আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৮৯৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٨٨) طلق بن حبیب فرماتے ہیں : { فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ }[الاسراء ٣٣] یعنی قاتل ہی قصاصاً قتل کیا جائے اور پھر اس کی لاش کا مثلہ نہ کیا جائے۔
(۱۵۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ {فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ} قَالَ : لاَ یَقْتُلُ غَیْرَ قَاتِلِہِ وَلاَ یَمْثُلُ بِہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٨٩) زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں جب کسی شریف آدمی سے قتل ہوتا تو اس کو بھی قصاصاً قتل کیا جاتا اور جب کوئی بڑا غیر شریف قتل کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا، بدلے میں کسی اور قتل کردیا جاتا تو اللہ نے بطور نصیحت یہ آیت نازل فرمائی { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا } [الاسراء ٣٣] زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ اسراف فی القتل کا معنیٰ ہے کہ قاتل کی جگہ کسی اور کو قتل نہ کیا جائے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مقتول میں تم پر قصاص فرض کردیا گیا ہے۔ [البقرۃ ١٧٨]
(۱۵۸۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیِّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ عِیَاضٍ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ : أَنَّ النَّاسَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ إِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلاً لَمْ یَرْضَوْا حَتَّی یَقْتُلُوا بِہِ رَجُلاً شَرِیفًا إِذَا کَانَ قَاتِلُہُمْ غَیْرَ شَرِیفٍ لَمْ یَقْتُلُوا قَاتَلَہُمْ وَقَتَلُوا غَیْرَہُ فَوُعِظُوا فِی ذَلِکَ بِقَوْلِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُورًا} وَقَالَ زَیْدُ بْنُ أَسْلِمَ السَّرَفُ أَنْ یَقْتُلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی} الآیَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٠) قتادہ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی } [البقرۃ ١٧٨] کہ جاہلیت کے ایام میں یہ اصول تھا کہ اگر کسی قبیلے کا کوئی غلام قتل ہوتا تو دوسرے قبیلے کا غلام اور اگر عورت قتل ہوتی تو دوسرے قبیلے کی عورت قتل کی جاتی۔ ان میں جو بڑا قبیلہ تھا ان کا اگر کوئی غلام بھی قتل ہوتا تو وہ کہتے ہم تو اس بدلے آزاد ہی قتل کریں گے۔ یہ اپنے آپ کو ان سے اعلیٰ سمجھتے تھے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ غلام کے بدلے غلام، آزاد اور کے بدلے آزاد عورت کے بدلے عورت ہی قتل ہو۔ لہٰذا جو تم ظلم کرتے ہو اسے چھوڑ دو ۔ پھر اللہ نے سورة المائدہ کی آیت نازل فرمائی : { وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ} [المائدۃ ٤٥]
(۱۵۸۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی الْحَرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَی بِالأُنْثَی} قَالَ : کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ فِیہِمْ بَغْیٌ وَطَاعَۃٌ لِلشَّیْطَانِ فَکَانَ الْحَیُّ فِیہِمْ إِذَا کَانَ فِیہِمْ عَدَدٌ وَعُدَّۃٌ فَقُتِلَ لَہُمْ عَبْدٌ قَتَلَہُ عَبْدُ قَوْمِ آخَرِینَ قَالُوا لاَ نَقْتُلُ بِہِ إِلاَّ حُرًّا تَعَزُّزًا وَتَفَضُّلاً عَلَی غَیْرِہِمْ فِی أَنْفُسِہِمْ وَإِذَا قُتِلَتْ لَہُمْ أُنْثَی قَتَلَتْہَا امْرَأَۃٌ قَالُوا لَنْ نَقْتُلَ بِہَا إِلاَّ رَجُلاً فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ یُخْبِرُہُمْ {أَنَّ الْعَبْدَ بِالْعَبْدِ وَالْحُرَّ بِالْحُرِّ وَالأُنْثَی بِالأُنْثَی} وَنَہَاہُمْ عَنِ الْبَغْیِ ثُمَّ أَنْزَلَ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ فَقَالَ {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالأَنْفَ بِالأَنْفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ} [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩١) مقاتل بن حیان اس آیت { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ قبل از اسلام عرب قبائل آپس میں لڑتے تھے، پھر وہ مسلمان ہوگئے، لیکن ان کے آپس میں کچھ بدلے رہتے تھے۔ لہٰذا وہ غلام کے بدلے آزاد اور عورت کے بدلے مرد کے قتل کا مطالبہ کرنے لگے اور انھوں نے اس پر قسمیں بھی اٹھالیں۔ لیکن اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی تو تمام اس کے مطیع بھی ہوگئے اور راضی بھی ہوگئے۔
(۱۵۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا بُکَیْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ فِی قَوْلِہِ {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی} الآیَۃَ قَالَ : کَانَ بُدُوُّ ذَلِکَ فِی حَیَّیْنِ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ اقْتَتَلُوا قَبْلَ الإِسْلاَمِ بِقَلِیلٍ ثُمَّ أَسْلَمُوا وَلِبَعْضِہِمْ عَلَی بَعْضٍ خُمَاشَاتٌ وَقَتْلٌ فَطَلَبُوہَا فِی الإِسْلاَمِ وَکَانَ لأَحَدِ الْحَیَّیْنِ فَضْلٌ عَلَی الآخَرِ فَأَقْسَمُوا بِاللَّہِ لَیَقْتُلُنَّ بِالأُنْثَی الذَّکَرَ مِنْہُمْ وَبِالْعَبْدِ الْحُرَّ مِنْہُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ رَضُوا وَسَلَّمُوا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٢) مقاتل فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان سے لی ہے جنہوں نے حضرت معاذ سے یاد کیا ہے، ان میں مجاہد، ضحاک، حسن وغیرہ ہیں، پھر سابقہ روایت بیان کی لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے آپس میں کچھ بدلے یا قتل تھے۔

امام شافعی فرماتے ہیں : یہی بات زیادہ مشابہ اور اللہ تعالیٰ نے جس کا گناہ ہے اسی کے ساتھ بتایا ہے نہ کہ اس کا خمیازہ دوسرے پر ہوگا۔ پھر لمبی بات کی اور یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ وہ شخص اللہ کا سخت ناپسند بندہ ہے جو قاتل کو چھوڑ کر اس کی جگہ کسی اور کو قتل کروا دے۔
(۱۵۸۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُوسَی عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلٍ بْنِ حَیَّانَ قَالَ مُقَاتِلٌ أَخَذْتُ ہَذَا التَّفْسِیرَ عَنْ نَفَرٍ حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْہُمْ مُجَاہِدًا وَالضَّحَّاکَ وَالْحَسَنَ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ وَلِبَعْضِہِمْ عَلَی بَعْضٍ خُمَاشَاتٌ وَقَتْلٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمَا أَشْبَہُ مَا قَالُوا مِنْ ہَذَا بِمَا قَالُوا لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی إِنَّمَا أَلْزَمَ کُلَّ مُذْنِبٍ ذَنْبَہُ وَلَمْ یَجْعَلْ جُرْمَ أَحَدٍ عَلَی غَیْرِہِ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ إِلَی أَنْ قَالَ وَقَدْ جَائَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللَّہِ مَنْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٣) ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ شریر اللہ کے ہاں وہ ہے جو قصاصاً قاتل کی جگہ دوسرے کو قتل کرے یا مسلمان ہو کر دوسرے مسلمان سے جاہلیت کا قصاص مانگے یا آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو وہ نہیں دیکھتیں۔
(۱۵۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَعْتَی النَّاسِ عَلَی اللَّہِ مَنْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ أَوْ طَلَبَ بِدَمٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مِنْ أَہْلِ الإِسْلاَمِ أَوْ بَصَّرَ عَیْنَیْہِ مَا لَمْ یُبْصِرْ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٤) جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میان میں سے ایک رقعہ ملا، اس پر لکھا ہوا تھا ” اللہ کا سب سے بڑا باغی “ سلیمان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ سب سے بڑا سرکش وہ ہے جو قاتل کی جگہ کسی اور کو قتل کرے، ایک کی جگہ دوسرے کو مارے اور جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔
(۱۵۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ قَالَ وُجِدَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیِّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : وُجِدَ فِی قَائِمِ سَیْفِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کِتَابٌ : إِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللَّہِ ۔ وَفِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ : إِنَّ أَعْتَی النَّاسِ عَلَی اللَّہِ الْقَاتِلُ غَیْرَ قَاتِلِہِ وَالضَّارِبُ غَیْرَ ضَارِبِہِ وَمَنْ تَوَلَّی غَیْرَ مَوَالِیہِ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ -ﷺ- ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٥) محمد بن علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشکیزہ سے ایک صحیفہ ملا جس پر یہ لکھا ہوا تھا ” اللہ کی اس پر لعنت ہو جو قاتل کی جگہ دوسرے کو قتل کرے اور ایک کی جگہ دوسرے کو مارے اور جو اپنے مالک سے پھر گیا تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔
(۱۵۸۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیِّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ قُلْتُ لأَبِی جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ : مَا کَانَ فِی الصَّحِیفَۃِ الَّتِی کَانَتْ فِی قِرَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ کَانَ فِیہَا : لَعَنَ اللَّہُ الْقَاتِلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ وَالضَّارِبَ غَیْرَ ضَارِبِہِ وَمَنْ تَوَلَّی غَیْرَ وَلِیِّ نِعْمَتِہِ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ -ﷺ- ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٦) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میان میں سے دو خط ملے کہ ” لوگوں میں سب سے بڑا سرکش وہ ہے جو کسی کی جگہ دوسرے کو مارے یا قتل کرے اور وہ آدمی جو غیر اہل نعمت کی طرف پھرے۔ جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، نہ تو ان کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔
(۱۵۸۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْہَبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : وُجِدَ فِی قَائِمِ سَیْفِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کِتَابَانِ : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا الرَّجُلُ ضَرَبَ غَیْرَ ضَارِبِہِ وَرَجُلٌ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ وَرَجُلٌ تَوَلَّی غَیْرَ أَہْلِ نِعْمَتِہِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَدْ کَفَرَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ لاَ یَقْبَلِ اللَّہُ مِنْہُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ہُوَ مَالِکُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الرِّجَالِ یَرْوِی عَنْ أَبِیہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٧) ابی رمثہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میرے والد نے آپ کی پیٹھ دیکھی اور کہنے لگا : میں طبیب ہوں، میں آپ کی اس پیٹھ ” مہرِ نبوت “ کا علاج کروں تو آپ نے فرمایا : تو طبیب نہیں ” رفیق “ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے ساتھ کون ہے ؟ میں نے کہا : میرا بیٹا ہے اور میں اس پر قسم اٹھاتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس پر ظلم نہ کرنا یہ تجھ پر ظلم نہ کرے گا۔
(۱۵۸۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیِّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَرَأَی أَبِی الَّذِی بِظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : دَعْنِی أُعَالِجِ الَّذِی بِظَہْرِکَ فَإِنِّی طَبِیبٌ فَقَالَ : أَنْتَ رَفِیقٌ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ ہَذَا مَعَکَ؟ ۔ قَالَ : ابْنِی أَشْہَدُ بِہِ۔ فَقَالَ : أَمَا إِنَّہُ لاَ یَجْنِی عَلَیْکَ وَلاَ تَجْنِی عَلَیْہِ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٨) ابو رمثہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے گیا۔ آپ ہمیں راستے ہی میں مل گئے تو میرے والد مجھے کہنے لگے : بیٹا ! یہ جو سامنے سے آ رہا ہے اسے جانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں تو فرمایا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ یہ سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کیونکہ میں تو سمجھتا تھا کہ آپ انسانوں جیسے نہیں ہوں گے۔ لیکن آپ تو انسان ہی تھے جن کے وفرہ بال تھے اور آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور دوہرے رنگ کے کپڑے آپ پر تھے۔ میرے والد نے سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا، پھر پوچھا : یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ تو میرے والد کہنے لگے : رب کعبہ کی قسم ! جی ہاں تو آپ مسکرا دیے کہ ایک تو میں اپنے باپ کے مشابہ تھا اور پھر بھی میرے والد قسم اٹھا رہے تھے۔ پھر فرمایا : تو اس پر ظلم نہ کرنا یہ تجھ پر ظلم نہیں کرے گا۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی : { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } [الانعام ١٦٤] کہ ” ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ “
(۱۵۸۹۸) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ أَبِی قُمَاشٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِیَادٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَعَ أَبِی فَتَلَقَّانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی طَرِیقِہِ فَقَالَ لِی أَبِی یَا بُنَیَّ ہَلْ تَدْرِی مَنْ ہَذَا الْمُقْبِلُ قُلْتُ لاَ قَالَ ہَذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِینَ قَالَ ذَاکَ وَذَلِکَ أَنِّی ظَنَنْتُ أَنَّہُ لاَ یُشْبِہُ النَّاسَ فَإِذَا ہُوَ بَشَرٌ ذُو وَفْرَۃٍ عَلَیْہِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّائٍ وَعَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ أَبِی فَرَدَّ عَلَیْہِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ : ابْنُکَ ہَذَا ۔ قَالَ : إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ثَبَتِ شَبَہِی بِأَبِی وَمِنْ حَلِفِ أَبِی عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّہُ لاَ یَجْنِی عَلَیْکَ وَلاَ تَجْنِی عَلَیْہِ ۔ ثُمَّ تَلاَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی}۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٩٩) سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا : ” کون سا دن حرمت کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے ؟ “ تو لوگوں نے کہا : آج کا دن، حج اکبر کا دن۔ فرمایا : تمہارا مال تمہاری عزتیں تمہارا خون حرام ہے جیسے یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے۔ کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرے گا، نہ بچہ والد کے کیے کو بھگتے گا اور نہ والد بچے کا بوجھ اٹھائے گا۔
(۱۵۸۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ دَنُوقَا حَدَّثَنَا زَکَرِیِّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَیُّ یَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟ ۔ قَالُوا : یَوْمُنَا ہَذَا أَوْ یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ۔ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ وَبَلَدِکُمْ أَلاَ لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ لاَ یَجْنِی وَالِدٌ عَلَی وَلَدِہِ وَلاَ مَوْلُودٌ عَلَی وَالِدِہِ ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٩٠٠) اسود بن ہلال بنو ثعلبہ بن یربوع کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور بنو ثعلبہ میں سے کسی نے صحابی رسول کو قتل کردیا تھا تو لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ان بنو ثعلبہ میں سے کسی نے فلاں کو قتل کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ کسی کے جرم کی سزا انھیں کیوں دی جائے۔

قصہ کے علاوہ باقی حدیث صحیح لغیرہ ہے۔
(۱۵۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ سَمِعْتُ الأَسْوَدَ بْنَ ہِلاَلٍ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی ثَعْلَبَۃَ بْنِ یَرْبُوعٍ : أَنَّ نَاسًا مِنْہُمْ أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَتْ بَنُو ثَعْلَبَۃَ بْنِ یَرْبُوعٍ أَصَابُوا رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَؤُلاَئِ بَنُو ثَعْلَبَۃَ بْنِ یَرْبُوعٍ قَتَلَتْ فُلاَنًا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَجْنِی نَفْسٌ عَلَی أَخْرَی ۔

ہَکَذَا قَالَ شُعْبَۃُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی ثَعْلَبَۃَ وَقَالَ الثَّوْرِیُّ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ زَہْدَمٍ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٩٠١) حصین بن ابی الحر فرماتے ہیں کہ میرا والد مالک اور میرے دو چچا قیس اور عبید ابناخشخاش نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ ان کے بارے میں شکایت کی گئی تھی کہ ان کے چچا کے بیٹوں نے کوئی زیادتی کردی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ خط لکھ کردیا : ” یہ خط محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مالک، عبید، قیس بنو خشخاش کے لیے ، تم امن میں ہو تمہارے خون تمہارے مال سالم رہیں گے، تمہارے غیر کے عمل کی سزا تمہیں نہیں مل سکتی۔ ہاں ! اگر تمہارا ہاتھ جس کام میں شامل ہو اس کی سزا تمہیں ملے گی۔
(۱۵۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی أَبِی : الْمُثَنَّی بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ نَصْرِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ الْحُرِّ بْنِ مَالِکِ بْنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنِی الْحُرُّ بْنُ حُصَیْنٍ حَدَّثَنِی نَصْرُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُرِّ : أَنَّ أَبَاہُ مَالِکًا وَعَمَّیْہِ قَیْسًا وَعُبَیْدًا ابْنَیِ الْخَشْخَاشِ أَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَشَکَوْا إِلَیْہِ غَارَۃَ خَیْلٍ مِنْ بَنِی عَمِّہِمْ عَلَی النَّاسِ فَکَتَبَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ لِمَالِکٍ وَقَیْسٍ وَعُبَیْدٍ بَنِی الْخَشْخَاشِ إِنَّکُمْ آمِنُونَ مُسْلِمُونَ عَلَی دِمَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ لاَ تُؤْخَذُونَ بِجَرِیرَۃِ غَیْرِکُمْ وَلاَ تَجْنِی عَلَیْکُمْ إِلاَّ أَیْدِیکُمْ ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٩٠٢) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک وہ ہے جو حرم میں بےدینی کرے اور اسلام میں جاہلیت کے طریقے رائج کرے اور وہ شخص جو کسی کا ناحق خون بہائے۔
(۱۵۹۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبٍ عَنِ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَی اللَّہِ مُلْحِدٌ فِی الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِی الإِسْلاَمِ سَنَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَیْرِ حَقٍّ لِیُہَرِیقَ دَمَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔

[صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بدلے قاتل مرد کو بھی قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ } [المائدۃ ٤٥] کہ ” ہم نے تم پر فرض کردیا ہے کہ جان کے بدلے جان ہے “ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ” مسلمانوں کے خون سب برابر ہی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ } [المائدۃ ٤٥] کہ ” ہم نے تم پر فرض کردیا ہے کہ جان کے بدلے جان ہے “ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ” مسلمانوں کے خون سب برابر ہیں۔ “

ابن شہاب تک صحیح ہے۔

سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر مرد عورت کو قتل کرے تو مرد کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے۔ ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٤٥]
(۱۵۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی} الآیَۃَ کُلَّہَا ثُمَّ قَالَ { وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ} الآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ أُقِیدَتِ الْمَرْأَۃُ مِنَ الرَّجُلِ وَفِیمَا تُعُمِّدَ مِنَ الْجِرَاحِ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ : الرَّجُلُ یُقْتَلُ بِالْمَرْأَۃِ إِذَا قَتَلَہَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ}۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بدلے قاتل مرد کو بھی قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ } [المائدۃ ٤٥] کہ ” ہم نے تم پر فرض کردیا ہے کہ جان کے بدلے جان ہے “ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ” مسلمانوں کے خون سب برابر ہی
(١٥٩٠٤) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مومنوں کے خون باہم برابر ہیں اور وہ اپنیعلاوہ کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح ہیں۔ “
(۱۵۹۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا خَلِیفَۃُ الْخَیَّاطُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْمُؤْمِنُونَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَہُمْ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بدلے قاتل مرد کو بھی قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ } [المائدۃ ٤٥] کہ ” ہم نے تم پر فرض کردیا ہے کہ جان کے بدلے جان ہے “ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ” مسلمانوں کے خون سب برابر ہی
(١٥٩٠٥) ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط لکھا، جس میں فرائض، سنن، اور دیتوں کا ذکر تھا، جو عمرو بن حزم لے کر گئے تھے۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مرد کو عورت کے بدے قتل کیا جائے گا۔
(۱۵۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیِّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ بِکِتَابٍ فِیہِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّیَاتُ وَبَعَثَ بِہِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَکَانَ فِیہِ : وَإِنَّ الرَّجُلَ یُقْتَلُ بِالْمَرْأَۃِ ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے بدلے قاتل مرد کو بھی قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ } [المائدۃ ٤٥] کہ ” ہم نے تم پر فرض کردیا ہے کہ جان کے بدلے جان ہے “ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ” مسلمانوں کے خون سب برابر ہی
(١٥٩٠٦) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو پتھر کے ساتھ قتل کیا تو اس یہودی کو بھی اسی طرح قتل کیا گیا۔
(۱۵۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ یَہُودِیًّا قَتَلَ جَارِیَۃً عَلَی أَوْضَاحٍ فَقَتَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِہَا۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف دین کی صورت میں قصاص نہیں ہوگا
(١٥٩٠٧) ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا اور ابن شیبان کی روایت ہے کہ میں نے حضرت سے عرض کیا کہ کیا آپ کے پاس اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن کے علاوہ اور کچھ ہے ؟ فرمایا : نہیں اور قسم ہے اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتا ہے اور مخلوق کو بری کرتا ہے، ہاں جو اللہ نے کتاب اللہ کا اپنے بندے کو فہم دیا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا : صحیفہ میں کیا لکھا ہے ؟ فرمایا : دیت، قیدیوں کو آزاد کرنا اور یہ بھی کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
(۱۵۹۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیِّا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ شَیْبَانَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- شَیْئٌ سِوَی الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ : لاَ وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ إِلاَّ أَنْ یُعْطِیَ اللَّہُ عَبْدًا فَہْمًا فِی کِتَابِہِ وَمَا فِی الصَّحِیفَۃِ قُلْتُ : وَمَا فِی الصَّحِیفَۃِ؟ قَالَ : الْعَقْلُ وَفَکَاکُ الأَسِیرِ وَلاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক: