আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮৫৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہادری اور بزدلی کا بیان
(١٨٥٦١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدترین چیز جو انسان میں پائی جائی ہے وہ سخت کنجوسی اور بہت زیادہ بزدلی ہے۔
(١٨٥٦١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شَرُّ مَا فِی الرَّجُلِ شُحٌّ ہَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ۔ [صحیح ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شَرُّ مَا فِی الرَّجُلِ شُحٌّ ہَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہادری اور بزدلی کا بیان
(١٨٥٦٢) حسان بن فاء حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بہادری اور بزدلی لوگوں کی فطرت میں ہے۔ وہ انسان کو مل جاتی ہے جب وہ ایک دوسرے سے لڑائی کرتے ہیں۔ جس کو وہ پہچانتا نہیں اور کسی ایسے شخص سے ملاقات کرتا ہے جو اپنے باپ سے بھاگا ہوا ہو اور حسب کا معنی مال اور کرم کا معنی تقوی تو کسی فارسی وعجمی سے بہتر صرف تقوی کی بنیاد پر ہوسکتا ہے۔
(١٨٥٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَسَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الشَّجَاعَۃُ وَالْجُبْنُ غَرَائِزُ فِی النَّاسِ تَلْقَی الرَّجُلَ یُقَاتِلُ عَمَّنْ لاَ یَعْرِفُ وَتَلْقَی الرَّجُلَ یَفِرُّ عَنْ أَبِیہِ وَالْحَسَبُ الْمَالُ وَالْکَرَمُ التَّقْوَی لَسْتَ بِأَخْیَرَ مِنْ فَارِسِیٍّ وَلاَ عَجَمِیٍّ إِلاَّ بِالتَّقْوَی۔ [حسن لغیرہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مال میں سے دو حصے اللہ کے راستے میں خرچ کیے۔ اسے جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔ اے اللہ کے بندے ! یہ بہتر ہے جبکہ جنت کے (آٹھ) دروازے ہیں۔ جو شخص نماز پڑھنے والا ہے اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ جو شخص صدقہ خیرات کرتا رہا تو اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو شخص روزے رکھتا رہا اسے ریان کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : گو ہر دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں تاہم کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ آپ نے اس بات میں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ ابوبکر (رض) ان میں سے ہوں گے۔
(١٨٥٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَیْنِ فِی شَیْئٍ مِنَ الأَشْیَائِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ دُعِیَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَا عَبْدَ اللَّہِ ہَذَا خَیْرٌ وَلِلْجَنَّۃِ أَبْوَابٌ فَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّلاَۃِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلاَۃِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجِہَادِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّدَقَۃِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصِّیَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصِّیَامِ بَابِ الرَّیَّانِ ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ : مَا عَلَی مَنْ یُدْعَی مِنْ تِلْکَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَۃٍ وَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ یُدْعَی مِنْہَا کُلِّہَا أَحَدٌ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ یَا أَبَا بَکْرٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٤) صعصعہ بنت معایہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت ابو ذر سے ہوئی جس وقت وہ اپنے اونٹ کو ہانک رہے تھے اور ان کے پاس مشکیزہ تھا۔ میں نے کہا : ابو ذر آپ کا مال کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : میرا عمل۔ میں نے پوچھا : اے ابو ذر ! کہنے لگے میرا عمل، میرا عمل۔ کہتے ہیں : میں نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ آپ کا مال کیا ہے ؟ کہنے لگے : میرا عمل۔ میں نے کہا : آپ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث سنائیں۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے فوت ہوجائیں تو اللہ والدین کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کریں گے اور جس مسلمان نے اپنے مال کے دو حصے اللہ کے راستے میں خرچ کیے تو جنت کے دربان اس کی جانب سبقت کریں گے۔
(١٨٥٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ یَعْنِی ابْنَ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ صَعْصَعَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ قَالَ : لَقِیتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُودُ جَمَلاً لَہُ أَوْ یَسُوقُہُ فِی عُنُقِہِ قِرْبَۃٌ فَقُلْتُ : یَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُکَ ؟ قَالَ : لِی عَمَلِی۔ فَقُلْتُ : یَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُکَ ؟ قَالَ : لِی عَمَلِی قَالَ قُلْتُ یَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُکَ قَالَ لِی عَمَلِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ۔ قَالَ قُلْتُ : أَلاَ تُحَدِّثُنِی شَیْئًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَمُوتُ لَہُمَا ثَلاَثَۃٌ ۔ یَعْنِی مِنَ الْوَلَدِ : لَمْ یَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَہُمَا الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ إِیَّاہُمْ وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ أَنْفَقَ زَوْجَیْنِ مِنْ مَالِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ إِلاَّ ابْتَدَرَتْہُ حَجَبَۃُ الْجَنَّۃِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جنت کے تمام دربان اس کو اپنی جانب بلانے میں سبقت کریں گے۔ میں نے کہا : وہ کیسے۔ راوی کہتے ہیں : اگر سواریاں ہوں تو دو سواریاں دے۔ اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے۔ اگر بکریاں ہوں تو دو بکریاں دے۔
(١٨٥٦٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ وَیُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ زَادَ : إِلاَّ اسْتَقْبَلَتْہُ حَجَبَۃُ الْجَنَّۃِ کُلُّہُمْ یَدَعُوہُ إِلَی مَا قِبَلِہِ ۔ قُلْتُ : کَیْفَ ذَاکَ ؟ قَالَ : إِنْ کَانَ رِحَالاً فَرَحْلَیْنِ وَإِنْ کَانَتْ إِبِلاً فَبِعِیرَیْنِ وَإِنْ کَانَتْ غَنَمًا فَشَاتَیْنِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٦) ابو عبیدہ فرماتے ہیں : جس نے اللہ کے راستہ میں زائد مال خرچ کیا تو اسے سات سو گنا تک اجر دیا جائے گا اور جس نے اپنے اوپر یا اپنے اہل پر خرچ یا کسی مریض کی تیمارداری کی یا کسی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دیا تو اس کی نیکی کو دس گنا تک بڑھا دیا جائے گا اور روزہ ڈھال ہے جب تک اسے توڑا نہ جائے اور جس شخص کو اللہ جسمانی بیماری میں مبتلا کرے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(١٨٥٦٦) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ بَشَّارِ بْنُ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَاضِلَۃً فَسَبْعُمِائَۃٍ وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَی نَفْسِہِ أَوْ قَالَ عَلَی أَہْلِہِ أَوْ عَادَ مَرِیضًا أَوْ أَمَاطَ أَذًی فَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْہَا وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَلَہُ حِطَّۃٌ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٧) ولید بن عبد الرحمن، ریاض بن غطیف سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ابو عبیدہ بن جراح کے پاس مرض الموت میں حاضر ہوئے اور ان کی بیوی ان کے پاس تھی، ان کا چہرہ دیوار کی جانب تھا۔ ہم نے پوچھا : ابو عبیدہ رات کیسے گزاری ؟ تو بیوی نے کہا : رات ثواب کے حصول میں گزاری تو ابو عبیدہ نے ہماری جانب مڑ کے دیکھا اور فرمایا : میں نے رات اجر میں نہیں گزاری۔ ہمیں برا لگا تو اس کی بیوی نے ہمیں خاموش کروا دیا تو وہ کہنے لگے : تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو جو میں نے کہا : ہم نے کہا : ہمیں اس سے خوشی نہیں ہوئی کہ ہم آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں۔ اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ کے راستہ میں زائد مال خرچ کیا اسے سات سو گنا تک اجر دیا جائے گا اور جس نے اپنے اور گھر والوں پر خرچ کیا یا جس نے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا یا کوئی صدقہ کیا تو اس کی نیکی کا دس گنا اجر دیا جائے گا اور روزے کو مکمل کرنے کی صورت میں یہ ڈھال کا کام دے گا اور جسے اللہ رب لعزت نے کسی جسمانی بیماری میں مبتلا کردیا تو یہ بیماری اس کے لیے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے گی۔
(١٨٥٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ یَزِیدُ وَأَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ تُحَیْفَۃُ وَوَجْہُہُ مِمَّا یَلِی الْحَائِطَ فَقُلْنَا کَیْفَ بَاتَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ؟ فَقَالَتْ : بَاتَ بِأَجْرٍ فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ : مَا بِتُّ بِأَجْرٍ فَسَائَ نَا ذَلِکَ وَسَکَتْنَا فَقَالَ أَلاَ تَسْأَلُونَ عَمَّا قُلْتُ فَقُلْنَا مَا سَرَّنَا ذَلِکَ فَنَسْأَلَکَ عَنْہُ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً فَاضِلَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبِسَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَی نَفْسِہِ وَأَہْلِہِ أَوْ مَازَ أَذًی عَنِ الطَّرِیقِ أَوْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَحَسَنَۃٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْہَا وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَہُوَ لَہُ حِطَّۃٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٨) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ بیماری گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
(١٨٥٦٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ أَخْبَرَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٌ مِنْ فُقَہَائِ أَہْلِ الشَّامِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا یُوسُفُ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ ۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمُ بْنُ عَامِرٍ أَنَّ غُضَیْفَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ : الْوَصَبُ یُکَفَّرُ بِہِ مِنَ الْخَطَایَا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ الصَّحِیحُ غُضَیْفُ بْنُ الْحَارِثِ الشَّامِیُّ ۔ [صحیح ]
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا یُوسُفُ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ ۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمُ بْنُ عَامِرٍ أَنَّ غُضَیْفَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ : الْوَصَبُ یُکَفَّرُ بِہِ مِنَ الْخَطَایَا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ الصَّحِیحُ غُضَیْفُ بْنُ الْحَارِثِ الشَّامِیُّ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٦٩) ابو سعود عقبہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک شخص لگام والی اونٹنی لا کر کہنے لگا : یہ اللہ کے لیے ہے۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن تجھے اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گی سب لگام والی ہوں گی۔
(١٨٥٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ زَائِدَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ : عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِنَاقَۃٍ مَخْطُومَۃٍ فَقَالَ ہِیَ لِی یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَکَ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعُمِائَۃٍ کُلُّہَا مَخْطُومَۃٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٩٢]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٩٢]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٧٠) زید بن خالد جہنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کو سازو سامان دیا گویا اس نے جہاد کیا اور جس نے کسی مجاہد کے اہل و عیال کی کفالت کی گویا وہ جہاد میں شریک ہوا۔
(١٨٥٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ بِخَیْرٍ فَقَدْ غَزَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَاہُ کَمَا مَضَی۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَاہُ کَمَا مَضَی۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٧١) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جس نے غزوہ کرنے والے کو سایہ مہیا کیا تو کل قیامت کے دن اللہ اس کے لیے سائے کا بند و بست فرمائیں گے اور جس شخص نے غزوہ کرنے والے کو کم ساز و سامان بھی مہیا کیا تو اسے مجاہد کے برابر ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ وہ شہید ہوجائے یا واپس پلٹ آئے اور جس شخص نے اللہ کے ذکر کی غرض سے مسجد بنوائی اللہ جنت میں اس کا گھر بنادیں گے۔
(١٨٥٧١) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَبِی وَشُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُرَاقَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازِی أَظَلَّہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ جَہَّزَ غَازِیًا حَتَّی یَسْتَقِلَّ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ حَتَّی یَمُوتَ أَوْ یَرْجِعَ وَمَنْ بَنَی مَسْجِدًا یُذْکَرُ فِیہِ اسْمُ اللَّہِ بَنَی اللَّہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٧٢) خالی۔
(١٨٥٧٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُوالْعَبَّاسِ الشَّاذْیَاخِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ فَذَکَرُوا الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ وَزَادُوا قَالَ وَقَالَ الْوَلِیدُ فَذَکَرْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ لِلقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ قَدْ بَلَغَنِی ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فَذَکَرْتُہُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ وَلِزَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَکِلاَہُمَا قَدْ قَالَ بَلَغَنِی ہَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت
(١٨٥٧٣) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا : اے مہاجرین و انصار ! تمہارے کچھ بھائی ایسے ہیں جن کے پاس مال و سواریاں موجود نہیں تو تم میں سے ہر ایک دو یا تین آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا لے۔ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ویسے ہی باری مقرر کی جیسے ان کے لیے تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو ملایا تو میری باری بھی ان کی طرح ہی تھی۔
(١٨٥٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ نُبَیْحٍ الْعَنَزِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَغْزُوَ فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِکُمْ قَوْمًا لَیْسَ لَہُمْ مَالٌ وَلاَ عَشِیرَۃٌ فَلْیَضُمَّ أَحَدُکُمْ إِلَیْہِ الرَّجُلَیْنِ أَوِ الثَّلاَثَۃَ فَمَا لأَحَدِنَا مِنْ ظَہْرِ جَمَلٍ إِلاَّ عُقْبَۃً کَعُقْبَۃِ أَحَدِہِمْ ۔ قَالَ : فَضَمَمْتُ إِلَیَّ اثْنَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً مَا لِی إِلاَّ عُقْبَۃٌ کَعُقْبَۃِ أَحَدِہِمْ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں ذکر کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٧٤) حضرت سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور ذکر کرنے کا ثواب اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات گنا تک اجر ملتا ہے۔
(١٨٥٧٤) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ وَسَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ الصَّلاَۃَ وَالصِّیَامَ وَالذِّکْرَ تُضَاعَفُ عَلَی النَّفَقَۃِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِسَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں ذکر کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٧٥) حضرت سہل بن معاذ جہنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کے راستے میں ایک ہزار آیات تلاوت کی، اللہ رب العزت اسے انبیائ، صدیقین، شہداء اور نیک لوگوں کا ساتھ نصیب کرے گا۔
(١٨٥٧٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آیَۃٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَتَبَہُ اللَّہُ مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٧٦) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے اللہ کے راستے میں روزہ رکھا اللہ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور فرما دیں گے۔
(١٨٥٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَسَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَسُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ أَنَّہُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِی عَیَّاشٍ الزُّرَقِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ صَامَ یَوْمًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ بَاعَدَ اللَّہُ وَجْہَہُ عَنِ النَّارِ سَبْعِینَ خَرِیفًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ کرنے والے سے محبت اور الوداع کہنے کا بیان
(١٨٥٧٧) مجاہد فرماتے ہیں جب میں جہاد کے لیے نکلا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے ہمیں الوداع کہا۔ جب واپس جانے لگے تو فرمایا : میرے پاس کچھ نہیں جو میں تمہیں دے سکوں، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ رب العزت اس چیز کی حفاظت فرماتے ہیں، جو اس کی حفاظت میں دے دی جائے میں تمہارے دین، تمہاری امانتیں اور تمہارے اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
(١٨٥٧٧) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَی الْغَزْوِ فَشَیَّعَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَلَمَّا أَرَادَ فِرَاقَنَا قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ مَعِی مَا أُعْطِیکُمَاہُ وَلَکِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَیْئًا حَفِظَہُ وَأَنَا أَسْتَوْدِعُ اللَّہَ دَینَکُمَا وَأَمَانَاتِکُمَا وَخَواتِیمَ أَعْمَالِکُمَا۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ کرنے والے سے محبت اور الوداع کہنے کا بیان
(١٨٥٧٨) سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے نقل کرتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میں مجاہدین کے ساتھ رہ کر ان کے قافلے کا صبح یا شام کے وقت پہرہ دوں یہ مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔
(١٨٥٧٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لأَنْ أُشَیِّعَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَأَکْنُفَہُ عَلَی رَحْلِہِ غَدْوَۃً أَوْ رَوْحَۃً أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ کرنے والے سے محبت اور الوداع کہنے کا بیان
(١٨٥٧٩) سعید بن جابر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) لشکر کو الوداع کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلتے اور فرماتے کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمارے پاؤں کو اپنے راستے میں خاک آلود کردیا۔ ان سے کہا گیا کہ کیسے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہوئے حالانکہ ہم نے انھیں الوداع کیا ہے۔ فرماتے : ہم نے انھیں سازوسامان مہیا کیا۔ الوداع کہا اور ان کے لیے دعا کی۔
(١٨٥٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَیْضِ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جَابِرٍ الرُّعَیْنِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَیَّعَ جَیْشًا فَمَشَی مَعَہُمْ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اغْبَرَّتْ أَقْدَامُنَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقِیلَ لَہُ وَکَیْفَ اغْبَرَّتْ وَإِنَّمَا شَیَّعْنَاہُمْ فَقَالَ : إِنَّا جَہَّزْنَاہُمْ وَشَیَّعْنَاہُمْ وَدَعَوْنَا لَہُمْ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کی عورتوں کی حرمت کا بیان
(١٨٥٨٠) ابو بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھروں میں اقامت پر ہر لوگ مجاہدین کی بیویوں کا احترام اس طرح کریں جس طرح اپنی ماؤں کا احترام کرتے ہیں۔ جو لوگ گھروں میں موجود ہیں اور ران میں سے اگر کوئی کسی مجاہد کے اہل و عیال سے خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا : اس نے تیرے اہل خانہ میں خیانت کی تھی تو اس کی نیکیوں سے جتنا چاہولے لو تو رسول للہ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے۔
(١٨٥٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُوْ عَلِیِّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ قَعْنَبٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ((حُرْمَۃُ نِسَائِ الْمُجَاہِدِیْنَ عَلٰی الْقَاعِدِیْنَ کَحُرْمَۃِ أُمَّہَاتِہِمْ ، وَمَا مِنْ رَّجُلٍ مِّنَ الْقَاعِدِیْنَ یَخْلُفُ رَجُلًا فِیْ أَہْلِہٖ إِلَّا نُصِبَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقِیْلَ ہٰذَا خَلَفَکَ فِیْ أَہْلِکَ ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِہٖ مَا شِئْتَ )) ۔ فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ فَقَالَ : ((مَا ظَنُّکُمْ ؟ )) ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٩٧]
তাহকীক: