আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৮১৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اس کی فضیلت کا بیان
(١٥٨٠٨) ابو موسیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو غلام اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرے اور اپنے مالک کے حقوق ادا کرے، اس کی فرمان برداری اور خیر خواہی کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے، ایک اللہ کی عبادت کا اور دوسرا اپنے مالک کی اطاعت اور اس کا حق ادا کرنے کا۔
(۱۵۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لِلْمَمْلُوکِ الَّذِی یُحْسِنُ عِبَادَۃَ رَبِّہِ وَیُؤَدِّی إِلَی سَیِّدِہِ الَّذِی لَہُ عَلَیْہِ مِنَ الْحَقِّ وَالنَّصِیحَۃِ وَالطَّاعَۃِ لَہُ أَجْرَانِ أَجْرُ مَا أَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ وَأَجْرُ مَا أَدَّی إِلَی مَلِیکِہِ الَّذِی لَہُ عَلَیْہِ مِنَ الْحَقِّ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮১৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اس کی فضیلت کا بیان
(١٥٨٠٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیک اور خیر خواہ غلام کے لیے دہرا اجر ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر جہاد، حج نہ ہوتا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں غلامی کی حالت میں ہی فوت ہوتا۔
(۱۵۸۰۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوکِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ ۔ وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَوْلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّی لأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوکٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرِینِ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮১৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اس کی فضیلت کا بیان
(١٥٨١٠) ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل فرماتے ہیں کہ جب بندہ غلام اللہ اور اپنے آقا کا حق ادا کرتا ہے تو اس کو دوگنااجر ملتا ہے فرماتے ہیں میں نے کعب کو یہ حدیث سنائی تو فرمانے لگے اس غلام اور پرہیزگار مومن پر کوئی حساب نہیں ہے۔
(۱۵۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا أَدَّی الْعَبْدُ حَقَّ اللَّہِ وَحَقَّ مَوَالِیہِ کَانَ لَہُ أَجْرَانِ ۔ قَالَ فَحَدَّثْتُہُ کَعْبًا فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ حِسَابٌ وَلاَ عَلَی مُؤْمِنٍ مُزْہِدٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮১৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اس کی فضیلت کا بیان
(١٥٨١١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مبارک ہو اس غلام کے لیے جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کی عبادت اور اپنے آقا کے حقوق کو مکمل ادا کرنے والا ہو، اسے مبارک ہو اسے مبارک ہو ۔

اور رمادی نے ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ حضرت عمر جب بھی کسی غلام کے پاس سے گزرتے تو فرماتے : اے فلاں ! تجھے دہرا اجر مبارک ہو۔
(۱۵۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِی رِوَایَۃِ الرَّمَادِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ یَتَوَفَّاہُ اللَّہُ یُحْسِنُ عِبَادَۃَ رَبِّہِ وَطَاعَۃَ سَیِّدِہِ نِعِمَّا لَہُ نِعِمَّا لَہُ ۔

زَادَ الرَّمَادِیُّ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا مَرَّ عَلَی عَبْدٍ قَالَ : یَا فُلاَنُ أَبْشِرْ بِالأَجْرِ مَرَّتَیْنِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ دُونَ قَوْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮১৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک و غلام ایک دوسرے کو کس نام سے پکاریں
(١٥٨١٢) ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی اس طرح نہ کہے : اپنے رب کو پلا، اپنے رب کو کھلا یا وضو کروا اور نہ یہ کہے : میرا رب بلکہ وہ کہے : میرا سردار میرا مولا اور کوئی یہ بھی نہ کہے : میرا بندہ، میری بندی بلکہ وہ کہے : میرا بچہ میرا جوان میری بچی، میرا غلام۔ “
(۱۵۸۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: لاَ یَقُلْ أَحَدُکُمْ اسْقِ رَبَّکَ أَطْعِمْ رَبَّکَ وَضِّئْ رَبَّکَ وَلاَ یَقُلْ أَحَدُکُمْ رَبِّی وَلْیَقُلْ سَیِّدِی مَوْلاَی وَلاَ یَقُلْ أَحَدُکُمْ عَبْدِی أَمَتِی وَلْیَقُلْ فَتَایَ فَتَاتِی غُلاَمِی ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮১৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کو اس کے گھر والوں کے خلاف اکسانے پر سختی کا بیان
(١٥٨١٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی کسی غلام کو اس کے اہل سے دھوکا کرنے پر ابھارے وہ ہم میں سے نہیں اور جو کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارے وہ بھی ہم میں سے نہیں۔
(۱۵۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْرَزِ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِیلٍ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ دَنُوقَا حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَی أَہْلِہِ فَلَیْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَۃً عَلَی زَوْجِہَا فَلَیْسَ مِنَّا ۔

تَابَعَہُ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کیخرچہ کا بیان
(١٥٨١٤) عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا تو مجھ سے کچھ باتیں کی جو میں بتاؤں گا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حاجت کے لیے کوئی بلند آڑ یا پھر کھجور کے درختوں کا جھمگٹا پسند فرماتے تھے۔ آپ اپنی حاجت کے لیے ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوگئے تو دیکھا وہاں ایک اونٹ بیٹھا ہے آپ کو دیکھ کر اس اونٹ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آپ نے اس کی کوہان اور گردن پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا : اس کا مالک کون ہے ؟ تو وہ انصاری آیا اور کہا : میرا ہے یا رسول اللہ ! تو آپ نے فرمایا : کیا تو اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا اللہ نے تجھے اس کا مالک بنایا ہے، اس کا خیال رکھا کر اس اونٹ نے مجھے شکایت کی ہے تو اسے بہت تکلیف دیتا ہے اور تھکا دیتا ہے۔
(۱۵۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : أَرْدَفَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ خَلْفَہُ فَأَسَرَّ إِلَیَّ حَدِیثًا لاَ أُحَدِّثُ بِہِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَکَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِحَاجَتِہِ ہَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ یَعْنِی حَائِطًا قَالَ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا فِیہِ جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- ذَرَفَتْ عَیْنَاہُ قَالَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَمَسَحَ سَرَاتَہُ إِلَی سَنَامِہِ وَذِفْرَیْہِ فَسَکَنَ قَالَ : مَنْ رَبُّ ہَذَا الْجَمَلِ لِمَنْ ہَذَا الْجَمَلُ ۔ قَالَ فَجَائَ فَتًی مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ہُوَ لِی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ : أَلاَ تَتَّقِی اللَّہَ فِی ہَذِہِ الْبَہِیمَۃِ الَّتِی مَلَّکَکَ اللَّہُ إِیَّاہَا فَإِنَّہَا تَشْکُو إِلَیَّ أَنَّکَ تُجِیعُہُ وَتُدْئِبُہُ ۔

أَخْرَجَ مُسْلِمٌ أَوَّلَ الْحَدِیثِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کیخرچہ کا بیان
(١٥٨١٥) عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب ہوا، اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تو بلی بھو کی مرگئی تو وہ عورت جہنم میں داخل کردی گئی۔ اس عورت کو کہا گیا : نہ تو نے اسے کھلایا نہ پلایا نہ تو نے اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی۔
(۱۵۸۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمِصْرِیُّ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : عُذِّبَتِ امْرَأَۃٌ فِی ہِرَّۃٍ حَبَسَتْہَا حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا فَدَخَلَتْ فِیہَا النَّارَ فَقَالَ لَہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِیہَا وَسَقَیْتِیہَا حِینَ حَبَسْتِیہَا وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِیہَا فَتَأْکُلَ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کیخرچہ کا بیان
(١٥٨١٦) یہی حدیث اسماعیل عن مالک کی سند سے ہے، لیکن اس میں ان الفاظ کا ذکر نہیں کہ وہ بلی بھوک سے مرگئی تھی۔
(۱۵۸۱۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ فِی آخِرِہِ حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کیخرچہ کا بیان
(١٥٨١٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک عورت جہنم میں بلی کی وجہ سے داخل ہوئی۔ اس نے اسے باندھے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی۔
(۱۵۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : دَخَلَتِ امْرَأَۃٌ النَّارَ مِنْ جَرَّا ہِرَّۃٍ لَہَا رَبَطَتْہَا فَلاَ ہِیَ أَطْعَمَتْہَا وَلاَ ہِیَ أَرْسَلَتْہَا تَقْمُمُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ ہَزْلاً۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کیخرچہ کا بیان
(١٥٨١٨) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی راستے سے گزر رہا تھا، اسے پیاس لگی۔ وہ کنویں میں اترا اور پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا ہے تو وہ آدمی دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنا جوتا پانی سے بھرا اور کتے کو پلایا۔ اللہ کو اس بندے کی یہ ادا بہت پسند آئی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام پوچھنے لگے : یا رسول اللہ ! کیا جانوروں میں بھی اجر ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ہر تر جگہ والے میں اجر ہے۔
(۱۵۸۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : بَیْنَمَا رَجُلٌ فِی طَرِیقٍ أَصَابَہُ عَطَشٌ فَجَائَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِیہَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ یَأْکُلُ الثَّرَی مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَلَ الرَّجُلُ إِلَی الْبِئْرِ فَمَلأَ خُفَّہُ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ أَمْسَکَ الْخُفَّ بِفِیہِ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ ۔ فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَإِنَّ لَنَا فِی الْبَہَائِمِ لأَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کیخرچہ کا بیان
(١٥٨١٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نبی اسرائیل کی ایک بدکار عورت تھی، اس نے ایک کتے کو پیاس سے ہانپتے دیکھا تو اس نے اپنا جوتا اتار اور اس میں پانی بھر کر کتے کو پلا دیا، اللہ نے اسے بخش دیا۔
(۱۵۸۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ یَعْنِی الشَّیْبَانِیَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَیْنَا کَلْبٌ یُطِیفُ بِرَکِیَّۃٍ قَدْ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْہُ بَغِیٌّ مِنْ بَغَایَا بَنِی إِسْرَائِیلَ فَنَزَعَتْ مُوقَہَا فَاسْتَقَتْ لَہُ فَسَقَتْہُ إِیَّاہُ فَغُفِرَ لَہَا بِہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ تَلِیدٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کا دودھ دوہنے کا بیان
(١٥٨٢٠) سلم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں : میں نے سوادہ بن ربیع سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے میرے لیے زاد راہ تیا کروایا اور فرمایا : جب تو اپنے بچوں میں پہنچے تو اپنے بیٹوں کو حکم دینا کہ اپنے دودھ والے جانوروں کو اچھی غذا دیں اور انھیں کہنا : اپنے ناخن کاٹ کر رکھیں اور دودھ نکالتے ہوئے اپنے ناخنوں سے تھنوں کو زخمی نہ کریں۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ” اپنے بیٹوں کو کہنا کہ جانور کے بچے کو دودھ ضرور پلانا اور سال کا ہونے تک اسے کم خوراک کی وجہ سے کمزور نہ ہونے دینا۔
(۱۵۸۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُرَجَّا بْنُ رَجَائٍ الْیَشْکُرِیُّ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سَوَادَۃَ بْنَ الرَّبِیعِ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلْتُہُ فَأَمَرَ لِی بِذَوْدٍ وَقَالَ : إِذَا رَجَعْتَ إِلَی بَنِیکَ فَمُرْہُمْ فَلْیُحْسِنُوا غِذَائَ رِبَاعِہِمْ وَمُرْہُمْ فَلْیُقَلِّمُوا أَظْفَارَہُمْ وَلاَ یَعْبِطُوا بِہَا ضُرُوعَ مَوَاشِیہِمْ إِذَا حَلَبُوا ۔

وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ عَنْ سَلْمٍ الْجَرْمِیِّ وَزَادَ فِیہِ : وَقُلْ لَہُمْ فَلْیَحْتَلِبُوا عَلَیْہَا سِخَالَہَا لاَ تُدْرِکُہَا السَّنَۃُ وَہِیَ عِجَافٌ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کا دودھ دوہنے کا بیان
(١٥٨٢١) ضرار بن ازور فرماتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دودھ والی اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کا دودھ نکالوں ۔ میں نے اس کا دودھ نکالا یہاں تک کہ میں نے تھن خالی کردیے تو آپ نے مجھے روک دیا اور فرمایا : اس کے بچے کے لیے بھی کچھ چھوڑ دو ۔
(۱۵۸۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ بَحِیرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الأَزْوَرِ قَالَ : أَہْدَیْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِقْحَۃً فَأَمَرَنِی أَنْ أَحْلِبَہَا فَحَلَبْتُہَا فَجَہَدْتُ حَلْبَہَا فَقَالَ : دَعْ دَاعِیَ اللَّبَنِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنِ الأَعْمَشِ وَخَالَفَہُمْ أَبُو مُعَاوِیَۃَ فرَوَاہُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ یَعْقُوبَ عَنْ ضِرَارٍ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ نَحْوَ رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٢) عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا :” اللہ کے شریک ٹھہرانا حالانکہ وہ تیرا خالق ہے اور اپنی اولاد کو رزق کے خوف سے قتل کرنا، ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنا “ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ۔ } [الفرقان ٦٨]
(۱۵۸۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الضَّبِّیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ الْکَبَائِرِ فَقَالَ : أَنْ تَدْعُوَ لِلَّہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ وَأَنْ تُزَانِیَ حَلِیلَۃَ جَارِکَ ۔ ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُونَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ أَثَامًا} أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٣) عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب دیا : ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ وہ تیرا خالق ہے۔ “ پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ” غربت کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنا۔ “ پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ” ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنا اور اللہ نے بھی ان گناہوں کے کبیرہ ہونے کی تصدیق فرمائی ہے۔ “ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ۔ } [الفرقان ٦٨]

امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا } [المائدۃ ٣٢] اور { وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَابْنَیْ۔۔۔الی قولہ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ } [المائدۃ ٢٨ تا ٣٠]
(۱۵۸۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللَّہِ؟ قَالَ : أَنْ تَدْعُوَ لِلَّہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ : تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ : أَنْ تُزَانِیَ حَلِیلَۃَ جَارِکَ ۔ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَصْدِیقَہَا {وَالَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ}إِلَی قَوْلِہِ {أَثَامًا}

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {أَنَّہُ مَنْ قَتْلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَ أَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا }وَقَالَ {وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ ابْنِیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لأَقْتُلَنَّکَ} إِلَی قَوْلِہِ { فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِینَ}
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٤) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی بھی دنیا میں ظلم کر کے قتل کیا جاتا ہے تو اس کے قتل کے گناہ کا کچھ حصہ آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے کیونکہ سب سے پہلے قتل کی ابتدا اس نے کی تھی۔

اور ابو معاویہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ظلم کر کے قتل نہیں کیا جاتا مگر اس کا گناہ آدم کے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ قتل کی ابتدا اس نے ہی کی تھی۔

اور بخاری نے حمیدی سے اور مسلم نے ابن ابی عمر عن سفیان بیان کی ہے اور اللہ کا یہ فرمان بھی ساتھ بیان کیا ہے : { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا۔۔۔و الی عَظِیْمًا } [النساء ٩٣]
(۱۵۸۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الأَبِیوَرْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ الأَعْمَشُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلاَّ کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْہَا لأَنَّہُ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلاً ۔

لَفْظُ حَدِیثِ سُفْیَانَ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِہَا لأَنَّہُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا}
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٥) مغیرہ بن نعمان فرماتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انھوں نے فرمایا کہ اہل کوفہ کے درمیان اس آیت میں اختلاف ہوگیا : { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا } (النساء : ٩٣) میں ابن عباس (رض) سے جا کر ملا، ان سے اس کی بابت سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : { فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ } یہ آیت نازل شدہ ہے اور اس سے کچھ بھی منسوخ نہیں ہے۔
(۱۵۸۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ : اخْتَلَفَ فِیہَا أَہْلُ الْکُوفَۃِ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا} فَرَحَلْتُ فِیہَا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ عَنْہَا فَقَالَ : نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ} فِی آخِرِ مَا نَزَلَتْ فَما نَسَخَہَا شَیْئٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٦) سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں پوچھا : { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ } [النساء ٩٣] تو فرمایا : اس کی کوئی توبہ نہیں ہے اور اس آیت کے متعلق پوچھا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ ۔۔۔} [الفرقان ٦٨] الی قولہ { اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ } فرمایا : یہ جاہلیت میں تھا۔
(۱۵۸۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ مَحْمُوَیْہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِہِ {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ} فَقَالَ لاَ تَوْبَۃَ لَہُ وَعَنْ قَوْلِہِ {وَالَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ} إِلَی قَوْلِہِ {إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ} فَقَالَ کَانَتْ ہَذِہِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ آدَمَ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت قرآن میں ہے

امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ۔۔۔}[الانعام ١٥١، و الاسراء ٣٣] ” تم کسی نفس کو قتل نہ کرو کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے تم پر حرام کیا ہے اور فرمایا : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ
(١٥٨٢٧) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن أبزی نے حکم دیا کہ میں ابن عباس سے ان دو آیات کے متعلق پوچھوں کہ ان کا کیا مطلب ہے۔ پہلی آیت سورة الفرقان کی : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ۔۔۔} الی قولہ { وَلَا یَزْنُوْنَ } [الفرقان : ٦٨] اور دوسری آیت سورة النساء کی ٩٣ نمبر آیت { وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا۔۔۔} الی آخر القول [النساء ٩٣] تو میں نے ابن عباس سے پوچھا : تو فرمایا : سورة الفرقان والی آیت مشرکین مکہ کے بارے میں ہے؛ کیونکہ شرک کی حالت میں ہم سے ناحق قتل بھی ہوئے، ہم نے شریک بھی بنائے اور برے کام بھی سرزد ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا : { اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ } الی قولہ { حَسَنَاتٍ } [الفرقان ٧٠] اور سورة النساء والی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو شرائع اسلام کو جانتا ہو پھر وہ قتل کرتا ہے تو اس کی کوئی توبہ قبول نہیں۔ میں نے یہ بات مجاہد کو سنائی تو انھوں نے فرمایا : جو اپنے کیے پر نادم ہو وہ اس میں شامل نہیں۔
(۱۵۸۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ أَوْ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : أَمَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی قَالَ سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ہَاتَیْنِ الآیَتَیْنِ مَا أَمْرُہُمَا عَنِ الآیَۃِ الَّتِی فِی سُورَۃِ الْفُرْقَانِ {وَالَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ} إِلَی قَوْلِہِ {وَلاَ یَزْنُونَ} وَعَنِ الآیَۃِ الَّتِی فِی النِّسَائِ {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} إِلَی آَخِرِ الآیَۃِ قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِی فِی الْفُرْقَانِ قَالَ مُشْرِکُو أَہْلِ مَکَّۃَ قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ وَقَدْ أَتَیْنَا الْفَوَاحِشَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی {إِلاَّ مِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَأُولَئِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ} فَہَذِہِ لأُولَئِکَ قَالَ وَأَمَّا الَّتِی فِی النِّسَائِ {وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ {عَظِیمًا} قَالَ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الإِسْلاَمَ وَعَلِمَ شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ وَلاَ تَوْبَۃَ لَہُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُجَاہِدٍ فَقَالَ إِلاَّ مَنْ نَدِمَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক: