আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ২৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، علی بن مدرک، ابوزرعہ، خرشہ بن حر، ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں گناہوں سے پاک وصاف کرے گا (معاف کرے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا : حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ لوگ تو سخت نقصان اور خسارے میں ہوں گے یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا اور دے کر احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارًا قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ قطان، سفیان، سلیمان، اعمش، سلیمان بن مسہر، خرشہ بن حر، ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ایک وہ آدمی جو ہر نیکی کا احسان جتلاتا ہے، دوسرا وہ جو جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچتا ہے اور تیسرا وہ آدمی جو اپنے کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
بشر بن خالد، محمد ابن جعفر، شعبہ، سلیمان ایک دوسری سند میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کلام نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کرے گا ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابومعاویہ، اعمش، ابی حازم، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کریں گے اور ابومعاویہ فرماتے ہیں کہ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور مفلس تکبر کرنے والا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَکِّيهِمْ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ شَيْخٌ زَانٍ وَمَلِکٌ کَذَّابٌ وَعَائِلٌ مُسْتَکْبِرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کریں گے اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، ایک تو وہ آدمی جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو پھر اس کے باوجود کسی مسافر کو پانی نہ دے اور دوسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد کوئی چیز بیچے اور اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے یہ چیز اتنے میں خریدی ہے اور خریدار اس کی بات پر یقین کرلے حالانکہ حقیقتًا اس نے اتنے میں نہ خریدی ہو اور تیسرا وہ آدمی جو دنیاوی مال کی خاطر بیعت کرے پھر اگر وہ اسے مال دے تو وہ حقِ بیعت ادا کرے اور نہ دے تو حقِ بیعت کی ادائیگی سے گریز کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَی فَضْلِ مَائٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنْ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِکَذَا وَکَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَی غَيْرِ ذَلِکَ وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَی وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
زہیر بن حرب، جریر، سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، اعمش، ایک دوسری سند میں یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں قیمت بتانے کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
عمرو ناقد، سفیان، عمرو، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا اور ایک آدمی وہ ہے کہ جس نے عصر کے بعد قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال مار لیا باقی حدیث اعمش کی حدیث کی طرح ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُرَاهُ مَرْفُوعًا قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَی مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید، اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اس ہتھیار سے اپنے پیٹ کو زخمی کرتا رہے گا، ہمشیہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہے گا اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ اسے چوستا رہے گا اور دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر قتل کیا تو وہ پہاڑ سے یوں ہی گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّی فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
زہیر بن حرب، جریر، سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، ابن قاسم، یحییٰ بن حبیب، حارثی، خالد بن حارث، شعبہ ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ذَکْوَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ ابن سلام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے غزوہ حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیعت کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی اسلام کے علاوہ دوسری ملت پر جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہوجائے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا تو قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا اور اگر کسی آدمی نے غیر مملوکہ چیز کی منت مانی تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَهُوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْئٍ لَا يَمْلِکُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
ابوغسان، معاذ ابن ہشام، یحییٰ ابن ابی کثیر، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کسی آدمی پر ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے جس کا وہ مالک نہ ہو اور مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کر ڈالا قیامت کے دن وہ اسی سے عذاب دیا جائے گا اور جس نے اپنے مال میں زیادتی کی خاطر جھوٹا دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا مال اور کم کر دے گا اور یہی حال اس آدمی کا ہوگا جو حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائے گا۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِکُ وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ ادَّعَی دَعْوَی کَاذِبَةً لِيَتَکَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً وَمَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ فَاجِرَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، عبدالوارث بن عبدالصمد، عبدالصمد بن عبدالوارث، شعبہ، ایوب، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک انصاری، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ثوری، خالد حذاء، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنی قسم کے مطابق ہوگا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دیں گے جس چیز سے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا سفیان کی روایت یہی ہے اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے کہنے کے مطابق ہوگا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کیا تو قیامت کے دن وہ اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ کُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ الثَّوْرِيِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَهْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
محمد بن رافع، عبد ابن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن المسیب، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم غزؤہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کے بارے میں جو اسلام کا دعوی کرتا تھا فرمایا کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے پھر جب جنگ شروع ہوئی تو وہ آدمی بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور زخمی ہوگیا آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ جس آدمی کے بارے میں فرما رہے تھے کہ یہ دوزخی ہے اس نے تو آج خوب بہادری سے لڑائی کی ہے اور مرچکا ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں گیا بعض صحابہ (رض) آپ کے فرمان کی تہہ تک نہ پہنچ سکے اسی دوران اس کے ابھی نہ مرنے بلکہ شدید زخمی ہونے کی اطلاع ملی پھر جب رات ہوئی تو وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرسکا تو اس نے اپنے آپ کو قتل کر ڈالا آپ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ اللہ سب سے بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر آپ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں آواز لگادیں کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس دین کی برے آدمی کے ذریعے بھی مدد کرا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَی بِالْإِسْلَامِ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی النَّارِ فَکَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلَکِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا فَلَمَّا کَانَ مِنْ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَی الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَی فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کا ایک غزوہ میں آمنا سامنا ہوا اور نوبت سخت کشت و خون تک پہنچ گئی پھر جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کی طرف تشریف لے گئے اور مشرکین اپنے لشکر کی طرف چلے گئے آپ ﷺ کے ساتھیوں میں ایک آدمی ایسا تھا کہ وہ اکا دکا کافر کو نہیں چھوڑتا تھا بلکہ اس کا پیچھا کرکے تلوار سے اسے اڑا دیتا تھا صحابہ کرام یہ کہنے لگے کہ اس آدمی کی طرح آج ہمارے کوئی کام نہ آیا رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہے صحابہ (رض) میں سے ایک نے کہا کہ میں مستقل اس کے ساتھ رہوں گا پھر وہ صحابی اس کے ساتھ رہے جہاں ٹھہرتا اس کے ساتھ ٹھہرتے اور جب وہ تیزی کے ساتھ چلتا تو یہ بھی تیزی کے ساتھ چلتے حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ سخت زخمی ہوگیا اس نے زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے جلد موت کو گلے سے لگا لینا چاہا تو تلوار کا دستہ زمین پر رکھ کا اس کی نوک دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی پھر اس پر زور دے کر خود کو قتل کر ڈالا تب وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے جس کے بارے میں دوزخی ہونے کے متعلق فرمایا تھا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تھا اور میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ میں تمہاری خاطر اس کی خبر رکھوں گا پھر میں اس کی جستجو میں نکلا وہ آدمی بالآخر سخت زخمی ہوا اور مرنے کی جلدی میں اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھ کو اس کی نوک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھ کر زور دے کر خود کو مار ڈالا یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی لوگوں کی نظر میں جنتیوں والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی لوگوں کی نظر میں دوزخ والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ بالآخر جنتی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ حَيٌّ مِنْ الْعَرَبِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَی هُوَ وَالْمُشْرِکُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَسْکَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَی عَسْکَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ فَقَالُوا مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ کَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ کُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَی سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَکَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِکَ فَقُلْتُ أَنَا لَکُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ حَتَّی جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ إِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
محمد بن رافع، زبیر ی، محمد بن عبداللہ، ابن زبیر، شیبان کہتے ہیں میں نے حضرت حسن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو پھوڑا نکلا پھر جب اسے سخت تکلیف ہوئی تو اس نے ترکش سے تیر نکال کر اس سے پھوڑا چیر دیا اور خون بند نہ ہونے کہ وجہ سے وہ آدمی مرگیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میں نے اس پر جنت حرام کردی پھر حسن (رض) نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف دراز کر کے فرمایا اللہ کی قسم یہ حدیث جندب بن عبداللہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اسی مسجد میں مجھ سے بیان فرمائی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُا إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ کِنَانَتِهِ فَنَکَأَهَا فَلَمْ يَرْقَأْ الدَّمُ حَتَّی مَاتَ قَالَ رَبُّکُمْ قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
محمد بن ابوبکر مقدمی، وہب بن جریر (رض) اپنے والد کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم سے حضرت جندب بن عبداللہ البجلی (رض) نے اسی مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم نہ بھولے اور نہ ہی ڈر ہے کہ حضرت جندب (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کو غلط منسوب کیا ہو حضرت جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کے پھوڑا نکلا تھا پھر اسی حدیث کے مطابق ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِينَا وَمَا نَخْشَی أَنْ يَکُونَ جُنْدَبٌ کَذَبَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِرَجُلٍ فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ خُرَاجٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کی سخت حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔
زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، عکرمہ بن عمار، سماک، ابوزمیل حنفی، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : غزوہ خیبر میں چند صحابہ کرام (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ فلاں آدمی شہید ہے یہاں تک کہ ایک آدمی پر گزر ہوا تو اس کے متعلق بھی کہنے لگے کہ فلاں شہید ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے چادر یا عباء کی چوری کی وجہ سے اس کو جہنم میں دیکھا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب جاؤ اور لوگوں میں آواز لگا دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نکل کر لوگوں میں یہ آواز لگادی کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّی مَرُّوا عَلَی رَجُلٍ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَائَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کی سخت حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔
ابوطاہر، ابن وہب، مالک بن انس، ثور بن زید دیلی، سالم ابی غیث مولیٰ ابن مطیع، ابوہریرہ (رض) ، قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن محمد، ثور، ابوغیث، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خبیر کی طرف نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی تو ہم نے سونا اور چاندی نہیں بلکہ اسباب اناج اور کپڑا وغیرہ مال غنیمت میں سے لیا پھر ہم وادی کی طرف چلے، اس غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غلام تھا جسے قبیلہ جذام کے بنی ضبیب کے ایک آدمی رفاعہ بن زید نے پیش کیا تھا پھر ہم وادی میں اترے تو رسول اللہ ﷺ کا غلام آپ ﷺ کا سامان کھولنے لگا اسی دوران اسے ایک تیر لگا اور اس سے وہ مرگیا، ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کے لئے شہادت مبارک ہو، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے جو چادر اس کے حصہ میں نہیں تھی وہی چادر اس کے اوپر شعلہ کی صورت میں جل رہی ہے یہ سن کر سب خوف زدہ ہوگئے ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ مجھے خبیر کے دن جنگ کے موقع پر ملے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تسمے بھی آگ کے ہیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدُّؤَلِيِّ عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَی ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا وَرِقًا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالطَّعَامَ وَالثِّيَابَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَی الْوَادِي وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لَهُ وَهَبَهُ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُذَامَ يُدْعَی رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْوَادِي قَامَ عَبْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُلُّ رَحْلَهُ فَرُمِيَ بِسَهْمٍ فَکَانَ فِيهِ حَتْفُهُ فَقُلْنَا هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ لَتَلْتَهِبُ عَلَيْهِ نَارًا أَخَذَهَا مِنْ الْغَنَائِمِ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ قَالَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَجَائَ رَجُلٌ بِشِرَاکٍ أَوْ شِرَاکَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِرَاکٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ خود کشی کرنے والا کافر نہیں ہوگا
ابوبکر بن ابی شبیہ، اسحاق بن حرب، سلیمان، ابوبکر، سلیمان بن حرب، حماد بن زبیر، حجاج صواف، ابوزبیر، جابر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت طفیل بن عمرو الدوسی (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ کو ایک مضبوط قلعہ اور حفاظتی مقام کی ضرورت ہے ؟ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ حضرت طفیل (رض) کے پاس زمانہ جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا، نبی ﷺ نے اس سے انکار فرما دیا کیونکہ یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے انصار کے لئے مقدر کردی تھی پس جب نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو حضرت طفیل (رض) بھی اپنی قوم کے ایک آدمی کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تو حضرت طفیل (رض) کا ساتھی مدینہ کی آب ہوا کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے بیمار ہوگیا جب بیماری حد سے بڑھ گئی برداشت کے قابل نہ رہی تو اس نے اپنے تیر کے پھل سے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑ کاٹ دئے جس کی وجہ سے ہاتھوں سے خون بہنے لگا اور اس کے نتیجے میں وہ مرگیا، حضرت طفیل بن عمرو (رض) نے اسے خواب میں دیکھا تو اچھی حالت میں تھے مگر اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی برکت سے معاف کردیا ہے پھر اس سے پوچھا کہ تو نے اپنے ہاتھوں کو چھپا رکھا ہے تو اس نے کہا کہ مجھ سے کہہ دیا گیا ہے کہ تو نے اس کو خود بگاڑا ہے ہم اسے درست نہیں کریں گے حضرت طفیل (رض) نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کی بھی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَکَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ قَالَ حِصْنٌ کَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَی ذَلِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ لِلْأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّی مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِکَ رَبُّکَ فَقَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَی نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاکَ مُغَطِّيًا يَدَيْکَ قَالَ قِيلَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرب قیامت کی اس ہوا کے بیان میں کہ جس کے اثر سے ہر وہ آدمی مر جائے گا جس کے دل میں تھوڑا سا ایمان بھی ہوگا۔
احمد بن عبدہ ضبی، عبدالعزیز بن محمد، ابوعلقمہ، صفوان بن سلیم، عبداللہ بن سلمان، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ایسی ہوا چلائے گا جو ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوگی جس کے دل میں تھوڑا سا ایمان بھی ہوگا اس کو نہیں چھوڑے گی یعنی اس کی روح قبض کرلے گی، حضرت علقمہ (رض) کی روایت کے مطابق ہر وہ آدمی مرجائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِنْ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنْ الْحَرِيرِ فَلَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ و قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ
tahqiq

তাহকীক: