আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৯১৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩٠٨) ایضاً
(۱۵۹۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو جُحَیْفَۃَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩٠٩) ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی سے پوچھا : وحی سے آپ کے پاس کچھ ہے ؟ تو فرمایا : نہیں۔ قسم ہے دانے کو پھاڑنے ولی اور مخلوق کو بری کرنے والی ذات کی ! میں قرآن کے اس فہم جو اللہ نے اپنے بندے کو دیا اور صحیفہ سے زیادہ نہیں جانتا۔ میں نے کہا : صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا : دیت، قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور یہ کہ مومن کو مشرک کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔

زہیر کہتے ہیں : میں نے مطرف سے پوچھا : فَکَاکُ الأَسِیرِ کیا ہے ؟ فرمایا کہ دشمنوں کے قیدیوں کو چھوڑنا اور یہ سنت سے جاری ہے اور مطرف نے مزید فرمایا کہ العقل ” دیت “ ہے
(۱۵۹۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا زُہَیْرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنَ الْوَحْیِ شَیْئٌ قَالَ لاَ وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ مَا أَعْلَمُہُ إِلاَّ فَہْمًا یُعْطِیہِ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلاً وَمَا فِی الصَّحِیفَۃِ قُلْتُ وَمَا الصَّحِیفَۃُ قَالَ الْعَقْلُ وَفَکَاکُ الأَسِیرِ وَلاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِمُشْرِکٍ۔

قَالَ زُہَیْرٌ فَقُلْتُ لِمُطَرِّفٍ : وَمَا فَکَاکُ الأَسِیرِ؟ قَالَ : أَنْ یُفَکَّ مِنَ الْعَدُوِّ جَرَتْ بِذَلِکَ السُّنَّۃُ وَقَالَ مُطَرِّفٌ الْعَقْلُ الْمُعَقَّلَۃُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ عَنْ زُہَیْرٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١٠) قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی کے پاس آئے اور میرے ساتھ جاریہ بن قدامہ سعدی بھی تھے، میں نے پوچھا : کیا آپ کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : نہیں۔ صرف یہ میرے تلوار کی میان ہے، پھر اس سے ایک خط نکالا اور اس کو پڑھا اس میں لکھا تھا کہ مسلمانوں کے خون آپس میں برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتب رہے اور ان کی ان کے علاوہ پر مدد بھی کی جائے گی، خبردار ! کسی کافر کے بدلے کسی مسلمان کو نہ قتل کرنا اور بدعات سے بچنا جس نے کوئی نیا طریقہ رائج کیا اس پر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
(۱۵۹۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : أَتَیْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَا وَجَارِیَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ السَّعْدِیُّ فَقُلْنَا : ہَلْ مَعَکَ عَہْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ : لاَ إِلاَّ مَا فِی قِرَابِ سَیْفِی فَأَخْرَجَ إِلَیْنَا مِنْہُ کِتَابًا فَقَرَأَہُ فَإِذَا فِیہِ : الْمُسْلِمُونَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَیَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ وَہُمْ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ أَلاَ لاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ ، أَلاَ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١١) حسن بصری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا :” کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ “
(۱۵۹۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ عَنْ عَطَائٍ وَطَاوُسٍ أَحْسَبُہُ قَالَ وَمُجَاہِدٍ وَالْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ : لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا عَامٌّ عِنْدَ أَہْلِ الْمَغَازِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَکَلَّمَ بِہِ فِی خُطْبَتِہِ یَوْمَ الْفَتْحِ وَہُوَ یُرْوَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُسْنَدًا مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَحَدِیثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ أَمَّا حَدِیثُ عَمْرٍو۔ [ضعیف۔ و لہ شواہد کثیرۃ صحیحۃ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١٢) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ والے سال خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جو جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے تو اسلام میں حلفیت ختم۔ اب مسلمانوں کی ہی دوسروں کے مقابلے میں مدد کی جائے گی۔ ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے۔ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ کافر کی دیت مومن کی نصف دیت کے برابر ہے، نہ خود نقصان اٹھاؤ نہ دوسروں کو دو اور ان کے صدقات نہ لیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ہی۔
(۱۵۹۱۲) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی جَمِیعًا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّہُ مَا کَانَ مِنْ حِلْفٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَإِنَّ الإِسْلاَمَ لَمْ یَزِدْہُ إِلاَّ شِدَّۃً وَلاَ حِلْفَ فِی الإِسْلاَمِ وَالْمُسْلِمُونَ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ یَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ أَقْصَاہُمْ تَرُدُّ سَرَایَاہُمْ عَلَی قَعَدَتِہِمْ لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ دِیَۃُ الْکَافِرِ نِصْفُ دِیَۃِ الْمُؤْمِنِ لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُہُمْ إِلاَّ فِی دُورِہِمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ یُونُسَ بْنِ بُکَیْرٍ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مومنوں کے خون آپس میں برابر ہیں، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے اور ان کا کم تر بھی امیر ہے، ان کی ان کے غیروں پر مدد کی جائے گی۔
(۱۵۹۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی ہُشَیْمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْمُسْلِمُونَ تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ یَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ وَیُجِیرُ عَلَیْہِمْ أَقْصَاہُمْ وَہُمْ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ یَرُدُّ مُشِدُّہُمْ عَلَی مُضْعِفِہِمْ وَمُتَسَرِّعُہُمْ عَلَی قَاعِدِہِمْ لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١٤) عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا :” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تمہارے صاحب ہلال بن امیر نے کیا کیا ؟ اگر مومن کو کافر کے بدلے قتل کیا جاتا تو میں کردیتا، فدیہ دے دو ، ہم نے انھیں فدیہ دے دیا۔ بنو مدلج ہمارے ساتھ تھے تو وہ بڑی خوبصورت بکریاں لائے کہ ایسی خوش رنگ ہم نے پہلے نہیں دیکھیں تھیں اور بنو مدلج جاہلیت میں بنو کعب کے حلیف تھے۔

ایک دوسری روایت میں ہلال بن امیہ کی جگہ خراش بن امیہ کا ذکر ہے اور اس میں دیت اور اس کے بعد والی بات کا ذکر نہیں۔
(۱۵۹۱۴) وَأَمَّا حَدِیثُ عِمْرَانَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیِّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ خُرَیْنِقَ بِنْتِ الْحُصَیْنِ عَنْ أَخِیہَا عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْفَتْحِ : أَلَمْ تَرَ إِلَی مَا صَنَعَ صَاحِبُکُمْ ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ لَوْ قَتَلْتُ مُؤْمِنًا بِکَافِرٍ لَقَتَلْتُہُ فَدُوْہُ ۔ فَوَدَیْنَاہُ وَبَنُو مُدْلِجٍ مَعَنَا فَجَاء ُوا بِغَنَمٍ عُفْرٍ لَمْ أَرَ أَحْسَنَ مِنْہَا أَلْوَانًا وَکَانَتْ بَنُو مُدْلِجٍ حُلَفَائَ بَنِی کَعْبٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا الْوَاقِدِیُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ خِرَاشُ بْنُ أُمَیَّۃَ بَدَلَ ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ وَلَمْ یَذْکُرِ الدِّیَۃَ وَمَا بَعْدَہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ کی میان سے دو خط ملے، جن میں سے ایک میں یہ لکھا تھا کہ مومنوں کے خون برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے اور کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافر مسلمان اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہے۔ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی ایک نکاح میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں، عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ تین راتوں یا اس سے زیادہ سفر عورت محرم کے بغیر نہیں کرسکتی۔
(۱۵۹۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْہَبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : وُجِدَ فِی قَائِمِ سَیْفِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کِتَابَانِ فَذَکَرَ أَحَدَہُمَا قَالَ وَفِی الآخَرِ : الْمُؤْمِنُونَ تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَیَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ لاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ وَلاَ یَتَوَارَثُ أَہْلُ مِلَّتَیْنِ وَلاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ ثَلاَثَ لَیَالٍ إِلاَّ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ ۔ ابْنُ مَوْہَبٍ ہُوَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْہَبٍ وَمَالِکٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی الرِّجَالِ وَأَبُو الرِّجَالِ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیُّ الَّذِی رَوَی عَنْہُ ابْنُہُ مَالِکٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩١٦) معقل بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ذمی عہد میں اور مسلمان ان کے غیروں پر مدد کیے جائیں۔ ان کے خون برابر ہیں۔
(۱۵۹۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ أَبِی الْجَنُوبِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ وَالْمُسْلِمُونَ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩١٧) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک ذمی کے بدلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو قتل کیا اور فرمایا : میں زیادہ اپنے ذمہ کو پورا کرنے والا ہوں۔

اس روایت میں دو علتیں ہیں : 1 ابن عمر (رض) سے موصول غلط ہے بلکہ یہ بیلمانی کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت ہے۔ 2 ابراہیم اسے ابن منکدر سے روایت کرتے ہیں اور پھر اسے عمار بن مطر رہادی پر محمول کیا۔ یہ سندوں میں قلب اور احادیث میں چوری کرتا تھا اور یہ حد احتجاج سے ساقط راوی ہے۔
(۱۵۹۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبِہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الرُّہَاوِیُّ أَخْبَرَنِی جَدِّی سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّہَاوِیُّ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ مَطَرٍ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَسْلَمِیُّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاہِدٍ وَقَالَ : أَنَا أَکْرَمُ مَنْ وَفَی بِذِمَّتِہِ ۔

ہَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْہَیْنِ أَحَدُہُمَا وَصْلُہُ بِذِکْرِ ابْنِ عُمَرَ فِیہِ وَإِنَّمَا ہُوَ عَنِ ابْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً وَالآخَرُ رِوَایَتُہُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ رَبِیعَۃَ وَإِنَّمَا یَرْوِیہِ إِبْرَاہِیمُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ وَالْحَمْلُ فِیہِ عَلَی عَمَّارِ بْنِ مَطَرٍ الرُّہَاوِیُّ فَقَدْ کَانَ یَقْلِبُ الأَسَانِیدَ وَیَسْرِقُ الأَحَادِیثَ حَتَّی کَثُرَ ذَلِکَ فِی رِوَایَاتِہِ وَسَقَطَ عَنْ حَدِّ الاِحْتِجَاجِ بِہِ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩١٨) عبدالرحمن بن بیلمانی مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ذمہ کو زیادہ پورا کرنے والا ہوں ۔ پھر آپ نے اس مسلمان کو قتل کردیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(۱۵۹۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَی بِذِمَّتِہِ ۔ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ۔ ہَذَا ہُوَ الأَصْلُ فِی ہَذَا الْبَابِ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ وَرَاوِیہِ غَیْرُ ثِقَۃٍ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩١٩) عبدالرحمن بن بیلمانی کہتے ہیں کہ ذمیوں میں سے ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : آپ سے ہمارا یہ یہ معاہدہ ہوا تھا۔ آپ کے ایک شخص نے ہمارا ایک آدمی قتل کردیا ہے تو آپ نے فرمایا : میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں تو آپ نے اس مسلمان کو بھی قتل کروا دیا۔
(۱۵۹۱۹) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِی رَبِیعَۃُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّا عَاہَدْنَاکَ وَبَایَعْنَاکَ عَلَی کَذَا وَکَذَا وَقَدْ خُتِرَ بِرَجُلٍ مِنَّا فَقُتِلَ۔ فَقَالَ : أَنَا أَحَقُّ مَنْ أَوْفَی بِذِمَّتِہِ ۔ فَأَمْکَنَہُ مِنْہُ فَضُرِبَتْ عُنُقُہُ۔ [ضعیف۔ مرسل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩٢٠) ابن بیلمانی مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نے یہودی کو قتل کردیا اور رمادی کی روایت میں ہے کہ ذمی کو تو بدلے میں اس مسلمان کو قتل کیا گیا اور آپ نے فرمایا : میں زیادہ حق دار ہوں کہ اپنا ذمہ پورا کروں۔
(۱۵۹۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الرَّمَادِیُّ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ یَرْفَعُہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَقَادَ مُسْلِمًا قَتَلَ یَہُودِیًّا۔ وَقَالَ الرَّمَادِیُّ : أَقَادَ مُسْلِمًا بِذِمِّیٍّ وَقَالَ : أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَی بِذِمَّتِی ۔ وَیُقَالُ إِنَّ رَبِیعَۃَ إِنَّمَا أَخَذَہُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی وَالْحَدِیثُ یَدُورُ عَلَیْہِ۔ [ضعیف۔ مرسل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩٢١) ابن بیلمانی روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کیا اور فرمایا : میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں۔

ابو عبید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مسند نہیں ہے اور ایسا امام تو بنانا بھی نہیں چاہیے جو مسلمانوں کا خون بہائے۔ ابو عبید فرماتے ہیں : مجھے عبدالرحمن بن مہدی نے جو عبدالواحد بن زیاد کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نے زفر کو کہا کہ تم یہ کہتے ہو کہ ہم شبہات کی بنا پر حد کو ساقط کرتے ہیں اور حالانکہ سب سے بڑا شبہ تو تم خود لے کر آتے ہو۔ کہنے لگے : وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر فرمانے لگے : آپ گواہ بن جاؤ میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔ ابو عبید فرماتے ہیں کہ اہل حجاز کا بھی یہی موقف ہے کہ مسلم کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ” اور نہ عہد والا عہد میں “ یہ جو آپ کا قول ہے کہ دار حرب کا کوئی شخص جب مسلمانوں کے پاس آجائے تو جب تک وہ واپس نہ لوٹ جائے، اس وقت تک اسے بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ } [التوبۃ ٦] یعنی ” اگر کوئی مشرک کسی سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ کلام اللہ کو سنے پھر اپنے پیچھے والوں کو پہنچائے۔
(۱۵۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَمٍ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی یَحْیَی یُحَدِّثُہُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ وَسَمِعْتُ أَبَا یُوسُفَ یُحَدِّثُہُ عَنْ رَبِیعَۃَ الرَّأْیِ کِلاَہُمَا عَنِ ابْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ ثُمَّ بَلَغَنِی عَنِ ابْنِ أَبِی یَحْیَی أَنَّہُ قَالَ أَنَا حَدَّثْتُ رَبِیعَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّمَا دَارَ الْحَدِیثُ عَلَی ابْنِ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَقَادَ مُسْلِمًا بِمُعَاہِدٍ وَقَالَ : أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَی بِذِمَّتِہِ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَہَذَا حَدِیثٌ لَیْسَ بِمُسْنَدٍ وَلاَ یُجْعَلُ مِثْلُہُ إِمَامًا یُسْفَکُ بِہِ دِمَاء ُ الْمُسْلِمِینَ۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَقَدْ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ قُلْتُ لِزُفَرَ إِنَّکُمْ تَقُولُونَ إِنَّا نَدْرَأُ الْحَدَّ بِالشُّبُہَاتِ وَإِنَّکُمْ جِئْتُمْ إِلَی أَعْظَمِ الشُّبُہَاتِ فَأَقْدَمْتُمْ عَلَیْہَا قَالَ وَمَا ہُوَ قَالَ قُلْتُ الْمُسْلِمُ یُقْتَلُ بِالْکَافِرِ قَالَ فَاشْہَدْ أَنْتَ عَلَی رُجُوعِی عَنْ ہَذَا۔ قَالَ وَکَذَلِکَ قَوْلُ أَہْلِ الْحِجَازِ لاَ یُقِیدُونَہُ بِہِ وَأَمَّا قَوْلُہُ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ فَإِنَّ ذَا الْعَہْدِ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ دَارِ الْحَرْبِ یَدْخُلُ إِلَیْنَا بِأَمَانٍ فَقَتْلُہُ مُحَرَّمٌ عَلَی الْمُسْلِمِینَ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی مَأْمَنِہِ وَأَصْلُ ہَذَا مِنْ قَوْلِہِ {وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللَّہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ} ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩٢٢) عبدالواحد بن زیاد کہتے ہیں کہ میں امام زفر سے کہا : تم نے حدیث کو مذاق بنا لیا ہے۔ کہنے لگے : کیسے ؟ میں نے کہا : تم یہ کہتے ہو کہ شک ہو تو حد کو ساقط کر دو اور خود بہت بڑی حد شبہ میں قائم کرتے ہو۔ پوچھا : وہ کیسے ؟ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تو فرمان ہے کہ مومن کو کافر کے بدلہ قتل نہیں کیا جائے گا اور تم کہتے ہو قتل کیا جائے گا۔ تو زفر کہنے لگے : میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے رجوع کرلیا۔
(۱۵۹۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ لَقِیتُ زُفَرَ فَقُلْتُ لَہُ صِرْتُمْ حَدِیثًا فِی النَّاسِ وَضُحْکَۃً قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ قُلْتُ تَقُولُونَ فِی الأَشْیَائِ کُلِّہَا ادْرَء ُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُہَاتِ وَجِئْتُمْ إِلَی أَعْظَمِ الْحُدُودِ فَقُلْتُمْ تُقَامُ بِالشُّبُہَاتِ قَالَ : وَمَا ذَاکَ؟ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ ۔ فَقُلْتُمْ یُقْتَلُ بِہِ قَالَ : فَإِنِّی أُشْہِدُکَ السَّاعَۃَ أَنِّی قَدْ رَجَعْتُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ لعبدالواحد بن زیاد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩٢٣) علی بن مدینی فرماتے ہیں : ابن بیلمانی کی جو مرفوعاً روایت ہے کہ ایک مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کیا گیا اس کا دارو مدار ابن ابی یحییٰ پر ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس نے اس سے سنا ہے۔
(۱۵۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِیمِ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ: حَدِیثُ ابْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاہِدٍ ہَذَا إِنَّمَا یَدُورُ عَلَی ابْنِ أَبِی یَحْیَی لَیْسَ لَہُ وَجْہٌ حجاج إِنَّمَا أَخَذَہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ لإبن المدینی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩٢٤) صالح بن محمد الحافظ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن بیلمانی کی حدیث منکر ہے، جو ربیعہ نے روایت کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذمی کے بدلے مسلمان کو قتل کیا۔ وہ بھی مرسل اور منکر ہے۔
(۱۵۹۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْبَیْلَمَانِیِّ حَدِیثُہُ مُنْکَرٌ وَرَوَی عَنْہُ رَبِیعَۃُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاہِدٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ مُنْکَرٌ۔ [صحیح۔ لصالح بن محمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی روایت ضعیف ہے جن میں کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اس بارے میں صحابہ کرام کی رائے
(١٥٩٢٥) ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی حافظ فرماتے ہیں کہ ابن البیلمانی ضعیف ہے جس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔ واللہ اعلم۔
(۱۵۹۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِیُّ الْحَافِظُ : ابْنُ الْبَیْلَمَانِیِّ ضَعِیفٌ لاَ تَقُومُ بِہِ حَجَّۃٌ إِذَا وَصَلَ الْحَدِیثَ فَکَیْفَ بِمَا یُرْسِلُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ للدار قطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایات
(١٥٩٢٦) مکحول کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت نے ایک نبطی کو بلایا کہ وہ آپ کے جانور کو بیت المقدس کے پاس روک لے۔ اس نے انکار کیا تو آپ نے اسے مارا اور اس کا سر پھاڑ دیا۔ بات حضرت عمر تک پہنچی تو آپ نے پوچھا : آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو عبادہ فرمانے لگے : میں نے اسے کہا کہ میرے جانور کو پکڑ لے، اس نے انکار کیا۔ میں غصے والا شخص ہوں غصہ آیا، میں نے اسے مار دیا۔ تو عمر فرمانے لگے : بیٹھو قصاص دو تو زید بن ثابت فرمانے لگے : کیا اپنے غلام کو اپنے بھائی سے قصاص لے کر دو گے ؟ تو عمر نے قصاص کو چھوڑ دیا اور دیت کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ مکحول کی عمر (رض) سے ملاقات نہیں۔
(۱۵۹۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَہُ عَنْ مَکْحُولٍ : أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَعَا نَبَطِیًّا یُمْسِکُ لَہُ دَابَّتَہُ عِنْدَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَأَبَی فَضَرَبَہُ فَشَجَّہُ فَاسْتَعْدَی عَلَیْہِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ : مَا دَعَاکَ إِلَی مَا صَنَعْتَ بِہَذَا؟ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَمَرْتُہُ أَنْ یُمْسِکَ دَابَّتِی فَأَبَی وَأَنَا رَجُلٌ فِیَّ حُدٌّ فَضَرَبْتُہُ۔ فَقَالَ : اجْلِسْ لِلْقِصَاصِ۔ فَقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَتُقِیدُ عَبْدَکَ مِنْ أَخِیکَ؟ فَتَرَکَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْقَوَدَ وَقَضَی عَلَیْہِ بِالدِّیَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایات
(١٥٩٢٧) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص لایا گیا ، جس نے ایک ذمی کو زخمی کردیا تھا تو آپ نے اسے قصاص لینا چاہا تو مسلمان کہنے لگے : ایسا نہیں ہوسکتا تو عمر فرمانے لگے : پھر ہم دیت بڑھا کرلیتے ہیں تو دیت بڑھا کر دے دی گئی اور اسماعیل بن ابی حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے سنا، آپ بہت سے لوگوں سے روایت کرتے تھے کہ ایک آدمی اہل الذمہ میں سے شام میں قتل ہوگیا، عمر (رض) بھی اس وقت شام میں تھے۔ آپکو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اب اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا تو ابو عبیدہ بن جراح فرمانے لگے : ایسا نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر نے نماز پڑھی اور پھر ابو عبیدہ کو بلایا اور پوچھا کہ میں اس کو کیوں قتل نہ کروں ؟ تو ابو عبیدہ فرمانے لگے کہ اگر مقتول غلام ہوتا تو کیا آپ پھر بھی اسے قتل کرتے ؟ تو حضرت عمر خاموش ہوگئے اور ہزار دینار دے کر فیصلہ کردیا۔
(۱۵۹۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ وَقَدْ جَرَحَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ فَأَرَادَ أَنْ یُقِیدَہُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ مَا یَنْبَغِی ہَذَا۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِذًا نُضْعِفَ عَلَیْہِ الْعَقْلَ فَأَضْعَفَہُ۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یُحَدِّثُ النَّاسَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ قُتِلَ بِالشَّامِ عَمْدًا وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذْ ذَاکَ بِالشَّامِ فَلَمَّا بَلَغَہُ ذَلِکَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ وَقَعْتُمْ بِأَہْلِ الذِّمَّۃِ لأَقْتُلَنَّہُ بِہِ۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ ذَلِکَ لَکَ۔ فَصَلَّی ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَیْدَۃَ فَقَالَ لِمَ زَعَمْتَ لاَ أَقْتُلُہُ بِہِ۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرَأَیْتَ لَوْ قَتَلَ عَبْدًا لَہُ أَکُنْتَ قَاتِلَہُ بِہِ فَصَمَتَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَضَی عَلَیْہِ بِأَلْفِ دِینَارٍ مُغَلِّظًا عَلَیْہِ۔ [ضعیف۔ مرسل عن عمر]
tahqiq

তাহকীক: