আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৬০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠١) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے : { ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ } [التوبۃ ٣٣] وہ ذات جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرک ناپسند ہی کریں۔
(١٨٦٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالہُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَو کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ } [التوبۃ ٣٣] ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور قیصر کی ہلاکت کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے، تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے خرچ کر ڈالوگے۔
(١٨٦٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا ہَلَکَ کِسْرَی فَلاَ کِسْرَی بَعْدَہُ وَإِذَا ہَلَکَ قَیْصَرُ فَلاَ قَیْصَرَ بَعْدَہُ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَتُنْفِقُنَّ کُنُوزَہُمَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ وَغَیْرِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٣) خالی۔
(١٨٦٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ

وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ فِی حَدِیثِ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی کِسْرَی بِمَعْنَاہُ وَمَنْ وَجْہٍ آخَرَ فِی کِسْرَی وَقَیْصَرَ بِمَعْنَاہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٤) عدی بن حاتم (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک حدیث ذکر کی، جس میں تھا کہ آپ نے فرمایا : اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کروگے۔ میں نے پوچھا کہ کسریٰ بن ہرمز کے ؟ آپ نے فرمایا : جی کسریٰ بن ہرمز عدی کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں کے ساتھ تھا، جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے۔
(١٨٦٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ الطَّائِیُّ أَخْبَرَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرَی ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ ؟ قَالَ : کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ ۔ قَالَ عَدِیٌّ : وَکُنْتُ مِمَّنِ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَکَمِ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٥) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط جب کسریٰ کے پاس آیا تو اس نے پھاڑا ڈالا۔ آپ نے فرمایا : اس کی بادشاہت ختم ہوجائے گی اور ہمیں یاد ہے کہ قیصر نے آپ کے خط کی عزت کی اور کستوری میں رکھا۔ آپ نے فرمایا : اس کی حکومت باقی رہے گی۔
(١٨٦٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہِ : وَلَمَّا أُتِی کِسْرَی بِکِتَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَزَّقَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تَمَزَّقَ مُلْکُہُ ۔ وَحَفِظْنَا أَنَّ قَیْصَرَ أَکْرَمَ کِتَابَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَوَضَعَہُ فِی مِسْکٍ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثَبَتَ مُلْکُہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی شخص کو اپنا خط دے کر کسریٰ کی جانب روانہ کیا۔ آپ نے حکم دیا کہ بحرین کے امیر کو دے دینا تاکہ وہ کسریٰ تک پہنچا دے۔ جب اس نے نامہ مبارک پڑھا اور پھاڑ ڈالا۔ ابن مسیب کہتے ہیں : ان کے خلاف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بد دعا کی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔
(١٨٦٠٦) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ رَجُلاً بِکِتَابِہِ إِلَی کِسْرَی فَأَمَرَہُ أَنْ یَدْفَعَہُ إِلَی عَظِیمِ الْبَحْرَیْنِ یَدْفَعُہُ عَظِیمُ الْبَحْرَیْنِ إِلَی کِسْرَی فَلَمَّا قَرَأَہُ کِسْرَی خَرَّقَہُ فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ : فَدَعَا عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُمَزَّقُوا کُلَّ مُمَزَّقٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٩٣٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیصر رو م کی طرف حضرت دحیہ قلبی کو اسلام کی دعوت کے لیے خط دے کر بھیجا اور ان سے فرمایا کہ اسے بصرہ کے امیرکو پہنچاؤ تاکہ وہ اسے قیصر روم تک پہنچا دے اور قیصر سے جب اللہ رب العزت نے فارس کے لشکروں کو دور کردیا تو وہ حمص سے ایلیاء کی جانب شکرانے کے طور پر چلا، جو اللہ رب العزت نے اس کو کامیابی دی تھی۔ جب قیصر کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط آیا اس نے خط پڑھا تو اس نے کہا : ان کی قوم کا کوئی آدمی تلاش کر کے میرے پاس لاؤ۔ میں اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پوچھ لوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ابو سفیان نے مجھے بتایا کہ وہ شام میں قریشی آدمیوں کے ساتھ تھے۔ ابو سفیان کہتے ہیں : قیصر کے قاصد نے ہمیں تلاش کرلیا۔ وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو لے کر ایلیاء شہر میں اپنے بادشاہ کے پاس لے آیا۔ جس پر بادشاہت کا تاج تھا اور روم کے بڑے بڑے شرفاء اس کے ارد گرد موجود تھے۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا۔ ان سے پو چھوکہ جو شخص اپنے آپ کو نبی گمان کرتا ہے تم میں سے اس کا قریبی کون ہے ؟ ابو سفیان نے کہا کہ میں نسب کے اعتبار سے اس کا قریبی ہوں۔ ترجمان نے پوچھا : تمہاری آپس میں رشتہ داری کیا ہے۔ ابو سفیان کہتے ہیں : میں نے کہا : وہ میرے چچا کا بیٹا ہے۔ کیونکہ اس دن قافلہ میں میرے علاوہ بنو عبد مناف کا کوئی شخص نہ تھا۔ قیصر نے کہا : اس کو میرے قریب کرو۔ پھر میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے کندھے کے برابر کھڑا کردیا اور پھر ترجمان سے کہا کہ اس کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ میں اس سے اس شخص کے بارے میں جو اپنے آپ کو نبی خیال کرتا ہے سوال کرنے لگا ہوں۔ اگر جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کردینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر حیا نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میری تکذیب کردیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ جب وہ مجھ سے سوال کرتا لیکن میں حیا کر گیا کہ وہ میری جانب جھوٹ کی نسبت کریں گے تو میں نے اس سے سچ ہی بولا۔ پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس شخص کا تمہارے اندر نسب کیسا ہے ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ وہ ہمارے اندر اعلیٰ نسب والا ہے۔ اس نے کہا : کیا تم میں سے پہلے بھی کسی شخص نے ایسی بات کی ہے یعنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا تم اس سے پہلے اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا اس کے آباؤ اجاد میں کوئی بادشاہ تھا۔ میں نے کہا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا اس کے پیروکار مال دار لوگ ہیں یا کمزور ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : بلکہ کمزور لوگ۔ اس نے کہا : وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے کہا : کیا ان میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد دین کو ناپسند کرتے ہوئے مرتد بھی ہوا ہے ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے یا دھوکا دیتا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ لیکن اب ہمارا اس سے ایک معاہدہ ہوا ہے ہمیں ڈر ہے کہ وہ دھوکا کرے گا : ابو سفیان نے کہا۔ میرے لیے ممکن نہ تھا کہ میں کسی جگہ کوئی بات اپنی جانب سے داخل کر پاتا کہ مجھے خوف نہیں کہ اسے میری جانب منسوب کیا جائے۔ اس نے کہا : کیا تم نے ایک دوسرے سے لڑائی کی ہے ؟ میں نے کہا : لڑائی ہوئی ہے۔ اس نے کہا تمہاری اور اس کی لڑائی کیسی رہی ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : وہ ایک ڈول کی مانند ہے کہ کبھی وہ ہمارے اوپر غالب رہا، کبھی ہم نے اس پر غلبہ پایا۔ اس نے کہا : وہ تمہیں حکم کیا دیتا ہے ؟ میں نے کہا : وہ ہمیں اکیلے اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ان کی عبادت سے منع کرتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے اور ہمیں نماز، سچائی، پاک دامنی، وعدہ پورا کرنا اور امانت کو ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے کہہ کہ جب میں نے تجھ سے تمہارے اندر اس کے نسب کے بارے میں پوچھا ؟ تو تیرا گمان ہے کہ وہ اعلیٰ نسب والا ہے اور رسول اسی طرح اپنی قوم کے اعلیٰ نسب ہی سے مبعوث کیے جاتے ہیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کہ اس طرح کی بات تم میں سے پہلے بھی کسی نے کی ہے ؟ تو آپ کہتے ہیں : نہیں۔ اگر تم میں سے کسی نے بھی یہ بات پہلے کی ہوتی تو میں کہہ دیتا کہ یہ پہلی بات کی پیروی کررہا ہے جو بات پہلے ہوچکی اور میں نے تجھ سے پوچھا کہ کیا تم اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے ہو کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کبھی اس نے جھوٹ بولا ہو تو آپ نے کہا : نہیں تو میں پہچان گیا کہ جو لوگوں پر جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر جھوٹ کیسے بولے گا اور میں نے تجھ سے پوچھا : کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ تھا تو آپ نے کہا : نہیں تو میں نے سمجھا کہ اگر اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ شاید وہ اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت کو طلب کررہا ہے اور میں نے تجھ سے سوال کیا کہ اس کی پیروی کرنے والے اشراف ہیں یا کمزور لوگ ؟ آپ نے کہہ دیا : اس کی پیروی کرنے والے کمزور لوگ ہیں اور انبیاء کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں اور میں نے آپ سے پوچھا کہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم تو آپ کا گمان ہے کہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں اور ایمان اسی طرح ہی ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ مکمل ہوجائے اور میں نے آپ سے پوچھا : کیا ان میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد دین کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ کر مرتد ہوا ؟ تو آپ کا گمان ہے کہ نہیں کہ جب ایمان کی روشنی دلوں کے اندر داخل ہوجاتی ہے تو کوئی اس کو ناپسند نہیں کرتا اور میں نے تجھ سے پوچھا : کیا اس نے دھوکا دیا ہے تو آپ کہتے ہیں : وہ دھوکا باز نہیں اور رسول واقع ہی دھوکا باز نہیں ہوتے اور میں نے تمہاری اور اس کی لڑائی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے یہ کہہ دیا کہ تمہاری لڑائی ایک ڈول کی مانند ہے کہ کبھی تم نے اس پر غلبہ پایا اور کبھی اس نے تم کو شکست دی اور رسولوں کی اس طرح آزمائش کی جاتی ہے اور آخرت کا بہترین انجام انہی کے لیے ہوتا ہے اور میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو وہ کس چیز کا حکم دیتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اس کے ساتھ شرک سے منع کرتا ہے اور ہمیں اس کی عبادت سے منع کرتا ہے جس کی عبادت تمہارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے اور تمہیں نماز، سچائی، پاک دامنی، وعدہ کو پورا کرنے اور امانت کو ادا کرنے کا حکم دیتا ہے اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ہیں۔ میں جانتا تھا کہ وہ آنے والا ہے لیکن میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ تم سے ہوگا۔ اگر وہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے کہا ہے تو قریب ہے کہ وہ میرے قدموں والی جگہ کا مالک بن جائے اور اگر میں اس تک پہنچ سکوں تو میں اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہوں اور اگر میں اس کے پاس موجود ہوتا تو میں اس کے قدموں کو دھوتا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط منگوایا اور اس نے حکم دیا تو اس کے سامنے پڑھا گیا۔ اس خط میں لکھا تھا شروع اللہ کے نام سے جو بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے روم کے حاکم ہرقل۔ کی طرف اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی اتباع کرے۔ بعد ازاں میں آپ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ آپ اسلام لائیں اس طرح محفوظ رہیں گے۔ آپ ایمان لائیں اللہ تعالیٰ آپکو دوگنا اجر عطا کریں گے۔ اگر آپ نے اسلام سے انحراف کیا اور آپ کی وجہ سے لوگ ایمان نہ لائے تو ان کا گناہ بھی آپ پر ہوگا۔{ قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْن } [ال عمران ٦٤] ” اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے اس کی طرف آؤ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ سمجھیں۔ اگر یہ لوگ نہ مانیں تو کہہ دو : گواہ رہنا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرمان بردار ہیں۔ ابو سفیان کہتے ہیں : جب اس کی بات ختم ہوئی تو اس کے اردگرد روم کے بڑے لوگوں کی آوازیں اور شور بلند ہوا۔ میں سمجھ نہ پایا کہ انھوں نے کیا کہا اور ہمیں دربار سے نکال دیا گیا۔ جس وقت میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تنہائی میں ملا۔ میں نے ان سے کہا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ بنو اصفرکا بادشاہ اس سے ڈر رہا ہے۔ ابو سفیان کہتا ہے کہ اللہ کی قسم ! میں ہمیشہ ذلیل ہو کر یقین رکھنے والا تھا کہ اس کا دین عنقریب غالب آجائے گا یہاں تک کہ اللہ نے میرے دل میں اسلام کو ڈال دیا اور پہلی میں اس کو ناپسند کرتا تھا۔ “

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) کے دور میں اس کا بعض حصہ فتح ہوا اور حضرت عمر (رض) کے دور میں مکمل فتح ہوگئی اور حضرت عمر (رض) نے عراق وفارس کو فتح کیا۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اپنے دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب فرما دیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر سختی کی۔ انھوں نے خوشی ناخوشی دین کو قبول کرلیا اور اہل کتاب سے قتال کیا۔ قیدی بنائے یہاں تک کہ بعض دین کے قریب ہوئے اور بعض نے ذلیل ہو کر جزیہ ادا کیا اور ان پر آپ کا حکم جاری ہوا اور یہ دین کا مکمل غلبہ تھا۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ کبھی کہا جائے گا کہ صرف اللہ کا دین ہی باقی ہے یہ جب ہوگا جب اللہ چاہے گا۔
(١٨٦٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِیُّ قَدِمَ عَلَیْنَا نَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَتَبَ إِلَی قَیْصَرَ یَدَعُوہُ إِلَی الإِسْلاَمِ وَبَعَثَ بِکِتَابِہِ إِلَیْہِ مَعَ دِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ وَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَدْفَعَہُ إِلَی عَظِیمِ بُصْرَی لِیَدْفَعَہُ إِلَی قَیْصَرَ فَدَفَعَہُ عَظِیمُ بُصْرَی إِلَی قَیْصَرَ وَکَانَ قَیْصَرُ لَمَّا کَشَفَ اللَّہُ عَنْہُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَی مِنْ حِمْصَ إِلَی إِیلِیَائَ شُکْرًا لِمَا أَبْلاَہُ اللَّہُ فَلَمَّا أَنْ جَائَ قَیْصَرَ کِتَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ حِینَ قَرَأَہُ الْتَمِسُوا لِی ہَا ہُنَا أَحَدًا مِنْ قَوْمِہِ أَسْأَلُہُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَنِی أَبُو سُفْیَانَ : أَنَّہُ کَانَ بِالشَّامِ فِی رِجَالِ قُرَیْشٍ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : فَوَجَدَنَا رَسُولُ قَیْصَرَ بِبَعْضِ الشَّامِ فَانْطَلَقَ بِی وَبِأَصْحَابِی حَتَّی قَدِمْنَا إِیلِیَائَ فَأُدْخِلْنَا عَلَیْہِ فَإِذَا ہُوَ فِی مَجْلِسِ مُلْکِہِ وَعَلَیْہِ التَّاجُ وَإِذَا حَوْلَہُ عُظَمَائُ الرُّومِ فَقَالَ لِتَرْجُمَانِہِ : سَلْہُمْ أَیُّہُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا إِلَی ہَذَا الرَّجُلِ الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ فَقُلْتُ : أَنَا أَقْرَبُہُمْ إِلَیْہِ نَسَبًا قَالَ : مَا قَرَابَۃُ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ قَالَ فَقُلْتُ : ہُوَ ابْنُ عَمِّی قَالَ : وَلَیْسَ فِی الرَّکْبِ یَوْمَئِذٍ أَحَدٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ غَیْرِی فَقَالَ قَیْصَرُ : أَدْنُوہُ مِنِّی ثُمَّ أَمَرَ بِأَصْحَابِی فَجُعِلُوا خَلْفَ ظَہْرِی عِنْدَ کَتِفِی ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِہِ : قُلِ لأَصْحَابِہِ إِنِّی سَائِلٌ ہَذَا الرَّجُلَ عَنِ الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ فَإِنْ کَذَبَ فَکَذِّبُوہُ ۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : وَاللَّہِ لَوْلاَ الْحَیَائُ یَوْمَئِذٍ أَنْ یَأْثُرَ أَصْحَابِی عَنِّی الْکَذِبَ کَذَبْتُ عَنْہُ حِینَ سَأَلَنِی عَنْہُ وَلَکِنِّی اسْتَحْیَیْتُ أَنْ یَأْثِرُوا الْکَذِبَ عَنِّی فَصَدَقْتُہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِہِ : قُلْ لَہُ کَیْفَ نَسَبُ ہَذَا الرَّجُلِ فِیکُمْ ؟ قَالَ قُلْتُ : ہُوَ فِینَا ذُو نَسَبٍ ۔ قَالَ : فَہَلْ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْکُمْ قَبْلَہُ ؟ قَالَ قُلْتُ : لاَ قَالَ : فَہَلْ کُنْتُمْ تَتَّہِمُونَہُ عَلَی الْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ یَقُولَ مَا قَالَ ؟ قَالَ قُلْت : لاَ قَالَ : فَہَلْ مِنْ آبَائِہِ مِنْ مَلِکٍ ؟ قَالَ قُلْتُ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَشْرَافُ النَّاسِ یَتَّبِعُونَہُ أَمْ ضُعَفَاؤُہُمْ ؟ قَالَ قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُہُمْ قَالَ : فَیَزِیدُونَ أَمْ یَنْقُصُونَ ؟ قَالَ قُلْتُ : بَلْ یَزِیدُونَ ۔ قَالَ : فَہَلْ یَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْہُمْ سَخْطَۃً لِدِینِہِ بَعْدَ أَنْ یَدْخُلَ فِیہِ قَالَ قُلْتُ : لاَ قَالَ : فَہَلْ یَغْدِرُ ؟ قَالَ قُلْتُ : لاَ وَنَحْنُ الآنَ مِنْہُ فِی مُدَّۃٍ نَحْنُ نَخَافُ أَنْ یَغْدِرَ ۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : وَلَمْ یُمْکِنِّی کَلِمَۃٌ أُدْخِلُ فِیہَا شَیْئًا أَنْتَقِصُہُ بِہِ لاَ أَخَافُ أَنْ تُؤْثَرَ عَنِّی غَیْرَہَا قَالَ : فَہَلْ قَاتَلْتُمُوہُ وَقَاتَلَکُمْ ؟ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَکَیْفَ کَانَتْ حَرْبُکُمْ وَحَرْبُہُ ؟ قَالَ قُلْتُ : کَانَتْ دُوَلاً وَسِجَالاً یُدَالُ عَلَیْنَا الْمَرَّۃَ وَنُدَالُ عَلَیْہِ الأُخْرَی قَالَ : فَمَاذَا یَأْمُرُکُمْ بِہِ قَالَ : یَأْمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّہَ وَحْدَہُ لاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا وَیَنْہَانَا عَمَّا کَانَ یُعْبَدُ آبَاؤُنَا وَیَأْمُرُنَا بِالصَّلاَۃِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَائِ بِالْعَہْدِ وَأَدَائِ الأَمَانَۃِ ۔ قَالَ فَقَالَ لِتَرْجُمَانِہِ حِینَ قُلْتُ ذَلِکَ لَہُ قُلْ لَہُ : إِنِّی سَأَلْتُکَ عَنْ نَسَبِہِ فِیکُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّہُ ذُو نَسَبٍ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِی نَسَبِ قَوْمِہَا وَسَأَلْتُکَ ہَلْ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْکُمْ قَبْلَہُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ فَقُلْتُ لَوْ کَانَ أَحَدٌ مِنْکُمْ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ قَبْلَہُ قُلْتُ رَجُلٌ یَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قَدْ قِیلَ قَبْلَہُ وَسَأَلْتُکَ ہَلْ کُنْتُمْ تَتَّہِمُونَہُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ یَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ لِیَدَعَ الْکَذِبَ عَلَی النَّاسِ وَیَکْذِبُ عَلَی اللَّہِ وَسَأَلْتُکَ ہَلْ کَانَ مِنْ آبَائِہِ مِنْ مَلِکٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ فَقُلْتُ لَوْ کَانَ مِنْ آبَائِہِ مَلِکٌ قُلْتُ یَطْلُبُ مُلْکَ آبَائِہِ وَسَأَلْتُکَ أَشْرَافُ النَّاسِ یَتَّبِعُونَہُ أَمْ ضُعَفَاؤُہُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَائَ ہُمُ اتَّبَعُوہُ وَہُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُکَ ہَلْ یَزِیدُونَ أَمْ یَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّہُمْ یَزِیدُونَ وَکَذَلِکَ الإِیمَانُ حَتَّی یَتِمَّ وَسَأَلْتُکَ ہَلْ یَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَۃً لِدِینِہِ بَعْدَ أَنْ یَدْخُلَ فِیہِ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ وَکَذَلِکَ الإِیمَانُ حِینَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُہُ الْقُلُوبَ لاَ یَسْخَطُہُ أَحَدٌ وَسَأَلْتُکَ ہَلْ یَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ لاَ یَغْدِرُونَ وَسَأَلْتُکَ ہَلْ قَاتَلْتُمُوہُ وَقَاتَلَکُمْ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ وَأَنَّ حَرْبَکُمْ وَحَرْبَہُ یَکُونُ دُوَلاً یُدَالُ عَلَیْکُمُ الْمَرَّۃَ وَتُدَالُونَ عَلَیْہِ الأُخْرَی وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْتَلَی وَتَکُونُ لَہَا الْعَاقِبَۃُ وَسَأَلْتُکَ بِمَاذَا یَأْمُرُکُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّہُ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّہَ وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَیَنْہَاکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُکُمْ وَیَأْمُرُکُمْ بِالصَّلاَۃِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَائِ بِالْعَہْدِ وَأَدَائِ الأَمَانَۃِ وَہَذِہِ صِفَۃُ نَبِیٍّ قَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّہُ خَارِجٌ وَلَکِنْ لَمْ أَظُنُّ أَنَّہُ مِنْکُمْ وَإِنْ یَکُنْ مَا قُلْتَ حَقًّا فَیُوشِکُ أَنْ یَمْلِکَ مَوْضِعَ قَدَمَیَّ ہَاتَیْنِ وَلَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَیْہِ لَتَجَشَّمْتُ لُقِیَّۃُ وَلَوْ کُنْتُ عِنْدَہُ لَغَسَلْتُ قَدَمَیْہِ ۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : ثُمَّ دَعَا بِکِتَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ بِہِ فَقُرِئَ فَإِذَا فِیہِ : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّہِ وَرَسُولِہِ إِلَی ہِرَقْلَ عَظِیمِ الرُّومِ سَلاَمٌ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّی أَدْعُوکَ بِدَاعِیَۃِ الإِسْلاَمِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ یُؤْتِکَ اللَّہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ وَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَعَلَیْکَ إِثْمُ الأَرِیسِیِّینَ وَ { یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا وَلاَ یَتَّخِذُ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونَ اللَّہِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْہَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ } [ال عمران ٦٤] ۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : فَلَمَّا أَنْ قَضَی مَقَالَتَہُ عَلَتْ أَصْوَاتُ الَّذِینَ حَوْلَہُ مِنْ عُظَمَائِ الرُّومِ وَکَثُرَ لَغَطُہُمْ فَلاَ أَدْرِی مَاذَا قَالُوا وَأُمِرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا فَلَمَّا أَنْ خَرَجْتُ مَعَ أَصْحَابِی وَخَلَوْتُ بِہِمْ قُلْتُ لَہُمْ لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِی کَبْشَۃَ ہَذَا مَلِکُ بَنِی الأَصْفَرِ یَخَافُہُ ۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : وَاللَّہِ مَا زِلْتُ ذَلِیلاً مُسْتَیْقِنًا بِأَنَّ أَمْرَہُ سَیَظْہَرُ حَتَّی أَدْخَلَ اللَّہُ قَلْبِی الإِسْلاَمَ وَأَنَا کَارِہٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَغْزَی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الشَّامَ عَلَی ثِقَۃٍ مِنْ فَتْحِہَا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَفَتَحَ بَعْضَہَا وَتَمَّ فَتْحُہَا فِی زَمَنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفَتَحَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْعِرَاقَ وَفَارِسَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا الَّذِی ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ بَیِّنٌ فِی التَّوَارِیخِ وَسِیَاقُ تِلْکَ الْقَصَصِ مِمَّا یَطُولُ بِہِ الْکِتَابُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَقَدْ أَظْہَرَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ دِینَہُ الَّذِی بَعَثَ بِہِ رَسُولَہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی الأَدْیَانِ بِأَنْ أَبَانَ لِکُلِّ مَنْ سَمِعَہُ أَنَّہُ الْحَقُّ وَمَا خَالَفَہُ مِنَ الأَدْیَانِ بَاطِلٌ وَأَظْہَرَہُ بِأَنَّ جِمَاعَ الشِّرْکِ دِینَانِ دِینُ أَہْلِ الْکِتَابِ وَدِینُ الأُمِّیِّینَ فَقَہَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الأُمِّیِّینَ حَتَّی دَانُوا بِالإِسْلاَمِ طَوْعًا وَکُرْہًا وَقَتَلَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ وَسَبَی حَتَّی دَانَ بَعْضُہُمُ بِالإِسْلاَمِ وَأَعْطَی بَعْضٌ الْجِزْیَۃَ صَاغِرِینَ وَجَرَی عَلَیْہِمْ حُکْمُہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہَذَا ظُہُورُ الدِّینِ کُلِّہِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ یُقَالُ لَیُظْہِرَنَّ اللَّہُ دِینَہُ عَلَی الأَدْیَانِ حَتَّی لاَ یُدَانَ اللَّہُ إِلاَّ بِہِ وَذَلِکَ مَتَی شَائَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٨) حضرت عمیر بن اسحاق فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ و قیصر کو خط لکھا۔ قیصر نے خط کو باعزت طریقے رکھا جبکہ کسریٰ نے خط کو پھاڑ ڈالا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے اور ان کے لیے بقا ہے۔

قال الشافعی (رض) : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو فارس، شام کی فتح کی خوشخبری دی۔
(١٨٦٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی کِسْرَی وَقَیْصَرَ فَأَمَّا قَیْصَرُ فَوَضَعَہُ وَأَمَّا کِسْرَی فَمَزَّقَہُ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : أَمَّا ہَؤُلاَئِ فَیُمَزَّقُونَ وَأَمَّا ہَؤُلاَئِ فَسَتَکُونُ لَہُمْ بَقِیَّۃٌ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَوَعَدَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النَّاسَ فَتْحَ فَارِسَ وَالشَّامِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٠٩) عبداللہ بن حوالہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ ہم نے ننگے پن ، فقر اور قلت اشیاء کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے اوپر چیزوں کی کثرت کا قلت سے زیادہ خوف ہے۔ اللہ کی قسم ! تمہاری یہ حالت رہے گی یہاں تک کہ اللہ فارس وروم اور حمیر کو فتح فرما دیں گے اور تم تین لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ ایک لشکر شام میں ، دوسرا عراق میں اور تیسرا لشکر یمن میں ہوگا۔ یہاں تک کہ کسی شخص کو سو روپے دیے جائیں گے تو وہ ناراض ہوگا۔ ابن حوالہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شام اور روم کو فتح کرنے کی طاقت کون رکھے گا۔ فرمایا : اللہ تمہیں ضرور فتح نصیب کرے گا اور تمہیں خلفیہ بنائیں گا۔ یہاں تک کہ وہ محفوظ ہوجائیں گے بعض کے پاس جنگی لباس ہوگا۔ ان کی گردنیں ایک جھوٹے آدمی کی مطیع ہوں گے اور بعض ان میں سے گنجے ہوں گے۔ جو حکم ہوگا وہی کر گزریں گے اور تمہارے آج کے مرد ان کی نظروں میں اونٹوں کی پشتوں میں چچڑی سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے۔ ابن حوالہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر یہ وقت مجھے پالے تو مجھے اختیار دینا۔ آپ نے فرمایا : میں تیرے لیے ملک شام کا انتخاب کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ اللہ کے پسندیدہ شہروں میں سے ہے اور اللہ کے پسندیدہ بندے ہی اسی کی جانب پناہ لیں گے۔ اے اہل یمن ! شام کو لازم پکڑنا۔ کیونکہ اللہ کو شام کی سرزمین پسندیدہ ہے۔ خبردار ! جو اس بات کا انکار کرے وہ یمن کی جانب چلا جائے کیونکہ اللہ نے شام والوں کی ضمانت دی ہے۔

(ب) عبد الرحمن بن جبیر کہتے ہیں : صحابہ نے اس حدیث کی صفات کو جزا بن سھیل سلمی میں پہچانی۔ وہ اس دور میں عجموہ پر امیر مقرر تھے۔ جب وہ مسجد کی طرف آئے تو اس کو دیکھنیکے لیے اس کے اردگرد کھڑے ہوجاتے۔ صحابہ نے اس میں اور اس کے ساتھیوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات کو دیکھ کر تعجب فرمایا : ابو علقمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار قسمیں اٹھائیں۔

(ج) عبداللہ بن حوالہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ شام کو فتح کروایں گے تم فارس وروم کے خزانے تقسیم کرو گے۔
(١٨٦٠٩) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنِی أَبُو عَلْقَمَۃَ نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَۃَ یَرُدُّ الْحَدِیثَ إِلَی جُبَیْرِ بْنُ نُفَیْرٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَوَالَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَشَکَوْنَا إِلَیْہِ الْعُرْیَ وَالْفَقْرَ وَقِلَّۃَ الشَّیْئِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَبْشِرُوا فَوَاللَّہِ لأَنَّا بِکَثْرَۃِ الشَّیْئِ أَخْوَفُنِی عَلَیْکُمْ مِنْ قِلَّتِہِ وَاللَّہِ لاَ یَزَالُ ہَذَا الأَمْرُ فِیکُمْ حَتَّی یَفْتَحُ اللَّہُ أَرْضَ فَارِسَ وَأَرْضَ الرُّومِ وَأَرْضَ حِمْیَرَ وَحَتَّی تَکُونُوا أَجْنَادًا ثَلاَثَۃً جُنْدًا بِالشَّامِ وَجُنْدًا بِالْعِرَاقِ وَجُنْدًا بِالْیَمَنِ وَحَتَّی یُعْطَی الرَّجُلُ الْمِائَۃَ فَیَسْخَطُہَا ۔ قَالَ ابْنُ حَوَالَۃَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَنْ یَسْتَطِیعُ الشَّامَ وَبِہِ الرُّومُ ذَوَاتُ الْقُرُونِ قَالَ : وَاللَّہِ لَیَفْتَحَنَّہَا اللَّہُ عَلَیْکُمْ وَلَیَسْتَخْلِفَنَّکُمْ فِیہَا حَتَّی تَظَلَّ الْعِصَابَۃُ الْبِیضُ مِنْہُمْ قُمُصُہُمْ الْمُلْحِمَۃُ أَقْفَاؤُہُمْ قِیَامًا عَلَی الرُّوَیْجِلِ الأَسْوَدِ مِنْکُمُ الْمَحْلُوقِ مَا أَمَرَہُمْ مِنْ شَیْئٍ فَعَلُوہُ وَإِنَّ بِہَا الْیَوْمَ رِجَالاً لأَنْتُمْ أَحْقَرُ فِی أَعْیُنِہِمْ مِنَ الْقِرْدَانِ فِی أَعْجَازِ الإِبِلِ ۔ قَالَ ابْنُ حَوَالَۃَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اخْتَرْ لِی إِنْ أَدْرَکَنِی ذَلِکَ قَالَ : إِنِّی أَخْتَارُ لَکَ الشَّامَ فَإِنَّہُ صِفْوَۃُ اللَّہِ مِنْ بِلاَدِہِ وَإِلَیْہِ یَجْتَبِی صِفْوَتَہُ مِنْ عِبَادِہِ یَا أَہْلَ الْیَمَنِ عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ فَإِنَّ صِفْوَۃَ اللَّہِ مِنْ أَرْضِہِ الشَّامَ أَلاَ فَمَنْ أَبَی فَلْیَسْتَقِ فِی غُدَرِ الْیَمَنِ فَإِنَّ اللَّہَ قَدْ تَکَفَّلَ لِی بِالشَّامِ وَأَہْلِہِ ۔

قَالَ أَبُو عَلْقَمَۃَ فَسَمِعَتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ : فَعَرَفَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَعْتَ ہَذَا الْحَدِیثِ فِی جَزْئِ بْنِ سُہَیْلٍ السُّلَمِیِّ وَکَانَ عَلَی الأَعَاجِمِ فِی ذَلِکَ الزَّمَانِ فَکَانَ إِذَا رَاحُوا إِلَی مَسْجِدٍ نَظَرُوا إِلَیْہِ وَإِلَیْہِمْ قِیَامًا حَوْلَہُ فَعَجِبُوا لِنَعْتِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِ وَفِیہِمْ قَالَ أَبُو عَلْقَمَۃَ : أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ہَذَا الْحَدِیثِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لاَ نَعْلَمُ أَنَّہُ أَقْسَمَ فِی حَدِیثٍ مِثْلِہِ ۔

وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْکِتَابِ عَنِ ابْنِ زُغْبٍ الإِیَادِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَوَالَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَیُفْتَحَنَّ لَکُمُ الشَّامُ ثُمَّ لَتَقْسِمُنَّ کُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٠) محمد بن اسحاق بن یسار جنگ یمامہ سے فراغت کے بعد خالد بن ولید کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے خالد بن ولید کو خط لکھا ” جب وہ ابھی یمامہ میں ہی تھے :“ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ابوبکر (رض) کی جانب سے خالد بن ولید، مہاجرین و انصار اور ان کی ابتاع کرنے والوں کے نام۔ تم پر سلامتی ہو، میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ حمد وثنا کے بعد تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا، اپنے بندے کی مدد کی ، اپنے دوست کو غلبہ عطا کیا اور اپنے دشمن کو ذلیل کیا اور اکیلے نے لشکروں کو غالب کیا۔ یقیناً اللہ وہ ذات ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ { وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ } [النور ٥٥] اور اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو تم سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ زمین میں ضرور خلیفہ بنیں گے جیسا کہ ان سے پہلے لوگ خلیفہ بنے۔۔۔

یہ مکمل آیت تلاوت کی اور لکھی۔ آپ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرو گے اور اس مال میں جس میں شک نہیں اور جہاد کو مومنوں پر فرض قرار دیا ہے۔ فرمایا : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] تمہارے اوپر قتال فرض کیا گیا حالانکہ وہ تمہیں ناپسند بھی ہے۔ یہاں تک کہ آیات سے فارغ ہوئیتو فرمایا : تم اللہ کے وعدوں کو پورا کرو فرض کردہ اشیاء میں اس کی اطاعت کرو۔ اگرچہ اس میں سخت مشقت اٹھانی پڑھے اور مسافت دور کی ہو۔ تم اپنی جانوں اور مالوں میں آزمائش کیے گئے۔ یہ اللہ سے ثواب کے حصول میں زیادہ آسان ہے۔ اللہ تمہارے اوپر رحم فرمائے۔ اللہ کے راستے میں غزوہ کرو : { خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ } [التوبۃ ٤١] ہلکے اور بوجھل تم اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو۔ خبردار ! میں نے خالد بن ولید کو عراق جانے کا حکم دیا ہے۔ میرا حکم آنے تک وہاں رہنا۔ تم نے اس کے ساتھ چلنا ہے پیچھے نہیں رہنا، یہ اللہ کا راستہ ہے جس میں اچھی جنت والے کا ثواب عظیم ہے اور رغبت کی بنا پر بڑی بھلائی ہے جب تم عراق چلے جاؤ تو میرے حکم تک وہاں رہنا۔ اللہ ہمیں اور تمہیں دنیا و آخرتکی بھلائیوں سے کفایت کرے۔ تم پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکات ہوں۔

شیخ فرماتے ہیں : پھر تاریخ میں وضاحت ہے کہ شام جانے کے لیے خط لکھا اور باقی لشکروں کے امراء کو لکھا کہ وہ اس کی امداد کریں۔ پھر جو ان کو کامیابی حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے دور میں نصیب ہوئی اور ہرقل کا روم کی جانب نکلنا اور جو ان کے لییعراق، فارس فتح ہوئے، کسریٰ کی ہلاکت اور کسریٰ کے خزانے حضرت عمر (رض) کے دور میں مدینہ لائے گئے۔
(١٨٦١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارِ فِی قِصَّۃِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ حِینَ فَرَغَ مِنَ الْیَمَامَۃِ قَالَ : فَکَتَبَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَہُوَ بِالْیَمَامَۃِ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ أَبِی بَکْرٍ خَلِیفَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَالَّذِینَ مَعَہُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَالتَّابِعِینَ بِإِحْسَانٍ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکُمُ اللَّہَ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ أَمَّا بَعْدُ فَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَأَعَزَّ وَلِیَّہُ وَأَذَلَّ عَدُوَّہُ وَغَلَبَ الأَحْزَابَ فَرَدًا فَإِنَّ اللَّہَ الَّذِی لاَ إِلَہَ ہُوَ قَالَ { وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِینَہُمُ الَّذِی ارْتَضَی لَہُمْ } [النور ٥٥] وَکَتَبَ الآیَۃَ کُلَّہَا وَقَرَأَ الآیَۃَ وَعْدًا مِنْہُ لاَ خُلْفَ لَہُ وَمَقَالاً لاَ رَیْبَ فِیہِ وَفَرَضَ الْجِہَادَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَ { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] حَتَّی فَرَغَ مِنَ الآیَاتِ فَاسْتَتِمُّوا مَوْعِدَ اللَّہِ إِیَّاکُمْ وَأَطِیعُوہُ فِیمَا فَرَضَ عَلَیْکُمْ وَإِنْ عَظُمَتْ فِیہِ الْمَؤُونَۃُ وَاشْتَدَّتِ الرَّزِیَّۃُ وَبَعُدَتِ الشُّقَّۃُ وَفُجِعْتُمْ فِی ذَلِکَ بِالأَمْوَالِ وَالأَنْفُسِ فَإِنَّ ذَلِکَ یَسِیرٌ فِی عَظِیمِ ثَوَابِ اللَّہِ فَاغْزُوا رَحِمَکُمُ اللَّہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ { خِفَافًا وَثِقَالاً وَجَاہَدُوا بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ } [التوبۃ ٤١] کَتَبَ الآیَۃَ أَلاَ وَقَدْ أَمَرْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بِالْمَسِیرِ إِلَی الْعِرَاقِ فَلاَ یَبْرَحْہَا حَتَّی یَأْتِیَہُ أَمْرِی فَسِیرُوا مَعَہُ وَلاَ تَتَثَاقَلُوا عَنْہُ فَإِنَّہُ سَبِیلٌ یُعَظِّمُ اللَّہُ فِیہِ الأَجْرَ لِمَنْ حَسُنَتْ فِیہِ نِیَّتُہُ وَعَظُمَتْ فِی الْخَیْرِ رَغْبَتُہُ فَإِذَا وَقَعْتُمُ الْعِرَاقَ فَکُونُوا بِہَا حَتَّی یَأْتِیَکُمْ أَمْرِی کَفَانَا اللَّہُ وَإِیَّاکُمْ مُہِمَّاتِ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : ثُمَّ بَیِّنٌ فِی التَّوَارِیخِ وُرُودُ کِتَابِہِ عَلَیْہِ بِالْمَسِیرِ إِلَی الشَّامِ وَإِمْدَادِ مَنْ بِہَا مِنْ أُمَرَائِ الأَجْنَادِ وَمَا کَانَ مِنَ الظَّفَرِ لِلْمُسْلِمِینَ یَوْمَ أَجْنَادِینَ فِی أَیَّامِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَمَا کَانَ مِنْ خُرُوجِ ہِرَقْلَ مُتَوَجِّہًا نَحْوَ الرُّومِ وَمَا کَانَ مِنَ الْفُتُوحِ بِہَا وَبِالْعِرَاقِ وَبِأَرْضِ فَارِسَ وَہَلاَکِ کِسْرَی وَحَمْلِ کُنُوزِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ فِی أَیَّامِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١١) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ { لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } [التوبۃ ٣٣] تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب کر دے۔ سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم کا خروج ہے۔
(١٨٦١١) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ } [التوبۃ ٣٣] قَالَ : خُرُوجُ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِمُ السَّلاَمُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٢) ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد۔ { حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا } [محمد ٤] ” یہاں تک کہ لڑائی ختم ہوجائے “ کے متعلق فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم کا نزول ہوجائے گا اور ہر یہودی و عیسائی ایمان لے آئے گا اور بکری بھیڑیے سے امن میں ہوگی اور چوہیا تھیلی کو نہ کاٹے گی اور دشمنی تمام اشاء سے ختم ہوجائے گی اور تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ ہوجائے گا۔
(ہ ١٨٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ { حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا } [محمد ٤] یَعْنِی حَتَّی یَنْزِلَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ فَیُسْلِمُ کُلُّ یَہُودِیٍّ وَکُلُّ نَصْرَانِیٍّ وَکُلُّ صَاحِبِ مِلَّۃٍ وَتَأْمَنُ الشَّاۃُ الذِّئْبَ وَلاَ تَقْرِضُ فَأْرَۃٌ جِرَابًا وَتَذْہَبُ الْعَدَاوَۃُ مِنَ الأَشْیَائِ کُلِّہَا وَذَلِکَ ظُہُورُ الإِسْلاَمِ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٣) ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } [التوبۃ ٣٣] ” تاکہ اللہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ اگرچہ مشرک ناپسند ہی کریں “ کے متعلق فرماتے ہیں : جب حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا تب صرف دین اسلام ہی باقی رہ جائے گا۔
(١٨٦١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ ابْنُ السَّقَّائِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُطَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ } [التوبۃ ٣٣] قَالَ : إِذَا نَزَلَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ لَمْ یَکُنْ فِی الأَرْضِ إِلاَّ الإِسْلاَمُ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ ۔[صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٤) سعید بن مسیب (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عنقریب عیسیٰ بن مریم عادل حکمران بن کر نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ ختم کردیں گے۔ مال کی بہتات ہوجائے گی۔ کوئی بھی مال لینے کو تیار نہ ہوگا حتیٰ کہ ایک ایک سجدہ دنیا وما فیھا سے بہتر معلوم ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو : { وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا } [النساء ١٥٩] کوئی اہل کتاب ایسا باقی نہ رہے گا جو موت سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئے ۔
(١٨٦١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی مُوسَی ہُوَ ابْنُ الْعَبَّاسِ الْجُوَیْنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أَنْ یَنْزِلَ فِیکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتَّی لاَ یَقْبَلَہُ أَحَدٌ حَتَّی تَکُونَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا ۔ ثُمَّ یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : اقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ { وَإِنْ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا } [النساء ١٥٩] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ یَعْقُوبَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور قرب قیامت تک غالب رہے گا۔ پھر آپ نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم اتریں گے، مسلمانوں کے امیر کہیں گے : آپ آئیں ہمیں نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ فرمائیں گے : نہیں۔ بیشک تم میں بعض لوگ بعض کے امیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عزت سے نوازا ہے۔
(١٨٦١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی یُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ : وَیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ فَیَقُولُ أَمِیرُہُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَیَقُولُ لاَ إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ أُمَرَائُ لِتَکْرِمَۃِ اللَّہِ ہَذِہِ الأُمَّۃَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ شُجَاعٍ وَغَیْرِہِ عَنْ حَجَّاجٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٥٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اتنی دیر قیامت قائم نہ ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے اور جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو تمام لوگ دیکھ کر ایمان لے آئیں گے اور یہ ایسا وقت ہے { لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا }[الانعام ١٥٨] کسی جان کو اس وقت کا ایمان لانا نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا یا اپنے ایمان میں بھلائی کو نہ کیا۔
(١٨٦١٦) حَدَّثَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ وَذَلِکَ حِینَ { لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا } [الانعام ١٥٨] ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٧) حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ رب العزت نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا اور اللہ رب العزت نے مجھے سرخ وسفید دو خزانے عطا کیے اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا اور میں نے اللہ رب العزت سے التجاء کی کہ میری امت کو قحط سالی اور کسی دشمن کو ان پر مسلط کر کے ہلاک نہ کرے اور یہ کہ یہ آپس میں گروہ بن کر ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : اے محمد ! جب میں کوئی چیز عطا کردیتا ہوں تو اسے کوئی واپس کرنے والا نہیں۔ آپ کی امت قحط سالی اور کسی دوسرے دشمن کے مسلط ہونے کی وجہ سے ہلاک نہ ہوگی، اگرچہ دشمن تمام اطراف سے ان پر جمع ہوجائیں یہاں تک کہ یہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور قیدی بنائیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں گے اور میری امت کے قبیلے شرک اور بتوں کی عبادت میں واپس چلے جائیں گے اور مجھے سب سے زیادہ گمراہ اماموں کا خوف ہے اور جب ان میں لڑائی شروع ہوگی تو قیامت تک ختم نہ ہوگی اور عنقریب میری امت سے تیس کے قریب دجال، کذاب کا ظہور ہوگا اور میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ر ہے گایہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔
(١٨٦١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَی لِیَ الأَرْضَ حَتَّی رَأَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَأَعْطَانِی الْکَنْزَیْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْیَضَ وَإِنَّ مُلْکَ أُمَّتِی سَیَبْلُغُ مَا زُوِیَ لِی مِنْہَا وَإِنِّی سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ یُہْلِکَہُمْ بِسَنَۃٍ عَامَّۃٍ وَأَنْ لاَ یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ فَیُہْلِکَہُمْ وَأَنْ لاَ یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضُہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ إِنِّی إِذَا أَعْطَیْتُ عَطَائً فَلاَ مَرَدَّ لَہُ إِنِّی أَعْطَیْتُکَ لأُمَّتِکَ أَنْ لاَ یَہْلَکُوا بِسَنَۃٍ عَامَّۃٍ وَأَنْ لاَ أُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ فَیَسْتَبِیحَہُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنِ أَقْطَارِہَا حَتَّی یَکُونَ بَعْضُہُمْ یُہْلِکُ بَعْضًا وَبَعْضُہُمْ یَسْبِی بَعْضًا وَبَعْضُہُمْ یَفْتِنُ بَعْضًا وَإِنَّہُ سَیَرْجِعُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِی إِلَی الشِّرْکِ وَعِبَادَۃِ الأَوْثَانِ وَإِنَّ مِنْ أَخْوَفِ مَا أَخَافُ الأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ وَإِنَّہُ إِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِیہِمْ لَمْ یُرْفَعْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَإِنَّہُ سَیَخْرُجُ فِی أُمَّتِی کَذَّابُونَ دَجَّالُونَ قَرِیبًا مِنْ ثَلاَثِینَ وَإِنِّی خَاتَمُ الأَنْبِیَائِ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی وَلاَ تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ مَنْصُورَۃٌ حَتَّی یَأْتِیَ أَمْرُ اللَّہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٨) مقداد بن اسود کندی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ زمین کی سطح پر کوئی شہری یا دیہاتی بستی نہ رہے گی۔ مگر اللہ رب العزت اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل فرما دیں گے۔ عزیز کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ذریعے۔ جن کو اللہ رب العزت عزت عطا کریں گے ان کو اسلام کی سمجھ دے دیں گے۔ جس کے ذریعہ وہ عزت پائیں گے یا ان کو ذلیل کر کے ان سے انتقام لیں گے۔
(١٨٦١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ الْکِنْدِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ یَبْقَی عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبِرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ کَلِمَۃَ الإِسْلاَمِ إِمَّا بِعِزِّ عَزِیزٍ وَإِمَّا بِذُلِّ ذَلِیلٍ إِمَّا یُعِزُّہُمُ اللَّہُ فَیَجْعَلُہُمْ مِنْ أَہْلِہِ فَیَعِزُّوا بِہِ وَإِمَّا یُذِلُّہُمْ فَیَدِینُونَ لَہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦١٩) تمیم داری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے۔ اللہ کسی شہری یا دیہاتی بستی کو نہ چھوڑے گا مگر یہ دین وہاں عزیز کی عزت کے ذریعہ داخل کر دے گا کہ اللہ رب العزت انھیں اسلام کے ذریعے عزت دیں گے یا ذلیل کی ذلت کے ذریعے کہ اللہ رب العزت اسے کفر کی وجہ سے ذلیل کردیں گے۔
(١٨٦١٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِی سُلَیْمُ بْنُ عَامِرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ الْکَلاَعِیُّ عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَلاَ یَتْرُکُ اللَّہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزٍّ عَزِیزٍ یُعِزُّ بِہِ الإِسْلاَمَ أَوْ ذُلٍّ ذَلِیلٍ یُذِلُّ بِہِ الْکُفْرَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا
(١٨٦٢٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات دن ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ لات وعزیٰ کی عبادت کی جانے لگے گی۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا گمان تو یہ تھا کہ جب اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی : { ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } [التوبۃ ٣٣] وہ ذات جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث کیا۔ تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے گا بیشک یہ مکمل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ عنقریب یہ ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ رب العزت ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے تو جس شخص کے دل میں زرہ برابر بھی ایمان ہوا وہ اس کے ذریعے فوت ہوجائے گا۔ باقی ایسے لوگ رہ جائیں گے جن میں بھلائی نہ ہوگی وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین پر واپس چلے جائیں گے۔

امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ قریشیوں کی بہت ساری معیشت کا تعلق عراق سے تھا۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو انھوں نے شام اور عراق سے اپنی تجارت کے ختم ہوجانے کا حوف ظاہر کیا۔ کیونکہ شام اور عراق کے لوگ ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا : جب کسریٰ ہلاک ہوگیا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں۔ کیونکہ عراق کی سرزمین پر اس کے بعد کسریٰ کا حکم نہیں چلے گا اور فرمایا : قیصر ہلاک ہوگیا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں۔ یعنی شام کی سرزمین پر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں۔ جب لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلمہ پڑھ لیا تو اللہ نے عراق وفارس سے کسریٰ کا سلسلہ ختم کردیا اور شام سے قیصر کا خاتمہ فرما دیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ کے بارے میں فرمایا تھا کہ اس کی بادشاہت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور کسریٰ کی بادشاہت باقی نہ رہے گی اور قیصر کے بارے میں فرمایا تھا کہ اس کی بادشاہت باقی رہے گی۔
(١٨٦٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُمْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ یَذْہَبُ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتَّی تُعْبَدَ اللاَّتُ وَالْعُزَّی ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ کُنْتُ لأَظُنُّ أَنَّ اللَّہَ حِینَ أَنْزَلَ { ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ } [التوبۃ ٣٣] أَنَّ ذَلِکَ تَامٌّ قَالَ : إِنَّہُ سَیَکُونُ مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ یَبْعَثُ اللَّہُ رِیحًا طَیِّبَۃً فَتَوَفَّی مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ إِیمَانٍ فَیَبْقَی مَنْ لاَ خَیْرَ فِیہِ فَیَرْجِعُونَ إِلَی دِینِ آبَائِہِمْ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ وَأَبِی بَکْرٍ الْحَنَفِیِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَنْتَابُ الشَّامَ انْتِیَابًا کَثِیرًا وَکَانَ کَثِیرٌ مِنْ مَعَاشِہَا مِنْہُ وَتَأْتِی الْعِرَاقَ فَیُقَالُ لَمَّا دَخَلَتْ فِی الإِسْلاَمِ ذَکَرَتْ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَوْفَہَا مِنِ انْقِطَاعِ مَعَاشِہَا بِالتِّجَارَۃِ مِنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ إِذَا فَارَقَتِ الْکُفْرَ وَدَخَلَتْ فِی الإِسْلاَمِ مَعَ خِلاَفِ مَلِکِ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ لأَہْلِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا ہَلَکَ کِسْرَی فَلاَ کِسْرَی بَعْدَہُ ۔ فَلَمْ یَکُنْ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ کِسْرَی یَثْبُتُ لَہُ أَمْرٌ بَعْدَہُ وَقَالَ : إِذَا ہَلَکَ قَیْصَرُ فَلاَ قَیْصَرَ بَعْدَہُ ۔ فَلَمْ یَکُنْ بِأَرْضِ الشَّامِ قَیْصَرٌ بَعْدَہُ وَأَجَابَہُمْ عَلَی مَا قَالُوا لَہُ وَکَانَ کَمَا قَالَ لَہُمْ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَطَعَ اللَّہُ الأَکَاسِرَۃَ عَنِ الْعِرَاقِ وَفَارِسَ وَقَیْصَرَ وَمَنْ قَامَ بِالأَمْرِ بَعْدَہُ عَنِ الشَّامِ وَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی کِسْرَی : مُزِّقَ مُلْکُہُ ۔ فَلَمْ یَبْقَ لِلأَکَاسِرَۃِ مُلْکٌ وَقَالَ فِی قَیْصَرَ : ثَبَتَ مُلْکُہُ ۔ فَثَبَتَ لَہُ مُلْکٌ بِبِلاَدِ الرُّومِ إِلَی الْیَوْمِ وَتَنَحَّی مُلْکُہُ عَنِ الشَّامِ وَکُلُّ ہَذَا مُؤْتَفِقٌ یُصَدِّقُ بَعْضُہُ بَعْضًا۔[صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক: