আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ৩১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال کی طرف متوجہ ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي کَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ کَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسی، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو ! اپنی آواز کو نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو کہیں تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو تو حضرت ثابت بن قیس (رض) اپنے گھر ہی میں بیٹھ گئے اور سمجھنے لگے کہ میں دوزخی ہوں اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہوئے تو نبی ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ (رض) سے پوچھا اے ابوعمرو (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! ثابت کا کیا حال ہے کیا وہ بیمار ہوگئے ؟ حضرت سعد (رض) سے عرض کیا کہ وہ میرے ہمسائے ہیں اور مجھے ان کے بیمار ہونے کا علم نہیں، حضرت سعد (رض) حضرت ثابت (رض) کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے کا ذکر کیا تو حضرت ثابت نے فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوگئی اور تم جانتے ہو کہ میری آواز رسول اللہ ﷺ کے سامنے تم سب سے زیادہ بلند ہوتی ہے پس میں دوزخی ہوں حضرت سعد نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا وہ تو جنتی ہیں۔ (دوزخی نہیں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ وَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اشْتَکَی قَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَکْوَی قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَکَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِکُمْ صَوْتًا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَکَرَ ذَلِکَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں
قطن بن نسیر، جعفر بن سلیمان، ثابت، انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیس (رض) بن شماس انصار کے خطیب تھے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی باقی حدیث حماد کی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں حضرت سعد بن معاذ کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں
احمد بن سعید بن صخر دارمی، حبان، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو اور حدیث مبارکہ میں حضرت سعد بن معاذ (رض) کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں
ہریم بن عبدالاعلی اسدی، معتمر بن سلیمان، انس سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور حضرت سعد بن معاذ (رض) کا اس حدیث میں بھی ذکر نہیں صرف اتنا زائد ہے کہ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ثابت بن قیس (رض) کو اپنے درمیان پا کر یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے درمیان ایک جنتی آدمی چل رہا ہے۔
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْکُرُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ وَزَادَ فَکُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابی وائل، عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم سے ان اعمال پر مواخذہ ہوگا جو ہم سے جاہلیت کے زمانے میں سرزد ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس نے سچے دل سے اسلام قبول کرلیا تو اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے سچے دل سے اسلام قبول نہ کیا بلکہ بظاہر مسلمان اور باطن میں کافر تو اس سے دور جاہلیت اور دور اسلام دونوں کے اعمال کے بارے میں مواخذہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْکُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا وَمَنْ أَسَائَ أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ۔ وکیع، اعمش ابو وائل، عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم سے جاہلیت کے زمانہ میں کئے گئے اعمال کے بارے میں مواخذہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سچے دل سے اسلام قبول کیا اس سے جاہلیت والے اعمال کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی اور جس نے سچے دل سے اسلام قبول نہ کیا صرف دکھلاوے کے لئے قبول کیا اس سے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں اعمال کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَائَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا
منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش، ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ اسلام اور حج اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں
محمد بن مثنی عنزی، ابومعن، اسحاق بن منصور، ابوعاصم، ابن مثنی، ضحاک، ابوعاصم، حیوہ بن شریح، یزید بن ابی حبیب، ابن شماسہ کہ ہم عمرو بن العاص (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے وہ بہت دیر تک روتے رہے اور چہرہ مبارک دیوار کی طرف پھیرلیا ان کے بیٹے ان سے کہہ رہے تھے کہ اے ابا جان کیوں رو رہے ہیں کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ ﷺ کو یہ بشارت نہیں سنائی ؟ حضرت عمرو بن العاص (رض) ادھر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہمارے نزدیک سب سے افضل عمل اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور مجھ پر تین دور گزرے ہیں ایک دور تو وہ ہے جو تم نے دیکھا کہ میرے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ کوئی مبغوض نہیں تھا اور مجھے یہ سب سے زیادہ پسند تھا کہ آپ ﷺ پر قابو پا کر آپ ﷺ کو قتل کر دوں اگر میری موت اس حالت میں آجاتی تو میں دوزخی ہوتا پھر جب اللہ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ ﷺ نے فرمایا اے عمرو کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا شرط ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یہ شرط کہ کیا میرے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عمرو کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام لانے سے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور ہجرت سے اس کے سارے گذشتہ اور حج کرنے سے بھی اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ؟ اور رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مجھے کسی سے محبت نہیں تھی اور نہ ہی میری نظر میں آپ ﷺ سے زیادہ کسی کا مقام تھا اور آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے مجھ میں آپ ﷺ کو بھر پور نگاہ سے دیکھنے کی سکت نہ تھی اور اگر کوئی مجھ سے آپ ﷺ کی صورت مبارک کے متعلق پوچھتے تو میں بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں آپ ﷺ کو بوجہ عظمت و جلال دیکھ نہ سکا، اگر اس حال میں میری موت آجاتی تو مجھے جنتی ہونے کی امید تھی پھر اس کے بعد ہمیں کچھ ذمہ داریاں دی گئیں اب مجھے پتہ نہیں کہ میرا کیا حال ہوگا پس جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ نہ کوئی رونے والی ہو اور نہ آگ ہو جب تم مجھے دفن کردو تو مجھ پر مٹی ڈال دینا اس کے بعد میری قبر کے اردگرد اتنی دیر ٹھہر نا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ تمہارے قرب سے مجھے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَکَی طَوِيلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَی الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ يَا أَبَتَاهُ أَمَا بَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَذَا أَمَا بَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ عَلَی أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَکُونَ قَدْ اسْتَمْکَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَکُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِينَکَ فَلْأُبَايِعْکَ فَبَسَطَ يَمِينَهُ قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِي قَالَ مَا لَکَ يَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلِهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ وَمَا کُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّي لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَائَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّی أَسْتَأْنِسَ بِکُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ اسلام اور حج اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں
محمد بن حاتم بن میمون، ابراہیم بن دینار، ابراہیم، حجاج، بن محمد، ابن جریج، یعلی بن مسلم، سعید بن جبیر، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت سے قتل کئے تھے اور کثرت سے زنا کا ارتکاب بھی کیا تھا، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھا ہے اگر آپ ﷺ ہمارے گناہوں کا کفارہ بتلا دیں جو ہم نے کئے ہیں تو ہم مسلمان ہوجائیں، اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس آدمی کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہاں مگر حق کے ساتھ اور وہ زنا نہیں کرتے اور جوا ی سے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا سورت الفرقان اور یہ آیت نازل ہوئی اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانون پر زیادتی کی ہے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْکِ قَتَلُوا فَأَکْثَرُوا وَزَنَوْا فَأَکْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَةً فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِکَ يَلْقَ أَثَامًا وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت کے زمانے میں جو نیک کام کئے کیا ان میں میرے لئے کچھ اجر ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسلام لائے ان نیکیوں پر جو تم کرچکے ہو، (یعنی ان کا بھی ثواب ملے گا) تحنث کے معنی عبادت کے ہیں یعنی گناہ سے نفرت اور غیر اللہ کی عبادت سے توبہ کرنا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم بن سعد، ابن سعد، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آپ ان کاموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ جو میں نے جاہلیت کے زمانے میں ( یعنی اسلام لانے سے پہلے) مثلا صدقہ و خیرات یا غلام آزاد کرنا یا رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا کئے تھے ان کاموں میں مجھے اجر ملے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اسی نیکی پر اسلام لائے جو تم پہلے کرچکے ہو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ أَفِيهَا أَجْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ چند کام ایسے بھی ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں بھی کرتا تھا، راوی ہشام کہتے ہیں کہ نیک کام کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو ان نیکیوں پر اسلام لایا ہے جو تو نے اسلام لانے سے پہلے کی ہیں، میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں ان نیکیوں کو نہیں چھوڑوں گا جو میں جاہلیت کے زمانہ میں کرتا تھا اور زمانہ اسلام میں بھی اسی طرح نیک کام کرتا رہوں گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَائَ کُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ لَکَ مِنْ الْخَيْرِ قُلْتُ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام (رض) نے اسلام لانے سے قبل زمانہ جاہلیت میں سو غلاموں کو آزاد کیا اور سو اونٹ اللہ کے راستے میں سواری کی خاطر دئیے تھے اس کے بعد پھر جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو سو اونٹوں کو آزاد کیا اور مزید سو اونٹ اللہ کے راستے میں سواری کی خاطر دئیے پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے پھر وہی حدیث بیان کی گئی جو ذکر کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَی مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَی مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچے دل سے ایمان لانے اور اس کے اخلاص کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ( اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ ا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰ ى ِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ) 6 ۔ الانعام : 82) (وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا) تو اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ پر یہ بات شاق گزری تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو (یعنی اس سے گناہ نہ ہوا ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب یہ نہیں جو تم خیال کر رہے ہو اس آیت میں ظلم کا مطلب وہ ہے جو حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا نا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِکَ عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ هُوَ کَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ کَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچے دل سے ایمان لانے اور اس کے اخلاص کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، ابوکریب، ابن ادریس، اعمش، ابوکریب ایک دوسری سند میں یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ الْأَعْمَشِ ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہوجائیں اور اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کے بیان میں کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
محمد بن منہال، ضریر، امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح، ابن قاسم، علاء، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں کہ اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو باتیں تمہارے نفسوں میں ہیں اگر تم ان کو ظاہر کروگے یا چھپاؤ گے اللہ تعالیٰ تم سے حساب لیں گے جسے چاہیں گے معاف فرما دیں گے اور جسے چاہیں گے عذاب دیں گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو صحابہ کرام (رض) پر یہ آیات کریمہ گراں گزریں وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یعنی دو زانو ہو کر آپ ﷺ سے عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ ہمیں ان اعمال کے کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے نماز روزہ جہاد اور صدقہ تو آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں ذکر کئے گئے احکام کی ہم طاقت نہیں رکھتے (یعنی دل میں کوئی وسوسہ نہ آنے پائے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب کہہ چکے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نافرمانی کی ( اس پر عمل نہیں کریں گے) بلکہ تم اس طرح کہو کہ ہم نے آپ ﷺ کا فرمان سن لیا اور ہم نے بخوشی مان لیا۔ ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں اے پروردگار اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، صحابہ کرام (رض) نے کہا (سَمِعنَا وَاَطَعنَا غُفرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیکَ المَصَیِر) صحابہ کرام (رض) کے یہ کہنے کے فورا بعد ہی یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، ایمان لائے رسول اس چیز پر جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی اور مومنین بھی سارے کے سارے ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ہم اس کے تمام رسولوں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے اور ان سب نے یوں کہا ہم نے سن لیا آپ ﷺ کا فرمان اور ہم نے خوشی سے مان لیا ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2 ۔ البقرۃ : 386) منسوخ فرما کر یہ آیات نازل فرمائیں (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَه عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْ صُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ : 286) سورت البقرہ کے آخری رکوع تک اللہ تعالیٰ کسی کو مکلف نہیں بناتا مگر جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو اس کو ثواب بھی اسی کا ملے گا جو وہ ارادے سے کرے اور اسے سزا بھی اسی کی ملے گی جو وہ ارادے سے کرے اے ہمارے پروردگار ہمارا مواخذہ نہ فرمایا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے، اللہ نے فرمایا اچھا ! اے ہمارے پروردگار اور ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم کو طاقت نہ ہو، فرمایا اچھا اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے کافروں پر ہمیں غلبہ عطا فرما، اللہ نے فرمایا اچھا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَائُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَائُ وَاللَّهُ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَکُوا عَلَی الرُّکَبِ فَقَالُوا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ کُلِّفْنَا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْکَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا کَمَا قَالَ أَهْلُ الْکِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِکَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُکَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهُ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ قَالَ نَعَمْ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِينَ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہوجائیں اور اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کے بیان میں کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، آدم بن سلیمان، خالد، سعید بن جبیر، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ مغفرت چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2 ۔ البقرۃ : 386) ( سورت البقرہ) نازل ہوئی اور اگر تم ظاہر کرو یا چھپاؤ جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لیں گے تو صحابہ (رض) کے دلوں میں ایسا ڈر پیدا ہوا کہ اس سے پہلے کسی چیز سے ان کے دلوں میں ایسا ڈر پیدا نہیں ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم کہو کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی اور ہم نے مان لیا پس اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کے دلوں میں ڈال دیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ( لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ الخ۔ ) 2 ۔ البقرۃ : 286) کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتے ہر آدمی کو اس کے نیک اعمال پر اور برے اعمال پر سزا ملے گی اے پروردگار اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو ہمارا موخذہ نہ فرمانا اللہ عزوجل نے فرمایا میں نے کردیا، اے ہمارے پروردگار ہم پر کوئی ایسا بوجھ (دنیا وآخرت میں) نہ ڈالنا جس طرح ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے کردیا، ہمیں معاف فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا میں نے کردیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَی خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْئٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَلْقَی اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا يُکَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهُ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید، سعید، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں سے جو ان کے نفسوں میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ ان کا کلام نہ کریں یا جب تک کہ ان پر عمل نہ کریں معاف کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ يَتَکَلَّمُوا أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مسہر، عبدہ بن سلیمان، ابن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، سعید بن ابوعروہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس و خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک کہ ان پر عمل پیرا نہ ہوں یا کلام نہ کریں۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ بِهِ
tahqiq

তাহকীক: