আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ২৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
محمد بن ابی عمر مکی، مروان بن معاویہ فزاری، ابویعفور، ولید بن عیزار، ابی عمرو شیبانی، عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ کون سے اعمال جنت کے قریب کرنے والے ہیں ؟ (جنت میں پہنچانے والے) آپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر پڑھنا، میں نے عرض کیا اس کے بعد ؟ اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَی الْجَنَّةِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَی مَوَاقِيتِهَا قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، ولید بن عیزار، ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کو کونسا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر پڑھنا، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر میں مزید آپ ﷺ سے سوالات کرتا تو آپ ﷺ مزید ارشاد فرما دیتے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَی وَقْتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح ہے اس میں صرف اتنا زائد ہے کہ حضرت عبداللہ کے گھر کی طرف راوی نے اشارہ کیا اور ان کا نام ہمارے سامنے بیان نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ وَأَشَارَ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حسن بن عبیداللہ، ابوعمرو شیبانی، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال یا عمل میں سب سے افضل عمل نماز اپنے وقت پر پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ أَوْ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے بڑے گناہ شرک اور اس کے بعد بڑے بڑے گناہوں کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عثمان، منصور، ابو وائل، عمرو بن شرحبیل، عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے ہاں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے، میں نے عرض کیا واقعی وہ بڑا گناہ ہے، میں نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردینا کہ وہ تیرے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہو، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسا گناہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے ہمسایہ کی عورت کے ساتھ زنا کرے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ ذَلِکَ لَعَظِيمٌ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَکَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے بڑے گناہ شرک اور اس کے بعد بڑے بڑے گناہوں کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر عثمان، اعمش، ابو وائل، عمرو بن شرحبیل، عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ کے ہاں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا پھر کونسا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ کھانے میں تیرے ساتھ شریک ہو اس نے عرض کیا پھر کونسا گناہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے ہمسائے کی عورت سے زنا کرو پھر آپ ﷺ کے اس فرمان کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکارتے اور نہ ہی ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ ہی زنا کرتے ہیں اور جو لوگ ایسے کام کریں گے وہ اپنی سزا پالیں گے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِکَ يَلْقَ أَثَامًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
عمرو بن محمد بن بکیر، ابن محمد ناقد، اسماعیل بن علیہ سعید جریری، عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) اپنے باپ حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں گناہوں میں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ! تین مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا فرمایا جھوٹی بات کہنا، رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے دل میں کہا کاش آپ ﷺ خاموشی اختیار فرماتے۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا حَتَّی قُلْنَا لَيْتَهُ سَکَتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر، انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْکَبَائِرِ قَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
محمد بن ولید بن عبدالحمید، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو نبی ﷺ کا یہ فرمان نقل فرماتے سنا کہ نبی ﷺ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا، کسی نفس کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان بڑے گناہوں میں سے شرک کے بعد سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ! آپ ﷺ نے فرمایا جھوٹی بات کہنا یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا شعبہ کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جو فرمایا وہ جھوٹی گواہی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْکَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَکْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان، بن بلال، ثور بن زید، ابوغیث، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات ہلاکت میں ڈال دینے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کونسی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور جادو کرنا اور کسی نفس کا قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا سوائے حق کے اور یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، جہاد سے دشمن کے مقابلہ سے بھاگنا اور پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَکْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَکْلُ الرِّبَا وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث ابن ہاد، سعد بن ابراہیم، حمید بن عبدالرحمن، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، سفیان، سعد بن ابراہیم ایک دوسری سند میں بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابراہیم بن دینار، یحییٰ بن حماد، شعبہ، ابان بن تغلب، فضیل بن عمرو تمیمی، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی بھی اچھی ہو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ حَمَّادٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَکُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں
منجاب بن حارث تمیمی، سوید بن سعید، علی بن مسہر، منجاب ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرِيَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں
محمد بن بشار، ابوداؤد، شعبہ، ابان بن تغلب، فضیل، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، عبداللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ وکیع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن نمیر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَکِيعٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ جنت اور دوزخ کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
ابوایوب غیلانی، سلیمان بن عبیداللہ، حجاج بن شاعر، عبدالملک، ابن عمرو، ابوزبیر جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوایوب راوی نے کہا کہ ابوالزبیر نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا۔ اسحاق بن منصور، معاذ ابن ہشام ابوزبیر، جابر ایک دوسری سند سے حضرت جابر (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِکُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
( قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث سنائی : بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، واصل، احدب، معرور بن سوید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) کو نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے یہ سن کر عرض کیا اگرچہ وہ آدمی زنا اور چوری کرتا ہو فرمایا خواہ وہ زنا یا چوری کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ
tahqiq

তাহকীক: