আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

مقدمہ مسلم - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৫ টি

হাদীস নং: ৪০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد بن ابی عتاب، عفان، حضرت سعید بن قطان اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے نیک لوگوں کا کذب فی الحدیث سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں دیکھا ابن ابی عتاب نے کہا کہ میری ملاقات سعید بن قطان کے بیٹے سے ہوئی میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے باپ کہتے تھے کہ ہم نے نیک لوگوں کا جھوٹ حدیث میں کذب سے بڑھ کر کسی بات میں نہیں دیکھا امام مسلم نے اس کی تاویل یوں ذکر کی ہے کہ جھوٹی حدیث ان کی زبان سے نکل جاتی ہے وہ قصدا جھوٹ نہیں بولتے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَفَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْئٍ أَکْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْئٍ أَکْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ مُسْلِم يَقُولُ يَجْرِي الْکَذِبُ عَلَی لِسَانِهِمْ وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْکَذِبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
فضل بن موسیٰ ، یزید بن ہارون، خلیفہ بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں غالب بن عبیداللہ کے پاس گیا تو وہ مجھے مکحول کی روایات لکھوانے لگا اتنے میں اسے پیشاب آگیا وہ چلا گیا میں نے اس کی اصل کتاب میں دیکھا تو اس میں وہ روایت اس طرح تھی کہ ابان نے انس سے روایت کی اور ابان نے فلاں شخص سے یہ دیکھ کر میں نے اس سے روایت کرنا چھوڑ دیا اور اٹھ کر چلا گیا اور امام مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی الحلوانی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے عفان کی کتاب میں ہشام ابی المقدام کی روایت عمر بن عبدالعزیز کی سند سے دیکھی ہشام نے کہا مجھے ایک شخص نے جس کو یحییٰ کہا جاتا ہے ایک حدیث محمد بن کعب سے بیان کی میں نے عفان بن فلاں سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہشام نے خود اس حدیث کو محمد بن کعب سے سنا ہے عفان نے کہا ہشام اسی حدیث کی وجہ سے مصیبت میں پڑگیا کیونکہ پہلے کہتا تھا کہ مجھ سے یحییٰ نے محمد سے روایت کی پھر اس کے بعد اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس روایت کو محمد سے سنا ہے اور واسطہ کو حذف کردیا۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَی قَالَ دَخَلْتُ عَلَی غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ حَدَّثَنِي مَکْحُولٌ حَدَّثَنِي مَکْحُولٌ فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ فَقَامَ فَنَظَرْتُ فِي الْکُرَّاسَةِ فَإِذَا فِيهَا حَدَّثَنِي أَبَانٌ عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانُ عَنْ فُلَانٍ فَتَرَکْتُهُ وَقُمْتُ وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ يَقُولُا رَأَيْتُ فِي کِتَابِ عَفَّانَ حَدِيثَ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنِي رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ يَحْيَی بْنُ فُلَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قُلْتُ لِعَفَّانَ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ فَقَالَ إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ کَانَ يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ادَّعَی بَعْدُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت عبداللہ بن عثمان بن جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا کہ وہ شخص کون ہے جس سے آپ نے عبداللہ بن عمر کی یہ روایت بیان کی ہے کہ عبدالفطر تحفہ تحائف کا دن ہے ابن مبارک نے جواب دیا کہ وہ سلیمان بن حجاج ہے جو میں نے نقل کروائی ہیں اور تیرے پاس ہیں ان میں غور و فکر کرلو ابن قہزاد نے کہا کہ میں نے وہب بن زمعہ سے سنا وہ روایت کرتے تھے سفیان بن عبدالملک سے کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ میں نے روح بن غطیف کو دیکھا اور اس کی مجلس میں بیٹھاہوں جس نے درہم سے کم خون کی نجاست معاف ہے والی حدیث روایت کی ہے پھر میں اپنے دوستوں سے شرمانے لگا کہ وہ مجھے اس کے پاس بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث کی نا پسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نا مقبولی کی وجہ سے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ يَقُولُ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِکَ مِنْهُ قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْکُرُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَکِ رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ کُرْهَ حَدِيثِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابن قہزاد، وہب، سفیان، حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ بقیہ بن ولید سچا آدمی ہے لیکن وہ ہر آنے جانے والے آدمی سے حدیث لے لیتا ہے۔
حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ قَالَ سَمِعْتُ وَهْبًا يَقُولُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَکِ قَالَ بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ وَلَکِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، شعبی بیان فرماتے ہیں کہ مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹا آدمی تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ وَکَانَ کَذَّابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری، ابواسامہ، مفضل، حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سنا وہ کہتے تھے کہ مجھے حارث اعور نے حدیث بیان کی اور شعبی اس بات کو گواہی دیتے تھے کہ اعور جھوٹوں میں سے ایک ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مُفَضَّلٍ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ أَحَدُ الْکَاذِبِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے کہا کہ میں نے قرآن کریم دو سال میں پڑھا حارث نے کہا قرآن آسان ہے اور احادیث کو حاصل کرنا مشکل ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عَلْقَمَةُ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ فَقَالَ الْحَارِثُ الْقُرْآنُ هَيِّنٌ الْوَحْيُ أَشَدُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج بن شاعر، احمد بن یونس، حضرت ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ حارث نے کہا کہ میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور احادیث مبارکہ کو دو سال میں یا کہ حدیث تین سال میں اور قرآن دو سال میں۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْحَارِثَ قَالَ تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ أَوْ قَالَ الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج شاعر، احمد بن یونس، زائدہ، منصور، مغیرہ، حضرت ابراہیم نخعی سے روایت کرتے ہیں کہ حارث متہم تھا۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْحَارِثَ اتُّهِمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
قتیبہ بن سعید، جریر، حمزہ زیات سے روایت ہے کہ مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی حدیث سنی تو حارث کو کہا کہ دروازہ پر بیٹھ جاؤ مرہ اندر گئے اور تلوار لے آئے اور کہا کہ حارث نے آہٹ محسوس کی کہ کوئی شر ہونے والا ہے تو وہ چل دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ قَالَ سَمِعَ مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ الْحَارِثِ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ اقْعُدْ بِالْبَابِ قَالَ فَدَخَلَ مُرَّةُ وَأَخَذَ سَيْفَهُ قَالَ وَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَهَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبیداللہ بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، حماد بن زید، حضرت ابن عون سے روایت ہے کہ ہم نے ابراہیم سے کہا کہ مغیرہ بن سعید اور ابوعبدالرحیم سے بچو کیونکہ وہ دونوں جھوٹے آدمی ہیں۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ إِيَّاکُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ فَإِنَّهُمَا کَذَّابَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابوکامل جحدری، حماد بن زید، عاصم بیان کرتے ہیں کہ ہم شباب کے زمانہ میں ابوعبدالرحمن سلمی کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ ہمیں فرماتے تھے کہ ابوالاحوص کے علاوہ قصہ خوانوں کے پاس مت بیٹھا کرو اور بچو تم شقیق سے اور کہا کہ یہ شقیق خارجیوں کا سا اعتقاد رکھتا تھا یہ شقیقی ابو وائل نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ کُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ فَکَانَ يَقُولُ لَنَا لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ غَيْرَ أَبِي الْأَحْوَصِ وَإِيَّاکُمْ وَشَقِيقًا قَالَ وَکَانَ شَقِيقٌ هَذَا يَرَی رَأْيَ الْخَوَارِجِ وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابوغسان محمد بن عمرو رازی، حضرت جریر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن یزید سے رجعت کی لیکن میں نے اس سے کسی روایت کو نہیں لکھا وہ رجعت کا باطل عقیدہ رکھتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا يَقُولُا لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ فَلَمْ أَکْتُبْ عَنْهُ کَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن حلوانی، یحییٰ بن آدم، مسعر بیان کرتے ہیں کہ ہم سے جابر بن یزید نے حدیث نے بیان کی اختراع بدعت سے پہلے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں کہ لوگ جابر سے اس کے عقیدہ باطلہ کے اظہار سے پہلے احادیث بیان کرتے تھے لیکن جب اس کا عقیدہ باطل ظاہر ہوگیا اور لوگوں نے اس کو حدیث میں مہتم کیا اور بعض حضرات نے اس سے روایت ترک کردی سفیان سے کہا گیا کہ اس نے کس عقیدہ کا اظہار کیا تھا سفیان نے کہا رجعت کا۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ کَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ عَنْ جَابِرٍ قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ وَتَرَکَهُ بَعْضُ النَّاسِ فَقِيلَ لَهُ وَمَا أَظْهَرَ قَالَ الْإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن حلوانی، ابویحیی حمانی، قبیصہ، جراح بن ملیح کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن یزید سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی ستر ہزار احادیث ابوجعفر سے مروی میرے پاس موجود ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَی الْحِمَّانِيُّ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ وَأَخُوهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْجَرَّاحَ بْنَ مَلِيحٍ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج بن شاعر، احمد بن یونس، حضرت زہیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر سے سنا وہ کہتے تھے کہ میرے پاس پچاس ہزار احادیث ہیں جن میں سے میں نے ابھی تک کوئی حدیث بیان نہیں کی زہیر کہتے ہیں پھر اس نے ایک دن ایک حدیث بیان کرنے کے بعد کہا یہ ان پچاس ہزار میں سے ہے۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ سَمِعْتُ زُهَيْرًا يَقُولُ قَالَ جَابِرٌ أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْئٍ قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ فَقَالَ هَذَا مِنْ الْخَمْسِينَ أَلْفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابراہیم بن خالد یشکری، ابو ولید، سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں کہ میں نے جابر جعفی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ سے مروی پچاس ہزار احادیث مبارکہ (کا ذخیرہ موجود) ہے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْکُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ يَقُولُ سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ يَقُولُا عِنْدِي خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ایک آدمی نے جابر سے اللہ کے قول فلن ابرح الارض حتی یاذن لی ابی اویحکم اللہ لی وھو خیر الحاکمین کی تفسیر پوچھی تو جابر نے کہا کہ اس آیت کی تفسیر ابھی ظاہر نہیں ہوئی سفیان نے کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہم نے کہا کہ جابر کی اس سے کیا مراد تھی سفیان نے کہا کہ رافضی یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بادلوں میں ہیں اور ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نہ نکلیں گے یہاں تک کہ آسمان سے حضرت علی آواز دیں گے کہ نکلو فلاں کے ساتھ جابر کہتا ہے کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے اور اس نے جھوٹ کہا ہے کہ یہ آیت یوسف کے بھائیوں کے متعلق ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّی يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْکُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاکِمِينَ فَقَالَ جَابِرٌ لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ قَالَ سُفْيَانُ وَکَذَبَ فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ وَمَا أَرَادَ بِهَذَا فَقَالَ إِنَّ الرَّافِضَةَ تَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ حَتَّی يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنْ السَّمَائِ يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ يَقُولُ جَابِرٌ فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ وَکَذَبَ کَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
سلمہ، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں میں نے جابر سے تیس ہزار ایسی احدیث سنی ہیں کہ ان میں سے کسی ایک حدیث کو بھی میں ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا خواہ اس کے بدلے مجھے کتنا ہی مال وعزت ملے اور سفیان کہتے ہیں میں نے ابوغسان محمد بن عمرو رازی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے جریر بن عبدالحمید سے پوچھا کہ کیا آپ حارث بن حصیرہ سے ملے ہیں ؟ کہا ہاں وہ ایک بوڑھا شخص ہے اکثر خاموش رہتا ہے لیکن بہت بڑی بات پر اصرار کرتا ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ بِنَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَذْکُرَ مِنْهَا شَيْئًا وَأَنَّ لِي کَذَا وَکَذَاقَالَ مُسْلِم وَسَمِعْتُ أَبَا غَسَّانَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو الرَّازِيَّ قَالَ سَأَلْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ فَقُلْتُ الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ لَقِيتَهُ قَالَ نَعَمْ شَيْخٌ طَوِيلُ السُّکُوتِ يُصِرُّ عَلَی أَمْرٍ عَظِيمٍ
tahqiq

তাহকীক: