আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৫৮৭৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٦٨) زہری سے مرفوعاً روایت ہے کہ ” جو شخص کسی مومن کے قتل پر نصف کلمہ جتنی بھی مدد کرتا ہے کل قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیانلکھا ہوگا ” اللہ کی رحمت سے محروم “
(۱۵۸۶۸) وَقَدْ رُوِیَ الْمَتْنُ الأَوَّلُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُرْسَلاً أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ الْہَیْثَمِ خَتَنُ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَلَی أُخْتِہِ بِعَسْقَلاَنَ سَنَۃَ عِشْرِینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنِ الضَّحَّاکِ عَنِ الزُّہْرِیِّ یَرْفَعُہُ قَالَ : مَنْ أَعَانَ عَلَی قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ کَلِمَۃٍ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ آیِسٌ مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٦٩) عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں دنیا کے زوال سے زیادہ بڑا کام ہے۔ یہ محفوظ اور موقوف ہے۔
(۱۵۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الإِمَامُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَقَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْیَا۔
ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ۔ [حسن]
ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی حرمت سنت رسول سے ثابت ہے
(١٥٨٧٠) عبداللہ بن عمرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ مومن کا قتل اللہ کے نزدیک زوالِ دنیا سے بڑا ہے۔ موقوفاً محفوظ ہے۔
(۱۵۸۷۰) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الأَسْوَدِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَسُفْیَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَزَوَالُ الدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللَّہِ مِنْ قَتْلِ مُسْلِمٍ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ شُعْبَۃَ مَرْفُوعًا وَرَوَاہُ غُنْدَرٌ وَغَیْرُہُ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔[منکر]
وَرَوَاہُ أَیْضًا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ شُعْبَۃَ مَرْفُوعًا وَرَوَاہُ غُنْدَرٌ وَغَیْرُہُ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔[منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے اور اگر مسجد اور بازار سے اسلحہ لے کر گزرے تو اس کی نوک کو سامنے نہ کرے
(١٥٨٧١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں جو لوہے کے ساتھ کسی کی طرف اشارہ کرے چاہے اس کا سگابھائی یا علاتی یا اخیافی ہی ہو۔
(۱۵۸۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَلْعَنُ أَحَدَکُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِیدَۃٍ وَإِنْ کَانَ أَخَاہُ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے اور اگر مسجد اور بازار سے اسلحہ لے کر گزرے تو اس کی نوک کو سامنے نہ کرے
(١٥٨٧٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ ممکن ہے شیطان چوکا لگائے اور اس کے بھائی کو لگ جائے اور وہ مارنے والا جہنم کا ایندھن بن جائے۔
(۱۵۸۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُشِیرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِیہِ بِالسِّلاَحِ فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّیْطَانَ أَنْ یَنْزِعَ فِی یَدِہِ فَیَقَعُ فِی حُفْرَۃٍ مِنَ النَّارِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے اور اگر مسجد اور بازار سے اسلحہ لے کر گزرے تو اس کی نوک کو سامنے نہ کرے
(١٥٨٧٣) ابو موسیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا بازار سے گزرے تو وہ اپنے نیزے کے پھل کو چھپالے اور کسی بھی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچائے۔
(۱۵۸۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِی مَسْجِدِنَا أَوْ سُوقِنَا بِنَبْلٍ فَلْیُمْسِکْ عَلَی نِصَالِہَا لاَ یُصِیبُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ بِأَذًی ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْہُ وَعَنْ غَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْہُ وَعَنْ غَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے اور اگر مسجد اور بازار سے اسلحہ لے کر گزرے تو اس کی نوک کو سامنے نہ کرے
(١٥٨٧٤) جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد سے اسلحہ لے کر گزرا، اس کی نوک واضح تھی تو اسے حکم دیا گیا کہ اس کی نوک کو چھپالو کسی مسلمان کو لگ نہ جائے۔
(۱۵۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ وَعَارِمٌ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ رَجُلاً مَرَّ فِی الْمَسْجِدِ بِأَسْہُمٍ قَدْ بَدَا نُصُولُہَا فَأُمِرَ أَنْ یَأْخُذَ بِنُصُولِہَا لاَ تَخْدِشُ مُسْلِمًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَارِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی الرَّبِیعِ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَارِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی الرَّبِیعِ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے اور اگر مسجد اور بازار سے اسلحہ لے کر گزرے تو اس کی نوک کو سامنے نہ کرے
(١٥٨٧٥) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسجد سے اسلحہ لے کر گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی نوک کو چھپالو تو وہ کہنے لگا : جی ہاں !
(۱۵۸۷۵) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : مَرَّ رَجُلٌ بِسِہَامٍ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمْسِکْ بِنِصَالِہَا ۔ قَالَ : نَعَمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی مذمت کا بیان
(١٥٨٧٦) ثابت بن ضحاک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ جو اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر قسم اٹھائے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا اور جو اپنے آپ کو کسی چیز کے ساتھ قتل کرلے تو قیامت کے دن اسی چیز سے اسے عذاب دیا جائے گا اور جو کسی مومن کو کافر کہے یا لعنت کرے تو یہ اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
(۱۵۸۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیِّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقُ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّۃٍ سِوَی الإِسْلاَمِ کَاذِبًا فَہْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِشَیْئٍ عُذِّبَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ رَمَی مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہِ وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَیُّوبَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَیُّوبَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی مذمت کا بیان
(١٥٨٧٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے لوہے سے خود کشی تو اسے لوہا دیا جائے گا جس سے وہ جہنم میں اپنے پیٹ کو پھاڑے گا اور ہمیشہ اپنے آپ کو یہ عذاب دیتا رہے گا۔ جس نے اپنے آپ کو زہر سے قتل کیا تو اسے جہنم میں زہر دیا جائے گا اور ہمیشہ اسے اسی کے ساتھ عذاب ہوتا رہے گا اور جس نے پہاڑ سے کود کر خود کشی کی ہوگی تو وہ جہنم میں بھی کودے گا اور ہمیشہ جہنم میں وہ ایسا ہی کرتا رہے گا۔
(۱۵۸۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِحَدِیدَۃٍ فَحَدِیدَتُہُ فِی یَدِہِ یَتَوَجَّأُ بِہَا فِی بَطْنِہِ فِی نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیہَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِسُمٍّ فَسُمُّہُ فِی یَدِہِ فِی جَہَنَّمَ یَتَحَسَّاہُ فِی نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا وَمَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَہُوَ یَتَرَدَّی فِی جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیہَا أَبَدًا ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی مذمت کا بیان
(١٥٨٧٨) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے لوہے سے خود کشی تو اسے لوہا دیا جائے گا جس سے وہ جہنم میں اپنے پیٹ کو پھاڑے گا اور ہمیشہ اپنے آپ کو یہ عذاب دیتا رہے گا۔ جس نے اپنے آپ کو زہر سے قتل کیا تو اسے جہنم میں زہر دیا جائے گا اور ہمیشہ اسے اسی کے ساتھ عذاب ہوتا رہے گا اور جس نے پہاڑ سے کود کر خود کشی کی ہوگی تو وہ جہنم میں بھی کودے گا اور ہمیشہ جہنم میں وہ ایسا ہی کرتا رہے گا۔
(۱۵۸۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ الأَعْمَشِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ زَادَ : وَمَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود کشی کی مذمت کا بیان
(١٥٨٧٩) جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ پہلی امتوں میں ایک شخص کے ہاتھ پر پھوڑا نکل آیا تھا، اس نے اس کی تکلیف کی وجہ سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ جس سے خون بہنے لگا اور وہ شخص فوت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے جلدی کی، میں نے اس پر جنت کو حرام کردیا ہے۔
(۱۵۸۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِینَاہُ حِینَ حُدِّثْنَاہُ وَمَا جَرَی أَنْ یَکُونَ کَذَبَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَانَ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ خَرَجَ بِہِ خُرَاجٌ فَجَزِعَ مِنْہُ فَأَخَذَ سِکِّینًا فَجَرَحَ بِہَا یَدَہُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّی مَاتَ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدِی بَادَرَنِی بِنَفْسِہِ حَرَّمْتُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ ۔ أَخْرَجَہ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ عَنْ جَرِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتلِ عمد میں قصاص واجب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
(١٥٨٨٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے دو قبیلے بنو قریظہ اور بنو نضیر تھے۔ بنو نضیر بنو قریظہ سے زیادہ عزت والے تھے۔ اگر بنو قریظہ سے کوئی قتل ہوجاتا تو بنو نضیر کا قصاصاً بندہ قتل کیا جاتا اور دوسری طرف برعکسصورت ہوتی ، یعنی ١٠٠ سو وسق کھجور ادا کی جاتیں۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک بندے کو قتل کردیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہم بھی اسے قصاصاً قتل کریں گے۔ وہ کہنے لگے کہ چلو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کراتے ہیں۔ وہ آئے تو یہ آیت نازل ہوئی : ” کہ جب آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کریں۔ “ [المائدۃ ٤٢] یعنی قصاص لیجیے، پھر یہ آیت نازل ہوئی ” کیا لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں “ [المائدۃ ٥٠]
(۱۵۸۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عِیسَی بْنِ مَاتِی بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ قُرَیْظَۃُ وَالنَّضِیرُ وَکَانَ النَّضِیرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَان إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْظَۃَ رَجُلاً مِنَ النَّضِیرِ قُتِلَ بِہِ وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِیرِ رَجُلاً مِنْ قُرَیْظَۃَ أَدَّی مِائَۃَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِیرِ رَجُلاً مِنْ قُرَیْظَۃَ فَقَالُوا ادْفَعُوہُ إِلَیْنَا نَقْتُلْہُ فَقَالُوا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَتَوْہُ فَنَزَلَتْ {وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ} وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ثُمَّ نَزَلَتْ {أَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ} لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی غَرَزَۃَ۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ قُرَیْظَۃُ وَالنَّضِیرُ وَکَانَ النَّضِیرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَان إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْظَۃَ رَجُلاً مِنَ النَّضِیرِ قُتِلَ بِہِ وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِیرِ رَجُلاً مِنْ قُرَیْظَۃَ أَدَّی مِائَۃَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِیرِ رَجُلاً مِنْ قُرَیْظَۃَ فَقَالُوا ادْفَعُوہُ إِلَیْنَا نَقْتُلْہُ فَقَالُوا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَتَوْہُ فَنَزَلَتْ {وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ} وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ثُمَّ نَزَلَتْ {أَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ} لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی غَرَزَۃَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتلِ عمد میں قصاص واجب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
(١٥٨٨١) ربیع بن انس ابو العالیہ سے روایت کرتے ہیں کہ { فَمَنِ اعْتَدَی } [البقرۃ ١٧٨] یعنی دیت لینے کے بعد قتل کرنا۔ { فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} [البقرۃ ١٧٨] اس کا معنیٰ ہے کہ یہودیوں کے لیے قتل کی صورت میں دیت نہیں تھی یا عفو تھا یا قصاص اور اہل انجیل (عیسائیوں) کے لیے صرف عفو تھا جبکہ اس امت کو اللہ نے تینوں سہولتیں دی ہیں۔ چاہو قصاصاً قتل کرو چاہو دیت لے لو چاہو معاف کر دو ۔ { وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ}” تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے “ [البقرۃ ١٧٩] یعنی اللہ نے قصاص کو زندگی بنایا، وہ ایسے کہ اگر کوئی قصاصاً قتل کردیا جائے تو دوسرے اس سے عبرت پکڑیں گے۔
(۱۵۸۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ {فَمَنِ اعْتَدَی} فَقَتَلَ بَعْدَ أَخْذِ الدِّیَۃَ {فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} یَقُولُ حِینَ أَطْعَمْتُمُ الدِّیَۃَ وَلَمْ تَحِلَّ لأَہْلِ التَّوْرَاۃِ إِنَّمَا ہُوَ قِصَاصٌ أَوْ عَفْوٌ وَکَانَ أَہْلُ الإِنْجِیلِ إِنَّمَا ہُوَ عَفْوٌ لَیْسَ غَیْرُہُ فَجُعِلَ لِہَذِہِ الأُمَّۃِ الْقَوَدُ وَالدِّیَۃُ وَالْعَفْوُ {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} یَقُولُ جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الْقِصَاصَ حَیَاۃً لَکُمْ مِنْ رَجُلٍ یُرِیدُ أَنْ یَقْتُلَ فَیَمْنَعُہُ مِنْہُ مَخَافَۃَ أَنْ یُقْتَلَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتلِ عمد میں قصاص واجب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
(١٥٨٨٢) مقاتل بن حیان ’ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ایک کو قصاصاً قتل کردیا جائے تو دوسرے قتل کرنے سے محفوظ رہیں گے عبرت حاصل کریں گے { لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ } [البقرۃ ١٧٩] یعنی وہ ڈرے گا کہ اسے بھی قصاصاً قتل نہ ہونا پڑے۔
(۱۵۸۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا بُکَیْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ فِی قَوْلِہِ {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} یَقُولُ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ بِمَا یَنْتَہِی بَعْضُکُمْ عَنْ دِمَائِ بَعْضٍ أَنْ یُصِیبَ الدَّمَ مَخَافَۃَ أَنْ یُقْتَلَ یَقُولُ {لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ} الدِّمَائَ إِذَا خَافَ أَحَدُکُمْ أَنْ یُقْتَلَ بِہِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتلِ عمد میں قصاص واجب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
(١٥٨٨٣) انس فرماتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نے ایک لڑکی کے سامنے والے دانت توڑ دیے تو وہ کہنے لگی : تم بھی کوئی زخم پہنچا دو یا معاف کردو۔ انھوں نے انکار کیا اور فیصلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا تو آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اتنے میں ان کے بھائی انس بن نضر آگئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا ربیع کے بھی دانت توڑے جائیں گے ؟ اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! اللہ کا فیصلہ ہے کہ قصاص ہوگا۔ اتنے میں مدعی عفو پر راضی ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے کتنے ہی بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتے ہیں۔
(۱۵۸۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ کَسَرَتْ ثَنِیَّۃَ جَارِیَۃٍ فَعَرَضُوا عَلَیْہِمُ الأَرْشَ فَأَبَوْا وَعَرَضُوا عَلَیْہِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَائَ أَخُوہَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُکْسَرُ ثَنِیَّۃُ الرُّبَیِّعِ لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ تُکْسَرُ ثَنِیَّتُہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا أَنَسُ کِتَابُ اللَّہِ الْقِصَاصُ ۔ قَالَ فَرَضِیَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّہِ لأَبَرَّہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الأَنْصَارِیِّ۔ وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ فَذَکَرَ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الأَنْصَارِیِّ۔ وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ فَذَکَرَ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتلِ عمد میں قصاص واجب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
(١٥٨٨٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص غلطی سے قتل ہوگیا تو اس کی قتل خطاء کی دیت ہے، جیسے کوئی پتھر یا کوڑا لگنے سے قتل ہوجائے اور جو جان بوجھ کر قتل کرے اس پر قصاص ہے اور جو قصاص کے درمیان حائل ہوا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کی کوئی فرضی یا نفلی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ عمرو نے اس حدیث کو طاؤس سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
(۱۵۸۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ قُتِلَ فِی عِمِّیَّا أَوْ رِمِّیَّا تَکُونُ بَیْنَہُمْ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ فَعَلَیْہِ عَقْلُ خَطَإٍ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَقَوَدُ یَدِہِ وَمَنْ حَالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ۔
وَصَلَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ فِی آخَرِینَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلاً۔ [صحیح لغیرہ]
وَصَلَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ فِی آخَرِینَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلاً۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتلِ عمد میں قصاص واجب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } ” جان کے بدلے جان “ [المائدۃ ٥٤] اور فرمایا :{ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی } ” تم پر مقتول قصاص فرض کردیا گیا ہے “ [البقرۃ ٧٨]
(١٥٨٨٥) ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو ایک خط لکھا۔۔۔ لمبی حدیث ذکر فرمائی۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس پر قصاص ہے مگر یہ کہ مقتول کے اولیاء راضی ہوجائیں۔
(۱۵۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیِّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَکَانَ فِی الْکِتَابِ : أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلاً عَنْ بَیِّنَۃٍ فَإِنَّہُ قَوَدٌ إِلاَّ أَنْ یَرْضَی أَوْلِیَاء ُ الْمَقْتُولِ ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٨٦) سعید بن جبیر فرماتے ہیں : قتل میں اسراف کا معنیٰ ہے کہ ایک کے بدلے دو کو قتل کیا جائے۔
(۱۵۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : یَقْتُلُ اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل پر ہی قصاص واجب ہے اس کی جگہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ } [الاسراء ٣٣] ” جو ظلم کر کے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے و
(١٥٨٨٧) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ { فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا } [الاسراء ٣٣] یعنی اس کے لیے راستہ بنایا اور { فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ } یعنی ایک کے بدلے دو نہ قتل کرے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : فلا یسرف فی القتل یعنی قاتل کو ہی قصاصاً قتل کیا جائے۔
(۱۵۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا} قَالَ : سَبِیلاً عَلَیْہِ {فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ} قَالَ : لاَ یَقْتُلُ اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقِیلَ فِی قَوْلِہِ {لاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ} قَالَ لاَ یَقْتُلُ غَیْرَ قَاتِلِہِ وَہَذَا یُشْبِہُ مَا قِیلَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক: