আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ২৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان
محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ح، عمرو بن سواد، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے جو برکت بھی نازل کرتا ہے تو لوگوں میں سے ایک گروہ اس کی نا شکری کرتے ہوئے صبح کرتا ہے اللہ بارش نازل فرماتا ہے اور اس گروہ کے لوگ کہتے ہیں کہ ستارے نے بارش برسائی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ السَّمَائِ مِنْ بَرَکَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْ النَّاسِ بِهَا کَافِرِينَ يُنْزِلُ اللَّهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ الْکَوْکَبُ کَذَا وَکَذَا وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ بِکَوْکَبِ کَذَا وَکَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان
عباس بن عبدالعظیم، نضر بن محمد، عکرمہ، ابن عمار، ابوزمیل، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں بارش ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ شکر کرتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور کچھ لوگ ناشکری کرتے ہوئے صبح کرتے ہیں شکر گزاروں نے کہا کہ یہ اللہ کی رحمت ہے اور نا شکروں نے کہا کہ ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (فَلَا اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ) 56 ۔ الواقعہ : 75) میں ستاروں کے گرنے کی جگہ کی قسم کھاتا ہوں یہاں تک پہنچنے ( اِنَّکُم تُکَذِّبُونَ ) تم جھوٹ اور باطل کو اپنا رزق بتاتے ہو۔
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ مِنْ النَّاسِ شَاکِرٌ وَمِنْهُمْ کَافِرٌ قَالُوا هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَقَدْ صَدَقَ نَوْئُ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّی بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، ابن مہدی، شعبہ، عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی علامت انصار سے بغض ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الْأَنْصَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد، ابن حارث، شعبہ، عبداللہ بن عبداللہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علا مت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ الْإِيمَانِ وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
زہیر بن حرب، معاذ بن معاذ، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عدی بن ثابت نے کہا کہ میں نے حضرت براء (رض) کو نبی اللہ ﷺ کا انصار سے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ان سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا جو ان سے محبت کرے اللہ اسے محبوب بنائے اور جو ان سے بغض رکھے وہ اللہ کے ہاں مبغوض ہو، شعبہ نے عدی سے کہا کہ تم نے یہ حدیث حضرت براء (رض) سے سنی ہے ؟ حضرت عدی نے کہا یہی حدیث حضرت براء (رض) نے بیان فرمائی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِعَدِيٍّ سَمِعْتَهُ مِنْ الْبَرَائِ قَالَ إِيَّايَ حَدَّثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، سہیل، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا آدمی انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
عثمان بن محمد بن ابی شیبہ، جریر ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ اعمش، ابوصالح، ابوسعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے آدمی کو انصار سے بغض نہیں ہوسکتا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابومعاویہ اعمش، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ اعمش عدی، بن ثابت، زر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے بغض منافق ہی رکھے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
محمد بن رمح بن مہاجر مصری، لیث، ابن ہاد، عبداللہ بن دینار، ابن عمر (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عورتوں کے گروہ صدقہ کرتی رہا کرو اور کثرت سے استغفار کرتی رہا کرو کیونکہ میں نے دوزخ والوں میں سے زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ہے، ان عورتوں میں سے ایک عقلمند عورت نے عرض کیا کہ ہمارے کثرت سے دوزخ میں جانے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لعنت کثرت سے کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری کرتی ہو میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر عقل اور دین میں کمزور اور سمجھدار مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والی نہیں دیکھیں، اس عقلمند عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ عقل اور دین کا نقصان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ماہواری کے دنوں میں نہ تم نماز پڑھ سکتی ہو اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہو یہ دین میں کمی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ وَأَکْثِرْنَ الِاسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکْثَرَ أَهْلِ النَّارِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْکُنَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْکُثُ اللَّيَالِي مَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
ابوطاہر، ابن وہب، بکر بن مضر، ابن ہاد سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ حسن بن علی حلوانی، ابوبکر بن اسحاق ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، عیاض بن عبداللہ بن ابوسعید خدری (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کیا حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے حضرت ابن عمر (رض) والی روایت ہی کی طرح روایت کی۔
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
عیاض بن عبد اللہ نےحضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اورانہوں نے نبی اکرمﷺ سے اور ( سعید ) مقبری نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت ہے ۔ باب : 35 ۔ نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا نمازاسلام کا رکن ہے ۔ اس کا ترک پچھلی احادیث میں ذکر کیے گئے متعدد گناہوں سے زیادہ سنگین ہے ۔ اس پر جس کفر کا اطلاق کیا گیا وہ ان کے کفر سے بڑا کفر ہے ، پھر بھی اس سے توبہ اور آیندہ نماز کی پابندی سے انسان اچھا مسلمان بن جاتا ہے ، اسے دوبارہ اسلام لانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جو نماز کا منکر ہے اسے ازسرنو اسلام لانے کی ضرورت ہے
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ ابوکریب، ابومعاویہ اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب ابن آدم یعنی انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا اور ہائے افسوس کہتا ہوا اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور ابی کریب کی روایت میں ہے شیطان کہتا ہے ہائے افسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم کیا گیا تو وہ سجدہ کرکے جنت کا مستحق ہوگیا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں سجدے کا انکار کرکے جہنمی ہوگیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْکِي يَقُولُ يَا وَيْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ يَا وَيْلِي أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِي النَّارُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
زہیر بن حرب، وکیع، اعمش (رض) سے بھی اسی سند کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی صرف اتنا اضافہ ہے کہ شیطان کہتا ہے کہ میں نے نافرمانی کی تو میں دوزخی ہوگیا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَعَصَيْتُ فَلِي النَّارُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش ابوسفیان، جابر، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انسان اور اس کے کفر وشرک کے درمیان نظر آنے والا فرق نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
ابوغسان مسمعی، ضحاک بن مخلد، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی اور اس کے کفر و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم بن سعد، محمد بن جعفر بن زیاد، ابراہیم، ابن سعد ابن شہاب، سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اعمال میں سب سے افضل عمل کونسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ عرض کیا گیا پھر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا عرض کیا گیا پھر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا حج مبرور (نیکیوں والا حج) ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ حَجٌّ مَبْرُورٌ وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
محمد بن رافع، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
ابوربیع زہری، حماد بن زید، ہشام بن عروہ، خلف بن ہشام، حماد بن زید، ہشام بن عروہ، ابومراوح لیثی، ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد ؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کرسکوں تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بےہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کرسکوں تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہوگی۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَکْثَرُهَا ثَمَنًا قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ قَالَ تَکُفُّ شَرَّکَ عَنْ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْکَ عَلَی نَفْسِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
محمد بن رافع عبد بن حمید، عبد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری ابومراوح، عبدالرزاق، عروہ بن زبیر، ابوذر (رض) نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَی عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، شیبانی، ولید بن عیزار، سعد بن ایاس، ابوعمروشیبانی، عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا، میں نے عرض کیا اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے مزید سوال نہیں کیا تاکہ آپ ﷺ کی طبیعت پر بار نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا تَرَکْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلَّا إِرْعَائً عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক: