আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৮৩৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٨) خارجہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ سورة النساء کی یہ آیت { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا۔۔۔} سورة الفرقان والی آیت {{ وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ۔۔۔} کے چھ ماہ بعد نازل ہوئی۔

شیخ فرماتے ہیں نزول واقعی اس طرح ہے لیکن تفسیر سورة فرقان والی آیت کے مطابق ہوگی۔
(۱۵۸۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُجَالِدِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ خَارِجَۃَ بْنَ زَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فِی ہَذَا الْمَکَانِ یَقُولُ : أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا} بَعْدَ الَّتِی فِی الْفُرْقَانِ {وَالَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ} بِسِتَّۃِ أَشْہُرٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ ہَکَذَا نُزُولُ الآیَتَیْنِ لَکِنَّ تَأْوِیلَ الآیَۃِ الأَخِیرَۃِ مَا۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٩) ابو مجلز { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا۔۔۔} [النساء ٩٣] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سزا اس کی یہی ہے لیکن اگر اللہ چاہے تو اسے معاف بھی فرما سکتا ہے۔
(۱۵۸۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فِی قَوْلِہِ {ومَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا} قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : ہِیَ جَزَاؤُہُ وَإِنْ شَائَ اللَّہُ أَنْ یَغْفِرَ لَہُ غَفَرَ لَہُ۔

[حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٠) ابو مجلز فرماتے ہیں کہ سزا تو اس کی یہی ہے لیکن اگر اللہ چاہے تو اس سے درگزر فرما دیں۔
(۱۵۸۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنْ شَائَ اللَّہُ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنْ جَزَائِہِ فَعَلَ۔

[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣١) ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ ہم محمد بن سیرین کے پاس تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ } [النساء ٩٣] یہاں تک کہ مکمل آیت پڑھی تو ابن سیرین سخت غصہ ہوگئے اور فرمایا : کیا تو نے یہ فرمان نہیں سنا { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ } [النساء ٤٨] کہ اللہ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف فرما دیتے ہیں، پھر فرمایا : اٹھ اور میری مجلس سے نکل جا تو اسے وہاں سے نکال دیا گیا۔
(۱۵۸۳۱) وَأَخْبَرَنَا الأُسْتَاذُ أَبُو مَنْصُورٍ : عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ طَاہِرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّفَّارُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ فَتَحَدَّثْنَا عِنْدَہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ {مَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ قَالَ فَغَضِبَ مُحَمَّدٌ وَقَالَ أَیْنَ أَنْتَ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ {إِنَّ اللَّہَ لاَ یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَنْ یَشَاء ُ} قُمْ عَنِّی اخْرُجْ عَنِّی قَالَ فَأُخْرِجَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٢) سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم سے اس بارے میں سوال پوچھو تو جواب دیتے ہیں کہ اس کی کوئی توبہ نہیں اور جب کسی شخص سے قتل ہوجاتا ہے تو پھر اسے کہتے ہیں : توبہ کرلے۔
(۱۵۸۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الْبَشِیرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ : کَانَ أَہْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا لاَ تَوْبَۃَ لَہُ وَإِذَا ابْتُلِی رَجُلٌ قَالُوا لَہُ تُبْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنا حوض اپنے جانوروں کے لیے بھرا کہ انھیں پانی پلاؤں گا، ایک شخص کی اونٹنی آئی اور اس نے میرے حوض میں شگاف ڈال دیا اور سارا پانی بہہ گیا۔ میں جلدی سے اٹھا اور غصے میں اونٹنی کے مالک کو تلوار سے قتل کر دیاتو ابن عباس نے فرمایا : یہ جان بوجھ کے قتل کرنا نہیں ہے اور اسے توبہ کا حکم دیا۔
(۱۵۸۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ کَرْدَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ مَلأْتُ حَوْضِی أَنْتَظِرُ بَہِیمَتِی تَرِدُ عَلَیَّ فَلَمْ أَسْتَیْقِظْ إِلاَّ بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَہُ وَثَلَمَ الْحَوْضَ وَسَالَ الْمَاء ُ فَقُمْتُ فَزِعًا فَضَرَبْتُہُ بِالسَّیْفِ فَقَتَلْتُہُ فَقَالَ لَیْسَ ہَذَا مِثْلَ الَّذِی قَالَ فَأَمَرَہُ بِالتَّوْبَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٤) ابو اسحاق سبیعی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! مجھ سے قتل ہوگیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے تو حضرت عثمان نے سورة غافر کی ابتدائی تین آیات پڑھیں :{ حٰمٓ ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ۔۔۔} الی قولہ { شَدِیْدِ الْعِقَابِ } [غافر ١ تا ٣] پھر فرمایا : نیک عمل کرتا رہ اور توبہ کرتا رہ، ناامید مت ہو۔

سنتِ رسول سے ایسی احادیث ہم نے روایت کی ہیں جو ابو مجلز کے قول کی تاکید کرتی ہیں جو (١٥٨٢٩) اور (١٥٨٣٠) میں گزر چکا ہے۔
(۱۵۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُجَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِیعِیَّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ یَعْنِی إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی قَتَلْتُ فَہَلْ لِی مِنْ تَوْبَۃٍ فَقَرَأَ عَلَیْہِ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ {حم تَنْزِیلُ الْکِتَابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ} ثُمَّ قَالَ لَہُ : اعْمَلْ وَلاَ تَیْأَسْ۔

وَقَدْ رُوِّیْنَا فِی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا یُؤَکِّدُ تَأْوِیلَ أَبِی مِجْلَزٍ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٥) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دوسی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کے پاس کوئی قلعہ محفوظ پناہ گاہ ہے ؟ جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کردیا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو طفیل اور ایک اور شخص نے آپ کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ مدینہ پہنچ کر یہ بیمار ہوگئے تو شدت تکلیف کی وجہ سے اس دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ زخمی کرلیا۔ جس سے خون بہنا شروع ہوگیا اور وہ مرگیا تو طفیل نے خواب میں اسے اچھی حالت میں دیکھا اور یہ دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ ڈھانپا ہوا ہے تو طفیل ان سے پوچھنے لگے۔ تم نے اپنا ہاتھ کیوں ڈھانپا ہوا ہے تو وہ شخص کہنے لگا کہ مجھے کہا گیا کہ جس کو تو نے خود خراب کیا ہے ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے تو طفیل نے سارا خواب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کے ہاتھ کو بھی معاف فرما دے۔ “
(۱۵۸۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ الطُّفَیْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِیَّ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ ہَلْ لَکَ فِی حِصْنٍ حَصِینٍ وَمَنَعَۃٍ قَالَ حِصْنٌ کَانَ لِدَوْسٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَأَبَی ذَاکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلَّذِی ذَخَرَ اللَّہُ لِلأَنْصَارِ فَلَمَّا ہَاجَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ ہَاجَرَ مَعَہُ الطُّفَیْلُ وَہَاجَرَ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ فَاجْتَوَوُا الْمَدِینَۃَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ فَقَطَعَ بِہَا بَرَاجِمَہُ فَشَخَبَتْ یَدَاہُ فَمَاتَ فَرَآہُ الطُّفَیْلُ فِی مَنَامِہِ فِی ہَیْئَۃٍ حَسَنَۃٍ وَرَآہُ مُغَطِّیًا یَدَہُ فَقَالَ لَہُ : مَا لِی أَرَاکَ مُغَطِّیًا یَدَکَ؟ قَالَ قِیلَ لِی لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ فَقَصَّ الطُّفَیْلُ رُؤْیَاہُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٦) ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ٩٩ ننانوے قتل کیے تھے۔ وہ لوگوں سے پوچھ کر ایک راہب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ٩٩ قتل کیے ہیں۔ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ راہب نے کہا : نہیں تو اس نے اسے بھی قتل کردیا اور سو قتل پورے کردیے۔ پھر اس نے لوگوں سے کسی اچھے عالم کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتادیا۔ وہ شخص اس راہب کے پاس آیا اور پوچھا کہ میں نے ١٠٠ سو قتل کیے ہیں کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : ہاں تم ایسا کرو فلاں علاقہ میں چلے جاؤ وہاں نیک لوگ رہتے ہیں ان کے ساتھ مل کر عبادت کرو، یہاں واپس نہ آنا؛کیونکہ یہ فتنوں کی سر زمین ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا اور ابھی نصف راستہ ہی طے کیا تھا کہ موت نے آ لیاتو رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اختلاف ہوگیا۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے : یہ دل سے اللہ کے حضور توبہ کرنے نکلا تھا۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے : اس نے کبھی کوئی نیک عمل کیا ہی نہیں۔ ایک فرشتہ آدمی کی شکل میں آیا اور وہ کہنے لگا : زمین ناپ لو جس طرف فاصلہ کم ہو وہ لے جائیں زمین ناپی گئی تو رحمت والے فرشتوں کے حق میں فیصلہ ہوگیا اور وہ اسے لے گئے۔

قتادہ فرماتے ہیں : حسن نے فرمایا کہ جب اس کو موت آئی تو وہ دل سے بخشش کا طلب گار تھا۔
(۱۵۸۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: کَانَ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَی رَاہِبٍ فَأَتَاہُ فَقَالَ إِنَّہُ قَتَلَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ نَفْسًا فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ قَالَ لاَ فَقَتَلَہُ فَکَمَّلَ بِہِ مِائَۃً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ فَدُلَّ عَلَی رَجُلٍ عَالِمٍ فَأَتَاہُ فَقَالَ قَتَلَ مِائَۃَ نَفْسٍ فَہَلْ لَہُ مِنْ تَوْبَۃٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ یَحُولَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ التَّوْبَۃِ انْطَلِقْ إِلَی أَرْضِ کَذَا وَکَذَا فَإِنَّ بِہَا نَاسًا یَعْبُدُونَ اللَّہَ فَاعْبُدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَرْجِعْ إِلَی أَرْضِکَ فَإِنَّہَا أَرْضُ سَوْئٍ فَانْطَلَقَ حَتَّی إِذَا أَتَی نِصْفَ الطَّرِیقِ أَتَاہُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِیہِ مَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلاَئِکَۃُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ جَائَ تَائِبًا مُقْبِلاً بِقَلْبِہِ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَتْ مَلاَئِکَۃُ الْعَذَابِ إِنَّہُ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَأَتَاہُمْ مَلَکٌ فِی صُورَۃِ آدَمِیٍّ فَجَعَلُوہُ بَیْنَہُمْ فَقَالَ قِیسُوا مَا بَیْنَ الأَرْضَیْنِ فَإِلَی أَیِّہِمَا کَانَ أَدْنَی فَہُوَ لَہُ فَقَاسُوا فَوَجَدُوہُ أَدْنَی إِلَی الأَرْضِ الَّتِی أَرَادَ فَقَبَضَتْہُ مَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ۔

قَالَ قَتَادَۃُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُکِرَ لَنَا أَنَّہُ لَمَّا أَتَاہُ الْمَوْتُ نَائَ بِصَدْرِہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّی وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کی دعا ضرور قبول ہونے والی ہوتی ہے میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے جس کے ساتھ میں سفارش کروں گا اور یہ میری امت کے ہر فرد کو حاصل ہوگی سوائی مشرک کے۔
(۱۵۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃً مُسْتَجَابَۃً وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لأُمَّتِی فَہِیَ نَائِلَۃٌ مَنْ مَاتَ مِنْہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ لاَ یُشْرِکُ بِاللَّہِ شَیْئًا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٣٨) انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لیے خصوصاً ہوگی جن سے کبیرہ گناہ سرزد ہوئے ہوں گے۔
(۱۵۸۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : شَفَاعَتِی لأَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِی ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو قتل کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے { وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ } [الانعام ١٥١] کہ ” اپنی اولاد کو محتاجی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں انھیں بھی ہم ہی دیں گے۔ “ اور فر
(١٥٨٣٩) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا :” تو اللہ کے ساتھ شرک کرے حالانکہ وہ تیرا خالق ہے “ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا کہ ” اپنی اولاد کو رزق کے خوف سے قتل کرنا۔ “
(۱۵۸۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ عَمْرٍو الْبَجَلِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّیْبَانِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : سَأَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- قُلْتُ أَیُّ الْکَبَائِرِ أَکْبَرُ قَالَ؟ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ ۔ قُلْتُ : ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ : أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ أَجْلَ أَنْ یَأْکُلَ مَعَکَ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو قتل کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے { وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ } [الانعام ١٥١] کہ ” اپنی اولاد کو محتاجی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں انھیں بھی ہم ہی دیں گے۔ “ اور فر
(١٥٨٤٠) عبداللہ بن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا۔
(۱۵۸۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ

(ح) وَحَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطِّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو ذَرٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ وَأَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ وَوَاصِلٍ الأَحْدَبِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَأْکُلَ مَعَکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : أَنْ تُزَانِیَ حَلِیلَۃَ جَارِکَ۔

وَفِی رِوَایَۃِ الذُّہْلِیِّ : أَنْ تَزْنِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ ۔

حَدِیثُ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ مَوْصُولٌ وَحَدِیثُ وَاصِلٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو قتل کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے { وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ } [الانعام ١٥١] کہ ” اپنی اولاد کو محتاجی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں انھیں بھی ہم ہی دیں گے۔ “ اور فر
(١٥٨٤١) عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، پھر پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس لیے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا۔
(۱۵۸۴۱) أَخْبَرَنَا بِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْہَیْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ أَجْلَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْ تَزْنِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ ۔

قَالَ أَبُو حَفْصٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّۃً عَنْ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ وَوَاصِلٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَسُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ وَہُوَ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنِی سُفْیَانُ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ دَعْہُ فَلَمْ یُذْکَرْ فِیہِ بَعْدَ ذَلِکَ وَاصِلٌ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو قتل کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے { وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ } [الانعام ١٥١] کہ ” اپنی اولاد کو محتاجی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں انھیں بھی ہم ہی دیں گے۔ “ اور فر
(١٥٨٤٢) عبادہ بن صامت (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے اور صحابہ آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھی کہ تم میری اس بات پر بیعت کرو کہ کبھی اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرو گے، چوری اور زنا نہیں کرو گے۔ اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی کے اوپر بہتان بازی نہیں کرو گے۔ نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ جو یہ وعدے پورے کرے گا اس کو اللہ بہترین اجر سے سے نوازیں گے۔ اگر کسی سے یہ گناہ سر زد ہوجائیں تو دنیا میں سزا کامل جانا اس کے لیے کفارہ بن جائے گا اور اگر کسی کے گناہ پر پردہ پڑا رہا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے چاہے تو اسے معاف کر دے چاہے تو سزا دے۔ عبادہ فرماتے ہیں : ہم نے اس پر آپ سے بیعت کرلی۔
(۱۵۸۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ فِیمَا قَرَأْتُہُ عَلَیْہِ وَأَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْہَرَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو إِدْرِیسَ : عَائِذُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِنْ أَصْحَابِہِ : بَایِعُونِی عَلَی أَنْ لاَ تُشْرِکُوا بِاللَّہِ شَیْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَکُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُہْتَانٍ تَفْتَرُونَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ وَلاَ تَعْصُوا فِی مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَی مِنْکُمْ فَأَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ فَعُوقِبَ بِہِ فِی الدُّنْیَا فَہُوَ لَہُ کَفَّارَۃٌ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا ثُمَّ سَتَرَہُ فَأَمْرُہُ إِلَی اللَّہِ إِنْ شَائَ عَفَا عَنْہُ وَإِنْ شَائَ عَاقَبَہُ ۔ قَالَ فَبَایَعْنَاہُ عَلَی ذَلِکَ۔

لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ إِلاَّ أَنَّ فِی رِوَایَۃِ الْقَاضِی عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَقَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَہُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٤٣) ابو امامہ سہل بن حنیف فرماتے ہیں : ہم حضرت عثمان کے پاس تھے، جب ان کو ان کے گھر میں قید کردیا گیا تھا توہم ایسی جگہ داخل ہوئے جہاں سے ہم لوگوں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ حضرت عثمان داخل ہوئے اور پھر نکلے۔ آپ کا رنگ تبدیل ہوا تھا۔ ہم نے پوچھا : اے امیر المؤمنین ! کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا : لوگ مجھے قتل کرنے کا سوچ رہے ہیں، مجھے آج تک اس بات پر یقین نہیں تھا۔ ہم نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ پھر کہنے لگے : یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے کہ کسی مسلمان کو صرف تین وجوہات کی بنا پر قتل کیا جاسکتا ہے : 1 مرتد ہوجائے 2 شادی کے بعد زنا کرے 3 قصاصاً قتل کیا جائے اور اللہ کی قسم ! میں نے تو قبل اسلام اور بعد اسلام کبھی زنا نہیں کیا اور اسلام کے بعد میں اسے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے تو یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔
(۱۵۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الدَّارِ وَہُوَ مَحْصُورٌ وَکُنَّا نَدْخُلُ مُدْخَلاً نَسْمَعُ مِنْہُ کَلاَمَ مَنْ فِی الْبَلاَطِ فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ خَرَجَ مُتَغَیِّرَ اللَّوْنِ قِیلَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ : إِنَّہُمْ لَیَتَوَاعَدُونِی بِالْقَتْلِ آنِفًا وَلَمْ أَسْتَیْقِنْ ذَلِکَ مِنْہُمْ حَتَّی کَانَ الْیَوْمُ۔فَقُلْنَا لَہُ یَکْفِیکَہُمُ اللَّہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ وَبِمَ یَقْتُلُونَنِی وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِہِ أَوْ زَنَی بَعْدَ إِحْصَانِہِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ۔ فَوَاللَّہِ مَا زَنَیْتُ فِی جَاہِلِیَّۃٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ قَطُّ وَلاَ أَحْبَبْتُ بِدِینِی بَدَلاً مُنْذُ ہَدَانِی اللَّہُ وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا عَلاَمَ یُرِیدُ ہَؤُلاَئِ قَتْلِی؟ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৫০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٤٤) عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے اس کو قتل کرنا جائز نہیں علاوہ تین وجوہات کے :1 قصاص کے طور پر 2 رجم کر کے 3 مرتد ہو کر مسلمانوں سے جدا ہوجائے۔
(۱۵۸۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ دَمُّ رَجُلٍ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنِّی رَسُولُ اللَّہِ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثَۃِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّیِّبُ الزَّانِی وَالتَّارِکُ لِدِینِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৫১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٤٥) ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ کلمہ توحید کا اقرار نہ کرلیں۔ جب انھوں نے اقرار کرلیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔
(۱۵۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ۔

وَعَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَإِذَا قَالُوہَا مَنَعُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৫২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٤٦) مقداد بن اسود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اگر میں کسی کافر سے لڑوں اور وہ میرا ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اور پھر مجھ سے بچ کر کلمہ پڑھ کر درخت کے پیچھے چھپ جائے تو کیا میں اسے قتل کر دوں اور وہ اسلام بھی قبول کرلے۔ آپ نے فرمایا : اسے قتل نہ کر۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہو، کیا پھر میں اسے قتل کر دوں ؟ فرمایا : نہ قتل کرنا؛ کیونکہ اگر تو نے قتل کردیا تو وہ تیرے مقام ہو اور تو اس کے مقام پر کہ جس پر وہ قتل ہونے سے پہلے تھا۔
(۱۵۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنْ لَقِیتُ رَجُلاً مِنَ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِی فَضَرَبَ إِحْدَی یَدَیَّ بِالسَّیْفِ فَقَطَعَہَا ثُمَّ لاَذَ مِنِّی بِشَجَرَۃٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّہِ أَفَأَقْتُلُہُ یَا رَسُولِ اللَّہِ بَعْدَ أَنْ قَالَہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَقْتُلْہُ ۔ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّہُ قَدْ قَطَعَ یَدَیَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَہَا أَفَأَقْتُلُہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَقْتُلْہُ فَإِنْ قَتَلْتَہُ فَإِنَّہُ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَہُ وَإِنَّکَ بِمَنْزِلَتِہِ قَبْلَ أَنْ یَقُولَ کَلِمَتَہُ الَّتِی قَالَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وُجُوہٍ أُخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৫৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٤٧) اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرقات کی طرف ایک لشکر میں روانہ کیا۔ ابتدائی حملہ کے بعد ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ ہم نے ایک آدمی کو گرفتار کیا تو وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگا : لیکن ہم نے اسے قتل کردیا۔ مجھے یہ بات دل میں کھٹکنے لگی۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ فرمانے لگے : قیامت کے دن تو لا الاہ الہ اللہ کا کیا جواب دے گا ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے تو اسلحہ اور قتل کے خوف سے پڑھا تھا تو آپ نے فرمایا : کیا تو نے اس کا سینہ پھاڑ کے دیکھا تھا کہ کس وجہ سے اس نے کلمہ پڑھا ہے۔ اے اسامہ ! اس لا الہ الا اللہ کا تو قیامت کے دن کیا جواب دے گا ؟ فرماتے ہیں کہ آپ یہ بات بار بار دہراتے رہے کہ میں سوچنے لگا، کاش ! میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا۔ ابو ظبیان کہتے ہیں کہ سعد نے فرمایا کہ میں اسے قتل نہ کرتا یہاں تک کہ اسے اسامہ نے قتل کردیا تو ایک آدمی کہنے لگا : کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں ہے کہ { وَقٰتِلُوْھُمْ حَٰتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [البقرۃ ١٩٣] تو سعد فرمانے لگے : ہم فتنہ کے ختم ہونے تک لڑے تو اور تیرے ساتھ کیا یہ چاہتے ہیں کہ ہم لڑیں یہاں تک کہ فتنہ برپا ہوجائے۔
(۱۵۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلَیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَرِیَّۃً إِلَی الْحُرُقَاتِ فَنَذِرُوا بِنَا فَہَرَبُوا فَأَدْرَکْنَا رَجُلاً فَلَمَّا غَشِینَاہُ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَضَرَبْنَاہُ حَتَّی قَتَلْنَاہُ فَعَرَضَ فِی نَفْسِی شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَنْ لَکَ بِلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا قَالَہَا مَخَافَۃَ السِّلاَحِ وَالْقَتْلِ۔ فَقَالَ : أَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ قَالَہَا مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ أَمْ لاَ؟ مَنْ لَکَ بِلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ فَمَا زَالَ یَقُولُ حَتَّی وَدِدْتُ أَنِّی لَمْ أُسْلِمْ إِلاَّ یَوْمَئِذٍ قَالَ أَبُو ظَبْیَانَ قَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّہِ لاَ أَقْتُلُہُ حَتَّی یَقْتُلَہُ ذُو الْبُطَیْنِ یَعْنِی أُسَامَۃَ فَقَالَ رَجُلٌ أَلَیْس قَدْ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ( قَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ) فَقَالَ سَعْدٌ قَاتَلْنَا حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِیدُونَ أَنْ نُقَاتِلَ حَتَّی تَکُونَ فِتْنَۃٌ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক: