আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৪৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر اور سرایا میں کونسا بہتر ہے
(١٨٤٨١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین ساتھی چار ہیں اور بہتر سریہ چار سو افراد کا ہے اور بہترین لشکر ٤ ہزار کا ہے اور ١٢ ہزار کا لشکر قلت کی بنا پر مغلوب نہ ہوگا۔
(١٨٤٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّہَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یُونُسَ بْنَ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : خَیْرُ الأَصْحَابِ أَرْبَعَۃٌ وَخَیْرُ السَّرَایَا أَرْبَعُمِائَۃٍ وَخَیْرُ الْجُیُوشِ أَرْبَعَۃُ آلاَفٍ وَلَنْ یُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّۃٍ ۔

تَفَرَّدَ بِہِ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ مَوْصُولاً ۔ وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ یُونُسَ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُنْقَطِعًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَسْنَدَہُ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ وَہُوَ خَطَأٌ۔ [منکر ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر اور سرایا میں کونسا بہتر ہے
(١٨٤٨٢) اکثم بن جون خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اکثم بن جون ! اپنی قوم کے علاوہ کسی اور کے ساتھ غزوہ کرو۔ آپ کا اخلاق اچھا ہوگا اور اپنے ساتھیوں کی عزت کرو۔ اے اکثم بن جون بہترین ساتھی چار ہیں اور بہتر ہر اول دستہ ٤٠ افراد کا ہے اور بہتر سریہ ٤ سو اشخاص کا ہے اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے اور ١٢ ہزار کا لشکر قلت کی وجہ سے شکست نہ دیا جائے گا۔ اے اکثم بن جون ! تو دو سو افراد کا ساتھی نہ بن۔
(١٨٤٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ عَنْ حُیَیِّ بْنِ مِخْمَرٍ الْوَصَّابِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ مِنْ أَہْلِ دِمَشْقَ عَنْ أَکْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِیِّ ثُمَّ الْکَعْبِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا أَکْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ اغْزُ مَعَ غَیْرِ قَوْمِکَ یَحْسُنْ خُلُقُکَ وَتَکْرُمْ عَلَی رُفَقَائِکَ یَا أَکْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ خَیْرُ الرُّفَقَائِ أَرْبَعَۃٌ وَخَیْرُ الطَّلاَئِعِ أَرْبَعُونَ وَخَیْرُ السَّرَایَا أَرْبَعُمِائَۃٍ وَخَیْرُ الْجُیُوشِ أَرْبَعَۃُ آلاَفٍ وَلَنْ یُؤْتَی اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّۃٍ یَا أَکْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ لاَ تُرَافِقِ الْمِائَتَیْنِ ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال افضل ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا : اس کے بعد ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ کہا گیا : اس کے بعد ؟ فرمایا : مقبول حج۔
(١٨٤٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَیُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِیمَانٌ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ۔ قِیلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قِیلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی مُزَاحِمٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٤) اللہ فرماتے ہیں : وہ شخص جو اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے میرے ساتھ ایمان لانے اور میرے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے تو میرے ذمہ ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں یا اس کو اس کے گھر واپس کروں، جہاں سے وہ آیا ہے اس حالت میں کہ جو اس نے ثواب اور غنیمت حاصل کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ کے لیے زخم کھاتا ہے وہ کل قیامت کے دن آئے گا۔ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔ جس کی رنگت خون جیسی اور حوشبو کستوری جیسی ہوگی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں کسی سریہ سے بھی پیچھے نہ رہتا۔ جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہیں نہ تو میں ان کے لیے سواریاں پاتا ہوں اور نہ ان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ میرے پیچھے آسکیں اور نہ ہی ان کو یہ پسند ہے کہ وہ میرے بعد پیچھے رہ سکیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں۔ پھر میں قتل کیا جاؤں۔ پھر میں جہاد کروں۔ پھر میں قتل کیا جاؤں۔ پھر میں جہاد کروں۔ پھر میں قتل کیا جاؤں۔
(١٨٤٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : انْتَدَبَ اللَّہُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِہِ لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ إِیمَانٌ بِی وَتَصْدِیقٌ بِرَسُولِی فَہُوَ عَلَیَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ أَرْجِعَہُ إِلَی بَیْتِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ نَائِلاً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا مِنْ مَکْلُومٍ یُکْلَمُ فِی اللَّہِ إِلاَّ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَکَلْمُہُ یَدْمَی اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّیحُ رِیحُ مِسْکٍ ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلَکِنْ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُہُمْ وَلاَ یَجِدُونَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُونِی وَلاَ تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوا بَعْدِی ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی أَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ۔

حَدِیثُ الْکَلْمِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَی الْبَاقِیَ عَنْ حَرَمِیِّ بْنِ حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عُمَارَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٥) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (رض) نے فرمایا : اللہ رب العزت نے ضمانت دی ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، اسے گھر سے صرف اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اور اس کے کلمہ کی تصدیق کرنا ہی نکلنا ہے۔ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے یا پھر اس کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ اس کے گھر واپس لوٹائے۔
(١٨٤٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : تَکَفَّلَ اللَّہُ لِمَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِہِ لاَ یُخْرِجُہُ مِنْ بَیْتِہِ إِلاَّ جِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ وَتَصْدِیقُ کَلِمَتِہِ بِأَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرْجِعَہُ إِلَی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٦) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اگر میں لوگوں پر مشقت خیال نہ کرتا تو میں کسی سریہ سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے لیکن میں ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر پاتا اور نہ ہی وہ اتنی وسعت پاتے ہیں کہ وہ میرے پیچھے آسکیں اور نہ ہی ان کو میرے بعد پیچھے رہنا اچھا لگتا ہے۔
(١٨٤٨٦) وَعَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِنْ قَعَدْتُ خِلاَفَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلَکِنْ لاَ أَجِدُ سَعَۃً فَأَحْمِلَہُمْ وَلاَ یَجِدُونَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُونِی وَلاَ تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ أَنْ یَقْعُدُوا بَعْدِی ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٧) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اگر میں لوگوں پر مشقت خیال نہ کرتا تو میں کسی سریہ سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا، لیکن میں ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر پاتا اور نہ ہی وہ اتنی وسعت پاتے ہیں کہ وہ میرے پیچھے آسکیں اور نہ ہی ان کو میرے بعد پیچھے رہنا اچھا لگتا ہے۔
(١٨٤٨٧) وَعَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْیَا ۔ کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ ثَلاَثًا أُشْہِدُ اللَّہَ الْحَدِیثُ الأَوَّلُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقَدْ أَخْرَجَا بَاقِیَہُ مِنْ أَوْجُہٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کون سی چیز اللہ کے راستہ میں جہاد کے برابر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی طاقت نہیں رکھتے : راوی کہتے ہیں : تجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا شخص اس کی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور ہمہ وقت حالت قیام میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ روزے اور نماز میں کرتا ہی نہیں کرتا۔ حتی کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا مجاہد گھر لوٹ آئے۔
(١٨٤٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ أَنَّ أَبَا حَصِینٍ حَدَّثَہُ أَنَّ ذَکْوَانَ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلِّمْنِی عَمَلاً یَعْدِلُ الْجِہَادَ قَالَ : لاَ أَجِدُہُ ۔ ثُمَّ قَالَ فَقَالَ : ہَلْ تَسْتَطِیعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاہِدُ أَنْ تَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَتَقُومَ لاَ تَفْتُرَ وَتَصُومَ لاَ تُفْطِرَ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ ذَلِکَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاہِدِ یَسْتَنُّ فِی طِوَلِہِ فَیُکْتَبُ لَہُ حَسَنَاتٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ جَعْفَرٍ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عَفَّانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٨٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کون سی چیز اللہ کے راستہ میں جہاد کے برابر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ راوی کہتے ہیں : تجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا شخص اس کی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور ہمہ وقت حالت قیام میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ روزے اور نماز میں کرتا ہی نہیں کرتا۔ حتی کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا مجاہد گھر میں لوٹ آئے۔
(١٨٤٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْیَانَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنَا مَا یَعْدِلُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ قَالَ : إِنَّکُمْ لاَ تَسْتَطِیعُونَ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : إِنَّکُمْ لاَ تَسْتَطِیعُونَہُ ۔ قَالَ فَلاَ أَدْرِی فِی الثَّالِثَۃِ أَمْ فِی الرَّابِعَۃِ : مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآیَاتِ اللَّہِ لاَ یَفْتُرُ مِنْ صَلاَۃٍ وَلاَ صِیَامٍ حَتَّی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ إِلَی أَہْلِہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٠) نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں منبر رسول کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا : مجھے کوئی پر وہ نہیں کہ میں اسلام کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے مسجد حرام کو آباد کرنے سے۔ دوسرے نے کہہ دیا : جو تو نے کہا اللہ کے راستہ میں جہاد اس سے افضل ہے تو حضرت عمر (رض) نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا : منبر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ جمعہ کا دن تھا۔ میں نماز جمعہ کے بعد تمہارا اختلافی مسئلہ پوچھ لوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : { اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْجَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْن } [التوبہ ١٩] کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی تعمیر کرنا اس شخص کے ماند بنادیا جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے ہاں برابر نہیں۔
(١٨٤٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی ابْنَ سَلاَّمٍ عَنْ زَیْدٍ ہُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَنِی النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ رَجُلٌ : لاَ أُبَالِی أَنْ لاَ أَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الإِسْلاَمِ إِلاَّ أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ وَقَالَ الآخِرُ : الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَہُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَلَکِنِّی إِذَا صَلَّیْتُ الْجُمُعَۃَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَیْتُہُ فِیمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَجَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ لاَ یَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّہِ } [التوبۃ ١٩] الآیَۃَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیِّ عَنْ أَبِی تَوْبَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩١) سہل بن سعد (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک کو ڑے کے برابر جگہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ صبح یا شام کے وقت اللہ کے راستہ میں بندے کا جانا دنیا اور جو کچھ اس میں موجود ہے سے بہتر ہے۔
(١٨٤٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : مَوْضِعُ سَوْطٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا الْغَدْوَۃُ یَغْدُوہَا الْعَبْدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ الرَّوْحَۃُ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَفِی الْبَابِ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ کو جانے کا حکم دیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! رات کو چلے جائیں یا صبح کا انتظار کرلیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تم رات جنت کے باغوں میں گزارو۔
(١٨٤٩٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مَالِکٍ الشَّرْعَبِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَرِیَّۃٍ تَخْرُجُ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَخْرُجُ اللَّیْلَۃَ أَمْ نَمْکُثُ حَتَّی نُصْبِحَ فَقَالَ : أَوَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ تَبِیتُوا فِی خِرَافٍ مِنْ خِرَافِ الْجَنَّۃِ ۔

وَالْخَرِیفُ الْحَدِیقَۃُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوسعید (رض) ! جو اللہ کے رب اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سعید (رض) نے تعجب کیا اور کہا : دوبارہ بیان فرمائیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے پھر فرمایا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بندے کے جنت میں سو درجے بلند کردیے جاتے ہیں اور ہر دودرجوں کے درمیانی مسافت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ اس نے کہا : یہ کیا ہے ’؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔
(١٨٤٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أَبُو ہَانِئٍ الْخَوْلاَنِیُّ عَنْ أَبِی عَبْدِالرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ مَنْ رَضِیَ بِاللَّہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ ۔ قَالَ : فَعَجِبَ لَہَا أَبُو سَعِیدٍ فَقَالَ : أَعِدْہَا عَلَیَّ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَأُخْرَی یُرْفَعُ بِہَا الْعَبْدُ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ ۔ قَالَ : وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ قَالَ : الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٨٤]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھے، نماز ادا کرے، زکوۃ دے، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کردے۔ اس نے اللہ کے راستہ میں ہجرت کی یا اپنی جائے پیدائش پر ہی فوت ہوگیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم لوگوں کو خبر نہ دے دیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سودرجے ہیں اور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ یہ اللہ نے مجاہدین کے لیے تیار کی ہے۔ جب بھی تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔ یہ جنت کے درمیان یا اوپر ہے۔ اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔
(١٨٤٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَوِ ابْنِ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللَّہِ أَنْ یُدْخِلَہُ یَعْنِی الْجَنَّۃَ ہَاجَرَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ مَاتَ فِی أَرْضِہِ الَّتِی وُلِدَ فِیہَا ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَلاَ نُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِکَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ أَعَدَّہَا اللَّہُ لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیلِہِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّہَ فَسَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ وَسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ۔ [صحیح۔ بخاری ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٥) خالی۔
(١٨٤٩٥) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ فَحَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ فُلَیْحٌ الثَّانِیَۃَ فَذَکَرَہُ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِنَحْوِہِ وَلَمْ یَشُکُّ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَیْحٍ وَلَم یَشُکُّ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٦) حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کون لوگ افضل ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مومن جو اپنے جان ومال سے جہاد کرتا ہے۔ پوچھا : پھر کون ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اللہ رب العزت سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو ان کے شر کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔
(١٨٤٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مُؤْمِنٌ مُجَاہِدٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ ۔ فَقَالَ : ثُمَّ مَنْ قَالَ : مُؤْمِنٌ فِی شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِی اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سے اس شخص کی زندگی نہایت بہتر ہے، جس نے اللہ کے راستہ میں اپنی سواری کی لگام کو تھاما۔ جب وہ کسی طرف سے خطرے یا فریاد رسی کی اطلاع پاتا ہے تو برق رفتاری سے اس کی طرف جاتا ہے۔ وہ موت کے مواقع تلاش کرتا ہے یا وہ شخص جو چند بکریوں کے ساتھ اپنی پہاڑی پر مقیم ہے یا کسی وادی میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ وہ مرتے دم تک نماز اور زکوۃ ادا کرتا ہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگارہتا ہے۔ ایسا شخص لوگوں سے خیر و بھلائی میں ہے۔ (ب) بعجہ بن عبداللہ بن بدر فرماتے ہیں : پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑی پر۔
(١٨٤٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْعَطَّارُ الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بَعْجَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : مِنْ خَیْرِ مَعَاشِ النَّاسِ رَجُلٌ مُمْسِکٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَطِیرُ عَلَی مَتْنِہِ کُلَّمَا سَمِعَ ہَیْعَۃً أَوْ فَزْعَۃً طَارَ عَلَیْہِ یَبْتَغِی الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّہُ أَوْ رَجُلٌ فِی غُنَیْمَۃٍ فِی رَأْسِ شَعَفَۃٍ مِنْ ہَذِہِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ہَذِہِ الأَوْدِیَۃِ یُقِیمُ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَیَعْبُدُ رَبَّہُ حَتَّی یَأْتِیَہُ الْیَقِینُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ فِی خَیْرٍ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ وَیَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کِلَیْہِمَا عَنْ أَبِی حَازِمٍ بِہَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَہُ وَقَالَ عَنْ بَعْجَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَدْرٍ وَقَالَ فِی شِعْبَۃٍ مِنْ ہَذِہِ الشِّعَابِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٤٩٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درھم و دینار اور چادر کا بندہ ہلاک ہوگیا۔ اگر دیا جائے تو راضی رہتا ہے اگر نہ ملے تو ناراض ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص بدنصیب اور ذلیل ہو، اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالانہ جائے اور اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑے کی لگام تھام رکھی ہے۔ اس کا سر پرا گندہ اور پاؤں خاک آلود ہیں۔ اگر اسے لشکر کے پچھلے حصے میں متعین کیا جائے تو وہاں ڈیوٹی دیتا ہے۔ اگر اسے حفاظتی دستہ میں کھڑا کیا جائے تو کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر اجازت چاہے تو اجازت نہیں دی جاتی اور کسی کی سفارش کرے تو سفارش نہیں مانی جاتی، اس کو خوشخبری ہو، خوشخبری ہو !
(١٨٤٩٨) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ أَبُو مُسْلِمٌ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : تَعِسَ عَبْدُ الدِّینَارِ وَعَبْدُ الدِّرْہَمِ وَعَبْدُ الْخَمِیصَۃِ إِنْ أُعْطِیَ رَضِیَ وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَکَسَ وَإِذَا شِیکَ فَلاَ انْتَقَشَ طُوبَی لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَشْعَثُ رَأْسُہُ مُغْبَرَّۃٌ قَدَمَاہُ إِنْ کَانَ فِی السِّیَاقَۃِ کَانَ فِی السِّیَاقَۃِ وَإِنْ کَانَ فِی الْحِرَاسَۃِ کَانَ فِی الْحِرَاسَۃِ إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ یُؤْذَنْ لَہُ وَإِنْ شَفِعَ لَمْ یُشَفَّعْ طُوبَی لَہُ ثُمَّ طُوبَی لَہُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٦٣٥۔ ٢٨٨٧]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(٩٩ ١٨٤) عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ صحابہ کہنے لگے : کسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجو کہ وہ پوچھے کہ اللہ کو کون سے اعمال پسندیدہ ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : کوئی بھی آپ کے پاس نہ گیا۔ ہم نے آپ سے پوچھنا مؤخر کردیا۔ آپ نے اس گروہ کے ایک ایک فرد کو بلایا حتی کہ وہ سب جمع ہوگئے تو ان کے بارے میں یہ سورة نازل ہوئی : { سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم } [الحدید ١]

عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکمل سورت ہمارے سامنے پڑھی۔ ابوسلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام نے ہمارے سامنے مکمل سورت پڑھی۔ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابو مسلمہ نے وہ سورت پوری ہمارے سامنے پڑھی اور اوزاعی کہتے ہیں : یحییٰ نے وہ سورة مکمل پڑھی۔ عباس (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ اوزاعی نے بھی مکمل سورت تلاوت کی۔
(١٨٤٩٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلاَمٍ : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا لَوْ أَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَسُولاً یَسْأَلُہُ عَنْ أَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَی اللَّہِ قَالَ فَلَمْ یَذْہَبْ إِلَیْہِ أَحَدٌ مِنَّا وَہَبْنَا أَنْ نَسْأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُولَئِکَ النَّفَرَ رَجُلاً رَجُلاً حَتَّی جَمَعَہُمْ وَنَزَلَتْ فِیہِمْ ہَذِہِ السُّورَۃُ { سَبَّحَ لِلَّہِ } [الحدید ١] قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَرَأَہَا عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُلَّہَا قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ قَرَأَہَا عَلَیْنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلاَمٍ کُلَّہَا قَالَ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ وَقَرَأَہَا عَلَیْنَا أَبُو سَلَمَۃَ کُلَّہَا قَالَ الأَوْزَاعِیُّ وَقَرَأَہَا عَلَیْنَا یَحْیَی کُلَّہَا قَالَ الْعَبَّاسُ قَالَ أَبِی وَقَرَأَہَا عَلَیْنَا الأَوْزَاعِیُّ کُلَّہَا۔

[صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بیان
(١٨٥٠٠) ابو سلمہ بن عبد الرحمن (رض) حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمع ہو کر آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ کون رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھے گا کہ اللہ کو کون سے اعمال زیادہ پسندیدہ ہیں۔ پھر ہم منتشر ہوگئے تاکہ کوئی بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام کو جمع فرمایا۔ ہم ایک دوسرے کی جانب اشارہ کر رہے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم یہ آیت تلاوت فرمائی : { سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم } [الحدید ۔ الحشر ] آسمان و زمین میں موجود تمام اشیاء اللہ کی تسبیحات بیان کرتی ہیں، وہ غالب حکمت والا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ ابو سلمہ نے ابتدا سے لے کر آخر تک تلاوت کی اور ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام (رض) نے شروع سے آخر تک پڑھی اور اوزاعی کہتے ہیں کہ یحییٰ نے ابتدا سے انتہا تک تلاوت کی اور ابو اسحاق کہتے ہیں کہ اوزاعی نے ابتدا سے اخیر تک تلاوت کی اور معاویہ کہتے ہیں کہ ابو اسحاق نے شروع سے آخر تک پڑھی۔ ابوبکر صنعانی کہتے ہیں کہ معاویہ نے ہمارے سامنے مکمل سورة تلاوت کی۔ ابو العباس کہتے ہیں کہ صنعانی نے مکمل سورة تلاوت نہ کی۔ ابو العباس اور قاضی نے ابتدائی حصہ تلاوت کیا اور ابو عبداللہ حافظ نے مکمل سورة تلاوت کی اور شیخ نے بھی مکمل سورة پڑھی۔
(١٨٥٠٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ : اجْتَمَعْنَا فتَذَاکَرْنَا فَقُلْنَا : أَیُّکُمْ یَأْتِی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَسْأَلُہُ أَیُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ قَالَ ثُمَّ تَفَرَّقْنَا وَہِبْنَا أَنْ یَأْتِیَہُ مِنَّا أَحَدٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَمَعَنَا فَجَعَلَ یُومِئُ بَعْضُنَا إِلَی بَعْضٍ فَقَرأَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - { سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ } [الحشر ] إِلَی آخِرِ السُّورَۃِ قَالَ یَحْیَی فَقَرَأَہَا عَلَیْنَا أَبُو سَلَمَۃَ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ فَقَرَأَہَا عَلَیْنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلاَّمٍ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا قَالَ الأَوْزَاعِیُّ فَقَرَأَہَا عَلَیْنَا یَحْیَی مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَرَأَہَا عَلَیْنَا الأَوْزَاعِیُّ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا قَالَ مُعَاوِیَۃُ وَقَرَأَہَا أَبُو إِسْحَاقَ عَلَیْنَا مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصَّغَانِیُّ وَقَرَأَہَا عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ : وَلَم یَقْرَأْ عَلَیْنَا الصَّغَانِیُّ السُّورَۃَ بِتَمَامِہَا وَقَرَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مِنْ أَوَّلِہَا شَیْئًا وَقَرَأَ الْقَاضِی مِنْ أَوَّلِہَا شَیْئًا وَقَرَأَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ عَلَیْنَا السُّورَۃَ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا وَقَرَأَہَا الشَّیْخُ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক: