আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৫৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اسلام قبول کرنے کے بعد اسی جگہ شہید کردیا جائے
(١٨٥٤١) براء فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : میں گو اہی دیتاہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر میدان جہاد میں لڑتا ہوا شہید ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمل تو اس نے تھوڑا کیا ہے لیکن اجر زیادہ پایا۔
(١٨٥٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّکَ عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَمِلَ ہَذَا یَسِیرًا وَأُجِرَ کَثِیرًا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَنَابٍ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اسلام قبول کرنے کے بعد اسی جگہ شہید کردیا جائے
(١٨٥٤٢) حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص لوہے میں چھپا ہوا آیا، اس نے کہا : جہاد کروں یا اسلام قبول کروں ؟ فرمایا : پہلے اسلام قبول کر، پھر جہاد کر تو وہ اسلام قبول کرنے کے بعد لڑائی کرتے ہوئے شہید ہوگیا۔ فرمایا : عمل تھوڑا ہے اور اجر زیادہ دیا گیا ہے۔
(١٨٥٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِیدِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ ؟ قَالَ : لاَ بَلْ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ ۔ فَأَسْلَمَ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ : ہَذَا عَمِلَ قَلِیلاً وَأُجِرَ کَثِیرًا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ شَبَابَۃَ عَنْ إِسْرَائِیلَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اسلام قبول کرنے کے بعد اسی جگہ شہید کردیا جائے
(١٨٥٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ عمر وبن اقیس کا جاہلیت کا سود تھا۔ صرف سود کی وجہ سے اسلام قبول نہ کرسکا۔ احد کے دن آیا اور کہنے لگا : میرے چچا کا بیٹا کدھر ہے ؟ انھوں نے کہا : احد میں۔ پھر اس نے پوچھا : فلاں کہا ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ بھی احد میں۔ اس نے پھر پوچھا : فلاں کدھ رہے ؟ انھوں نے کہا : وہ بھی غزوہ احد میں ہے۔ اس نے زرع پہنی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔ جب مسلمانوں نے دیکھا تو کہنے لگے : اے عمرو (رض) ! ہم سے دور رہنا۔ اس نے کہا : میں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ پھر لڑائی کرتے ہوئے زخمی ہوگیا تو خمی حالت میں اسے لایا گیا۔ سعد بن معاذ (رض) نے اپنی بہن سے کہا : پوچھو قومی غیرت ، ان کے لیے غصہ میں آکر یا اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لڑا۔ اس نے کہا : نہیں بلکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غضب کے لیے وہ فوت ہو کر جنت میں داخل ہوگیا اور اس نے ایک بھی نماز نہ پڑھی تھی۔
(١٨٥٤٣) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ أُقَیْشٍ کَانَ لَہُ رِبًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَکَرِہَ أَنْ یُسْلِمَ حَتَّی یَأْخُذَہُ فَجَائَ یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ أَیْنَ بَنُو عَمِّی فَقَالُوا بِأُحُدٍ فَقَالَ أَیْنَ فُلاَنٌ قَالُوا بِأُحُدٍ قَالَ : أَیْنَ فُلاَنٌ قَالُوا : بِأُحُدٍ فَلَبِسَ لأْمَتَہُ وَرَکِبَ فَرَسَہُ ثُمَّ تَوَجَّہَ قِبَلَہُمْ فَلَمَّا رَآہُ الْمُسْلِمُونَ قَالُوا : إِلَیْکَ عَنَّا یَا عَمْرُو فَقَالَ : إِنِّی قَدْ آمَنْتُ فَقَاتَلَ حَتَّی جُرِحَ فَحُمِلَ إِلَی أَہْلِہِ جَرِیحًا فَجَائَ ہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لأُخْتِہِ : سَلِیہِ حَمِیَّۃً لِقَومِکَ أَمْ غَضَبًا لَہُمْ أَمْ غَضَبًا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ فَقَالَ : بَلْ غَضَبًا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَا صَلَّی لِلَّہِ صَلاَۃً ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٤٤) حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ ایک شخص مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے اور دوسرا شہرت اور تیسراری شہوری کے لیے لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اللہ کے کلمے کو سر بلند کے لیے نکلے وہ اللہ کے راستہ میں ہے۔
(١٨٥٤٤) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ الرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلذِّکْرِ وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِیُعْرَفَ فَمَنْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ ہُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٤٥) ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو ایک شخص بہادری کے لیے، دوسرا عصبیت کے لیے اور تیسرا ریا کاری کے لیے جہاد کرتا ہے تو ان ان میں سے کون اللہ کے راستہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو صرف اس لیے لڑائی کرلے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے یہ اللہ کے راستہ میں ہے۔
(١٨٥٤٥) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ الرَّجُلُ یُقَاتِلُ شَجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ رِیَائً فَأَیُّ ذَلِکَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٤٦) ابوموسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔۔۔ باقی اسی طرح حدیث ذکر کی۔
(١٨٥٤٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٤٧) حضرت معاذ بن جبل (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ غزوہ دو قسم کا ہے وہ شخص جو اللہ کی رضا مندی کے لیے اور امیر کی اطاعت میں پسندیدہ چیز کو خرچ کرتا ہے اور اپنے ساتھی سے مل کر رہتا ہے اور فساد سے بچتا ہے اس کے سونے اور بیدار رہنے میں اجر ہے اور جس نے فخر، ریاکاری، شہرت، امام کی نافرمانی اور زمین میں فساد کرنے کی کوشش کی وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔

(ب) ابوبحریہ عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں :۔۔۔ جس کے آخر میں ہے کہ جس نے امام کی نافرمانی کی اور اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔
(١٨٥٤٧) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنِی بَحِیرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِی بَحْرِیَّۃَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَی وَجْہَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطَاعَ الإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْکَرِیمَۃَ وَبَاشَرَ الشَّرِیکَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَہُ وَنُبْہَہُ أَجْرٌ کُلُّہُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِیَائً وَسُمْعَۃً وَعَصَی الإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِی الأَرْضِ فَإِنَّہُ لَنْ یَرْجِعَ بِکَفَافٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْحَضْرَمِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ عَنْ أَبِی بَحْرِیَّۃَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ وَقَالَ فِی آخِرَہُ : وَعَصَی الإِمَامَ وَلَمْ یُنْفِقِ الْکَرِیمَۃَ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٤٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتایئے۔ آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن عمر (رض) ! اگر تو نے صبر کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے جہاد کیا تو اللہ تجھے صبر ثواب دینے کی صورت میں ہی اٹھائے گا۔ اگر تو نے ریاکاری یا مال کی زیادتی کے لیے لڑائی کی تو اللہ تجھے ریاکار اور زیادہ مال طلب کرنے والوں میں اٹھائے گا۔
(١٨٥٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْوَضَّاحِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنِی عَنِ الْجِہَادِ وَالْغَزْوِ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَکَ اللَّہُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِیًا مُکَاثِرًا بَعَثَکَ اللَّہُ مُرَائِیًا مُکَاثِرًا یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو عَلَی أَیِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَکَ اللَّہُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٤٩) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ مختلف لوگ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ناتل شامی نے ابوہریرہ سے کہا : آپ مجھے ایسی حدیث سنائیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی ہو۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں سے جس کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔ وہ تین شخص ہیں : شہید، اس کو اللہ رب العزت کے پاس لایا جائے گا۔ اس کو اپنی نعمتوں کی پہچان کر وائیں گے۔ وہ ان کو پہچان لے گا۔ اللہ پوچھیں گے : تو نے ان میں کیا عمل کیا ؟ وہ بندہ کہے گا : اے اللہ ! میں نے تیرے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے شہادت حاصل کی۔ اللہ فرمائیں گے : تو نے جھوٹ بولا۔ تیرا تو ارادہ تھا کہ فلاں مجھے بہادر کہے۔ تجھے دنیا میں بہادر کہہ دیا گیا۔ پھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دیں گے اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ دوسرا شخص عالم دین اور قاریٔ قرآن ہوگا اس کو اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ اس کو نعمتوں کی پہچان کروائیں گے۔ وہ تمام نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ پوچھیں گے : تو نے ان میں کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا : میں نے علم سیکھا اور قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا۔ اللہ فرمائیں گے : تو جھوٹ بولتا ہے تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے عالم دین اور قاریٔ قرآن کہا جائے، وہ تجھے دنیا کے اندر کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں بھی اللہ رب العزت حکم فرمائیں گے اور اسے بھی منہ کے بل گھیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص جس کو اللہ رب العزت اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا۔ وہ نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ پوچھیں گے : تو نے ان میں کیا عمل کیا ؟ تو وہ کہے گا : میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی کہ جس میں تو خرچ کرنے کو پسند کرتا ہو مگر میں نے تیری رضا کے لیے خرچ نہ کیا ہو تو اللہ رب العزت فرمائیں گے : تو نے جھوٹ بولا تیرا تو صرف یہ ارادہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے۔ دنیا میں تجھے سخی کہہ دیا گیا۔ اللہ رب العزت اس کے بارے میں بھی حکم دیں گے۔ پھر اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
(١٨٥٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الإِیَادِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ نَاتِلٌ أَخُو أَہْلِ الشَّامِ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدِّثْنَا حَدِیثًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : أَوَّلُ النَّاسِ یُقْضَی فِیہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃَ ثَلاَثَۃٌ رَجُلٌ اسْتُشْہِدَ أُتِیَ بِہِ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِیہَا قَالَ قَاتَلْتُ فِی سَبِیلِکَ حَتَّی اسْتُشْہِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ یُقَالَ فُلاَنٌ جَرِیئٌ فَقَدْ قِیلَ فَأُمِرَ بِہِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْہِہِ حَتَّی أُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِیَ بِہِ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِیہَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَقَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَعَلَّمْتُہُ فِیکَ قَالَ کَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ یُقَالَ فُلاَنٌ عَالِمٌ وَفُلاَنٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِیلَ فَأُمِرَ بِہِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْہِہِ إِلَی النَّارِ وَرَجُل آتَاہُ اللَّہُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ فَأُتِیَ بِہِ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِیہَا فَقَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ شَیْئٍ تُحِبُّ أَنْ یُنْفَقَ فِیہِ إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِیہِ لَکَ قَالَ کَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ یُقَالَ فُلاَنٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِیلَ فَأُمِرَ بِہِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْہِہِ حَتَّی أُلْقِیَ فِی النَّارِ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٥٠) ابو عجفا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ فرماتے ہیں کہ تم اس کے بارے میں کہتے ہو جو غزوہ میں قتل کیا جائے کہ فلاں شہید کیا گیا، فلاں شہادت کی موت مرا۔ شاید کہ اس نے اپنی سواری کو سونے یا چاندی سے لدا ہوا ہو۔ وہ دنیا یا تجارت کا قصد کیے ہوئے ہو۔ تم ان کے بارے میں یہ نہ کہو بلکہ اس طرح کہو۔ جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو اللہ کے راستہ میں قتل کردیا گیا یا فوت ہوگیا تو وہ جنتی ہے۔
(١٨٥٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ قَالَ وَأُخْرَی تَقُولُونَہَا لِمَنْ قُتِلَ فِی مَغَازِیکُمْ ہَذِہِ قُتِلَ فُلاَنٌ شَہِیدًا وَمَاتَ فُلاَنٌ شَہِیدًا وَلَعَلَّہُ یَکُونُ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَیْ رَاحِلَتِہِ ذَہَبًا أَوْ وَرِقًا یَبْتَغِی الدُّنْیَا أَوْ قَالَ التِّجَارَۃَ فَلاَ تَقُولُوا ذَلِکُمْ وَلَکِنْ قُولُوا کَمَا قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ قُتِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ مَاتَ فَہُوَ فِی الْجَنَّۃِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٥١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے اور دنیا کا مال حاصل کرتا ہے تو آپ نے فرمایا : اس کا کوئی اجر نہیں۔ پھر دوسری اور تیسری مرتبہ اس شخص نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے تب بھی فرمایا : اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : یہ حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ اس نے صرف دنیا کی نیت کی لیکن جو ثواب کی نیت کرے اور مال غنیمت کے ملنے کی امید رکھے (اس پر کوئی گناہ نہیں) ۔
(١٨٥٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَلِیٍّ الْغَزَّالُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ ہُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنِ ابْنِ مِکْرَزٍ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مِکْرَزٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ رَجُلٌ یُرِیدُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَہُوَ یَبْتَغِی عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْیَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: لاَ أَجْرَ لَہُ ۔ فَسَأَلَہُ الثَّانِیَۃَ وَالثَّالِثَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ أَجْرَ لَہُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ شَقِیقٍ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذِہِ الأَخْبَارُ وَمَا أَشْبَہَہَا تَحْتَمِلُ أَنْ تَکُونَ فِیمَنْ لاَ یَنْوِی بِغَزْوِہِ إِلاَّ الدُّنْیَا وَمَا یَرْجِعُ إِلَی أَسْبَابِہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے
(١٨٥٥٢) ابن زعب ایادی فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن حوالہ ہمارے پاس آئے اور ہمیں خبر ملی کہ اس کے لیے دو سو میں زکوۃ کو فرض کیا گیا ہے۔ اس نے سو کا انکار کیا۔ میں نے اس اس سے کہا : ہمیں جو خبر ملی ہے اس کے مطابق حق یہی ہے کہ تیرے لیے دو سو میں زکوۃ فرض ہے اور تو نے سو کا انکار کیا۔ اللہ کی قسم ! نہیں روک سکتا وہ اس کو جو آنے والا ہے۔ مجھ پر اس کا یہ کہنا کہ تیری ماں مرے کافی نہیں تھا۔ اہل حوالہ کے لیے ہر مال میں ایک سو ہیں۔ ابن حوالہ نے ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ہمیں پیدل مدینہ کے اردگرد روانہ کیا۔ تاکہ ہم غنیمت حاصل کریں لیکن ہم نے غنیمت حاصل نہ کی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری مشقت کو دیکھا تو فرمایا : اے اللہ ! تو ان کو میرے سپرد نہ کر۔ میں ان سے کمزور ہوں اور نہ ہی تو ان کو لوگوں کو سونپ دینا کہ وہ ان کی تذلیل کریں یا وہ ان کے اوپر دوسرں کو ترجیح دیں اور نہ ہی تو ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر دے کہ وہ اس سے عاجز آجائیں۔ بلکہ تو اکیلا ہی ان کی روزی کا بند و بست فرما۔ پھر فرمایا : ملک شام فتح کیا جائے گا اور فارس وروم کے خزانے تمہارے درمیان تقسیم کیے جائیں گے اور تم میں سے کسی کو اتنا اتنا مال ملے گا کہ سو دینار دیے جانے کے باوجود شخص ناراض ہوگا۔ پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : اے ابن حوالہ ! جب تو دیکھے کہ خلافت ارض مقدسہ میں قائم ہوگئی ہے تو زلزلے مصائب اور بڑے بڑے امور واقع ہوں گے اور قیامت لوگوں کے قریب ہوگی۔ میرے اس ہاتھ سے جو تیرے سر کے اوپر ہے۔
(١٨٥٥٢) فَأَمَّا مَنْ یَبْتَغِی الأَجْرَ وَیَرْجُو أَنْ یُصِیبَ غَنِیمَۃً فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ ضَمْرَۃَ بْنَ حَبِیبٍ حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ زُغْبٍ الإِیَادِیِّ قَالَ : نَزَلَ بِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَوَالَۃَ صَاحِبُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّہُ فُرِضَ لَہُ فِی الْمِائَتَیْنِ فَأَبَی إِلاَّ مِائَۃً قَالَ قُلْتُ لَہُ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنَا أَنَّہُ فُرِضَ لَکَ فِی مِائَتَیْنِ فَأَبَیْتَ إِلاَّ مِائَۃً وَاللَّہِ مَا مَنَعَہُ وَہُوَ نَازِلٌ عَلَیَّ أَنْ یَقُولَ لاَ أُمَّ لَکَ أَوَلاَ یَکْفِی ابْنَ حَوَالَۃَ مِائَۃٌ کُلَّ عَامٍ ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَنَا عَلَی أَقْدَامِنَا حَوْلَ الْمَدِینَۃِ لِنَغْنَمَ فَقَدِمْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَیْئًا فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الَّذِی بِنَا مِنَ الْجَہْدِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ لاَ تَکِلْہُمْ إِلَیَّ فَأَضْعُفَ عَنْہُمْ وَلاَ تَکِلْہُمْ إِلَی النَّاسِ فَیَہُونُوا عَلَیْہِمْ أَوْیَسْتَأْثِرُوا عَلَیْہِمْ وَلاَ تَکِلْہُمْ إِلَی أَنْفُسِہِمْ فَیَعْجَزُوا عَنْہَا وَلَکِنْ تَوَحَّدْ بِأَرْزَاقِہِمْ ۔ ثُمَّ قَالَ : لَتُفْتَحَنَّ لَکُمُ الشَّامُ ثُمَّ لَتَقْتَسِمُنَّ کُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَلَیَکُونَنَّ لأَحَدِکُمْ مِنَ الْمَالِ کَذَا وَکَذَا حَتَّی إِنَّ أَحَدَکُمْ لِیُعْطَی مِائَۃَ دِینَارٍ فَیَسْخَطُہَا ۔ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی رَأْسِی فَقَالَ : یَا ابْنَ حَوَالَۃَ إِذَا رَأَیْتَ الْخِلاَفَۃَ قَدْ نَزَلَتِ الأَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ فَقَدْ أَتَتِ الزَّلاَزِلُ وَالْبَلاَبِلُ وَالأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَۃُ أَقْرَبُ إِلَی النَّاسِ مِنْ یَدِی ہَذِہِ مِنْ رَأْسِکَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ سریہ جو غزوہ کرتا ہے لیکن غنیمت نہیں حاصل کر پاتا
(١٨٥٥٣) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : جو اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے مال غنیمت کو حاصل کرلیتے ہیں گویا کہ انھوں نے آخرت کے اجر سے دوتہائی اجر جلدی حاصل کرلیا اور ایک تہائی ان کے لیے باقی بچا۔ اگر وہ مال غنیمت حاصل نہ کر پائیں تو انھیں مکمل اجر دیا جائے گا۔
(١٨٥٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّرْقُفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ عَنْ أَبِی ہَانِئٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ وَابْنُ لَہِیعَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو ہَانِئٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَا مِنْ غَازِیَۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَیُصِیبُونَ غَنِیمَۃً إِلاَّ تَعَجَّلُوا ثُلُثَیْ أَجْرِہِمْ مِنَ الآخِرَۃِ وَیَبْقَی لَہُمُ الثُّلُثُ وَإِنْ لَمْ یُصِیبُوا غَنِیمَۃً تَمَّ لَہُمْ أَجْرُہُمْ ۔ لَیْسَ فِی حَدِیثِ ابْنِ یُوسُفَ مِنَ الآخِرَۃِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنِ الْمُقْرِئِ عَنْ حَیْوَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی تمنا اور سوال کرنے کا بیان
(١٨٥٥٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ کچھ مسلمان ایسے ہیں جو مجھ سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن میں ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر پاتا تو میں اللہ کے راستہ میں نکلے ہوئے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔
(١٨٥٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لاَ تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنِّی وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُہُمْ عَلَیْہِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی أُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی تمنا اور سوال کرنے کا بیان
(١٨٥٥٥) سھل بن ابی امامہ بن سھل بن حنیف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے خلوص دل سے شہادت کی تمنا کی۔ اللہ تعالیٰ اسے مقام شہداء عطا فرمائیں گے۔ اگرچہ وہ بستر پر ہی فوت ہوجائے۔
(١٨٥٥٥) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَیْحٍ أَنَّ سَہْلَ بْنَ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ سَأَلَ اللَّہَ الشَّہَادَۃَ بِصِدْقٍ بَلَّغَہُ اللَّہُ مَنَازِلَ الشُّہَدَائِ وَإِنْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی تمنا اور سوال کرنے کا بیان
(١٨٥٥٦) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلم آدمی نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے دودھ دوہنے کے وقت کے برابر جہاد کیا جنت اس کے لیے واجب ہوگئی اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے شہادت کی تمنا کی۔ پھر وہ فوت ہوگیا یا اللہ کے راستے میں شہید کیا گیا تو اسے شہادت کا اجر ملے گا اور جو شخص اللہ کے راستہ میں زخمی کیا گیا یا اس کو کوئی مصیبت لاحق ہوئی تو وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو (اجر) کے لیے وہ دنیا سے بہت زیادہ ہوگی اس کی رنگت زعفران کی مانند اور خوشبو کستوری جیسی ہوگئی اور جو اللہ کے راستہ میں زخمی کیا گیا اس پر شہداء کی مہر ہوگی۔
(١٨٥٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُمْ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَۃٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَمَنْ سَأَلَ اللَّہَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِہِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَہُ أَجْرُ شَہِیدٍ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ نُکِبَ نَکْبَۃً فَإِنَّہَا تَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغْزَرِ مَا کَانَتْ لَوْنُہَا کَالزَّعْفَرَانِ وَرِیحُہَا کَالْمِسْکِ وَمَنْ جُرِجَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَعَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی تمنا اور سوال کرنے کا بیان
(١٨٥٥٧) خالی۔
(١٨٥٥٧) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو عَاصِمٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی تمنا اور سوال کرنے کا بیان
(١٨٥٥٨) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے صدق دل سے شہادت کی تمنا کی وہ فوت ہوا یا قتل کردیا گیا۔ اسے شہادت کا اجر دیا جائے گا اور جو اللہ کے راستہ میں زخمی کیا گیا، اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا جس کی رنگت خون جیسی اور خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔
(١٨٥٥٨) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْمٍ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکِ بْنِ یُخَامِرَ عَنْ أَبِیہِ مَالِکِ بْنِ یُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ سَأَلَ اللَّہَ الشَّہَادَۃَ صَادِقًا مِنْ قَلْبِہِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَہُ أَجْرُ شَہِیدٍ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَدْمَی اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّیحُ رِیحُ مِسْکٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی تمنا اور سوال کرنے کا بیان
(١٨٥٥٩) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے دودھ دوہنے کے وقفہ کے برابر جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگی۔
(١٨٥٥٩) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِیدٍ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ یُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ نَحْوَ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہادری اور بزدلی کا بیان
(١٨٥٦٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب لوگوں سے بڑھ کر حسین تھے۔ سب لوگوں سے زیادہ سخی اور تمام لوگوں سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ گھبرا گئے۔ تمام لوگ آواز کی جانب لپکے۔ وہاں انھوں نے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موجود پایا۔ آپ تمام لوگوں سے پہلے آواز کی طرف پہنچ گئے تھے اور آپ فرما رہے تھے : ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ آپ ابو طلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔ اس پر زین نہ تھی نیز آپ کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : میں نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز رفتار پایا۔
(١٨٥٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا حَمَّادٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ وَأَبُو الرَّبِیعِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَحْسَنَ النَّاسِ وَکَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ قَالَ وَفَزِعَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ لَیْلَۃً فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ قَالَ فَتَلَقَّاہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی فَرَسٍ لأَبِی طَلْحَۃَ عُرْیٍ مَا عَلَیْہِ شَیْئٌ وَالسَّیْفُ فِی عُنُقِہِ قَالَ : لَنْ تُرَاعُوا ۔ فَإِذَا ہُوَ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَسَبَقَہُمْ وَقَالَ : وَجَدْنَاہُ بَحْرًا ۔ أَوْ قَالَ : إِنَّہُ لَبَحْرٌ ۔ قَالَ : وَکَانَ فَرَسًا ثَبِطًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی الرَّبِیعِ ۔

وَرُوِّینَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّہُ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক: