আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ২৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
زہیر بن حرب، احمد بن خراش، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین، ابن بریدہ، یحییٰ بن یعمر، ابواسود دیلی ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے میں واپس چلا گیا پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ ﷺ جاگ رہے تھے میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندے نے لَا ِالٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اس پر وہ مرگیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کی ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو تین مرتبہ فرمایا پھر چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا (اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے) ابوذر (رض) کی ناک خاک آلود ہو، پھر حضرت ابوذر (رض) آپ ﷺ کا محبت اور شفقت بھرا جملہ دھراتے ہوئے نکلے کہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ يَحْيَی بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدْ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَی ذَلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ عَلَی رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
قتیبہ بن سعید، لیث محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب عطاء بن یزید لیثی، عبیداللہ بن عدی بن خیار، مقداد بن اسود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں میں کسی آدمی سے میرا مقابلہ ہوجائے مجھ سے لڑے میرا ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے پھر جب میرے حملے کی زد میں آئے تو ایک درخت کی پناہ میں آکر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لے آیا ہوں تو کیا اس کلمہ کے بعد اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لئے اسے قتل کرنا درست ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کرنا درست نہیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے یہ کلمہ میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد کہا ہے تو میں اسے کیسے قتل نہ کروں ؟ آپ نے فرمایا اسے ہرگز قتل نہ کرنا کیونکہ اگر اسے قتل کرو گے تو اب وہ ایسا ہی مسلمان ہوگا جیسا تم اسے قتل کرنے سے پہلے اور تم اسی طرح ہوجاؤ گے جیسے وہ کلمہ پڑھنے سے پہلے تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَی يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّکَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ کَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، اسحاق بن موسیٰ انصاری، ولید بن مسلم، اوزاعی محمد بن رافع، عبدالرزاق ابن جریج، زہری ایک دوسری سند میں امام اوزاعی اور ابن جریر دونوں کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا کہ میں اللہ عزوجل کے لئے اسلام لایا جیسا کہ لیث کی حدیث میں ہے اور معمر کی روایت میں ہے کہ جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا الْأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ کَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطا بن یزید، لیثی، جندعی، عبیداللہ، ابن عدی بن خیار، مقداد بن عمرو بن اسود کندی (رض) جو بنو زہرہ کے حلیف ہیں اور بدری صحابی (رض) ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہوجائے پھر لیث کی روایت کی طرح حدیث مبارکہ ذکر کی۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ الْکِنْدِيَّ وَکَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْکُفَّارِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمد، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، اعمش، ابوظبیان، اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (جنگ) میں بھیجا تو ہم صبح صبح جہینہ کے علاقہ میں پہنچ گئے میں نے وہاں ایک آدمی کو پایا اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ، میں نے اسے ہلاک کردیا پھر میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوا کہ میں نے مسلمان کو قتل کیا یا کافر کو ؟ تو میں نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے تو یہ کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں، آپ ﷺ باربار یہی کلمات دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ تمنا ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا حضرت سعد (رض) نے کہا اللہ کی قسم میں مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک کہ اس کو اسامہ قتل کردیں ایک آدمی نے کہا کہ کیا اللہ عز وجل نے نہیں فرمایا کافروں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ فتنہ نہ رہے اور اللہ کا دین عام ہوجائے حضرت سعد (رض) نے کہا کہ ہم فتنہ مٹانے کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھی فتنہ پھیلانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَدْرَکْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنْ السِّلَاحِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّی يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَيَکُونَ الدِّينُ کُلُّهُ لِلَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونُ فِتْنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
یعقوب دورقی، ہشیم، حصین، ابوظیبان، اسامہ، بن زید بن حارثہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا جو قبیلہ جہینہ سے ہے ہم صبح صبح وہاں پہنچ گئے اور ان کو شکست دے دی میں نے اور ایک انصاری نے مل کر اس قبیلہ کے آدمی کو گھیر لیا جب وہ ہمارے حملہ کی زد میں آگیا تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ ! انصاری تو یہ سن کر علیحدہ ہوگیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کردیا جب ہم نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے اسامہ ! کیا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر ڈالا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا آپ ﷺ بار بار یہی فرماتے تھے یہاں تک کہ مجھے باربار آرزو ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَکَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيَّ وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّی قَتَلْتُهُ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کَانَ مُتَعَوِّذًا قَالَ فَقَالَ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِکَ الْيَوْمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
احمد بن حسن بن خراش، عمرو بن عاصم، معتمر، خالد، صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بن عبداللہ البجلی (رض) نے عسعس بن سلام کی طرف کسی کو بھیجا حضرت ابن زبیر (رض) کے دور حکومت میں فتنہ کا زمانہ تھا انہوں نے فرمایا کہ اپنے کچھ بھائیوں کو جمع کرلو تاکہ ان کے سامنے حدیث بیان کروں تو جندب نے آدمی بھیج کر ان کو بلایا سب کے جمع ہونے پر عسعس زرد رنگ کا کپڑا سر پر لپیٹے ہوئے آئے انہوں نے فرمایا اس فتنہ کے بارے میں گفتگو کرو جو تم کرتے ہو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے پھر جب حضرت عسعس سے بات کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ کپڑا آپ کے سر سے کھل گیا اور انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کردوں رسول اللہ ﷺ نے کچھ مسلمانوں کو مشرکین کی طرف بھیجا، ان مشرکیں میں سے ایک آدمی ایسا تھا کہ مسلمانوں میں سے جس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اسے قتل کردیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی حضرت اسامہ بن زید (رض) نے اسے غفلت میں ڈال کر اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا جب تلوار اس کی طرف اٹھائی تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ ! مگر اسامہ نے اسے قتل کردیا پھر فتح کی بشارت دینے والا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے جنگ کے بارے میں پوچھا وہ بتارہا تھا یہاں تک کہ اس نے حضرت اسامہ (رض) کا یہ واقعہ بیان کیا کہ کس طرح اسامہ نے کیا، آپ ﷺ نے اسامہ کو بلا کر پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کردیا ؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس نے مسلمانوں میں کھلبلی ڈال دی تھی اور اس نے فلاں فلاں مسلمان کو قتل کیا اور میں نے اس پر قابو پالیا جب اس نے تلوار دیکھی تو لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس کے بعد بھی اسے قتل کردیا ؟ اسامہ نے عرض کیا جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا اس کے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن اس کو لے کر آئے گا ؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں، مگر آپ ﷺ یہی فرماتے رہے کہ تم کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ لے کر آئے گا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدًا الْأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَی عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِکَ حَتَّی أُحَدِّثَهُمْ فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَائَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ فَقَالَ تَحَدَّثُوا بِمَا کُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ حَتَّی دَارَ الْحَدِيثُ فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُکُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَکُمْ عَنْ نَبِيِّکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَی قَوْمٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَإِنَّهُمْ الْتَقَوْا فَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِذَا شَائَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَإِنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ قَالَ وَکُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَتَلَهُ فَجَائَ الْبَشِيرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ حَتَّی أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ کَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لِمَ قَتَلْتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَسَمَّی لَهُ نَفَرًا وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَی السَّيْفَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَکَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ وَکَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَی أَنْ يَقُولَ کَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحییٰ قطان، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر، یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ( یعنی مسلمانوں) پر اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، مصعب، ابن مقدام، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے ہم پر یعنی مسلمانوں پر تلوار اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد، اشعری، ابوکریب، ابواسامہ برید، ابی بردہ (رض) حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابوالاحوص محمد بن حیان، ابن ابوحازم، سہیل بن ابی صالح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر (مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلہ کے ایک ڈھیر پر سے گزرے آپ ﷺ نے اس میں اپنا مبارک ہاتھ ڈالا تو انگلیاں تر ہوگئیں، آپ ﷺ نے غلہ کے مالک سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ بارش کی وجہ سے بھیگ گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم یہ تر حصہ اوپر نہیں کرسکتے تھے کہ لوگ اس کو دیکھ لیتے پھر فرمایا جس نے دھوکہ دیا ہو مجھ سے نہیں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَائُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ کَيْ يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، و کی، ع ابن نمیر، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ ہم میں سے نہیں کہ جو اپنے منہ پر مارے اور گریبان پھاڑے یا زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے یہ حدیث یحییٰ سے اسی طرح روایت ہے اور ابن نمیر اور ابوبکر کی روایت بغیر الف کی شق اور دعا کے ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ أَوْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ هَذَا حَدِيثُ يَحْيَی وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ فَقَالَا وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
عثمان بن ابی شبیہ، جریر، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا وَشَقَّ وَدَعَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
حکم بن موسیٰ قنطری، یحییٰ بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، قاسم بن مخیمرہ، ابوبردہ بن ابوموسی سے روایت ہے کہ وہ سخت بیمار ہوگئے اتنے سخت بیمار کہ غشی طاری ہوگئی اور آپ کا سر آپ ﷺ کی اہلیہ کی گود میں تھا اہلیہ یہ حالت دیکھ کر چلاّ پڑیں، حضرت ابوموسی (رض) اس وقت کچھ کہنے پر قادر نہ تھے پھر جب آپ کو اس سے افاقہ ہوا تو ان کو فرمایا کہ میں اس چیز سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے برأت فرمائی بیشک رسول اللہ ﷺ نے مصیبت کے وقت چلانے والی اور بال مونڈنے والی اور گریبان پھاڑنے والی عورتوں سے برأت ظاہر فرمائی۔
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَی وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
عبد بن حمید، اسحاق بن منصور، جعفر بن عون، ابوعمیس، ابوصخرہ، عبدالرحمن بن یزید، ابی بردہ، ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی (رض) پر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ چلاّ اٹھیں حضرت ابوموسی (رض) کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو بطور ماتم بال منڈوائے اور چلاّ کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَا أُغْمِيَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ قَالَا ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمِي وَکَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
عبداللہ بن مطیع، ہشیم، حصین، عیاض اشعری، امراۃِ ابی موسی، ابی موسیٰ حضور اللہ ﷺ (دوسری سند) حجاج بن شاعر، عبدالصمد، داؤد ابن ابی ہند، عاصم، صفوان بن محزر، ابوموسی، حسن بن علی حلوانی، عبدالصمد، شعبہ، عبدالملک بن عمیر، ربعی بن حراش، ابوموسی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے جس طرح پہلے مذکور ہوئی اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ بَرِيئٌ کی جگہ لَيْسَ مِنَّا ہے یعنی آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ لَيْسَ مِنَّا وَلَمْ يَقُلْ بَرِيئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں
شیبان بن فروخ، عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، واصل، ابو وائل، حذیفہ حضرت ابو وائل (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) تک یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی ادھر کی بات ادھر لگاتا پھرتا ہے تو حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، جریر، منصور، ابراہیم، ہمام بن حارث (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی حاکم تک لوگوں کی باتیں نقل کرتا تھا، حضرت ہمام (رض) کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی ہم میں آکر بیٹھ گیا تو حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَی الْأَمِيرِ فَکُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَی الْأَمِيرِ قَالَ فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، منجاب بن حارث، تمیمی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ (رض) کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی کر ہمارے ساتھ بیٹھ گیا حضرت حذیفہ (رض) سے کہا گیا کہ یہ آدمی لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچا دیتا ہے تو حضرت حذیفہ (رض) نے اس آدمی کو سنانے کے ارادے سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَائَ رَجُلٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَيْنَا فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَی السُّلْطَانِ أَشْيَائَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
tahqiq

তাহকীক: