আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
مقدمہ مسلم - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৫ টি
হাদীস নং: ২০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، طاؤس، حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ہم حدیث یاد کیا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث یاد کی جاتی تھیں لیکن جب تم ہر اچھی اور بری راہ پر چلنے لگے تو اب اعتماد اور اعتبار ختم ہوگیا اور ہم نے اس فن کو چھوڑ دیا۔ ابوایوب، سلیمان بن عبداللہ غیلانی، ابوعامر، عقدی، رباح، قیس بن سعد، حضرت مجاہد بیان فرماتے ہیں کہ بشیر بن کعب عدوی ابن عباس کے پاس آئے اور احادیث بیان کرنا شروع کیں اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا لیکن ابن عباس نے نہ اس کی احادیث غور سے سنیں اور نہ ہی اس کی طرف دیکھا بشیر نے عرض کیا اے ابن عباس ! کیا بات ہے کہ میں آپ کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی احادیث بیان کر رہا ہوں اور آپ سنتے ہیں نہیں ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ایک وہ وقت تھا کہ جب ہم کسی سے یہ سنتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو ہماری نگاہیں دفعتا بےاختیار اس کی طرف لگ جاتیں اور غور سے اس کی حدیث سنتے لیکن جب سے لوگوں نے ضعیف اور ہر قسم کی روایات بیان کرنا شروع کردیں تو ہم صرف اسی حدیث کو سن لیتے ہیں جس کو صحیح سمجھتے ہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا کُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا إِذْ رَکِبْتُمْ کُلَّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ فَهَيْهَاتَ و حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ جَائَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَالِي لَا أَرَاکَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي أُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْمَعُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّا کُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا فَلَمَّا رَکِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ لَمْ نَأْخُذْ مِنْ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْغَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي، أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْمَعُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا كُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا، وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ، وَالذَّلُولَ، لَمْ نَأْخُذْ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
داؤد بن عمرو ضبی، نافع بن عمر، ابن ابی ملیکہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کو لکھا کہ میرے پاس کچھ احادیث لکھوا کر پوشیدہ طور پر بھجوادو ابن عباس نے فرمایا لڑکا خیر خواہ دین ہے میں اس کے لئے احادیث کے لکھے ہوئے ذخیرہ میں سے صحیح احادیث کو منتخب کروں گا اور چھپانے کی باتیں چھپالوں گا پھر ابن عباس نے سیدنا علی کے فیصلے منگوائے اور ان میں بعض باتیں لکھنے لگے اور بعضی باتوں کو دیکھ کر فرماتے اللہ کی قسم علی نے یہ فیصلہ نہیں کیا اگر کیا ہے تو وہ بھٹک گئے ہیں یعنی لوگوں نے فیصلہ جات علی میں خلط ملط کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ أَنْ يَکْتُبَ لِي کِتَابًا وَيُخْفِي عَنِّي فَقَالَ وَلَدٌ نَاصِحٌ أَنَا أَخْتَارُ لَهُ الْأُمُورَ اخْتِيَارًا وَأُخْفِي عَنْهُ قَالَ فَدَعَا بِقَضَائِ عَلِيٍّ فَجَعَلَ يَکْتُبُ مِنْهُ أَشْيَائَ وَيَمُرُّ بِهِ الشَّيْئُ فَيَقُولُ وَاللَّهِ مَا قَضَی بِهَذَا عَلِيٌّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ ضَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ہشام، بن حجیر، حضرت طاؤس بیان فرماتے ہیں کہ ابن عباس کے پاس حضرت علی کے فیصلوں کی کتاب لائی گئی تو انہوں نے سب کو مٹا دیا سوائے چند سطور کے سفیان بن عیینہ نے اپنے ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِکِتَابٍ فِيهِ قَضَائُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَحَاهُ إِلَّا قَدْرَ وَأَشَارَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِذِرَاعِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، یحییٰ بن آدم، ابن ادریس، اعمش، حضرت ابواسحاق فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے ان باتوں کو حضرت علی کے بعد نکالا تو علی کے ساتھیوں میں سے ایک نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو تباہ کرے کیسا علم کو بگاڑا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ لَمَّا أَحْدَثُوا تِلْکَ الْأَشْيَائَ بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ أَيَّ عِلْمٍ أَفْسَدُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
علی بن خشرم، حضرت ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے مغیرہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ لوگ حضرت علی (رض) سے جو روایت کرتے ہیں اس کی تصدیق نہ کی جائے سوائے عبداللہ بن مسعود کے ساتھیوں کے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ لَمْ يَکُنْ يَصْدُقُ عَلَی عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْحَدِيثِ عَنْهُ إِلَّا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حسن بن ربیع، حماد بن زید، ایوب، ہشام، محمد، ح، فضیل، ہشام، مخلد بن حسین، ہشام، محمد بن سیرین مشہور تابعی نے فرمایا کہ علم حدیث دین ہے تو دیکھ کہ کس شخص سے تم اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَحَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ هِشَامٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابوجعفر محمد بن صباح، اسماعیل بن زکریا، عاصم احول، حضرت بن سیرین نے فرمایا کہ پہلے لوگ اسناد کی تحقیق نہیں کیا کرتے تھے لیکن جب دین میں بدعات اور فتنے داخل ہوگئے تو لوگوں نے کہا کہ اپنی اپنی سند بیان کرو پس جس حدیث کی سند میں اہلسنت راوی دیکھتے تو ان کی حدیث لے لیتے اور اگر سند میں اہل بدعت راوی دیکھتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ لَمْ يَکُونُوا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ فَلَمَّا وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوا لَنَا رِجَالَکُمْ فَيُنْظَرُ إِلَی أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ وَيُنْظَرُ إِلَی أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، حنظلی، عیسیٰ ، ابن یونس، اوزاعی، سلیمان بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں نے طاؤس سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھ سے ایسی ایسی حدیث بیان کی ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تیرا ساتھی ثقہ ہے تو تو اس سے حدیث بیان کر۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ لَقِيتُ طَاوُسًا فَقُلْتُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ کَيْتَ وَکَيْتَ قَالَ إِنْ کَانَ صَاحِبُکَ مَلِيًّا فَخُذْ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، مروان بن دمشقی، سعید بن عبدالعزیز، حضرت سلیمان بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں نے طاؤس سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھ سے ایسی ایسی حدیث بیان کی ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تیرا ساتھی ثقہ ہے تو تو اس سے حدیث بیان کر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ قُلْتُ لِطَاوُسٍ إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِکَذَا وَکَذَا قَالَ إِنْ کَانَ صَاحِبُکَ مَلِيًّا فَخُذْ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
نصر بن علی جہضمی، اصمعی، حضرت ابن ابی الزناد عبداللہ بن ذکوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں سو آدمی ایسے پائے جو نیک سیرت تھے مگر انہیں روایت حدیث کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا الْأَصْمَعِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَدْرَکْتُ بِالْمَدِينَةِ مِائَةً کُلُّهُمْ مَأْمُونٌ مَا يُؤْخَذُ عَنْهُمْ الْحَدِيثُ يُقَالُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد عمر مکی، سفیان، ح، ابوبکر بن خلاد باہلی، سفیان بن عیینہ، مسعر، مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابراہیم سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوائے ثقہ لوگوں (راویوں) کے کسی کی حدیث نقل نہ کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُا لَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الثِّقَاتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت عبداللہ بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو فرماتے ہوئے سنا کہ اسناد حدیث امور دین سے ہیں اور اگر اسناد نہ ہوتیں تو آدمی جو چاہتا کہہ دیتا اور عباس بن رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارے اور لوگوں کے درمیان اسناد ستونوں کی طرح ہیں اور ابواسحاق ابراہیم بن عیسیٰ الطالقانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا اے ابوعبدالرحمن اس حدیث کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لئے نماز پڑھے اور اپنے روزے کے ساتھ ان کے لئے روزہ رکھے ابن مبارک نے فرمایا کہ یہ حدیث کس کی روایت کردہ ہے ؟ میں نے کہا کہ یہ حدیث شہاب بن خراش سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو ثقہ ہے پھر انہوں نے کہا کہ انہوں نے کس سے روایت کی ہے میں نے کہا حجاج بن دینار سے انہوں نے فرمایا کہ وہ بھی ثقہ ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس نے کس سے روایت کی ہے میں نے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت ابن مبارک نے فرمایا اے ابواسحاق ! حجاج اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان تو اتنا طویل زمانہ ہے جس کو طے کرنے کے لئے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں گی (یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ حجاج بن دینار تبع تابعین ہے) البتہ صدقہ دینے میں کسی کا اختلاف نہیں علی بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے برسر عام سنا وہ فرما رہے تھے کہ عمرو بن ثابت کی روایت کو چھوڑ دو کیونکہ یہ شخص اسلاف کو گالیاں دیتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ عُثْمَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَکِ يَقُولُا الْإِسْنَادُ مِنْ الدِّينِ وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَائَ مَا شَائَ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ يَعْنِي الْإِسْنَادَ و قَالَ مُحَمَّدُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عِيسَی الطَّالَقَانِيَّ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَدِيثُ الَّذِي جَائَ إِنَّ مِنْ الْبِرِّ بَعْدَ الْبِرِّ أَنْ تُصَلِّيَ لِأَبَوَيْکَ مَعَ صَلَاتِکَ وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صَوْمِکَ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَبَا إِسْحَقَ عَمَّنْ هَذَا قَالَ قُلْتُ لَهُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ فَقَالَ ثِقَةٌ عَمَّنْ قَالَ قُلْتُ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ ثِقَةٌ عَمَّنْ قَالَ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَبَا إِسْحَقَ إِنَّ بَيْنَ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاوِزَ تَنْقَطِعُ فِيهَا أَعْنَاقُ الْمَطِيِّ وَلَکِنْ لَيْسَ فِي الصَّدَقَةِ اخْتِلَافٌ وَقَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ شَقِيقٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَکِ يَقُولُا عَلَی رُئُوسِ النَّاسِ دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ابونضر، ہاشم، حضرت ابوعقیل (یحیی بن متوکل ضریر) جو کہ مولیٰ تھا بہیہ کا (بہیہ ایک عورت ہے جو حضرت عائشہ (رض) روایت کرتی ہیں) نے فرمایا کہ میں قاسم بن عبیداللہ اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا تھا یحییٰ نے قاسم سے کہا کہ اے ابومحمد آپ جیسے عظیم الشان عالم دین کے لئے یہ بات باعث عار ہے کہ آپ سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور آپ کو اس کا نہ کچھ علم ہو نہ اس کا حل اور نہ ہی اس کا جواب۔ قاسم نے پاچھا کیوں باعث عار ہے ؟ یحییٰ نے کہا اس لئے کہ آپ دو بڑے بڑے اماموں ابوبکر وعمر کے بیٹے ہیں (قاسم ابوبکر کے نواسے اور فاروق اعظم کے پوتے ہیں) قاسم نے کہا کہ یہ بات اس سے بھی زیادہ باعث عار ہے اس شخص کے لئے جس کو اللہ نے عقل عطاء فرمائی ہو کہ میں بغیر علم کوئی بات کہوں یا میں اس شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو یہ سن کر یحییٰ خاموش ہوگئے اور اس کا کوئی جواب نہ دیا۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ صَاحِبُ بُهَيَّةَ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ فَقَالَ يَحْيَی لِلْقَاسِمِ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّهُ قَبِيحٌ عَلَی مِثْلِکَ عَظِيمٌ أَنْ تُسْأَلَ عَنْ شَيْئٍ مِنْ أَمْرِ هَذَا الدِّينِ فَلَا يُوجَدَ عِنْدَکَ مِنْهُ عِلْمٌ وَلَا فَرَجٌ أَوْ عِلْمٌ وَلَا مَخْرَجٌ فَقَالَ لَهُ الْقَاسِمُ وَعَمَّ ذَاکَ قَالَ لِأَنَّکَ ابْنُ إِمَامَيْ هُدًی ابْنُ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ قَالَ يَقُولُ لَهُ الْقَاسِمُ أَقْبَحُ مِنْ ذَاکَ عِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ آخُذَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ قَالَ فَسَکَتَ فَمَا أَجَابَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
بشربن حکم عبدی، سفیان، ابوعقیل صاحب بہیہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے بیٹے سے کسی نے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں انہیں علم نہ تھا یہ دیکھ کر یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا کہ یہ امر مجھ پر گراں گزرا کہ آپ جیسے شحص سے جو بیٹا ہے دو جلیل القدر ائمہ عمر اور ابن عمر سے کوئی بات پوچھ جائے اور آپ اس کے جواب سے لا علم ہوں انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس سے بڑھ کر یہ بات زیادہ بری ہے اللہ کے نزدیک اور جس کو اللہ نے عقل دی ہے کہ وہ بغیر علم کے کوئی بات بتلائے یا میں جواب دوں کسی غیر ثقہ کی روایت سے سفیان نے کہا یحییٰ بن متوکل اس گفتگو کے وقت موجود تھے جب انہوں نے کہا۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ الْعَبْدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ أَخْبَرُونِي عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ أَنَّ أَبْنَائً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَأَلُوهُ عَنْ شَيْئٍ لَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ فَقَالَ لَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَکُونَ مِثْلُکَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيْ الْهُدَی يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَکَ فِيهِ عِلْمٌ فَقَالَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِکَ وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ أُخْبِرَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ قَالَ وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ حِينَ قَالَا ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عمرو بن علی، ابوحفص، یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری شعبہ، مالک اور ابن عیینہ سے پوچھا کہ لوگ مجھ سے ایسے شخص کی روایت کے بارے میں پوچھتے ہیں جو روایت حدیث میں ثقہ و معتبر نہیں ہے ان سے ائمہ حدیث نے فرمایا کہ لوگوں کو بتادو کہ وہ راوی ناقابل اعتبار ہے۔ (اس میں گناہ غیبت نہ ہوگا کیونکہ مقصود حفاظت دین ہے نہ کہ توہین راوی) ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ وَشُعْبَةَ وَمَالِکًا وَابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ الرَّجُلِ لَا يَکُونُ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالُوا أَخْبِرْ عَنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
عبیداللہ بن سعید، حضرت نضر بن شمیل سے مروی ہے کہ ابن عون اپنے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے تھے کسی نے ان سے شہر بن حوشب کی روایات کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ شہر کو لوگوں نے طعن کیا اور طعن کے نیزوں نے زخمی کیا امام مسلم فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اس کی تضعیف کر کے اس میں کلام کیا اور کلام کے نیزوں سے اس کو گھائل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ يَقُولُ سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَی أُسْکُفَّةِ الْبَابِ فَقَالَ إِنَّ شَهْرًا نَزَکُوهُ إِنَّ شَهْرًا نَزَکُوهُ قَالَ مُسْلِم رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَکَلَّمُوا فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حجاج بن شاعر، شبابہ، شعبہ فرماتے ہیں کہ میری شہر سے ملاقات ہوئی لیکن میں نے ان کی روایت کو قابل اعتبار نہیں سمجھا۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت علی بن حسین بن واقد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ میں نے سفیان ثوری سے کہا کہ تم عباد بن کثیر کے حالات سے واقف ہو کہ وہ جب کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو عجیب و غریب بیان کرتا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے کہ میں لوگوں کو ان سے احادیث بیان کرنے سے روک دوں ؟ حضرت سفیان نے کہا کیوں نہیں ابن مبارک نے فرمایا کہ جس مجلس میں میری موجودگی میں عباد بن کیثر کا ذکر آتا تو میں اس کی دینداری کی تعریف کرتا لیکن یہ بھی کہہ دیتا کہ اس کی احادیث نہ لو عبداللہ بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے کہا کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا کہ میں شعبہ کے پاس گیا کہ عباد بن کثیر سے روایت حدیث میں بچو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ إِنَّ عَبَّادَ بْنَ کَثِيرٍ مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ وَإِذَا حَدَّثَ جَائَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ فَتَرَی أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ قَالَ سُفْيَانُ بَلَی قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَکُنْتُ إِذَا کُنْتُ فِي مَجْلِسٍ ذُکِرَ فِيهِ عَبَّادٌ أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ وَأَقُولُ لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ انْتَهَيْتُ إِلَی شُعْبَةَ فَقَالَ هَذَا عَبَّادُ بْنُ کَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯
مقدمہ مسلم
পরিচ্ছেদঃ اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حضرت فضل بن سہل نے بیان کیا کہ میں نے معلی رازی سے محمد بن سعید کے متعلق سوال کیا جس سے عباد بن کثیر روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے عیسیٰ بن یونس نے خبر دی کہ میں ایک دن عباد کے دروازہ پر کھڑا تھا اور سفیان اس کے پاس تھے جب سفیان باہر نکلے تو میں نے ان سے عباد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ یہ بہت جھوٹا آدمی ہے۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ سَأَلْتُ مُعَلًّی الرَّازِيَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الَّذِي رَوَی عَنْهُ عَبَّادٌ فَأَخْبَرَنِي عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ کُنْتُ عَلَی بَابِهِ وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ کَذَّابٌ
তাহকীক: