আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮৫৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کی عورتوں کی حرمت کا بیان
(١٨٥٨١) قعنب تمیمی فرماتے ہیں : کہا جائے گا : اے فلاں ! یہ فلاں بن فلاں ہے جس نے تیرے اہل سے خیانت کی تھی تم جتنی نیکیاں اس کی چاہو لے تو۔
(١٨٥٨١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا قَعْنَبٌ التَّمِیمِیُّ وَکَانَ ثِقَۃٌ خِیَارًا فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَیُقَالُ لَہُ یَا فُلاَنُ ہَذَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ خَانَکَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِہِ مَا شِئْتَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ وَمِسْعَرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ ۔ [صحیح۔ تقدم ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ وَمِسْعَرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ ۔ [صحیح۔ تقدم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممانعت کے بعد لوٹنے کے بارے میں اجازت لینے کا بیان
(١٨٥٨٢) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ارشاد باری ہے : { عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ } اللہ نے آپ کو معاف کردیا آپ نے ان کو اجازت کیوں دی یہاں تک وہ آپ کے لیے واضح ہوجائیں جنہوں نے سچ کیا یا جھوٹ بولتے ہیں اور { لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ } آپ سے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اجازت طلب نہیں کرنے کہ وہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد نہیں کرتے اور اللہ متقین کو جاننے والا ہے اور { اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُھُمْ فَھُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ } [التوبۃ ٤٣-٤٥] صرف آپ سے اجازت وہ لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ متردد ہیں۔ ان آیات کو سورة نور کی آیات نے منسوخ کردیا، یعنی { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰی اَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوکَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ} [النور ٦٢] قتادہ کہتے ہیں : یہاں رخصت دیدی اس کے بعد جب یہ کہا : { عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ } [التوبۃ ٤٣] اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا ہے۔ آپ نے ان کو اجازت کیوں دی۔۔۔
(١٨٥٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ { عَفَا اللَّہُ عَنْکَ لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ ۔ لاَ یَسْتَأْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یُجَاہِدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ وَاللَّہُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ إِنَّمَا یَسْتَأْذِنُکَ الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُہُمْ فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ } [التوبۃ ٤٣-٤٥] نَسَخَتْہَا الَّتِی فِی النُّورِ {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَإِذَا کَانُوا مَعَہُ عَلَی أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ یَذْہَبُوا حَتَّی یَسْتَأْذِنُوہَ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَأْذِنُونَکَ أُولَئِکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوکَ لِبَعْضِ شَأْنِہِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۔} [النور ٦٢] وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَطِیَّۃُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبِمَعْنَاہُ قَالَ قَتَادَۃُ قَالَ رَخَّصَ لَہُ ہَا ہُنَا بَعْدَ مَا قَالَ لَہُ { عَفَا اللَّہُ عَنْکَ لِمَ أَذِنْتَ لَہُمْ } [التوبۃ ٤٣] ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت گھر لوٹنے کی کراہت اور اجازت کا بیان
(١٨٥٨٣) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ سے واپس آتے تو فرماتے : تم رات کے وقت اپنے گھر عورتوں کے پاس واپس پلٹ کر نہ آؤ اور آپ نے لوگوں کو اطلاع دی کہ میں کل آنے والاہوں۔
(١٨٥٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ قَدِمَ مِنْ غَزْوِہِ قَالَ : لاَ تَطْرُقُوا النِّسَائَ ۔ وَأَرْسَلَ مَنْ یُؤْذِنُ النَّاسَ أَنَّہُ قَادِمٌ الْغَدَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح کی بشارت دینے کا بیان
(١٨٥٨٤) حضرت جویر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا آپ تجھے ذی الخلصہ سے آرام نہ دینگے ؟ وہ اس کا نام کعبۃ الیمانیہ رکھتے تھے۔ ؟ ہم قبیلہ احمس کے ١٥٠ شہوار لے کر گئے لیکن میں گھوڑ سواری نہ کرسکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا۔ آپ کی انگلیوں کے نشانات میرے سینے پر موجود تھے اور فرمایا : اے اللہ اس کو ثابت رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اسے توڑ کر آگ سے جلا ڈالا، پھر حضرت حصین بن اسید کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روا نہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا کہ ہم نے اسے خارشی اونٹ کی مائندچھوڑ دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ احمس کے شہسواروں اور پیادہ پر پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔
(١٨٥٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ حَدَّثَنِی قَیْسُ بْنُ أَبِی حَازِمٍ قَالَ قَالَ لِی جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَلاَ تُرِیحُنِی مِنْ ذِی الْخَلَصَۃِ ۔ وَکَانُوا یُسَمُّونَہَا کَعْبَۃَ الْیَمَانِیَۃِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فِی خَمْسِینَ وَمِائَۃِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَکُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَی الْخَیْلِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَضَرَبَ بِیَدِہِ فِی صَدْرِی حَتَّی إِنِّی لأَنْظُرُ إِلَی أَثَرِ أَصَابِعِہِ فِی صَدْرِی فَقَالَ : اللَّہُمَّ ثَبِّتْہُ وَاجْعَلْہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ فَکَسَرَہَا وَحَرَّقَہَا بِالنَّارِ ثُمَّ بَعَثَ حُصَیْنَ بْنَ رَبِیعَۃَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُبَشِّرُہُ فَقَالَ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُکَ حَتَّی تَرَکْتُہَا مِثْلَ الْجَمَلِ الأَجْرَبِ فَبَارَکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی خَیْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِہَا خَمْسَ مَرَّاتٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح کی بشارت دینے کا بیان
(١٨٥٨٥) اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان بن عفان (رض) اور اسامہ بن زید (رض) کو اپنی بیٹی رقیہ کی تیمارداری کے لیے بدر سے پیچھے چھوڑا تو زید بن حارثہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی عضباء پر فتح کی خوشخبری لیکر آئے۔ اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے گھبراہٹ والی آواز سنی تو میں باہر آیا، وہ زید بن حارثہ تھے جو فتح کی خوشخبری لیکر آئے تھے۔ اللہ کی قسم ! میں نے قیدی دیکھ کر اس کی تصدیق کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے لیے بدر کا حصہ مقرر فرمایا۔
(١٨٥٨٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّائِ وَأَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَلَفَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَلَی رُقَیَّۃَ ابْنَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَیَّامَ بَدْرٍ فَجَائَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْعَضْبَائِ نَاقَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالْبِشَارَۃِ قَالَ أُسَامَۃُ : فَسَمِعَتُ الْہَیْعَۃَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا زَیْدٌ قَدْ جَائَ بِالْبِشَارَۃِ فَوَاللَّہِ مَا صَدَّقْتُ حَتَّی رَأَیْنَا الأُسَارَی فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِسَہْمِہِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری دینے والے کو عطیہ دینے کا بیان
(١٨٥٨٦) عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن کعب اپنے والد کو نابینا ہونے کے بعد لائے۔ کہتے ہیں : میں نے کعب بن مالک سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے اور ان کی توبہ کا قصہ سنا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اور ان کے دوں تھیوں کو توبہ کی قبولیت کی خبر دی۔ کہتے ہیں : میں نے سلع پہاڑ پر بلند آواز سے پکارنے والے کو سنا جو کہہ دیا تھا : اے کعب بن مالک ! خوش ہوجا۔ کہتے ہیں : میں سجدہ میں گرا پڑا اور جان گیا کہ خوش حالی کے دن آگئے۔ جب آواز دینے والا میرے قریب آیا، وہ مجھے خوشخبری دے رہا تھا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دیے کیونکہ اس کے علاوہ میں اس دن کسی اور چیز کا ملک نہ تھا اور دو کپڑے ادھار لے کر زیب تن کیے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا پہنچا۔
(١٨٥٨٦) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ قَائِدَ کَعْبٍ حِینَ عَمِیَ مِنْ بَنِیہِ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی تَوْبَتِہِ وَإِیذَانِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْہِ وَعَلَی صَاحِبَیْہِ قَالَ : سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلٍ سَلْعٍ یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی نَزَعْتُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبُشْرَاہُ وَوَاللَّہِ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہُمَا یَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُہُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازیوں کے استقبال کا بیان
(١٨٥٨٧) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگوں نے ثنیۃ الوداع جا کر آپ کا استقبال کیا۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ گیا جب کہ میں ابھی بچہ تھا۔
(١٨٥٨٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ تَبُوکَ خَرَجَ النَّاسُ یَتَلَقَّوْنَہُ إِلَی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَتَلَقَّیْنَاہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٤٢٠٠]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازیوں کے استقبال کا بیان
(١٨٥٨٨) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ثنیۃ الوداع جاکر استقبال کیا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور سفیان بھی کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استقبال کے بارے میں بیان کرتا ہوں۔ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس پلٹے۔
(١٨٥٨٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْیَانِ نَتَلَقَّی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَہُ مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ ۔ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً : أَذْکُرُ مَقْدَمَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا قَدِمَ مِنْ تَبُوکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر سے واپسی پر نماز ادا کرنے کا بیان
(١٨٥٨٩) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا۔ جب آپ ایک سفر سے مدینہ واپس آئے تو آپ نے مجھے کہا : پہلے مسجد جا کر دو رکعت نماز ادا کرو۔
(١٨٥٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی سَفَرٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ قَالَ لِی : ادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ
وَقَدْ مَضَی سَائِرُ الأَحَادِیثِ الَّتِی رُوِیَتْ فِی آدَابِ السَّفَرِ فِی آخِرِ کِتَابِ الْحَجِّ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی رُوِیَتْ فِی الإِعْدَادِ لِلْجِہَادِ فِی کِتَابِ السَّبْقِ وَالرَّمْیِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ
وَقَدْ مَضَی سَائِرُ الأَحَادِیثِ الَّتِی رُوِیَتْ فِی آدَابِ السَّفَرِ فِی آخِرِ کِتَابِ الْحَجِّ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی رُوِیَتْ فِی الإِعْدَادِ لِلْجِہَادِ فِی کِتَابِ السَّبْقِ وَالرَّمْیِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود سے لڑائی کا بیان
(١٨٥٩٠) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یہود کے ساتھ قتال کروگے۔ جب کوئی یہودی پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو پتھر آواز لے کر کہے گا : اے مسلمان بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے ہے اس کو قتل کر۔
(١٨٥٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : تُقَاتِلُونَ الْیَہُودَ حَتَّی یَخْتَبِئَ أَحَدُہُمْ وَرَائَ الْحَجَرِ فَیَقُولُ یَا عَبْدَ اللَّہِ الْمُسْلِمَ ہَذَا یَہُودِیٌّ وَرَائِی فَاقْتُلْہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود وروم سے قتال کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٩١) عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کوا مِ خلادکہا جاتا تھا، وہ پردہ کی حالت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ بعض صحابہ نے کہا : باپردہ ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہے ؟ اس عورت نے کہا : میرا بیٹا قتل ہوا۔ میری حیا تو ختم نہ ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : تیرے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا۔ اس عورت نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کیوں کیونکہ اس کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔
(١٨٥٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ عَبْدِ الْخَبِیرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُقَالُ لَہَا أُمُّ خَلاَّدٍ وَہِیَ مُتَنَقِّبَۃٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنٍ لَہَا وَہُوَ مَقْتُولٌ فَقَالَ لَہَا بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جِئْتِ تَسْأَلِینَ عَنِ ابْنِکِ وَأَنْتِ مُتَنَقِّبَۃٌ فَقَالَتْ : إِنْ أُرْزَإِ ابْنِی فَلَنْ أُرْزَأَ حَیَائِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ابْنُکِ لَہُ أَجْرُ شَہِیدَیْنَ ۔ قَالَتْ : وَلِمَ ذَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : لأَنَّہُ قَتَلَہُ أَہْلُ الْکِتَابِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور بالوں کے جوتے پہننے والوں سے جہاد کا بیان
(١٨٥٩٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم بالوں کے جوتے پہننے والوں سے لڑائی نہ کروگے۔
(١٨٥٩٢) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا نِعَالُہُمُ الشَّعَرُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور بالوں کے جوتے پہننے والوں سے جہاد کا بیان
(١٨٥٩٣) حضرت ابوہریرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم بالوں کے جوتے پہننے والوں اور چھوٹی آنکھوں والوں اور چپٹی ناک والوں گویا کہ ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہیں جو ایک دوسرے پر رکھی ہوں ان سے لڑائی نہ کروگے
(ب) شعیب بن ابی حمزہ حضرت ابو زناد سے نقل فرماتے ہیں حتیٰ کہ تم ترک سے جو چھوٹی آنکھوں والے اور سرخ چہروں والے ہیں سے جہاد کرو گے۔
(ب) شعیب بن ابی حمزہ حضرت ابو زناد سے نقل فرماتے ہیں حتیٰ کہ تم ترک سے جو چھوٹی آنکھوں والے اور سرخ چہروں والے ہیں سے جہاد کرو گے۔
(١٨٥٩٣) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُہُمُ الشَّعَرُ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْیُنِ ذُلْفَ الأُنُوفِ کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ ۔ رَوَاہُمَا الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُمَا مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ ۔ وَرَوَاہُ شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ فَقَالَ : حَتَّی تُقَاتِلُوا التُّرْکَ صِغَارَ الأَعْیُنِ حُمْرَ الْوُجُوہِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور بالوں کے جوتے پہننے والوں سے جہاد کا بیان
(١٨٥٩٤) محمد بن عباد فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی کہ اصحابِ بابک کے جوتے بالوں والے ہیں۔
(١٨٥٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ الأَوَّلَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادٍ : بَلَغَنِی أَنَّ أَصْحَابَ بَابَکَ کَانَتْ نِعَالُہُمُ الشَّعَرُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور بالوں کے جوتے پہننے والوں سے جہاد کا بیان
(١٨٥٩٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم خوز اور کرمان عجمی قوتوں سے جہاد نہ کرو گے۔ سرخ چہرے چپٹے ناک چھوٹی آنکھیں گویا کہ ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہوں جو ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوتی ہیں۔
(١٨٥٩٥) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا خُوزَ وَکَرْمَانَ قَوْمًا مِنَ الأَعَاجِمِ حُمْرَ الْوُجُوہِ فُطْسَ الأُنُوفِ صِغَارَ الأَعْیُنِ کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور بالوں کے جوتے پہننے والوں سے جہاد کا بیان
(١٨٥٩٦) عمروبن ثعلب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قیامت سے پہلے ایسی قوم سے لڑائی کروگے جن کے جوتے بالوں والے ہوں گے اور تم چوڑے چہروں والوں سے جہاد کروگے گویا کہ ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی ہوں۔
(١٨٥٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ہُوَ ابْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تُقَاتِلُونَ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ قَوْمًا نِعَالُہُمُ الشَّعَرُ وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوہِ کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَبِی النُّعْمَانِ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَبِی النُّعْمَانِ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور حبشیوں کو لڑائی کے لیے نہ ابھارو
(١٨٥٩٧) ابو سکینہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی سے نقل فرماتے ہیں کہ تم حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں۔ اور ترک کو بھی چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں۔
(١٨٥٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا ضَمْرَۃُ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی سُکَیْنَۃَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِینَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : دَعُوا الْحَبَشَۃَ مَا وَدَعُوکُمْ وَاتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک اور حبشیوں کو لڑائی کے لیے نہ ابھارو
(١٨٥٩٨) حضرت عبداللہ بن عمرو نبی سے نقل فرماتے ہیں کہ جب حبشہ والے تمہیں چھوڑے رکھیں تو تم بھی انھیں چھوڑے رکھو۔ کیونکہ کعبہ کے خزانوں کو حبشہ کا باریک پنڈلیوں والاشخص ہی نکالے گا۔
(١٨٥٩٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : اتْرُکُوا الْحَبَشَۃَ مَا تَرَکُوکُمْ فَإِنَّہُ لاَ یَسْتَخْرِجُ کَنْزَ الْکَعْبَۃِ إِلاَّ ذُو السُّوَیْقَتَیْنِ مِنَ الْحَبَشَۃِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہند کی لڑائی کا بیان
(٩٩ ١٨٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے غزوہ ہند کے بارے میں وعدہ لیا کہ اگر تو اس کو اپنی زندگی میں پالے تو اپنا مال وجان اس میں لگا دینا۔ اگر تو شہید ہوگیا تو افضل شہیدوں میں سے ہوگا اور اگر واپس آگیا تو ابوہریرہ آزاد کیا ہو اہوگا۔
(ب) مسدد کہتے ہیں کہ میں نے ابو داؤد سے سنا کہ ابو اسحاق فزاری نے کہا : میں پسند کرتا ہوں کہ میں ہر غزوہ میں شریک ہوں جو بھی ملک روم میں کیا جائے۔
(ب) مسدد کہتے ہیں کہ میں نے ابو داؤد سے سنا کہ ابو اسحاق فزاری نے کہا : میں پسند کرتا ہوں کہ میں ہر غزوہ میں شریک ہوں جو بھی ملک روم میں کیا جائے۔
(١٨٥٩٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ سَیَّارِ بْنِ أَبِی سَیَّارٍ الْعَنَزِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَلِیٍّ السَّقَّائُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ عَنْ جَبْرِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزْوَۃَ الْہِنْدِ فَإِنْ أُدْرِکْہَا أُنْفِقْ فِیہَا مَالِی وَنَفْسِی فَإِنِ اسْتُشْہِدْتُ کُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّہَدَائِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ ۔
زَادَ الْمُقْرِئُ فِی رِوَایَتِہِ ثُمَّ قَالَ مُسَدَّدٌ سَمِعْتُ ابْنَ دَاوُدَ یَقُولُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ : وَدِدْتُ أَنِّی شَہِدْتُ بَارْبِدَ بِکُلِّ غَزْوَۃٍ غَزَوْتُہَا فِی بِلاَدِ الرُّومِ ۔ [ضعیف ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَلِیٍّ السَّقَّائُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ عَنْ جَبْرِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزْوَۃَ الْہِنْدِ فَإِنْ أُدْرِکْہَا أُنْفِقْ فِیہَا مَالِی وَنَفْسِی فَإِنِ اسْتُشْہِدْتُ کُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّہَدَائِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ ۔
زَادَ الْمُقْرِئُ فِی رِوَایَتِہِ ثُمَّ قَالَ مُسَدَّدٌ سَمِعْتُ ابْنَ دَاوُدَ یَقُولُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ : وَدِدْتُ أَنِّی شَہِدْتُ بَارْبِدَ بِکُلِّ غَزْوَۃٍ غَزَوْتُہَا فِی بِلاَدِ الرُّومِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہند کی لڑائی کا بیان
(١٨٦٠٠) حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے دو گروہوں کی اللہ تعالیٰ جہنم سے حفاظت فرمائیں گے۔ وہ جماعت جو ہند سے غزوہ کرے گی اور وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہوگی۔
(١٨٦٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِیحٍ الْبَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ الزُّبَیْدِیُّ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ عَدِیٍّ الْبَہْرَانِیِّ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِی أَحْرَزَہُمَا اللَّہُ مِنَ النَّارِ عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْہِنْدَ وَعِصَابَۃٌ تَکُونُ مَعَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক: