا هَالِکٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کرسکتا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم اسی طرح پاتے ہو ؟ (یعنی گناہ سمجھتے ہو) صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو واضح ایمان ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَکَلَّمَ بِهِ قَالَ وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ذَاکَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، محمد بن عمرو بن جبلہ بن ابی رواد، ابوبکر بن اسحاق، ابوجواب، عمار بن رزیق، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
یوسف بن یعقوب، علی بن عثام، سعید بن خمس، مغیرہ، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے وسوسہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو محض ایمان ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْوَسَةِ قَالَ تِلْکَ مَحْضُ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
ہارون بن معروف، محمد بن عباد، سفیان، ہشام، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا تو جو آدمی اس طرح کا کوئی وسوسہ اپنے دل میں پائے تو وہ کہے میں اللہ پر ایمان لایا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَائَلُونَ حَتَّی يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
محمود بن غیلان، ابونضر، ابوسعید، ہشام ابن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آکر کہتا ہے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ اور اس کے رسولوں پر۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَکُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ السَّمَائَ مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ فَيَقُولُ اللَّهُ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَرُسُلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
زہیر بن حرب، عبد بن حمید، یعقوب، زہیر یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے کہ اس طرح اس طرح کس نے پیدا کیا یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا تو جب وہ یہاں تک پہنچے تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس وسوسہ سے اپنے آپ کو روک لو۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَکُمْ فَيَقُولَ مَنْ خَلَقَ کَذَا وَکَذَا حَتَّی يَقُولَ لَهُ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِکَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
عبدالملک بن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان بندے کے پاس آکر کہتا ہے کہ اس اس کو کس نے پیدا کیا آگے مذکورہ حدیث کی طرح۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ کَذَا وَکَذَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، محمد بن سیرین ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگ تجھ سے ہمیشہ علم کے بارے میں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا خالق تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) اس حدیث کی روایت کرتے ہوئے اس آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے مجھ سے دو آدمی سوال کرچکے ہیں اور یہ تیسرا ہے یا فرمایا مجھ سے ایک آدمی سوال کرچکا ہے اور یہ دوسرا ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَکُمْ عَنْ الْعِلْمِ حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
زہیر بن حرب، یعقوب دورقی، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، محمد، ابوہریرہ (رض) ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں لیکن حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِسْنَادِ وَلَکِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
عبداللہ بن رومی، نضر بن محمد عکرمہ، ابن عمار، ابوسلمہ، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا اے ابوہریرہ (رض) یہ لوگ تجھ سے ہمیشہ پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ دیہاتی لوگ آکر کہنے لگے اے ابوہریرہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے مٹھی بھر کر کنکریاں ان کو مار کر کہا اٹھو چلے جاؤ۔ میرے دوست ﷺ نے سچ فرمایا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَائَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًی بِکَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
محمد بن حاتم، کثیر بن ہشام، جعفر بن برقان، یزید بن اصم، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے لوگ ہر چیز کے متعلق پوچھیں گے یہاں تک کہ یہ بھی کہیں گے کہ ہر چیز کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْأَلَنَّکُمْ النَّاسُ عَنْ کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی يَقُولُوا اللَّهُ خَلَقَ کُلَّ شَيْئٍ فَمَنْ خَلَقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
عبداللہ بن عامر بن زرارہ، محمد بن فضیل، مختار بن فلفل، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ ہمیشہ کہتے رہیں گے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہاں تک کہ کہیں گے کہ ساری مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ مَا کَذَا مَا کَذَا حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
اسحاق بن ابراہیم، جریر ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، مختار، انس ایک دوسری سند میں حضرت انس (رض) سے یہ روایت بھی نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح ذکر کی گئی ہے اس میں آپ ﷺ کی امت کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَاإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ إِسْحَقَ لَمْ يَذْکُرْ قَالَ قَالَ اللَّهُ إِنَّ أُمَّتَکَ
tahqiq

তাহকীক: