আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
مقدمہ مسلم - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৫ টি
হাদীস নং: ৬০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت حماد بن زید سے روایت ہے کہ ایوب نے ایک شخص ابوامیہ عبدالکریم کے بارے میں فرمایا کہ وہ راست گو نہیں اور دوسرے کا ذکر فرمایا کہ وہ تحریر میں زیادتی کرتا ہے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ذَکَرَ أَيُّوبُ رَجُلًا يَوْمًا فَقَالَ لَمْ يَکُنْ بِمُسْتَقِيمِ اللِّسَانِ وَذَکَرَ آخَرَ فَقَالَ هُوَ يَزِيدُ فِي الرَّقْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج بن شاعر، سلیمان حرب، حماد بن زید بیان کرتے ہیں کہ ایوب نے کہا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے پھر اس کی خوبیوں کا ذکر کیا تاہم وہ دو کھجوروں کے بارے میں بھی شہادت دے تو میں اس کی گواہی کو جائز نہیں سمجھوں گا۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قَالَ أَيُّوبُ إِنَّ لِي جَارًا ثُمَّ ذَکَرَ مِنْ فَضْلِهِ وَلَوْ شَهِدَ عِنْدِي عَلَی تَمْرَتَيْنِ مَا رَأَيْتُ شَهَادَتَهُ جَائِزَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد بن رافع، حجاج بن شاعر، عبدالرزاق، حضرت معمر کہتے ہیں کہ میں نے ایوب کو کسی شخص کی غیبت کرتے نہیں دیکھا سوائے ابوامیہ عبدالکریم کے ذکر کیا انہوں نے اس کا کہ وہ غیر ثقہ ہے اس نے مجھ سے حضرت عکرمہ کی ایک حدیث پوچھی پھر کہتا ہے کہ میں نے عکرمہ سے سنا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ مَا رَأَيْتُ أَيُّوبَ اغْتَابَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا عَبْدَ الْکَرِيمِ يَعْنِي أَبَا أُمَيَّةَ فَإِنَّهُ ذَکَرَهُ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ کَانَ غَيْرَ ثِقَةٍ لَقَدْ سَأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ لِعِکْرِمَةَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
فضل بن سہل، عفان بن مسلم، حضرت ہمام بیان کرتے ہیں کہ نفع بن حارث ابوداؤد نابینا ہمارے پاس آیا اور بیان کرنا شروع کردیا کہ ہم سے براء بن عازب اور زید بن ارقم نے بیان کیا ہم نے اس کی حضرت قتادہ سے تحقیق کی انہوں نے کہا یہ جھوٹا ہے اس نے ان سے نہیں سنا یہ شخص طاعون جازف کے زمانہ میں لوگوں سے بھیک مانگتا پھرتا تھا۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَی فَجَعَلَ يَقُولُ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ قَالَ وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِقَتَادَةَ فَقَالَ کَذَبَ مَا سَمِعَ مِنْهُمْ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ سَائِلًا يَتَکَفَّفُ النَّاسَ زَمَنَ طَاعُونِ الْجَارِفِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن بن علی حلوانی، یزید بن ہارون، حضرت ہمام نے کہا کہ ابوداؤد اعمی حضرت قتادہ کے پاس آیا جب وہ چلا گیا تو لوگوں نے کہا کہ اس شخص کا دعوی ہے کہ وہ اٹھارہ بدری صحابہ سے ملا ہے حضرت قتادہ نے کہا کہ یہ طاعون جازف سے پہلے بھیک مانگتا تھا اس کا روایت حدیث سے کوئی لگاؤ تھا نہ یہ اس فن میں گفتگو کرتا تھا اللہ کی قسم سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص کے علاوہ کسی بدری صحابی سے حسن بصری اور سعید بن مسیب جیسے لوگوں نے بھی روایت نہیں کی ہے۔
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ دَخَلَ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَی عَلَی قَتَادَةَ فَلَمَّا قَامَ قَالُوا إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَقِيَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ بَدْرِيًّا فَقَالَ قَتَادَةُ هَذَا کَانَ سَائِلًا قَبْلَ الْجَارِفِ لَا يَعْرِضُ فِي شَيْئٍ مِنْ هَذَا وَلَا يَتَکَلَّمُ فِيهِ فَوَاللَّهِ مَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً وَلَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً إِلَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حضرت رقبہ بن مستعلہ کوفی سے روایت ہے کہ ابوجعفر ہاشمی حق اور حکمت آمیز کلام کو حدیث بنا کر نقل کرتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث نہ ہوتیں اور وہ روایت کرتا ان کو نبی کریم ﷺ سے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ رَقَبَةَ أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيَّ الْمَدَنِيَّ کَانَ يَضَعُ أَحَادِيثَ کَلَامَ حَقٍّ وَلَيْسَتْ مِنْ أَحَادِيثِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ يَرْوِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن حلوانی، نعیم بن حماد، ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان، محمد بن یحیی، نعیم بن حماد، ابوداؤد طیالسی، شعبہ، حضرت یونس بن عبید بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن عبید حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ کَانَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ يَکْذِبُ فِي الْحَدِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عمرو بن علی ابوحفص، معاذ بن معاذ سے روایت ہے کہ میں نے عوف بن ابی جمیلہ سے پوچھا کہ ہم سے عمرو بن عبید نے حسن بصری سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے عوف نے کہا اللہ کی قسم عمر جھوٹا ہے وہ اس حدیث سے اپنے باطل عقائد کی ترویج و اشاعت کرنا چاہتا ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُا قُلْتُ لِعَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ کَذَبَ وَاللَّهِ عَمْرٌو وَلَکِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَحُوزَهَا إِلَی قَوْلِهِ الْخَبِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبیداللہ بن عمر قواریری، حضرت حماد بن زید کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اوپر ایوب سختیانی کی مجلس اور ان سے حدیث سننے کو لازم کرلیا تھا ایک دن ایوب نے اس کو نہ پایا تو پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابوبکر (کنیت ایوب سختیانی) اس نے عمرو بن عبید کی مجلس کو لازم کرلیا ہے حماد کہتے ہیں کہ ایک دن میں صبح کے وقت ایوب کے ساتھ بازار جارہا تھا اتنے میں وہ شخص سامنے آیا ایوب نے اس کو سلام کیا اور حال پوچھا پھر اس کو کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ تو نے فلاں شخص کی مجلس لازم کرلی ہے حماد کہتے ہیں اس کا نام لیا یعنی عمرو۔ اس نے کہا ہاں اے ابوبکر وہ ہم سے عجیب و غریب احادیث بیان کرتا ہے ایوب نے کہا کہ ہم تو ایسے عجائبات سے بھاگتے یا ڈرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ قَدْ لَزِمَ أَيُّوبَ وَسَمِعَ مِنْهُ فَفَقَدَهُ أَيُّوبُ فَقَالُوا يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّهُ قَدْ لَزِمَ عَمْرَو بْنَ عُبَيدٍ قَالَ حَمَّادٌ فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا مَعَ أَيُّوبَ وَقَدْ بَکَّرْنَا إِلَی السُّوقِ فَاسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَيُّوبُ وَسَأَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَيُّوبُ بَلَغَنِي أَنَّکَ لَزِمْتَ ذَاکَ الرَّجُلَ قَالَ حَمَّادٌ سَمَّاهُ يَعْنِي عَمْرًا قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّهُ يَجِيئُنَا بِأَشْيَائَ غَرَائِبَ قَالَ يَقُولُ لَهُ أَيُّوبُ إِنَّمَا نَفِرُّ أَوْ نَفْرَقُ مِنْ تِلْکَ الْغَرَائِبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج بن شاعر، سلیمان، ابن زید، ایوب، عمرو بن عبید، حضرت حماد بیان کرتے ہیں کہ کہ ایوب سے کسی نے کہا کہ عمرو بن عبید حسن بصری سے یہ حدیث روایت کرتا ہے کہ جو شخص نبیذ پی کر مدہوش ہوجائے تو اس پر حد جاری نہ ہوگی ایوب نے کہا کہ یہ جھوٹ کہتا ہے کیونکہ میں نے حضرت حسن بصری سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ جو شخص نبیذ پی کر مدہوش ہوجائے اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ زَيْدٍ يَعْنِي حَمَّادًا قَالَ قِيلَ لِأَيُّوبَ إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ رَوَی عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَا يُجْلَدُ السَّکْرَانُ مِنْ النَّبِيذِ فَقَالَ کَذَبَ أَنَا سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ يُجْلَدُ السَّکْرَانُ مِنْ النَّبِيذِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج، سلیمان بن حرب، حضرت سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں کہ ایوب کو یہ خبر پہنچی کہ میں عمرو کے پاس روایت حدیث کے لئے جاتا ہوں ایک دن وہ مجھے ملے اور کہا کہ تو کیا سمجھتا ہے کہ جس شخص کے دین کا اعتبار نہیں ہے وہ حدیث کی روایت میں کیسے محفوظ ومامون ہوسکتا ہے۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ يَقُولُا بَلَغَ أَيُّوبَ أَنِّي آتِي عَمْرًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَا تَأْمَنُهُ عَلَی دِينِهِ کَيْفَ تَأْمَنُهُ عَلَی الْحَدِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان، حضرت ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمرو بن عبید سے سماع حدیث اس وقت کیا تھا جب اس نے احادیث گھڑنا شروع نہیں کی تھیں۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبیداللہ بن معاذ عنبری بیان کرتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو لکھا کہ ابوشیبہ قاضی واسط کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے تو شعبہ نے لکھا کہ ابوشیبہ کی کوئی روایت نہ لکھنا اور میرے اس خط کو پھاڑ دینا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ کَتَبْتُ إِلَی شُعْبَةَ أَسْأَلُهُ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَاضِي وَاسِطٍ فَکَتَبَ إِلَيَّ لَا تَکْتُبْ عَنْهُ شَيْئًا وَمَزِّقْ کِتَابِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حلوانی، حضرت عفان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حماد بن سلمہ کے سامنے وہ حدیث بیان کی جس کو صالح مری نے ثابت سے روایت کیا ہے حماد نے کہا صالح مری جھوٹا ہے اور میں نے ہمام کے سامنے صالح مری کی حدیث بیان کی تو ہمام نے بھی کہا کہ صالح مری جھوٹا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَفَّانَ قَالَ حَدَّثْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ عَنْ ثَابِتٍ فَقَالَ کَذَبَ وَحَدَّثْتُ هَمَّامًا عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ فَقَالَ کَذَبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمود بن غیلان، حضرت ابوداؤد سے روایت ہے کہ مجھ سے شعبہ نے کہا کہ جریر بن حازم کو جا کر کہو کہ تیرے لئے حسن بن عمارہ سے کوئی روایت جائز نہیں ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے ابوداؤد نے کہا کہ حسن نے حکم سے کچھ ایسی احادیث ہم سے بیان کی ہیں جن کی اصل کچھ نہیں پاتا میں نے شعبہ سے پوچھا وہ کونسی روایت ہے ؟ شعبہ نے کہا کہ میں نے حکم سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد پر نماز پڑھی تھی ؟ اس نے کہا نہیں پڑھی تھی پھر حسن بن عمارہ نے حکم سے روایت کیا ہے اس نے مقسم سے اس نے ابن عباس (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کو دفن کیا اس کے علاوہ میں نے حکم سے پوچھا کہ تو ولد الزنا کی نماز جنازہ کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ ایسے لوگوں کی جنازہ پڑھی جائے گی میں نے کہا کس سے روای کیا گیا ہے اس نے کہا حسن بصری سے لیکن حسن بن عمارہ نے یہ حدیث حکم سے یحییٰ بن جزار از حضرت علی روایت کی۔ (یعنی اول حدیث میں غلطی فی الالفاظ اور دوسری میں غلطی فی السند ہے )
حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قَالَ لِي شُعْبَةُ ائْتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ فَقُلْ لَهُ لَا يَحِلُّ لَکَ أَنْ تَرْوِيَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ فَإِنَّهُ يَکْذِبُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لِشُعْبَةَ وَکَيْفَ ذَاکَ فَقَالَ حَدَّثَنَا عَنْ الْحَکَمِ بِأَشْيَائَ لَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا قَالَ قُلْتُ لَهُ بِأَيِّ شَيْئٍ قَالَ قُلْتُ لِلْحَکَمِ أَصَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ فَقَالَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَيْهِمْ وَدَفَنَهُمْ قُلْتُ لِلْحَکَمِ مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا قَالَ يُصَلَّی عَلَيْهِمْ قُلْتُ مِنْ حَدِيثِ مَنْ يُرْوَی قَالَ يُرْوَی عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن حلوانی، حضرت یزید بن ہارون نے زیاد بن میمون کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اس سے کوئی حدیث روایت نہی کروں گا اور نہ خالد بن مجدوح سے اور کہا کہ میں زیاد بن میمون سے ملا اور اس سے ایک حدیث پوچھی اس نے یہ حدیث بکر بن عبداللہ مزنی کے واسطہ سے بیان کی دوبارہ ملاقات پر اس نے وہی حدیث مجھ سے مورق سے روایت کی تیسری بار وہی حدیث اس نے مجھ سے حسن کی روایت سے بیان کی اور یزید بن ہارون ان دونوں زیاد اور خالد کو جھوٹا کہتے تھے حلوانی نے کہا کہ میں نے عبدالصمد سے سنا اور میں نے ان کے پاس ابن میمون کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اسے جھوٹا قرار دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ وَذَکَرَ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَقَالَ حَلَفْتُ أَلَّا أَرْوِيَ عَنْهُ شَيْئًا وَلَا عَنْ خَالِدِ بْنِ مَحْدُوجٍ وَقَالَ لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَدِيثٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ بَکْرٍ الْمُزَنِيِّ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ مُوَرِّقٍ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ الْحَسَنِ وَکَانَ يَنْسُبُهُمَا إِلَی الْکَذِبِ قَالَ الْحُلْوَانِيُّ سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ وَذَکَرْتُ عِنْدَهُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَنَسَبَهُ إِلَی الْکَذِبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمود بن غیلان بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد طیالسی سے کہا کہ آپ نے عباد بن منصور سے کثیر روایات نقل کی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس سے عطر فروش عورت کی وہ حدیث نہیں سنی جو روایت کی ہے ہمارے لئے نضر بن شمیل نے انہوں نے مجھے کہا خاموش رہو میں اور عبدالرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھا کہ یہ تمام احادیث وہ ہیں جو تم روایت کرتے تھے حضرت انس (رض) سے یہ کہاں تک صحیح ہیں ؟ اس نے کہا تم دونوں اس آدمی کے بارے میں کیا گمان کرتے ہو جو گناہ کرے پھر توبہ کرلے اللہ اس کی توبہ قبول نہ کرے گا ؟ ہم نے کہا ہاں معاف کرے گا تو اس نے کہا کہ میں نے حضرت انس (رض) سے کسی قسم کی کوئی حدیث نہیں سنی کم نہ زیادہ اگر عام لوگ اس بات سے ناواقف ہیں تو کیا ملا ابوداؤد (رح) اس کے بعد پھر ہمیں علم ہوا کہ وہ انس سے روایت کرتا ہے ہم پھر اس کے پاس آئے تو اس نے کہا میں توبہ کرتا ہوں پھر وہ اس کے بعد روایت کرنے لگا آخر ہم نے اس کی روایت چھوڑ دی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ قَدْ أَکْثَرْتَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ فَمَا لَکَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَ الْعَطَّارَةِ الَّذِي رَوَی لَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ لِيَ اسْکُتْ فَأَنَا لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَرْوِيهَا عَنْ أَنَسٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمَا رَجُلًا يُذْنِبُ فَيَتُوبُ أَلَيْسَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ مِنْ ذَا قَلِيلًا وَلَا کَثِيرًا إِنْ کَانَ لَا يَعْلَمُ النَّاسُ فَأَنْتُمَا لَا تَعْلَمَانِ أَنِّي لَمْ أَلْقَ أَنَسًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَبَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّهُ يَرْوِي فَأَتَيْنَاهُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَتُوبُ ثُمَّ کَانَ بَعْدُ يُحَدِّثُ فَتَرَکْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن، حضرت شبابہ بن سوار مدائنی کہتے ہیں کہ عبدالقدوس ہم سے حدیث بیان کرتا تو کہتا کہ سوید بن غفلہ نے کہا شبابہ نے کہا کہ میں نے عبدالقدوس سے سنا وہ کہتا تھا رسول اللہ ﷺ نے روح یعنی ہوا کو عرض میں لینے سے منع فرمایا ہے ان سے اس حدیث کا مطلب پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ دیوار میں ایک سوارخ کیا جائے تاکہ اس پر ہوا داخل ہو امام مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عمر قواریری سے سنا انہوں نے کہا میں نے حماد بن زید سے سنا کہ انہوں نے مہدی بن ہلال کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ کیسا کھاری چشمہ ہے جو تمہارے طرف پھوٹا ہے وہ شخص بولا ہاں اے ابواسماعیل۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ شَبَابَةَ قَالَ کَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا فَيَقُولُ سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ قَالَ شَبَابَةُ وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ يَقُولُ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَيُّ شَيْئٍ هَذَا قَالَ يَعْنِي تُتَّخَذُ کُوَّةٌ فِي حَائِطٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ و سَمِعْت عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَکُمْ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَعِيلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن حلوانی، عفان، ابوعوانہ نے کہا کہ مجھے حسن سے کوئی روایت نہیں پہنچی مگر میں اس کو لے کر فورا ابان بن عیاش کے پاس گیا ابان نے اس حدیث کو میرے سامنے پڑھا ( یہ ابان کے کذب کی دلیل ہے کہ وہ ہر حدیث حسن سے روایت کرتا تھا ) ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ قَالَ مَا بَلَغَنِي عَنْ الْحَسَنِ حَدِيثٌ إِلَّا أَتَيْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَرَأَهُ عَلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
سوید بن سعید، علی بن مسہر سے روایت ہے کہ میں اور حمزہ زیات نے ابن ابی عیاش سے تقریبا ایک ہزار احادیث کا سماع کیا ہے علی نے کہا کہ میں حمزہ سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے نبی ﷺ کی خواب میں زیارت کی اور آپ ﷺ کے سامنے ابان سے سنی ہوئی احادیث پیش کیں آپ ﷺ نے ان احادیث کو نہیں پہچانا مگر تھوڑی تقریبا پانچ یا چھ احادیث کی تصدیق کی۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ نَحْوًا مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ قَالَ عَلِيٌّ فَلَقِيتُ حَمْزَةَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَا سَمِعَ مِنْ أَبَانَ فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا خَمْسَةً أَوْ سِتَّةً
তাহকীক: