আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮৫০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠١) مطرف بن عبداللہ بن سخیر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے ابو ذر سے ملی اور میں ان سے ملاقات کا شوق رکھتا تھا۔ جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا : اے ابوذر ! آپ سے یہ حدیث ملی تھی اور ملاقات کا شوق بھی تھا تو انھوں نے کہا : تیرے باپ کے لیے خرابی ہو۔ اب ملے ہیں تو بتاؤ۔ میں نے کہا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تین چیزوں کو پسند اور تین سے بغض رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں میرا خیال نہیں کہ میں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے کہا : وہ کون تین اشیاء ہیں جن کو اللہ پسند کرتے ہیں ؟ فرمایا : 1 کسی شخص کا دشمن سے قتال کرنا جیسے اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ} [الصف ٤] کہ اللہ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے راستہ میں صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں۔
میں نے پوچھا : دوسرا کون شخص ؟ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنے برے ہمسائے کی تکالیف پر صبر کرتا ہے تو اللہ اس کو زندگی کے اندر یا موت کے بعد اس کا بدلہ دے گا۔ تیسرا بندہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے ؟ 1 بخیل احسان جتانے والا۔ 2 فخر کرنے والا متکبر۔ 3 یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ } کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتے۔ [لقمان ١٨] اس نے کہا : تیسرا شخص کون ہے ؟ فرمایا : قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔
میں نے پوچھا : دوسرا کون شخص ؟ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنے برے ہمسائے کی تکالیف پر صبر کرتا ہے تو اللہ اس کو زندگی کے اندر یا موت کے بعد اس کا بدلہ دے گا۔ تیسرا بندہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے ؟ 1 بخیل احسان جتانے والا۔ 2 فخر کرنے والا متکبر۔ 3 یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ } کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتے۔ [لقمان ١٨] اس نے کہا : تیسرا شخص کون ہے ؟ فرمایا : قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔
(١٨٥٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ قَالَ کَانَ الْحَدِیثُ یَبْلُغُنِی عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکُنْتُ أَشْتَہِی لِقَائَ ہُ فَلَقِیتُہُ فَقُلْتُ : یَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّہُ کَانَ یَبْلُغُنِی عَنْکَ الْحَدِیثَ فَکُنْتُ أَشْتَہِی لِقَائَ کَ قَالَ : لِلَّہِ أَبُوکَ فَقَدْ لَقِیتَ فَہَاتِ فَقُلْتُ : حَدِیثٌ بَلَغَنِی أَنَّکَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَدَّثَکُمْ : إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یُحِبُّ ثَلاَثَۃً وَیُبْغِضُ ثَلاَثَۃً ۔ قَالَ : مَا إِخَالُنِی أَنْ أَکْذِبَ عَلَی خَلِیلِی - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قُلْتُ : فَمَنِ الثَّلاَثَۃُ الَّذِینَ یُحِبُّ اللَّہُ ؟ قَالَ : رَجُلٌ لَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ وَإِنَّکُمْ لَتَجِدُّونَ ذَلِکَ فِی الْکِتَابِ عِنْدَکُمْ {إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا } [الصف ٤] قُلْتُ : وَمَنْ ؟ قَالَ : رَجُلٌ لَہُ جَارُ سَوْئٍ فَہُوَ یُؤْذِیہِ فَیَصْبِرُ عَلَی أَذَاہُ فَیَکْفِیہِ اللَّہُ إِیَّاہُ بِحَیَاۃٍ أَوْ مَوْتٍ ۔ قَالَ : وَمَنْ ؟ قَالَ : رَجُلٌ کَانَ مَعَ قَوْمٍ فِی سَفَرٍ فَنَزَلُوا فَعَرَّسُوا وَقَدْ شَقَّ عَلَیْہِمُ الْکَرَی وَالنُّعَاسُ وَوَضَعُوا رُئُ وسَہُمْ فَنَامُوا وَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّی رَہْبَۃً لِلَّہِ وَرَغْبَۃً إِلَیْہِ ۔ قُلْتُ : فَمَنِ الثَّلاَثَۃُ الَّذِینَ یُبْغِضُ ؟ قَالَ : الْبَخِیلُ الْمَنَّانُ وَالْمُخْتَالُ الْفَخُورُ وَإِنَّکُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ {إِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ } [لقمان ١٨] قَالَ : فَمَنِ الثَّالِثُ ؟ قَالَ : التَّاجِرُ الْحَلاَّفُ أَوِ الْبَائِعُ الْحَلاَّفُ ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی ٤٦٨]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک میں لوگوں کو کھجور کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں بہترین اور بدترین لوگ نہ بتاؤں ؟ بہتر انسان وہ ہے جو گھوڑے یا اونٹ یا پیادہ موت تک اللہ راستہ میں جہاد کرتا ہے اور بدترین شخص فاجر جری جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے لیکن کوئی چیز اس سے حاصل نہیں کرتا۔
(١٨٥٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ عَامَ تَبُوکٍ خَطَبَ النَّاسَ وَہُوَ مُضِیفٌ ظَہْرَہُ إِلَی نَخْلَۃٍ فَقَالَ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ رَجُلاً عَمِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ أَوْ عَلَی ظَہْرِ بَعِیرِہِ أَوْ عَلَی قَدَمَیْہِ حَتَّی یَأْتِیَہُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلاً فَاجِرًا جَرِیئًا یَقْرَأُ کِتَابَ اللَّہِ لاَ یَرْعَوِی إِلَی شَیْئٍ مِنْہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک شخص ایک گھاٹی کے پاس سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا تو اس کی خوشبو اور خوبصورتی اس کو اچھی لگی۔ اس نے کہا : اگر میں لوگوں سے الگ ہو کر یہاں بیٹھ جاؤں۔ لیکن پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ کروں گا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کیا تو آپ نے ایسا کرنے سے منع کردیا اور فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا گھر میں ٦٠ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کر کے جنت میں داخل کر دے ! اللہ کے راستہ میں جہاد کرو، جس نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہے۔
(١٨٥٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَرَّ بِشِعْبٍ فِیہِ عُیَیْنَۃٌ مِنْ مَائٍ عَذْبٍ فَأَعْجَبَہُ طِیبُہُ وَحُسْنُہُ فَقَالَ : لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَأَقَمْتُ فِی ہَذَا الشِّعْبِ ثُمَّ قَالَ : لاَ أَفْعَلُ حَتَّی أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ مُقَامَ أَحَدِکُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِہِ فِی أَہْلِہِ سِتِّینَ عَامًا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَیُدْخِلَکُمُ الْجَنَّۃَ اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ [حسن ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَرَّ بِشِعْبٍ فِیہِ عُیَیْنَۃٌ مِنْ مَائٍ عَذْبٍ فَأَعْجَبَہُ طِیبُہُ وَحُسْنُہُ فَقَالَ : لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَأَقَمْتُ فِی ہَذَا الشِّعْبِ ثُمَّ قَالَ : لاَ أَفْعَلُ حَتَّی أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ مُقَامَ أَحَدِکُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِہِ فِی أَہْلِہِ سِتِّینَ عَامًا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَیُدْخِلَکُمُ الْجَنَّۃَ اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٤) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی شخص کا اللہ کے راستہ میں صف میں کھڑا ہونا اس کی ٦٠ برس کی عبادت سے افضل ہے۔
(١٨٥٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مُقَامُ الرَّجُلِ فِی الصَّفِّ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَۃِ رَجُلٍ سِتِّینَ سَنَۃً ۔ [حسن لغیرہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٥) ابو صالح حضرت عثمان بن عفان (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) مسجد خیف میں تھے، فرمایا : اے لوگو ! میں نے ایک حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ جو میں نے تم سے پوشیدہ رکھی۔ لیکن اب میں نصیحت کے وقت ظاہر کر رہاہوں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ایک ہزار دن کے برابر ہے تو ہر انسان اپنے بارے میں سوچے۔
(١٨٥٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ أَبِی مَعْنٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُنْتُ أَکْتُمُکُمُوہُ ضِنًّا بِکُمْ قَدْ بَدَا لِی أَنْ أُبْدِیَہُ نَصِیحَۃً لَکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : یَوْمُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَأَلْفِ یَوْمٍ فِیمَا سِوَاہُ فَلْیَنْظُرْ کُلُّ امْرِئٍ مِنْکُمْ لِنَفْسِہِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٦) حضرت ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے سیروسیاحت کی اجازت دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کی سیروساحت اللہ کی راستہ میں جہاد کرنے میں ہے۔
(١٨٥٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُمَاہِرِ : مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ حُمَیْدٍ أَخْبَرَنِی الْعَلاَئُ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ائْذَنْ لِی فِی السِّیَاحَۃِ فَقَالَ : إِنَّ سِیَاحَۃَ أُمَّتِی الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٧) ابوامامہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی اجازت طلب کی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب بیٹھے ہوئے افراد نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ، کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کی بہن سے زنا کیا جائے۔ میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے پوچھا : تیری بیٹی سے۔ راوی کہتے ہیں : آپ بار بار اسے یہ کہتے رہے تو وہ ہر مرتبہ نفی میں جو اب دیتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی ناپسند کر اس بات کو جس کو اللہ ناپسند کرتے ہیں۔ اور اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے عورتوں سے نفرت پیدا کر دے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے اللہ ! تو عورتوں کو اس کے لیے متنفر فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد وہ پھر واپس آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عورتوں سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہیں۔ آپ مجھے سیر و تفریح کی اجازت دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت کی سیر و سیاحت جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔
(١٨٥٠٧) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُمَاہِرِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ یَعْنِی ابْنَ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ ائْذَنْ لِی فِی الزِّنَا قَالَ فَہَمَّ مَنْ کَانَ قُرْبَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَتَنَاوَلُوہُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : دَعُوہُ ۔ ثُمَّ قَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ادْنُہْ أَتُحِبُّ أَنْ یُفْعَلَ ذَلِکَ بِأُخْتِکَ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَبِابْنَتِکَ ۔ قَالَ : فَلَمْ یَزَلْ یَقُولُ بِکَذَا وَکَذَا کُلَّ ذَلِکَ یَقُولُ : لاَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَاکْرَہْ مَا کَرِہَ اللَّہُ وَأَحِبَّ لأَخِیکَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَادْعُ اللَّہَ أَنْ یُبَغِّضَ إِلَیَّ النِّسَائَ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ بَغِّضْ إِلَیْہِ النِّسَائَ ۔ قَالَ : فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ بَعْدَ لَیَالٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا مِنْ شَیْئٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنَ النِّسَائِ فَائْذَنْ لِی بِالسِّیَاحَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ سِیَاحَۃَ أُمَّتِی الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔
[حسن ]
[حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کے راستے کی غبار اور جہنم کا دھواں ایک پیٹ میں اکٹھے نہیں ہوسکتے اور بخل اور ایمان کسی آدمی کے دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
(١٨٥٠٨) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَبِی وَشُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِی یَزِیدَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِی اللَّجْلاَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِی جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا وَلاَ یَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِیمَانُ فِی قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں تیر پھینکنے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥٠٩) ابونجیح سلمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طائف کے محل میں موجود تھا۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے : جس نے صحیح نشانے پر تیر مارا اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہوگا۔ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر میں تیر نشانے پر ماروں تو بدلے لیے بھی جنت میں درجہ ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں تو اس نے تیر نشانے پر مارے تقریبا سولہ تیر۔ کہتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو اللہ کے راستہ میں بڑھاپا آگیا۔ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہوگا۔ جس نے اللہ کے راستہ میں تیر پھینکا۔ یہ بھی اس کے لیے قیامت کے دن روشنی کا باعث بنے گا اور جس انسان نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ رب لعزت اس کی ہڈیوں کے عوض اس کے تمام جسم کو جہنم کی آگ سے محفوظ کر دے گا اور جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ رب العزت آزاد کرنے والی عورت کو اس کے بدلے جہنم سے آزاد کردیں گے۔
(١٨٥٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَبِی نَجِیحٍ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَصْرَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ رَمَی بِسَہْمٍ فَبَلَغَ فَلَہُ دَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ إِنْ رَمَیْتُ فَبَلَغْتُ فَلِی دَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَرَمَی فَبَلَغَ قَالَ وَبَلَّغْتُ یَوْمَئِذٍ سِتَّۃَ عَشَرَ سَہْمًا قَالَ وَسَمِعْتُ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ رَمَی بِسَہْمٍ کَانَ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَیُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلاً مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِہِ مِنَ النَّارِ وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً فَإِنَّ اللَّہَ جَاعِلٌ وِقَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہَا مِنَ النَّارِ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا أَسَدُ بْنُ وَدَاعَۃَ عَنْ أَبِی نَجِیحٍ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ۔ [صحیح ]
وَرَوَاہُ أَیْضًا أَسَدُ بْنُ وَدَاعَۃَ عَنْ أَبِی نَجِیحٍ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں تیر پھینکنے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥١٠) حضرت عمروبن عبسہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جس نے دشمن کو تیرمارا اور وہ نشانے پر لگا۔ یہ نشانہ خطا ہوگیا۔ اسے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔
(١٨٥١٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ رَمَی الْعَدُوَّ بِسَہْمٍ فَبَلَّغَ سَہْمَہُ أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ فَعِدْلُ رَقَبَۃٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں تیر پھینکنے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥١١) واحذر کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : جس کو اسلام میں بڑھاپا آگیا یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث بنے گا اور جس نے اللہ کے راستہ میں تیر پھینکا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔
(١٨٥١١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ السَّمْطِ قَالَ قُلْنَا لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدِّثْنَا وَاحْذَرْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی الإِسْلاَمِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ رَمَی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ کَعِتْقِ رَقَبَۃٍ ۔[صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں تیر پھینکنے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥١٢) سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ترکش عطا کیا۔ حسن بن عرفہ کہتے ہیں، یعنی اپنا ترکش احد کے دن پھینکا اور فرمایا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں تیر اندازی کرو۔
(١٨٥١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْقَطَّانِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْہَانَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہَاشِمِ بْنِ ہَاشِمٍ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : نَثَلَ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ یَعْنِی نَفَضَ کِنَانَتَہُ یَوْمَ أُحُدٍ وَقَالَ : ارْمِ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں تیر پھینکنے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥١٣) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف سعد (رض) کے لیے اپنے والدین کے بارے میں فرمایا کہ میرے والدین آپ پر فدا ہوں تیر اندازی کرو۔
(١٨٥١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَمَعَ أَبَوَیْہِ إِلاَّ لِسَعْدٍ فَإِنَّہُ قَالَ : ارْمِ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ وَمُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی عَنِ الثَّوْرِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَمَعَ أَبَوَیْہِ إِلاَّ لِسَعْدٍ فَإِنَّہُ قَالَ : ارْمِ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ وَمُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی عَنِ الثَّوْرِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں تیر پھینکنے کی فضلیت کا بیان
(١٨٥١٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ ایک ڈھال سے اپنا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کرتے تھے اور ابوطلحہ بہترین تیرا انداز تھے۔ جب وہ تیر پھینکتے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتے۔
(١٨٥١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ یَتَتَرَّسُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِتُرْسٍ وَاحِدٍ وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَ حَسَنَ الرَّمْیِ وَکَانَ إِذَا رَمَی یُشْرِفُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَنْظُرُ إِلَی مَوْضِعِ نَبْلِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں پیدل چلنے کا بیان
(١٨٥١٥) ابو عبس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں ان کو جہنم کی آگ نہ چھوئے گی۔
(١٨٥١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ أَبُو الْجُمَاہِرِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی زِیَادٍ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ زَیْدٍ الْخَطَّابِیُّ وَکَانَ یَسْکُنُ حَرَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الصُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنِی عَبَایَۃُ بْنُ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَتَمَسَّہُمَا النَّارُ أَبَدًا ۔ لَفُظُہَمَا وَاحِدٌ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٥٤١]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی زِیَادٍ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ زَیْدٍ الْخَطَّابِیُّ وَکَانَ یَسْکُنُ حَرَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الصُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنِی عَبَایَۃُ بْنُ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَتَمَسَّہُمَا النَّارُ أَبَدًا ۔ لَفُظُہَمَا وَاحِدٌ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٥٤١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں پیدل چلنے کا بیان
(١٨٥١٦) ابو مصبح حمصی فرماتے ہیں کہ ہم ایک جماعت کی شکل میں چل رہے تھے، جن کے امیر مالک بن عبداللہ تھے۔ ان کا گزر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس سے ہوا جو اپنی خچر کو ساتھ لیے پیدل چل رہے تھے تو مالک بن عبداللہ نے کہا : آپ سوار کیوں نہیں ہوتے حالانکہ اللہ نے آپ کو سواری عطا کی ہے تو جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قدم اللہ کے راستہ میں خاک آلود ہوگئے، ان پر اللہ جہنم کی آگ کو حرام کردیتا ہے۔ میری سواری تندرست ہے اور میں اپنی قوم سے بے پروا ہوں تو لوگ اپنی سواریوں سے اتر پڑے۔ میں نے اس دن سے زیادہ پیدل چلتے ہوئے لوگ نہیں دیکھے۔
(١٨٥١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عُتْبَۃُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنْ أَبِی الْمُصَبِّحِ الْحِمْصِیِّ قَالَ : کُنَّا نَسِیرُ فِی صَائِفَۃٍ وَعَلَی النَّاسِ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخَثْعَمِیُّ فَأَتَی عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَمْشِی یَقُودُ بَغْلاً لَہُ فَقَالَ لَہُ : أَلاَ تَرْکَبُ وَقَدْ حَمَلَکَ اللَّہُ فَقَالَ جَابِرٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَرَّمَہُمَا اللَّہُ عَلَی النَّارِ ۔ أُصْلِحُ لِی دَابَّتِی وَأَسْتَغْنِی عَنْ قَوْمِی فَوَثَبَ النَّاسُ عَنْ دَوَابِّہِمْ فَمَا رَأَیْتُ نَازِلاً أَکْثَرَ مِنْ یَوْمِئِذٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥١٧) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرے گا، اگرچہ اسے دنیا کی تمام چیزیں بھی دی جائیں مگر شہید آرزو کرے گا کہ وہ دنیا میں جائے اور دس بار شہید کیا جائے کیونکہ وہ عزت وشرف دیکھ چکا ہوتا ہے۔
(ب) ۔ طیالسی کی روایت میں ہے کہ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ اللہ رب العزت سے جنت حاصل کرنے کے بعد دنیا میں آنا پسند کرے سوائے شہید کے؛ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ چکا ہوگا، اس لیے وہ دس مرتبہ شہید کیے جانے کی خواہش کرے گا۔
(ب) ۔ طیالسی کی روایت میں ہے کہ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ اللہ رب العزت سے جنت حاصل کرنے کے بعد دنیا میں آنا پسند کرے سوائے شہید کے؛ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ چکا ہوگا، اس لیے وہ دس مرتبہ شہید کیے جانے کی خواہش کرے گا۔
(١٨٥١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَا أَحَدٌ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ فَیَتَمَنَّی أَنْ یَخْرُجَ مِنْہَا وَإِنْ لَہُ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ الشَّہِیدَ فَإِنَّہُ یَتَمَنَّی أَنْ یَرْجِعَ فَیُقْتَلَ عَشْرَ مِرَارٍ لِمَا رَأَی مِنَ الْکَرَامَۃِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَقَدِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الطَّیَالِسِیِّ : مَا مِنْ عَبْدٍ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ یُحِبُّ أَنْ یَرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا إِلاَّ الشَّہِیدَ فَإِنَّہُ یَوَدُّ لَوْ أَنَّہُ رَجَعَ فَقُتِلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَا أَحَدٌ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ فَیَتَمَنَّی أَنْ یَخْرُجَ مِنْہَا وَإِنْ لَہُ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ الشَّہِیدَ فَإِنَّہُ یَتَمَنَّی أَنْ یَرْجِعَ فَیُقْتَلَ عَشْرَ مِرَارٍ لِمَا رَأَی مِنَ الْکَرَامَۃِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَقَدِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الطَّیَالِسِیِّ : مَا مِنْ عَبْدٍ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ یُحِبُّ أَنْ یَرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا إِلاَّ الشَّہِیدَ فَإِنَّہُ یَوَدُّ لَوْ أَنَّہُ رَجَعَ فَقُتِلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥١٨) مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : ہم نے بھی ان کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ ان شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں۔ ان کے لیے عرش کے نیچے فانوس معلق ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ پھر ان فانوسوں میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے کہ تمہیں کچھ چاہیے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور جب انھوں نے محسوس کیا کہ ان سے پوچھا جاتا رہے گا۔ تب انھوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری ارواح کو ہمارے جسموں میں داخل فرمائیں تاکہ ایک مرتبہ پھر تیرے راستے میں کٹ مریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انھیں ضرورت نہیں تو ان کو ویسے چھوڑ دیا جائے گا۔ (ب) ۔ مقری کی روایت میں ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا : { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ۔۔۔} [آل عمران ١٦٩-١٧٠] جو لوگ اللہ کے راہ میں مارے گئے ہیں، انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور انھیں رزق مل رہا ہے۔ کہتے ہیں : ہم نے اس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی پوچھا تھا۔
(١٨٥١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ وَعِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّہَدَائِ فَقَالَ قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَرْوَاحُہُمْ کَطَیْرٍ خُضْرٍ لَہَا قَنَادِیلُ مُعَلَّقَۃٌ فِی الْعَرْشِ تَسْرَحُ حَیْثُ شَائَ تْ ثُمَّ تَأْوِی إِلَی قَنَادِیلِہَا فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ اطِّلاَعَۃً فَیَقُولُ مَا تَشْتَہُونَ فَیَقُولُونَ وَمَا نَشْتَہِی وَنَحْنُ فِی الْجَنَّۃِ نَسْرَحُ حَیْثُ شِئْنَا فَإِذَا رَأَوْا أَنْ لاَ بُدَّ مِنْ أَنْ یَسْأَلُوا قَالُوا تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِی أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَنُقْتَلُ مَرَّۃً أُخْرَی فَإِذَا رَأَی أَنْ لاَ یَسْأَلُوہُ شَیْئًا تَرَکَہُمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُقْرِئِ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ } [آل عمران ١٦٩-١٧٠] قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ ذَکَرَ مَعْنَاہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ وَعِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّہَدَائِ فَقَالَ قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَرْوَاحُہُمْ کَطَیْرٍ خُضْرٍ لَہَا قَنَادِیلُ مُعَلَّقَۃٌ فِی الْعَرْشِ تَسْرَحُ حَیْثُ شَائَ تْ ثُمَّ تَأْوِی إِلَی قَنَادِیلِہَا فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ اطِّلاَعَۃً فَیَقُولُ مَا تَشْتَہُونَ فَیَقُولُونَ وَمَا نَشْتَہِی وَنَحْنُ فِی الْجَنَّۃِ نَسْرَحُ حَیْثُ شِئْنَا فَإِذَا رَأَوْا أَنْ لاَ بُدَّ مِنْ أَنْ یَسْأَلُوا قَالُوا تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِی أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَنُقْتَلُ مَرَّۃً أُخْرَی فَإِذَا رَأَی أَنْ لاَ یَسْأَلُوہُ شَیْئًا تَرَکَہُمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُقْرِئِ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ } [آل عمران ١٦٩-١٧٠] قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ ذَکَرَ مَعْنَاہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥١٩) مسروق فرماتے ہیں کہ ہم نے اس آیات کے بارے میں حضرت عبداللہ (رض) سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہوتی ہیں۔
(١٨٥١٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ فَذَکَرَہَا وَقَالَ : أَرْوَاحُہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ ۔[صحیح۔ مسلم ١٨٨٧]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ ۔[صحیح۔ مسلم ١٨٨٧]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٢٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید ہوگئے تو اللہ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں میں داخل فرما دیا۔ جو جنت کی نہروں پر اڑتے پھرتے ہیں اور اس کے پھلوں سے کھاتے ہیں، عرش کے نیچے ان کے لیے سونے کے فانوس معلق ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ جب انھوں نے کھانے پینے اور اچھی آرام گاہ کو پایاتو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ہماری بات کون پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بےرغبتی اور لڑائی کے وقت بزدلی نہ دکھائیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : میں تمہاری بات ان تک پہنچا دیتا ہوں اللہ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ } [آل عمران ١٦٩]
(١٨٥٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّہُ أَرْوَاحَہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّۃِ تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا وَتَأْوِی إِلَی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِیبَ مَأْکَلِہِمْ وَمَشْرَبِہِمْ وَمَقِیلِہِمْ قَالُوا مَنْ یُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْیَائٌ فِی الْجَنَّۃِ نُرْزَقُ لِئَلاَّ یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ وَلاَ یَنْکُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ} [آل عمران ١٦٩] إِلَی آخِرِ الآیَاتِ ۔ [حسن ]
তাহকীক: