আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮৫২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢١) حناء بنت معاویہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : جنت میں کون داخل ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نبی، شھید، پیدا ہونے والا بچہ اور زندہ درگور کی گئی بچی۔
(١٨٥٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَتْنَا حَسْنَائُ بِنْتُ مُعَاوِیَۃَ قَالَتْ حَدَّثَنَا عَمِّی قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ مَنْ فِی الْجَنَّۃِ ؟ قَالَ : النَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ وَالشَّہِیدُ وَالْمَوْلُودُ وَالْوَئِیدُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢٢) سھل بن ابی امامہ بن سھل بن حنیف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کے خون کے پہلے قطرے پر اللہ اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔
(١٨٥٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا یُہَرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّہِیدِ تُغْفَرُ لَہُ ذُنُوبُہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢٣) عتبہ بن عبد سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقتول تین قسم کے ہیں، ایسا شخص جو اپنی جان اور مال لیکر دشمن کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے تو اللہ اس شخص کو عرش کے نیچے جگہ عطا کرتے ہیں اور انبیاء نبوت کی وجہ سے ایک درجہ اس سے اوپر ہوتے ہیں اور ایسا شخص جو گناہ کرنے کے بعد میدانِ جہاد میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے تو یہ شہادت اس کے گناہوں اور غلطیوں کو ختم کردیتی ہے۔ کیونکہ تلوار غلطیوں کو ختم کرنے والی ہے اور ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہوجائے۔ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور جنت کے دروازے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتے ہیں اور منافق آدمی اپنے مال وجان کے ساتھ میدان جہاد میں لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے تو یہ جہنمی ہے کیونکہ تلوار نفاق کو ختم نہیں کرتی۔
(١٨٥٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو السَّکْسَکِیُّ عَنْ أَبِی الْمُثَنَّی الْمُلَیْکِیِّ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْقَتْلَی ثَلاَثَۃٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَذَلِکَ الْمُمْتَحَنُ فِی خَیْمَۃِ اللَّہِ تَحْتَ عَرْشِہِ لاَ یَفْضُلُہُ النَّبِیُّونَ إِلاَّ بِدَرَجَۃِ النُّبُوَّۃِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَایَا لَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَتِلْکَ مُمَصْمِصَۃٌ مَحَتْ ذُنُوبَہُ وَخَطَایَاہُ إِنَّ السَّیْفَ مَحَّائٌ لِلْخَطَایَا وَقِیلَ لَہُ ادْخُلْ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ شِئْتَ فَإِنَّہَا ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ وَلِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ بَعْضُہَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ یَعْنِی أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَذَاکَ فِی النَّارِ إِنَّ السَّیْفَ لاَ یَمْحُو النِّفَاقَ ۔[ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢٤) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ رب العزت دو آدمیوں سے تعجب کرتے ہیں : ایک وہ جو اپنے بستر اور لحاف سے اپنے محبوبوں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لیے اٹھتا ہے۔ میری نعمتوں میں رغبت کرتے ہوئے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور ایک وہ شخص جو اللہ کے راستے میں لڑائی کرتے ہوئے شکست کھا جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شکست کی وجہ سے اس پر ایک گناہ ہے اور واپس پلٹنے میں کیا ثواب ہے تو دوبارہ لڑائی کرتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے کہتے ہیں : میرے بندے کی طرف دیکھو کہ میری نعمتوں میں رغبت کرتے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے واپس پلٹ کر جان کا نذرانہ پیش کردیا۔
(١٨٥٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَیْنِ رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِہِ وَلِحَافِہِ مِنْ بَیْنَ حِبِّہِ وَأَہْلِہِ إِلَی صَلاَتِہِ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی وَرَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَانْہَزَمَ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فِی الاِنْہِزَامِ وَمَا لَہُ فِی الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلاَئِکَتِہِ انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ ۔ وَرُوِیَ فِی مَعْنَاہُ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ مَرْفُوعًا۔ [صدوق ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید قتل کی اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا۔ مگر جتنی تم چیونٹی کے ڈسنے کی وجہ سے محسوس کرتے ہو۔
(١٨٥٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابْجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الشَّہِیدُ لاَ یَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلاَّ کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ أَلَمَ الْقَرْصَۃِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢٦) عبداللہ بن حبشی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو اور جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور مقبول حج۔ کہا گیا : کونسی نماز افضل ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لمبے قیام والی۔ کہا گیا : صدقہ کونسا افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کم مال سے خرچ کرنا۔ کہا گیا : ہجرت کونسی افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا۔ کہا گیا : جہاد افضل کونسا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مشرکین سے اپنے مال جان کے ساتھ جہاد کیا۔ کہا گیا : افضل قتل کونسا ہے ؟ آقا نے فرمایا : مجاہد اور اس کا گھوڑا قتل کردیا جائے۔
(١٨٥٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَلِیٍّ الأَزْدِیِّ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حُبْشِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سُئِلَ أَیُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِیمَانٌ لاَ شَکَّ فِیہِ وَجِہَادٌ لاَ غُلُولَ فِیہِ وَحَجَّۃٌ مَبْرُورَۃٌ ۔ قِیلَ : أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : طُولُ الْقِیَامِ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : جُہْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : مَنْ ہَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّہُ عَلَیْہِ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : مَنْ جَاہَدَ الْمُشْرِکِینَ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ ؟ قَالَ : مَنْ أُہْرِیقَ دَمُہُ وَعُقِرَ جَوَادُہُ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کی سفارش قبول کیے جانے کا بیان
(١٨٥٢٧) ولید بن رباح ذماری فرماتے ہیں کہ میرے چچا نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں کہ ہم ام درداء کے پاس آئے۔ ہم یتیم تھے۔ کہنے لگیں : تم خوش ہوجاؤ؛ کیونکہ میں نے ابودرداء سے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ شہید آدمی کی ستر گھر والوں کے بارے میں سفارش قبول کی جائے گی۔
(١٨٥٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی عَمِّی نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَۃَ الذِّمَارِیُّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أُمِّ الدَّرْدَائِ وَنَحْنُ أَیْتَامٌ فَقَالَتْ : أَبْشِرُوا فَإِنِّی سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَشْفَعُ الشَّہِیدُ فِی سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ صَوَابُہُ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِیدِ ۔
[صحیح لغیرہ۔ بدون قصہ الدخول علی ام الدردائ ]
[صحیح لغیرہ۔ بدون قصہ الدخول علی ام الدردائ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں زخمی ہونے والے کی فضلیت
(١٨٥٢٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو انسان اللہ کے راستہ میں زخمی کیا جاتا ہے، اللہ جانتے ہیں کہ جو اس کے راستہ میں زخمی کیا گیا مگر جب وہ قیامت کے دن آئے گا اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا جس کی رنگت خون کی اور خوشبو کستوری کی ہوگی۔
(١٨٥٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ وَابْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یُکْلَمُ أَحَدٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُکْلَمُ فِی سَبِیلِہِ إِلاَّ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجُرْحُہُ یَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّیحُ رِیحُ الْمِسْکِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ النَّاقِدِ وَزُہَیْرٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ۔ [متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ النَّاقِدِ وَزُہَیْرٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ۔ [متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں زخمی ہونے والے کی فضلیت
(١٨٥٢٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وہ زخم جو مسلمان اللہ کے راستہ میں کھاتا ہے تو وہ قیامت کے دن اسی حالت میں ہوگا۔ جیسے اسے زخمی کیا گیا۔ زخم سے بہہ رہا ہوگا۔ رنگت خون جیسی اور خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔
(١٨٥٢٩) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کُلُّ کَلْمٍ یُکْلَمُہُ الْمُسْلِمُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَکُونُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا فَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قتل کرنے والے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو انسان جہنم میں اکٹھے نہ ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو تکلیف دیتا ہے۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کون ہے ؟ فرمایا : مومن جو کافر کو قتل کرتا ہے پھر صراط مستقیم پر رہتا ہے۔
(١٨٥٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَوْنٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یَجْتَمِعَانِ فِی النَّارِ اجْتِمَاعًا یَضُرُّ أَحَدُہُمَا ۔ قِیلَ : مَنْ ہُمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : مُؤْمِنٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْنٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٩١]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَوْنٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یَجْتَمِعَانِ فِی النَّارِ اجْتِمَاعًا یَضُرُّ أَحَدُہُمَا ۔ قِیلَ : مَنْ ہُمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : مُؤْمِنٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْنٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٩١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قتل کرنے والے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کافر اور اس کا قاتل جہنم میں کبھی بھی اکٹھے نہ ہوں گے۔
(١٨٥٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یَجْتَمِعُ کَافِرٌ وَقَاتِلُہُ فِی النَّارِ أَبَدًا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
(١٨٥٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان دو لوگوں پر مسکراتا ہے جو ایک دوسرے کو قتل کردینے کے باوجود جنت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! یہ کیسے ممکن ہے ؟ مقتول جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ پھر قاتل کو اللہ اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔
(١٨٥٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَضْحَکُ اللَّہُ مِنْ رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ کِلاَہُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ۔ قَالُوا : وَکَیْفَ ذَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ قَالَ : یُقْتَلُ ہَذَا فَیَلِجُ الْجَنَّۃَ ثُمَّ یَتُوبُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی الآخَرِ فَیَہْدِیہِ إِلَی الإِسْلاَمِ ثُمَّ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَیُسْتَشْہَدُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ ۔
[متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ ۔
[متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے لیکن دونوں جنت میں داخل ہوں گے
(١٨٥٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دوانسانوں پر مسکراتے ہیں جو ایک دوسرے کو قتل کرنے کے باوجود جنت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ایک اللہ کے راستہ میں لڑتا ہوا شہید ہوا، جبکہ دوسرے کی اللہ نے توبہ قبول کرلی، پھر وہ بھی راہ خدا میں شہادت حاصل کرلیتا ہے۔
(١٨٥٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : یَضْحَکُ اللَّہُ إِلَی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ کِلاَہُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُ ہَذَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَیُقْتَلُ ثُمَّ یَتُوبُ اللَّہُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُقَاتِلُ فَیُسْتَشْہَدُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام حرام بنت ملحان کے پاس کھانے کے لیے تشریف لائے اور ام حرام عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ اس کے پاس آئے تو وہ کھانا کھلانے کے بعد سر سے جوئیں نکالنے بیٹھ گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ کہتی ہیں : میں نے کہا : آپ کو کس بات نے ہنسادیا ؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : میری امت کے لوگ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے۔ وہ سمندر کے درمیان سواری کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر۔ راوی کہتے ہیں کہ ام حرام نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دعا کردیں کہ میں بھی ان میں سے ہوجاؤں آپ نے دعا کردی۔ پھر آپ سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : آپ کو کسی چیز نے ہنسادیا ؟ فرمایا : میری امت کے لوگ غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے پہلی مرتبہ تھے۔ انھوں نے دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کردی کہ اسے ان میں شمار کیا جائے۔ آپ نے فرمایا : تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔ معاویہ (رض) کے دور میں ام حرام نے سمندر کا سفر کیا جب سمندر سے نکلی تو چوپائے کی سواری سے گرنے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔
(١٨٥٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُہُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَأَطْعَمَتْہُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِی رَأْسَہُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَرْکَبُونَ ثَبَجَ ہَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الأَسِرَّۃِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ یَشُکُّ أَیَّہُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسَہُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ کَمَا قَالَ فِی الأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَرَکِبَتِ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَہَلَکَتْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُہُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَأَطْعَمَتْہُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِی رَأْسَہُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَرْکَبُونَ ثَبَجَ ہَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الأَسِرَّۃِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ یَشُکُّ أَیَّہُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسَہُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ کَمَا قَالَ فِی الأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَرَکِبَتِ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَہَلَکَتْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٥) ام حرام بنت ملحان فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن انس (رض) کے گھر تشریف فرما تھے تو بیدار ہونے کے بعد مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا : آپ کو کسی چیز نے مسکرادیا ہے ؟ فرمایا : میری امت کے لوگ سمندر پر سواری کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا : دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے۔ آپ دعا کرکے دوبارہ لیٹ گئے۔ پھر بیدار ہونے کے بعد اس طرح ہی کہا، میں نے دوبارہ دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا : تو پہلے لوگوں میں سے ہے تو عبادہ بن صامت نے ان سے نکاح کیا اور سمندری سفر میں لے گئے۔ جب واپس آنے لگے تو خچر سے گرنے کی وجہ کی سے گردن ٹوٹ گئی، یہ ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔
(١٨٥٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فِی بَیْتِہَا یَوْمًا ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَضْحَکَکَ ؟ قَالَ : عُرِضَ عَلَیَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ظَہْرَ ہَذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ قُلْتُ : ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَتَزَوَّجَہَا عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا بِہَا فِی الْبَحْرِ فَلَمَّا رَجَعُوا قُرِّبَتْ لَہَا بَغْلَۃٌ لِتَرْکَبَہَا فَصَرَعَتْہَا فَدَقَّتْ عُنُقَہَا فَمَاتَتْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فِی بَیْتِہَا یَوْمًا ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَضْحَکَکَ ؟ قَالَ : عُرِضَ عَلَیَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ظَہْرَ ہَذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ قُلْتُ : ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَتَزَوَّجَہَا عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا بِہَا فِی الْبَحْرِ فَلَمَّا رَجَعُوا قُرِّبَتْ لَہَا بَغْلَۃٌ لِتَرْکَبَہَا فَصَرَعَتْہَا فَدَقَّتْ عُنُقَہَا فَمَاتَتْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٦) بنو سلمہ کے محمد بن عبداللہ بن عتیک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو جہاد فی سبیل اللہ کی نیت گھر سے نکلا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ نے اپنی تین انگلیاں ملائیں اور فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کہاں ہیں ؟ جو شخص اللہ کے راستہ میں اپنی سواری سے گر کر فوت ہوجائے تو اس کا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے اور اگر کسی چیز کے ڈسنے کی وجہ سے فوت ہوجائے تو اس کو مکمل اجر ملے گا اور جو انسان اپنی طبعی موت فوت ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں : یہ کلمہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کسی عرب سے نہ سنا تھا، یعنی جو اپنے بستر پر فوت ہوگیا اس کا اجر بھی اللہ کے ذمہ ہے اور جو انسان موقع پر ہی قتل کردیا گیا اس نے جنت کو واجب کرلیا۔
(١٨٥٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتِیکٍ أَخِی بَنِی سَلِمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَ ثُمَّ ضَمَّ أَصَابِعَہُ الثَلاَثَ وَأَیْنَ الْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ مَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِہِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَإِنْ لَدَغَتْہُ دَابَّۃٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَمَنْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِہِ ۔ قَالَ : وَإِنَّہَا لَکَلِمَۃٌ مَا سَمِعْتُہَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوَّلَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْنِی بِحَتْفِ أَنْفِہِ عَلَی فِرَاشِہِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَمَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْجَنَّۃَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٧) ابومالک اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے ہیں : جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ کی رضا مندی کی تلاش، اس کے وعدے کی تصدیق اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے تو اللہ رب العزت اس بندے کا ضامن ہے کہ اللہ اس کو لشکر میں جس طرح بھی موت دے۔ اس کو جنت میں داخل کرلے گا۔ وہ اللہ کی ضمانت میں ہی رہے گا۔ اگرچہ وہ زیادہ دیر غائب رہے۔ پھر اللہ رب العزت اس کو اس کے گھر صحیح سلامت اور اجر وثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ راوی کہتے ہیں : جو اللہ کے راستہ میں فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے یا اس کا گھوڑا یا اونٹ گرادے یا کوئی زیریلی چیز ڈس لے یا اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے یہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔
(١٨٥٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیہِ یَرُدُّہُ إِلَی مَکْحُولٍ إِلَی ابْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِیِّ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَنِ انْتَدَبَ خَارِجًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ابْتِغَائَ وَجْہِہِ وَتَصْدِیقَ وَعْدِہِ وَإِیمَانًا بِرِسَالاَتِہِ عَلَی اللَّہِ ضَامِنٌ فَإِمَّا یَتَوَفَّاہُ اللَّہُ فِی الْجَیْشِ بِأَیِّ حَتْفٍ شَائَ فَیُدْخِلُہُ الْجَنَّۃَ وَإِمَّا یَسِیحُ فِی ضَمَانِ اللَّہِ وَإِنْ طَالَتْ غَیْبَتُہُ ثُمَّ یَرُدُّہُ إِلَی أَہْلِہِ سَالِمًا مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ ۔ قَالَ : وَمَنْ فَصَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ یَعْنِی فَہُوَ شَہِیدٌ أَوْ وَقَصَہُ فَرَسُہُ أَوْ بَعِیرُہُ أَوْ لَدَغَتْہُ ہَامَّۃٌ أَوْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ بِأَیِّ حَتْفٍ شَائَ اللَّہُ فَإِنَّہُ شَہِیدٌ وَلَہُ الْجَنَّۃُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٨) ابوامامہ باہلی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ تین شخصوں کا اللہ ضامن ہے : ایسا شخص جو جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ اس کی ضمانت دیتے ہیں کہ اسے فوت کرکے جنت میں داخل کرلے یا ایسے شخص کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کریں اور ایسا شخص جو مسجد جاتا ہے تو اللہ کے ذمے ہے کہ موت کے بعد اس کو جنت میں داخل کرے یا ثواب یا مال غنیمت دے کر واپس کرے۔ اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہوتا ہے۔ اس کا بھی اللہ ضامن ہے۔
(١٨٥٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ : عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ مُسْہِرٍ الْغَسَّانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ حَبِیبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ثَلاَثَۃٌ کُلُّہُمْ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُ فَیُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرُدَّہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُ فَیُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرُدَّہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَرَجُلٌ دَخَلَ بَیْتَہُ بِسَلاَمٍ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٣٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ وہ معاذ بن جبل (رض) کے پاس سے گزرے۔ وہ اپنے گھر کے دروازے کے سامنے بیٹھے ہاتھوں سے اشارے کر رہے تھے۔ گویا آپ سے باتیں کر رہے ہیں تو عبداللہ نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! اپنے نفس سے باتیں کررہے ہو۔ اس نے کہا کہ اللہ کے دشمن مجھے اس کلام سے غافل کردینا چاہتے ہیں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اللہ اس کا ضامن ہے اور جو انسان اپنے گھر میں کسی کی برائی بیان نہیں کرتا، یعنی چغلی نہیں کرتا اللہ اس کا بھی ضامن ہے اور جو بیمار کی تیمارداری کرلے صبح یا شام مسجد کی طرف جائے ان کا بھی اللہ ضامن ہے اور جو شخص امام کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کا بھی ضامن ہے۔ اللہ کے دشمن کا ارادہ تھا کہ مجھے میرے گھر سے مجلس کی طرف نکال دیں۔
(١٨٥٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ قَیْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَیْسِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ قَاعِدٌ عَلَی بَابِہِ یُشِیرُ بِیَدِہِ کَأَنَّہُ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ : مَا شَأْنُکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ نَفْسَکَ قَالَ وَمَا لِی یُرِیدُ عَدُوُّ اللَّہِ أَنْ یُلْہِیَنِی عَنْ کَلاَمٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ تُکَابِدُ دَہْرَکَ الآنَ فِی بَیْتِکَ أَلاَ تَخْرُجَ إِلَی الْمَجْلِسِ فَتُحَدِّثَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنْ جَلَسَ فِی بَیْتِہِ لاَ یَغْتَابُ أَحَدًا بِسُوئٍ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنْ عَادَ مَرِیضًا کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنَ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنْ دَخَلَ عَلَی إِمَامٍ یُعَزِّرُہُ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ ۔ فَیُرِیدُ عَدُوُّ اللَّہِ أَنْ یُخْرِجَنِی مِنْ بَیْتِی إِلَی الْمَجْلِسِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجنبی تیر سے ہلاک ہونے والے کا بیان
(١٨٥٤٠) ام ربیع بنت براء یہ ام حارثہ بن سرقہ ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہا : آپ مجھے حارثہ کے بارے میں خبردیں جو بدر کے دن نامعلوم تیر کی وجہ فوت ہوئے۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اگر کسی اور جگہ ہے تو جی بھر کر رولوں۔ فرمایا : اے ام حارثہ ! وہ جنت کے باغوں میں ہے اور تیرا بیٹا تو جنت الفردوس میں ہے۔ قتادہ کہتے ہیں : فردوس جنت میں اونچی جگہ ہے جنت کے درمیان اور افضل جگہ ہے۔
(١٨٥٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ أُمَّ الرُّبَیِّعِ بِنْتَ الْبَرَائِ وَہِیَ أُمُّ حَارِثَۃَ ابْنِ سُرَاقَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَلاَ تُخْبِرُنِی عَنْ حَارِثَۃَ وَکَانَ قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَہُ سَہْمُ غَرْبٍ فَإِنْ کَانَ فِی الْجَنَّۃِ صَبَرْتُ وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ اجْتَہَدْتُ عَلَیْہِ الْبُکَائَ قَالَ : یَا أُمَّ حَارِثَۃَ إِنَّہَا جِنَانٌ فِی الْجَنَّۃِ وَإِنَّ ابْنَکِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الأَعْلَی ۔
قَالَ قَتَادَۃُ : الْفِرْدَوْسُ رَبْوَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَأَوْسَطُہَا وَأْفَضَلُہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ۔
[صحیح۔ بخاری ٢٨٠٩۔ ٢٩٨٣]
قَالَ قَتَادَۃُ : الْفِرْدَوْسُ رَبْوَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَأَوْسَطُہَا وَأْفَضَلُہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ۔
[صحیح۔ بخاری ٢٨٠٩۔ ٢٩٨٣]
তাহকীক: