আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
مقدمہ مسلم - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৫ টি
হাদীস নং: ৮০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، حضرت زکریا بن عدی فرماتے ہیں کہ ابواسحاق فزاری نے مجھ سے کہا لکھو بقیہ سے وہ روایات جو وہ معروف رواہ سے روایت کریں اور جو غیر مشہورا رواہ سے روایت کریں وہ نہ لکھنا اور نہ لکھنا اسماعیل بن عیاش سے وہ روایات بھی جو وہ روایت کریں معروف رواہ سے یا کسی غیر سے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ اکْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ مَا رَوَی عَنْ الْمَعْرُوفِينَ وَلَا تَکْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَی عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ وَلَا تَکْتُبْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ مَا رَوَی عَنْ الْمَعْرُوفِينَ وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، حضرت عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ بقیہ اچھا ہوتا اگر وہ ناموں کو کنیت سے اور کنیت کو ناموں سے بیان نہ کرتا ایک عرصہ تک وہ ہم سے ابوسعید وحاظی سے روایت کرتا رہا بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ تو عبدالقدوس ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ نِعْمَ الرَّجُلُ بَقِيَّةُ لَوْلَا أَنَّهُ کَانَ يَکْنِي الْأَسَامِيَ وَيُسَمِّي الْکُنَی کَانَ دَهْرًا يُحَدِّثُنَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْوُحَاظِيِّ فَنَظَرْنَا فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
احمد بن یوسف ازدی، حضرت عبدالرزاق کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو عبدالقدوس کے علاوہ کسی کو جھوٹا کہتے ہوئے نہیں سنا۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ يَقُولُا مَا رَأَيْتُ ابْنَ الْمُبَارَکِ يُفْصِحُ بِقَوْلِهِ کَذَّابٌ إِلَّا لِعَبْدِ الْقُدُّوسِ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ کَذَّابٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، حضرت ابونعیم نے معلی بن عرفان کا ذکر کیا تو کہا کہ ہم سے معلی نے ابو وائل سے نقل کیا ہے کہ ہمارے سامنے عبداللہ بن مسعود جنگ صفین سے آئے تھے ابونعیم نے کہا کہ کیا تو نے ان کو دیکھا ہے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ وَذَکَرَ الْمُعَلَّی بْنَ عُرْفَانَ فَقَالَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ بِصِفِّينَ فَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ أَتُرَاهُ بُعِثَ بَعْدَ الْمَوْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عمرو بن علی، حسن حلوانی، عفان بن مسلم فرماتے ہیں کہ ہم اسماعیل بن علیہ کی مجلس میں تھے کہ ایک شخص نے کسی شخص سے حدیث بیان کی تو میں نے کہا کہ وہ غیر معتبر شخص ہے وہ شخص کہنے لگا کہ تم نے اس کی غیبت کی اسماعیل نے کہا اس نے غیبت نہیں کی بلکہ حکم بیان کیا کہ وہ فن حدیث میں معتبر نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ فَحَدَّثَ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَبْتٍ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ اغْتَبْتَهُ قَالَ إِسْمَعِيلُ مَا اغْتَابَهُ وَلَکِنَّهُ حَکَمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابوجعفردارمی، حضرت بشر بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس سے محمد بن عبدالرحمن کے بارے میں پوچھا کہ وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتا ہے فرمایا وہ ثقہ نہیں ہے اور میں نے امام مالک (رح) سے ابوالحویرث کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ بھی ثقہ و معتبر نہیں ہے میں نے شعبہ کے بارے میں پوچھا جن سے ابن ابی ذئب روایت کرتا ہے فرمایا وہ بھی غیر ثقہ ہے پھر میں نے توامہ کے آزاد کردہ غلام صالح کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ بھی غیر ثقہ ہے پھر میں نے عثمان بن حرام کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا وہ ثقہ نہیں ہے اور میں نے امام مالک سے ان پانچوں راویوں کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یہ اپنی حدیث میں ثقہ نہیں ہیں اور میں نے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کا نام میں بھول گیا ہوں تو فرمایا کہ تو نے اس کی روایت میری کتابوں میں دیکھی ہے میں نے کہا نہیں فرمایا کہ اگر وہ ثقہ و معتبر ہوتا تو تو اس کو میری کتابوں میں ضرور دیکھتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ فَقَالَ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ فَقَالَ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَسَأَلْتُهُ عَنْ شُعْبَةَ الَّذِي رَوَی عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فَقَالَ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَسَأَلْتُهُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ فَقَالَ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَسَأَلْتُ مَالِکًا عَنْ هَؤُلَائِ الْخَمْسَةِ فَقَالَ لَيْسُوا بِثِقَةٍ فِي حَدِيثِهِمْ وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ نَسِيتُ اسْمَهُ فَقَالَ هَلْ رَأَيْتَهُ فِي کُتُبِي قُلْتُ لَا قَالَ لَوْ کَانَ ثِقَةً لَرَأَيْتَهُ فِي کُتُبِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
فضل بن سہل، یحییٰ بن معین، حجاج بیان کرتے کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے شرحبیل بن سعد سے روایت بیان کی اور شرحبیل متہم فی الحدیث تھے۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ وَکَانَ مُتَّهَمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد عبداللہ قہزاد، حضرت ابواسحاق طالقانی فرماتے ہیں میں نے ابن مبارک کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ میں پہلے جنت میں داخل ہوں یا عبداللہ بن محرر سے ملاقات کروں تو میں اس سے ملنے کو پسند کروں گا پھر جنت میں داخل ہوں گا جب میں نے اس کی تحقیق کی تو اونٹ کی مینگنی مجھے اس سے زیادہ پسند ہونے لگی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ الطَّالَقَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَکِ يَقُولُا لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَرَّرٍ لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ کَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
فضل بن سہل، ولید بن صالح، عبیداللہ بن عمر، حضرت زید بن ابی انیسہ کہا کرتے تھے کہ میرے بھائی سے احادیث مبارکہ مت بیان کیا کرو۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ لَا تَأْخُذُوا عَنْ أَخِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
احمد بن ابراہیم دورقی حضرت عبیداللہ بن عمرو نے کہا یحییٰ بن ابی انیسہ کذاب تھا۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ الْوَابِصِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ کَانَ يَحْيَی بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ کَذَّابًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
احمد بن ابراہیم، سلیمان، حضرت حماد بن زید کہتے ہیں کہ فرقد بن یعقوب کا ذکر ایوب کے سامنے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ فرقد حدیث کا اہل نہیں۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ذُکِرَ فَرْقَدٌ عِنْدَ أَيُّوبَ فَقَالَ إِنَّ فَرْقَدًا لَيْسَ صَاحِبَ حَدِيثٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن بشر عبدی نے کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا جب ان کے سامنے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اس کو بہت زیادہ ضعیف فرمایا کسی نے یحییٰ سے کہا کہ وہ یعقوب بن عطاء سے بھی زیادہ ضعیف ہے تو فرمایا ہاں پھر فرمایا میرے خیال میں تو کوئی بھی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایات نقل نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ذُکِرَ عِنْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ فَضَعَّفَهُ جِدًّا فَقِيلَ لِيَحْيَی أَضْعَفُ مِنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَائٍ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ مَا کُنْتُ أَرَی أَنَّ أَحَدًا يَرْوِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
بشر بن حکیم نے کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید قطان کو حکم بن جبیر اور عبدالاعلی اور یحییٰ بن موسیٰ بن دینار کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا اور یحییٰ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی مرویات ہوا کی طرح ہیں اور موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ مدنی کو بھی ضعیف فرمایا امام مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بن عیسیٰ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ مجھ سے ابن مبارک نے فرمایا جب تم جریر کے پاس جاؤ تو اس کا تمام علم لکھ لینا مگر تین روایوں کی احادیث اس سے مت لکھنا عبید بن معتب دری بن اسماعیل اور محمد بن سالم۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ضَعَّفَ حَکِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ الْأَعْلَی وَضَعَّفَ يَحْيَی بْنَ مُوسَی بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدِيثُهُ رِيحٌ وَضَعَّفَ مُوسَی بْنَ دِهْقَانَ وَعِيسَی بْنَ أَبِي عِيسَی الْمَدَنِيّ َقَالَ وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عِيسَی يَقُولُ قَالَ لِي ابْنُ الْمُبَارَکِ إِذَا قَدِمْتَ عَلَی جَرِيرٍ فَاکْتُبْ عِلْمَهُ کُلَّهُ إِلَّا حَدِيثَ ثَلَاثَةٍ لَا تَکْتُبْ حَدِيثَ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ وَالسَّرِيِّ بْنِ إِسْمَعِيلَ وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
امام مسلم فرماتے کہ ہم نے مذکورہ سطور میں متہم راویان حدیث کے بارے میں اہل علم کے کلام سے ضعیف راویوں کی جو تفصیل ذکر کی ہے اور ان کی مرویات کے جن عیوب ونقائص کا ذکر کیا ہے وہ صاحب فراست کے لئے کافی ہیں اگر وہ تمام تنقیدی اقوال نقل کئے جاتے جو رواہ حدیث کے متعلق علمائے حدیث نے بیان کئے تو کتاب بہت طویل ہوجاتی اور ائمہ حدیث نے راویوں کا عیب کھول دینا ضروری سمجھا اور اس بات کا فتوی دیا جب ان سے پوچھا گیا اس لئے یہ بڑا اہم کام ہے کیونکہ دین کی بات جب نقل کی جائے گی تو وہ کسی امر کے حلال ہونے کے لئے کافی ہوگی یا حرام ہونے کے لئے یا کسی بات کا حکم ہوگا یا کسی بات کی ممانعت یا وہ رغبت وخوف کے متعلق ہوگی تو یہ تمام احکام ونواہی احادیث پر موقوف ہیں جب حدیث کا کوئی راوی خود صادق اور امانت دار نہ ہو اور وہ روایت کا اقدام کرے اور بعد والے اس راوی کی ثقاہت کے باوجود دوسرے کو جو اس کو غیر ثقہ کے طور پر نہ جانتا ہو اس کی کوئی روایت بیان کرے اور اصل راوی کے احوال پہ کوئی تنقید وتبصرہ نہ کریں تو یہ مسلم عوام کے ساتھ خیانت اور دھوکا ہوگا کیونکہ ان احادیث میں بہت سی احادیث موضوع اور من گھڑت ہوں گی اور عوام کی اکثریت راویوں کے احوال سے نا واقفیت کی بناء پر ان احادیث پر عمل کرے گی تو اس کا گناہ اس راوی پر ہوگا جس نے یہ حدیث بیان کی کہ اس حدیث کو سننے والوں کی غیر معمولی تعداد مسلمانوں کی لاعلمی کی وجہ سے اس پر عمل کرنے کی وجہ سے گناہگار ہو کیونکہ واقعہ میں وہ حدیث ہی نہیں یا کم از کم اس میں تغیر وتبدل کم بیشی تراش خراش کردی گئی علاوہ ازیں جبکہ احادیث صحیحہ جن کو معتبر اور ثقہ رواہ نے بیان کیا ہے اس قدر کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ ان کی موجودگی میں ان باطل اور من گھڑت روایات کی مطلقا ضرورت ہی باقی نہیں رہتی اس تحقیق کے بعد میں یہ گمان نہیں کرتا کہ کوئی شخص اپنی کتاب میں مجہول غیر ثقہ اور غیر معتبر راویوں کی احادیث نقل کرے گا خصوصا جبکہ وہ سند حدیث سے مطلع ہو۔ سوائے اس شخص کے جو لوگوں کے نزدیک اپنا کثرت علم ثابت کرنا چاہیں کہ لوگ کہیں کہ وہ احادیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ پیش کرسکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ باطل و موضوع اور من گھڑت اسانید کے ساتھ بھی احادیث پیش کرنے میں تامل نہیں کرے گا تاکہ لوگ اس کی وسعت علم و کثرت روایات پر داد دیں لیکن جو شخص ایسے باطل طریقہ کو اختیار کرے گا اہل علم اور دانش مند طبقہ کے ہاں ایسے متحر عالم کی کوئی وقعت وقدر نہ ہوگی اور ایسے شخص کی وسعت علمی کو نادانی اور جہالت سے تعبیر کیا جائے گا۔
قَالَ مُسْلِم وَأَشْبَاهُ مَا ذَکَرْنَا مِنْ کَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُتَّهَمِي رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَإِخْبَارِهِمْ عَنْ مَعَايِبِهِمْ کَثِيرٌ يَطُولُ الْکِتَابُ بِذِکْرِهِ عَلَی اسْتِقْصَائِهِ وَفِيمَا ذَکَرْنَا کِفَايَةٌ لِمَنْ تَفَهَّمَ وَعَقَلَ مَذْهَبَ الْقَوْمِ فِيمَا قَالُوا مِنْ ذَلِکَ وَبَيَّنُوا وَإِنَّمَا أَلْزَمُوا أَنْفُسَهُمْ الْکَشْفَ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَاقِلِي الْأَخْبَارِ وَأَفْتَوْا بِذَلِکَ حِينَ سُئِلُوا لِمَا فِيهِ مِنْ عَظِيمِ الْخَطَرِ إِذْ الْأَخْبَارُ فِي أَمْرِ الدِّينِ إِنَّمَا تَأْتِي بِتَحْلِيلٍ أَوْ تَحْرِيمٍ أَوْ أَمْرٍ أَوْ نَهْيٍ أَوْ تَرْغِيبٍ أَوْ تَرْهِيبٍ فَإِذَا کَانَ الرَّاوِي لَهَا لَيْسَ بِمَعْدِنٍ لِلصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ ثُمَّ أَقْدَمَ عَلَی الرِّوَايَةِ عَنْهُ مَنْ قَدْ عَرَفَهُ وَلَمْ يُبَيِّنْ مَا فِيهِ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ جَهِلَ مَعْرِفَتَهُ کَانَ آثِمًا بِفِعْلِهِ ذَلِکَ غَاشًّا لِعَوَامِّ الْمُسْلِمِينَ إِذْ لَا يُؤْمَنُ عَلَی بَعْضِ مَنْ سَمِعَ تِلْکَ الْأَخْبَارَ أَنْ يَسْتَعْمِلَهَا أَوْ يَسْتَعْمِلَ بَعْضَهَا وَلَعَلَّهَا أَوْ أَکْثَرَهَا أَکَاذِيبُ لَا أَصْلَ لَهَا مَعَ أَنَّ الْأَخْبَارَ الصِّحَاحَ مِنْ رِوَايَةِ الثِّقَاتِ وَأَهْلِ الْقَنَاعَةِ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَی نَقْلِ مَنْ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَلَا مَقْنَعٍ وَلَا أَحْسِبُ کَثِيرًا مِمَّنْ يُعَرِّجُ مِنْ النَّاسِ عَلَی مَا وَصَفْنَا مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الضِّعَافِ وَالْأَسَانِيدِ الْمَجْهُولَةِ وَيَعْتَدُّ بِرِوَايَتِهَا بَعْدَ مَعْرِفَتِهِ بِمَا فِيهَا مِنْ التَّوَهُّنِ وَالضَّعْفِ إِلَّا أَنَّ الَّذِي يَحْمِلُهُ عَلَی رِوَايَتِهَا وَالِاعْتِدَادِ بِهَا إِرَادَةُ التَّکَثُّرِ بِذَلِکَ عِنْدَ الْعَوَامِّ وَلِأَنْ يُقَالَ مَا أَکْثَرَ مَا جَمَعَ فُلَانٌ مِنْ الْحَدِيثِ وَأَلَّفَ مِنْ الْعَدَدِ وَمَنْ ذَهَبَ فِي الْعِلْمِ هَذَا الْمَذْهَبَ وَسَلَکَ هَذَا الطَّرِيقَ فَلَا نَصِيبَ لَهُ فِيهِ وَکَانَ بِأَنْ يُسَمَّی جَاهِلًا أَوْلَی مَنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَی عِلْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ حدیث معنعن سے حجت پکڑنا صحیح ہے جبکہ معنعن والوں کی ملاقات ممکن ہو اور ان میں کوئی راوی مدلس نہ ہو۔
امام مسلم فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض ہمعصر محدثین نے سند حدیث کی صحت اور سقم کے بارے میں ایک ایسی غلط شرط عائد کی ہے جس کا اگر ہم ذکر نہ کرتے اور اس کا ابطال نہ کرتے تو یہی زیادہ مناسب اور عمدہ تجویز ہوتی اس لئے کہ قول باطل و مردود کی طرف التفات نہ کرنا ہی اس کو ختم کرنے اور اس کے کہنے والے کا نام کھو دینے کے لئے بہتر اور موزوں و مناسب ہوتا ہے تاکہ کوئی جاہل اور ناواقف اس قول باطل کو قول صواب و صحیح نہ سمجھ لے مگر ہم انجام کی برائی سے ڈرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جاہل نئی نئی باتوں کے زیادہ دلدادہ اور عجیب و غریب شرائط کے شیدا ہوتے ہیں اور غلط بات پر جلد اعتقاد کرلیتے ہیں حالانکہ وہ بات علماء راسخین کے نزدیک ساقط الاعتبار ہوتی ہے لہذا اس نظریہ کے پیش نظر ہم نے معاصرین کے قول باطل کی غلطی بیان کرنا اور اس کو رد کرنا اس کا فساد وبطلان اور خرایباں ذکر کرنا لوگوں کے لئے بہتر اور فائدہ مند خیال کیا تاکہ عام لوگ غلط فہمی سے محفوظ رہیں اور ان کا انجام بھی نیک ہو اور اس شخص نے جس کے قول سے ہم نے بات مذکور شروع کی ہے اور جس کے فکر و خیال کو ہم نے باطل قرار دیا ہے یوں گمان اور خیال کیا ہے کہ جس حدیث کی سند میں فلاں عن فلاں ہو اور ہم کو یہ بھی معلوم ہو کہ وہ دونوں معاصر ہیں اس لئے کہ ان دونوں کی ملاقات ممکن ہے اور حدیث کا سماع بھی البتہ ہمارے پاس کوئی دلیل یا روایت ایسی موجود نہ ہو جس سے قطعی طور پر یہ بات ثابت ہو سکے کہ ان دونوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ہو اور ایک نے دوسرے سے بالمشافہ اور بلاواسطہ حدیث سنی تو ایسی اسناد سے جو حدیث روایت کی جائے وہ حدیث ان لوگوں کے ہاں اس وقت تک قابل اعتبار اور حجت نہ ہوگی جب تک انہیں اس بات کا یقین نہ ہوجائے کہ وہ دونوں اپنی عمر اور زندگی میں کم از کم ایک بار ملے تھے یا ان میں سے ایک شخص نے دوسرے سے بالمشافہ حدیث سنی تھی یا کوئی ایسی روایت ہو جس سے یہ ثابت ہو کہ ان دونوں کی زندگی میں کم از کم ایک بار ملاقات ہوئی اور اگر نہیں تو کسی دلیل سے ان کی ملاقات کا یقین ہو سکے نہ کسی روایت سے ان کی ملاقات اور سماع ثابت ہو تو ان کے نزدیک اس روایت کا قبول کرنا اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک کہ کسی روایت آخر سے ان کی ملاقات اور سماع ثابت نہ ہوجائے خواہ ایسی روایات قلیل ہوں یا کثیر۔ اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے یہ قول اسناد کے باب میں ایک نیا ایجاد کیا ہے جو پیشرو محدثین میں سے کسی نے نہیں کہا اور نہ علماء حدیث نے اس کی موافقت کی ہے کیونکہ موجودہ اور سابقین تمام علماء حدیث وارباب فن حدیث اور اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب کوئی ثقہ اور عادل راوی اپنے ایسے ہم عصر ثقہ اور عادل راوی سے کوئی حدیث روایت کرے جس سے اس کی ملاقات اور سماع باعتبار سن اور عمر کے اس وجہ سے ممکن ہو کہ وہ دونوں ایک زمانہ میں موجود تھے تو اس کی روایت قابل قبول اور لائق حجت ہے خوار ہمارے پاس ان کی باہمی ملاقات اور بالمشافہ سماع حدیث پر نہ کوئی دلیل ہو اور کسی اور روایت سے یہ امر ثابت ہو البتہ اگر کسی دلیل یا روایت سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوجائے کہ درحقیقت یہ راوی دوسرے سے نہیں ملایا ملاقات تو ہوئی لیکن اس سے کوئی روایت نہیں سنی تو اس صورت میں وہ حدیث قابل حجت نہ ہوگی لیکن جب تک یہ امر مبہم رہے یعنی کوئی دلیل نہ ملنے اور نہ سننے کی نہ ہو تو صرف ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہے اور اس روایت کو سماع پر محمول کرتے ہوئے قابل حجت سمجھا جائے گا۔ پھر جس شخص نے یہ قول نکالا یا اس کی حمایت کرتا ہے اس سے کہا جائے گا کہ یہ تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ ایک ثقہ راوی کی روایت دوسرے ثقہ راوی سے حجت ہوتی ہے اور اس کے مقتضی پر عمل لازم ہوتا ہے پھر تم نے مزید ایک شرط کا اضافہ کردیا کہ ان دونوں کی ملاقات بھی ضروری یا اس سے کوئی حدیث سنی تھی اب اس شرط کا ثبوت کسی ایسے ماہر فن حدیث کے قول سے پیش کرنا لازم ہے جس کا ماننا لازم ہو یا صرف تم نے کسی دلیل کی بنیاد پر نئی اختراعی اور من گھڑت شرط عائد کی ہے اگر وہ دعوی کرے کہ اس باب میں سلف کا قول اس شرط کے ثبوت کے لئے تو اس سے اس کی دلیل طلب کی جائے گی لیکن وہ ہرگز ایسا کوئی قول نہیں لاسکے گا نہ اور صاحب علم اس کے علاوہ اور دوسرے صورت کہ اگر وہ کوئی دلیل قائم کرنا چاہے تو اس سے کہا جائے گا وہ دلیل کیا ہے ؟ یہ بھی باطل ہے کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے اگر یہ شخص اپنی اختراعی شرط کے ثبوت میں یہ کہے کہ میں نے زمانہ حال اور ماضی میں بہت ایسے رواہ حدیث دیکھے ہیں جو ایک دوسرے سے حدیث روایت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے دوسرے کو دیکھا نہ اس سے سنا ہے جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے مرسل کو بغیر سماع کے روایت کرنا جائز رکھا ہے اور مرسل روایات ہمارے اور اہل علم کے قول کے مطابق حجت نہیں ہیں اس لئے میں نے سند حدیث میں راوی کے سماع کی شرط عائد کردی پھر اگر مجھے کہیں سے ذرا بھر بھی ثابت ہوگیا کہ راوی نے مروی عنہ سے حدیث سنی ہے تو اس کی تمام مرویات مقبول ہوں گی اور اگر مجھے بالکل معلوم نہ ہوا کسی قرینہ یا روایت اس کا سماع تو حجت نہ ہوگی اس لئے کہ ممکن ہے اس کا مرسل ہونا یہ مخالف فریق کی دلیل مذکور ہوئی آگے اس کا جواب ذکر فرماتے ہیں تو اس سے کہا جائے گا اگر تیرے نزدیک حدیث کو ضعیف کرنے کی اور اس کو قابل حجت نہ ماننے کی علت صرف ارسال کا ممکن ہونا ہے تو آپ کے قاعدہ کے مطابق یہ بات لازم آتی ہے کہ تو کسی اسناد معنعن کو نہ مانے جب تک تو اول سے لے کر آخر تک اس میں سماع کی تصریح نہ دیکھے یعنی ہر راوی اپنی سماعت دوسرے سے بیان کرے فرض کرو جو حدیث ہم تک اس سند سے پہنچی ہے ہشام اپنے باپ عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سماع کیا اور ہمیں یقینا معلوم ہے کہ ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور اس کے باپ عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سنا ہے جیسے ہم کو یہ بھی قطعی طور پر معلوم ہے کہ سیدہ عائشہ نے نبی کریم ﷺ سے سماع کیا ہے اور یہ سند بالا تفاق مقبول ہو کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ہشام کسی روایت میں یوں نہ کہیں کہ میں نے عروہ سے سنا ہے یا عروہ نے مجھے خبر دی (یعنی سمعت یا اخبرنی کا صیغہ استعمال نہ کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حدیث ہشام نے اپنے والد سے براہ راست نہ سنی ہو بلکہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص واسطہ ہو جس کا ذکر ہشام نے نہ کیا ہو اور براہ راست اپنے والد سے حدیث روایت کردی ہو اسی طرح یہ احتمال عروہ اور سیدہ عائشہ کے درمیان بھی ہوسکتا ہے جو ہشام اور عروہ کے درمیان مذکور ہوا ہے خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ہر وہ حدیث جس کا راوی مروی عنہ سے حدیث سننے کی تصریح نہ کرے اس میں یہ ممکن ہے کہ راوی نے مروی عنہ سے وہ حدیث براہ راست اور بلا واسطہ نہ سنی ہو اگرچہ یہ بات معلوم ہو کہ ایک نے دوسرے سے بہت سی احادیث سنی ہیں مگر یہ ہوسکتا ہے کہ بعض روایات اس سے نہ سنی ہیں بلکہ کسی اور سے سن کر اس کو مرسلاً نقل کردیا ہو لیکن جس کے واسطہ سے سن کر اس کا نام نہ لیا ہو اور کبھی اس اجمال کو رفع کرنے کے لئے اس کا نام بھی لے دیا اور ارسال ترک کردیا۔ امام مسلم فرماتے ہیں کہ یہ احتمال جو ہم نے بیان کیا صرف فرضی اور ظنی نہیں بلکہ حدیث میں موجود اور بہت سے ثقہ محدثین کی روایات میں جاری ہے ہم تھوڑی سی ایسی روایات ذکر کرتے ہیں اہل علم کی جن سے اگر اللہ نے چاہا تو بہت سی روایتوں پر دلیل پوری ہوگی پہلی روایت یہ ہے کہ ایوب سختیانی ابن مبارک وکیع اور ابن نمیر اور ایک کثیر جماعت نے ہشام سے روایت کی ہے اس نے اپنے باپ عروہ سے اس نے حضرت عائشہ (رض) اور حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے احرام باندھنے اور کھولنے کے مواقع پر حضور ﷺ کو وہ خوشبو لگایا کرتی تھی جو میرے پاس بہتر سے بہتر موجود ہوتی لیکن اس حدیث کو بعینہ لیث بن سعد داؤد عطار حمید بن اسود وہیب بن خالد اور ابواسامہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ہشام فرماتے ہیں کہ مجھے عثمان بن عروہ نے خبر دی عن عائشہ عن النبی ﷺ مثال ثانی ہشام اپنے والد سے اور وہ عائشہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ حالت اعتکاف میں اپنا سر میرے قریب کردیتے اور میں آپ ﷺ کے سر اقدس میں کنگھی کرتی حالانکہ میں حالت حیض میں ہوتی اسی روایت کو بعینہ مالک بن انس نے اس سند سے نقل کیا ہے عن زہری عن عروہ عن عمرہ عن عائشہ عن النبی ﷺ تیسری مثال زہری اور صالح بن ابی حسان نے بواسطہ ابوسلمہ حضرت عائشہ (رض) نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیتے تھے لیکن یحییٰ بن کثیر نے اس بو سے کی حدیث کو یوں روایت کیا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ نے ان کو خبر دی عمر بن عبدالعزیز نے ان کو خبر دی عروہ نے ان کو خبر دی سیدہ عائشہ نے کہا رسول اللہ ﷺ انہیں روزہ کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے۔ چوتھی مثال یہ ہے کہ ابن عیینہ وغیرہ نے عمرو بن دینار سے حدیث جابر روایت کی ہے کہ حضرت جابر نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں کا گوشت کھلایا اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور اسی حدیث کو حماد بن زید نے عمرو سے انہوں نے محمد بن علی سے انہوں نے حضرت جابر سے عن النبی ﷺ روایت کیا ہے۔ اس قسم کی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن جتنی ہم نے بیان کیں وہ سمجھنے والوں کے لئے کافی ہیں پھر جب علت اس شخص کے نزدیک جس کا قول ہم نے اوپر ذکر کیا حدیث کے غیر معتبر ہونے کی یہ ہوئی کہ ایک راوی کا سماع جب دوسرے راوی سے معلوم نہ ہو تو ارسال ممکن ہے تو اس قول کے مطابق ان لوگوں پر لازم ہے کہ ایسی احادیث سے حجت پکڑنا ترک کردیں جن میں راوی کی مروی عنہ سے سماع کی تصریح نہ ہو خواہ دوسرے روایت میں سماع ثابت ہو البتہ اس شخص کے نزدیک وہی حدیث حجت ہوگی جس میں سماع کی تصریح ہو کیونکہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں ائمہ حدیث روایت حدیث میں کبھی تو بعض راویوں کے ذکر کو چھوڑ دیتے ہیں یعنی ارسال کرتے ہیں اور جس سے سنا ہے اس کو سند میں بیان نہیں کرتے اور کبھی خوش ہوتے ہیں تو حدیث کی سند مکمل اسی طرح بیان کردیتے ہیں جس طرح انہوں نے اپنے شیخ سے سنی ہوتی ہے پھر اگر ان کو اتار ہوتا تو اتار بتلاتے اور جو چڑھاؤ ہوتا تو چڑھاؤ بتلاتے جیسے ہم اوپر صاف بیان کرچکے۔ متقدمین میں سے ائمہ حدیث مثلا ایوب سختیانی ابن عوف مالک بن انس شعبہ بن حجاج یحییٰ بن سعید قطان عبدالرحمن بن مہدی اور ان کے بعد ائمہ حدیث میں سے کسی کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ وہ اسناد میں سماع کی تحقیق کرتے ہوں اور کسی محدث نے بھی سماع کی قید نہیں لگائی جیسے یہ شخص دعوی کرتا ہے جس کا قول ہم نے اوپر ذکر کیا ہے البتہ جو راوی تدلیس کرنے میں مشہور ہو اس کے بارے میں محدثین یہ تحقیق ضرور کرتے ہیں کہ وہ جس شیخ کی طرف روایت کی نسبت کررہا ہے فی الوقع اس شخص نے شیخ مذکور سے حدیث سنی بھی ہے یا اس کی طرف تدلیس کی نسبت کردی ہے اور اصل میں کسی اور سے حدیث سنی ہے لیکن یہ تحقیق اس وقت کرنے کا مقصد تدلیس کے مرض کو دور کرنا ہوتا ہے اور اگر فی الواقع راوی نے سند میں تدلیس کی ہو تو اس سند کا عیب ظاہر ہوجائے لیکن سماع کی تحقیق اس راوی میں جو مدلس نہ ہو جس طرح اس شخص نے بیان کیا تو ائمہ اس کی سند اور روایت کے بارے میں تحقیق اس قسم کی نہیں کرتے کہ راوی نے مروی عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں حدیث کے قبول کرنے کے لئے ان لوگوں نے جو یہ باطل شرط عائد کی ہے اس کا ذکر ہم نے فن حدیث کے کسی امام سے نہیں سنا خواہ وہ ائمہ حدیث ہوں جن کا ذکر کیا یا ان کے علاوہ اس قسم کی روایات میں سے عبداللہ بن یزید انصاری کی روایت ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے یعنی صحابی ہیں وہ حضرت حذیفہ اور ابومسعود انصاری دونوں میں سے ہر ایک سے حدیث روایت کرتے ہیں اور اس کو مسند کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ تک اس کے باوجود عبداللہ بن یزید کی کسی روایت پر اعتراض اس وجہ سے نہیں سنا کہ ان کی حذیفہ اور مسعود سے ملاقات اور سماع ثابت نہیں اس کے برخلاف ہمارے علم میں جس قدر اہل علم ہیں وہ سب ان کی سند کو قوی ترین اسانید میں شمار کرتے ہیں اور کسی اہل علم نے عبداللہ کی ان دونوں سے روایت کرنے پر طعن نہیں کیا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں بلکہ وہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں اور ان کے مقتضی پر عمل کرتے اور ان سے حجت لیتے ہیں حالانکہ یہی احادیث اس شخص کے نزدیک جس کا قول ہم نے اوپر ذکر کیا ثبوت ملاقات کی شرط ضعیف غیر معتبر اور بےکار ہیں یہاں تک راوی کا مروی عنہ سے سماع متحقق نہ ہوجائے اور اگر ہم ان تمام احادیث کا شمار شروع کردیں جن کو تمام اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے اور اس شخص کے نزدیک ضعیف کمزور ہیں تو ان کو ذکر کرنے اور شمار کرنے سے ہم عاجز آجائیں گے باوجود اس کے ہم چاہتے ہیں کہ بطور نمونہ ایسی متفق علیہ احادیث کی چند مثالیں پیش کردیں جو اہل علم کے نزدیک معتبر و صحیح ہیں اور ان کی شرط کے مطابق ضعیف اور غیر معتبر قرار پاتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔ حضرت ابوعثمان نہدی عبدالرحمن اور ابورافع صالغ نقیع مدنی دونوں نے دور جاہلیت پایا اور صحابہ کرام میں بہت سے بدری صحابہ سے ملے ہیں ان سے احادیث روایت کی ہیں پھر ان سے اتر کر صحابہ سے یہاں تک کہ ابوہریرہ اور ابن عمر سے بھی احادیث روایت کی ہیں ان دونوں میں سے ہر ایک نے ابی بن کعب کے واسطہ سے حضور اکرم ﷺ سے بھی احادیث روایت کی ہیں حالانکہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان دونوں نے ابی بن کعب کو دیکھا یا ان سے سماع کیا ہو۔ دوسری مثال حضرت ابوعمرو شیبانی سعد بن ایاس کی سند ہے اور وہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے دور جاہلیت کو پایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ حیات میں جوان مرد تھا اور ابومعمر عبداللہ بن سنجرہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے ابومسعود انصاری کے واسطہ سے حضور ﷺ سے دو احادیث روایت کی ہیں۔ تیسری مثال حضرت عبید بن نمیر کی سند ہے کہ انہوں نے ام سلمہ زوجہ رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے ایک حدیث نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے حالانکہ عبید نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ چوتھی مثال حضرت قیس بن ابی حازم کی سند ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ابومسعود انصاری کے واسطہ سے حضور ﷺ سے تین احادیث روایت کی ہیں۔ پانچویں مثال حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کی سند حدیث ہے اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب سے سنا اور حضرت علی کی صحبت میں رہے ہیں انہوں نے انس بن مالک کے واسطہ سے حضور ﷺ سے ایک حدیث روایت کی ہے۔ چھٹی مثال ربعی بن حراش کی سند ہے کہ انہوں نے عن عمران بن حصین عن النبی دو احادیث اور عن ابی بکرہ عن النبی ایک حدیث روایت کی ہے حالانکہ ربعی نے علی بن ابی طالب سے سنا اور ان کی روایت بھی کی ہے۔ ساتویں مثال حضرت نافع بن جبیر بن مطعم کی سند ہے انہوں نے ابوشرح خزاعی کے واسطہ سے حضور ﷺ سے ایک حدیث روایت کی ہے۔ آٹھویں مثال حضرت نعمام بن ابی عیاش کی سند ہے کہ انہوں نے تین احادیث ابوسعید خدری کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہیں۔ نویں مثال عطاء بن یزید لیث کی سند ہے کہ انہوں نے عن تمیم داری عن النبی ﷺ ایک حدیث روایت کی ہے۔ دسوین مثال سلیمان بن یسار کی سند ہے کہ انہوں نے عن رافع بن خدیج عن النبی ایک حدیث روایت کی ہے گیارہویں مثال حمید بن عبدالرحمن حمیری کی سند ہے کہ انہوں نے عن ابی ہریرہ عن النبی ﷺ کئی احادیث روایت کی ہیں۔ پھر یہ سب تابعین جن کی روایات ہم نے صحابہ سے کی اور ان کے نام بھی بتلائے ہیں ان میں سے کسی تابعی کے بارے میں ہمیں یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ اس نے ان صحابہ کرام سے سماع کیا ہو اور نہ ہی یہ بات متحقق ہوسکی کہ ان تابعین کی ان صحابہ کرام سے ملاقات ہوئی ہو اور یہ اسانید حدیث اور روایت کے پہچاننے والوں کے نزدیک صحیح اسناد میں سے ہیں اور نہ ہمارے علم میں ایسا کوئی شخص ہے جس نے ان اسانید کو ضعیف قرار دیا ہو یا ان اسانید میں سماع کی تلاش کی ہو کیونکہ تابعین میں سے ہو تایعی کا صحابی سے حدیث سننا ممکن تھا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے کے معاصرین اور ہم زمانہ تھے اس لئے اس کا انکار ممکن نہیں اور یہ قول جس کو اس شخص نے نکالا ہے جس کا ہم نے اوپر بیان کیا احادیث صحیحہ کو ضعیف قرار دینے کے لائق نہیں کہ اس کی طرف التفات کیا جائے یا ذکر کیا جائے اس لئے یہ قول نیا، غلط اور فاسد ہے متقدین اہل علم اور اسلاف میں سے کسی محدث نے یہ بات نہیں فرمائی اور جو لوگ اسلاف کے بعد گزرے انہوں نے بھی اس کا انکار کیا ہے جب اہل علم اسلام اور معاصرین نے اس قول کو رد کردیا تو اس سے بڑھ کر اس باطل وفاسد قول کو رد کرنے کی حاجت و ضرورت نہیں جب اس قول اور اس کے کہنے والے کی قدر ومنزلت اور وقعت جیسے بیان ہوئی سب پر واضح ہوگئی اور اللہ مدد کرنے والا ہے اور بات کو رد کرنے کے لئے جو علماء کے مذہب کے خلاف ہے اور اسی پر بھروسہ ہے تمام حمد وثناء کا اللہ تعالیٰ ہی مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتیں سیدنا محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی آل واصحاب ہی کے شایان شان ہیں
وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ مُنْتَحِلِي الْحَدِيثِ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا فِي تَصْحِيحِ الْأَسَانِيدِ وَتَسْقِيمِهَا بِقَوْلٍ لَوْ ضَرَبْنَا عَنْ حِكَايَتِهِ وَذِكْرِ فَسَادِهِ صَفْحًا لَكَانَ رَأْيًا مَتِينًا وَمَذْهَبًا صَحِيحًا إِذْ الْإِعْرَاضُ عَنْ الْقَوْلِ الْمُطَّرَحِ أَحْرَى لِإِمَاتَتِهِ وَإِخْمَالِ ذِكْرِ قَائِلِهِ وَأَجْدَرُ أَنْ لَا يَكُونَ ذَلِكَ تَنْبِيهًا لِلْجُهَّالِ عَلَيْهِ غَيْرَ أَنَّا لَمَّا تَخَوَّفْنَا مِنْ شُرُورِ الْعَوَاقِبِ وَاغْتِرَارِ الْجَهَلَةِ بِمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ وَإِسْرَاعِهِمْ إِلَى اعْتِقَادِ خَطَإِ الْمُخْطِئِينَ وَالْأَقْوَالِ السَّاقِطَةِ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ رَأَيْنَا الْكَشْفَ عَنْ فَسَادِ قَوْلِهِ وَرَدَّ مَقَالَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَلِيقُ بِهَا مِنْ الرَّدِّ أَجْدَى عَلَى الْأَنَامِ وَأَحْمَدَ لِلْعَاقِبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَزَعَمَ الْقَائِلُ الَّذِي افْتَتَحْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْحِكَايَةِ عَنْ قَوْلِهِ وَالْإِخْبَارِ عَنْ سُوءِ رَوِيَّتِهِ أَنَّ كُلَّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ فِيهِ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ وَقَدْ أَحَاطَ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدْ كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَى الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ قَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ وَشَافَهَهُ بِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَعْلَمُ لَهُ مِنْهُ سَمَاعًا وَلَمْ نَجِدْ فِي شَيْءٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُمَا الْتَقَيَا قَطُّ أَوْ تَشَافَهَا بِحَدِيثٍ أَنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ عِنْدَهُ بِكُلِّ خَبَرٍ جَاءَ هَذَا الْمَجِيءَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَهُ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدْ اجْتَمَعَا مِنْ دَهْرِهِمَا مَرَّةً فَصَاعِدًا أَوْ تَشَافَهَا بِالْحَدِيثِ بَيْنَهُمَا أَوْ يَرِدَ خَبَرٌ فِيهِ بَيَانُ اجْتِمَاعِهِمَا وَتَلَاقِيهِمَا مَرَّةً مِنْ دَهْرِهِمَا فَمَا فَوْقَهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عِلْمُ ذَلِكَ وَلَمْ تَأْتِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ تُخْبِرُ أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ عَنْ صَاحِبِهِ قَدْ لَقِيَهُ مَرَّةً وَسَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ فِي نَقْلِهِ الْخَبَرَ عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ عِلْمُ ذَلِكَ وَالْأَمْرُ كَمَا وَصَفْنَا حُجَّةٌ وَكَانَ الْخَبَرُ عِنْدَهُ مَوْقُوفًا حَتَّى يَرِدَ عَلَيْهِ سَمَاعُهُ مِنْهُ لِشَيْءٍ مِنْ الْحَدِيثِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ فِي رِوَايَةٍ مِثْلِ مَا وَرَدَوَهَذَا الْقَوْلُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فِي الطَّعْنِ فِي الْأَسَانِيدِ قَوْلٌ مُخْتَرَعٌ مُسْتَحْدَثٌ غَيْرُ مَسْبُوقٍ صَاحِبُهُ إِلَيْهِ وَلَا مُسَاعِدَ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَيْهِ وَذَلِكَ أَنَّ الْقَوْلَ الشَّائِعَ الْمُتَّفَقَ عَلَيْهِ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْأَخْبَارِ وَالرِّوَايَاتِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا أَنَّ كُلَّ رَجُلٍ ثِقَةٍ رَوَى عَنْ مِثْلِهِ حَدِيثًا وَجَائِزٌ مُمْكِنٌ لَهُ لِقَاؤُهُ وَالسَّمَاعُ مِنْهُ لِكَوْنِهِمَا جَمِيعًا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فِي خَبَرٍ قَطُّ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَا وَلَا تَشَافَهَا بِكَلَامٍ فَالرِّوَايَةُ ثَابِتَةٌ وَالْحُجَّةُ بِهَا لَازِمَةٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ هُنَاكَ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ لَمْ يَلْقَ مَنْ رَوَى عَنْهُ أَوْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا فَأَمَّا وَالْأَمْرُ مُبْهَمٌ عَلَى الْإِمْكَانِ الَّذِي فَسَّرْنَا فَالرِّوَايَةُ عَلَى السَّمَاعِ أَبَدًا حَتَّى تَكُونَ الدَّلَالَةُ الَّتِي بَيَّنَّا فَيُقَالُ لِمُخْتَرِعِ هَذَا الْقَوْلِ الَّذِي وَصَفْنَا مَقَالَتَهُ أَوْ لِلذَّابِّ عَنْهُ قَدْ أَعْطَيْتَ فِي جُمْلَةِ قَوْلِكَ أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ عَنْ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ حُجَّةٌ يَلْزَمُ بِهِ الْعَمَلُ ثُمَّ أَدْخَلْتَ فِيهِ الشَّرْطَ بَعْدُ فَقُلْتَ حَتَّى نَعْلَمَ أَنَّهُمَا قَدْ كَانَا الْتَقَيَا مَرَّةً فَصَاعِدًا أَوْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا فَهَلْ تَجِدُ هَذَا الشَّرْطَ الَّذِي اشْتَرَطْتَهُ عَنْ أَحَدٍ يَلْزَمُ قَوْلُهُ وَإِلَّا فَهَلُمَّ دَلِيلًا عَلَى مَا زَعَمْتَ فَإِنْ ادَّعَى قَوْلَ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ بِمَا زَعَمَ مِنْ إِدْخَالِ الشَّرِيطَةِ فِي تَثْبِيتِ الْخَبَرِ طُولِبَ بِهِ وَلَنْ يَجِدَ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ إِلَى إِيجَادِهِ سَبِيلًا وَإِنْ هُوَ ادَّعَى فِيمَا زَعَمَ دَلِيلًا يَحْتَجُّ بِهِ قِيلَ لَهُ وَمَا ذَاكَ الدَّلِيلُ فَإِنْ قَالَ قُلْتُهُ لِأَنِّي وَجَدْتُ رُوَاةَ الْأَخْبَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا يَرْوِي أَحَدُهُمْ عَنْ الْآخَرِ الْحَدِيثَ وَلَمَّا يُعَايِنْهُ وَلَا سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا قَطُّ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ اسْتَجَازُوا رِوَايَةَ الْحَدِيثِ بَيْنَهُمْ هَكَذَا عَلَى الْإِرْسَالِ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ وَالْمُرْسَلُ مِنْ الرِّوَايَاتِ فِي أَصْلِ قَوْلِنَا وَقَوْلِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْأَخْبَارِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ احْتَجْتُ لِمَا وَصَفْتُ مِنْ الْعِلَّةِ إِلَى الْبَحْثِ عَنْ سَمَاعِ رَاوِي كُلِّ خَبَرٍ عَنْ رَاوِيهِ فَإِذَا أَنَا هَجَمْتُ عَلَى سَمَاعِهِ مِنْهُ لِأَدْنَى شَيْءٍ ثَبَتَ عَنْهُ عِنْدِي بِذَلِكَ جَمِيعُ مَا يَرْوِي عَنْهُ بَعْدُ فَإِنْ عَزَبَ عَنِّي مَعْرِفَةُ ذَلِكَ أَوْقَفْتُ الْخَبَرَ وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَوْضِعَ حُجَّةٍ لِإِمْكَانِ الْإِرْسَالِ فِيهِ فَيُقَالُ لَهُ فَإِنْ كَانَتْ الْعِلَّةُ فِي تَضْعِيفِكَ الْخَبَرَ وَتَرْكِكَ الِاحْتِجَاجَ بِهِ إِمْكَانَ الْإِرْسَالِ فِيهِ لَزِمَكَ أَنْ لَا تُثْبِتَ إِسْنَادًا مُعَنْعَنًا حَتَّى تَرَى فِيهِ السَّمَاعَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْوَارِدَ عَلَيْنَا بِإِسْنَادِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ أَنَّ هِشَامًا قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ وَأَنَّ أَبَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ كَمَا نَعْلَمُ أَنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَمِعَتْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ يَجُوزُ إِذَا لَمْ يَقُلْ هِشَامٌ فِي رِوَايَةٍ يَرْوِيهَا عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ أَوْ أَخْبَرَنِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ إِنْسَانٌ آخَرُ أَخْبَرَهُ بِهَا عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْهَا هُوَ مِنْ أَبِيهِ لَمَّا أَحَبَّ أَنْ يَرْوِيَهَا مُرْسَلًا وَلَا يُسْنِدَهَا إِلَى مَنْ سَمِعَهَا مِنْهُ وَكَمَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ أَيْضًا مُمْكِنٌ فِي أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَكَذَلِكَ كُلُّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ سَمَاعِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ وَإِنْ كَانَ قَدْ عُرِفَ فِي الْجُمْلَةِ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ قَدْ سَمِعَ مِنْ صَاحِبِهِ سَمَاعًا كَثِيرًا فَجَائِزٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَنْ يَنْزِلَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ فَيَسْمَعَ مِنْ غَيْرِهِ عَنْهُ بَعْضَ أَحَادِيثِهِ ثُمَّ يُرْسِلَهُ عَنْهُ أَحْيَانًا وَلَا يُسَمِّيَ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ وَيَنْشَطَ أَحْيَانًا فَيُسَمِّيَ الرَّجُلَ الَّذِي حَمَلَ عَنْهُ الْحَدِيثَ وَيَتْرُكَ الْإِرْسَالَ وَمَا قُلْنَا مِنْ هَذَا مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ مُسْتَفِيضٌ مِنْ فِعْلِ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَسَنَذْكُرُ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَلَى الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا عَدَدًا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَكْثَرَ مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَمِنْ ذَلِكَ أَنَّ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ وَابْنَ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعًا وَابْنَ نُمَيْرٍ وَجَمَاعَةً غَيْرَهُمْ رَوَوْا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ وَحُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ فَرَوَاهَا بِعَيْنِهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى الزُّهْرِيُّ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي الْقُبْلَةِ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ<> وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا النَّحْوُ فِي الرِّوَايَاتِ كَثِيرٌ يَكْثُرُ تَعْدَادُهُ وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنْهَا كِفَايَةٌ لِذَوِي الْفَهْمِ فَإِذَا كَانَتْ الْعِلَّةُ عِنْدَ مَنْ وَصَفْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ فِي فَسَادِ الْحَدِيثِ وَتَوْهِينِهِ إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الرَّاوِيَ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ شَيْئًا إِمْكَانَ الْإِرْسَالَ فِيهِ لَزِمَهُ تَرْكُ الِاحْتِجَاجِ فِي قِيَادِ قَوْلِهِ بِرِوَايَةِ مَنْ يُعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ إِلَّا فِي نَفْسِ الْخَبَرِ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ السَّمَاعِ لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ عَنْ الْأَئِمَّةِ الَّذِينَ نَقَلُوا الْأَخْبَارَ أَنَّهُمْ كَانَتْ لَهُمْ تَارَاتٌ يُرْسِلُونَ فِيهَا الْحَدِيثَ إِرْسَالًا وَلَا يَذْكُرُونَ مَنْ سَمِعُوهُ مِنْهُ وَتَارَاتٌ يَنْشَطُونَ فِيهَا فَيُسْنِدُونَ الْخَبَرَ عَلَى هَيْئَةِ مَا سَمِعُوا فَيُخْبِرُونَ بِالنُّزُولِ فِيهِ إِنْ نَزَلُوا وَبِالصُّعُودِ إِنْ صَعِدُوا كَمَا شَرَحْنَا ذَلِكَ عَنْهُمْ وَمَا عَلِمْنَا أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ السَّلَفِ مِمَّنْ يَسْتَعْمِلُ الْأَخْبَارَ وَيَتَفَقَّدُ صِحَّةَ الْأَسَانِيدِ وَسَقَمَهَا مِثْلَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَابْنِ عَوْنٍ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ فَتَّشُوا عَنْ مَوْضِعِ السَّمَاعِ فِي الْأَسَانِيدِ كَمَا ادَّعَاهُ الَّذِي وَصَفْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّمَا كَانَ تَفَقُّدُ مَنْ تَفَقَّدَ مِنْهُمْ سَمَاعَ رُوَاةِ الْحَدِيثِ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُمْ إِذَا كَانَ الرَّاوِي مِمَّنْ عُرِفَ بِالتَّدْلِيسِ فِي الْحَدِيثِ وَشُهِرَ بِهِ فَحِينَئِذٍ يَبْحَثُونَ عَنْ سَمَاعِهِ فِي رِوَايَتِهِ وَيَتَفَقَّدُونَ ذَلِكَ مِنْهُ كَيْ تَنْزَاحَ عَنْهُمْ عِلَّةُ التَّدْلِيسِ فَمَنْ ابْتَغَى ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ مُدَلِّسٍ عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي زَعَمَ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ فَمَا سَمِعْنَا ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ مِمَّنْ سَمَّيْنَا وَلَمْ نُسَمِّ مِنْ الْأَئِمَّةِ فَمِنْ ذَلِكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوَى عَنْ حُذَيْفَةَ وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَعَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثًا يُسْنِدُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْهُمَا ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْهُمَا وَلَا حَفِظْنَا فِي شَيْءٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ شَافَهَ حُذَيْفَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ بِحَدِيثٍ قَطُّ وَلَا وَجَدْنَا ذِكْرَ رُؤْيَتِهِ إِيَّاهُمَا فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا وَلَمْ نَسْمَعْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِمَّنْ مَضَى وَلَا مِمَّنْ أَدْرَكْنَا أَنَّهُ طَعَنَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مَسْعُودٍ بِضَعْفٍ فِيهِمَا بَلْ هُمَا وَمَا أَشْبَهَهُمَا عِنْدَ مَنْ لَاقَيْنَا مَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِنْ صِحَاحِ الْأَسَانِيدِ وَقَوِيِّهَا يَرَوْنَ اسْتِعْمَالَ مَا نُقِلَ بِهَا وَالِاحْتِجَاجَ بِمَا أَتَتْ مِنْ سُنَنٍ وَآثَارٍ وَهِيَ فِي زَعْمِ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ وَاهِيَةٌ مُهْمَلَةٌ حَتَّى يُصِيبَ سَمَاعَ الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى وَلَوْ ذَهَبْنَا نُعَدِّدُ الْأَخْبَارَ الصِّحَاحَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِمَّنْ يَهِنُ بِزَعْمِ هَذَا الْقَائِلِ وَنُحْصِيهَا لَعَجَزْنَا عَنْ تَقَصِّي ذِكْرِهَا وَإِحْصَائِهَا كُلِّهَا وَلَكِنَّا أَحْبَبْنَا أَنْ نَنْصِبَ مِنْهَا عَدَدًا يَكُونُ سِمَةً لِمَا سَكَتْنَا عَنْهُ مِنْهَاوَهَذَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ وَأَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ وَهُمَا مَنْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَصَحِبَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَدْرِيِّينَ هَلُمَّ جَرًّا وَنَقَلَا عَنْهُمْ الْأَخْبَارَ حَتَّى نَزَلَا إِلَى مِثْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَذَوِيهِمَا قَدْ أَسْنَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَلَمْ نَسْمَعْ فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا أَنَّهُمَا عَايَنَا أُبَيًّا أَوْ سَمِعَا مِنْهُ شَيْئًا وَأَسْنَدَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ وَهُوَ مِمَّنْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَيْنِ وَأَسْنَدَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وُلِدَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْنَدَ قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ وَقَدْ أَدْرَكَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَخْبَارٍ وَأَسْنَدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَقَدْ حَفِظَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَصَحِبَ عَلِيًّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَأَسْنَدَ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَقَدْ سَمِعَ رِبْعِيٌّ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَوَى عَنْهُ وَأَسْنَدَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَأَسْنَدَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْنَدَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَأَسْنَدَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَأَسْنَدَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ فَكُلُّ هَؤُلَاءِ التَّابِعِينَ الَّذِينَ نَصَبْنَا رِوَايَتَهُمْ عَنْ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ لَمْ يُحْفَظْ عَنْهُمْ سَمَاعٌ عَلِمْنَاهُ مِنْهُمْ فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا وَلَا أَنَّهُمْ لَقُوهُمْ فِي نَفْسِ خَبَرٍ بِعَيْنِهِ وَهِيَ أَسَانِيدُ عِنْدَ ذَوِي الْمَعْرِفَةِ بِالْأَخْبَارِ وَالرِّوَايَاتِ مِنْ صِحَاحِ الْأَسَانِيدِ لَا نَعْلَمُهُمْ وَهَّنُوا مِنْهَا شَيْئًا قَطُّ وَلَا الْتَمَسُوا فِيهَا سَمَاعَ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ إِذْ السَّمَاعُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُمْكِنٌ مِنْ صَاحِبِهِ غَيْرُ مُسْتَنْكَرٍ لِكَوْنِهِمْ جَمِيعًا كَانُوا فِي الْعَصْرِ الَّذِي اتَّفَقُوا فِيهِ وَكَانَ هَذَا الْقَوْلُ الَّذِي أَحْدَثَهُ الْقَائِلُ الَّذِي حَكَيْنَاهُ فِي تَوْهِينِ الْحَدِيثِ بِالْعِلَّةِ الَّتِي وَصَفَ أَقَلَّ مِنْ أَنْ يُعَرَّجَ عَلَيْهِ وَيُثَارَ ذِكْرُهُ إِذْ كَانَ قَوْلًا مُحْدَثًا وَكَلَامًا خَلْفًا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ سَلَفَ وَيَسْتَنْكِرُهُ مَنْ بَعْدَهُمْ خَلَفَ فَلَا حَاجَةَ بِنَا فِي رَدِّهِ بِأَكْثَرَ مِمَّا شَرَحْنَا إِذْ كَانَ قَدْرُ الْمَقَالَةِ وَقَائِلِهَا الْقَدْرَ الَّذِي وَصَفْنَاهُ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى دَفْعِ مَا خَالَفَ مَذْهَبَ الْعُلَمَاءِ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ
তাহকীক: