আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮৪৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے اور لڑائی کے وقت کیا کہے
(١٨٤٦١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو۔ لیکن جب تم ان سے ملو، لڑائی کرو تو صبر کرو۔
(١٨٤٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ جَبَلَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لاَ تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ ۔ [صحیح ]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے اور لڑائی کے وقت کیا کہے
(١٨٤٦٢) سالم ابو نضر جو عمر بن عبید اللہ کے غلام ہیں اور ان کے کاتب تھے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) نے حدوریہ کی جانب نکلتے وقت خط لکھا، جس میں یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض دنوں میں جب دشمن سے لڑتے تو سورج کے ڈھل جانے کا انتظار کرتے۔ پھر لوگوں میں یہ بات ارشاد فرماتے : اے لوگو ! دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو اور جب تم دشمن سے ملو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا : اے کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے ! ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو نضر نے کہا : ہمیں یہ خبر ملی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی مثل دعا کی کہ ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔
(١٨٤٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَکَانَ کَاتِبًا لَہُ قَالَ : کَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی أَوْفَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ خَرَجَ إِلَی الْحَرُورِیَّۃِ فَقَرَأْتُہُ فَإِذَا فِیہِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ أَیَّامِہِ الَّتِی لَقِیَ فِیہَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّی مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ۔ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ وَہَازِمَ الأَحْزَابِ اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ۔ قَالَ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ وَبَلَغَنَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَعَا فِی مِثْلِ ذَلِکَ فَقَالَ : أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّہُمْ وَنَحْنُ عَبِیدُکَ وَہُمْ عَبِیدُکَ وَنَوَاصِینَا وَنَوَاصِیہِمْ بِیَدِکَ فَاہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ دُونَ بَلاَغِ أَبِی النَّضْرِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ دُونَ بَلاَغِ أَبِی النَّضْرِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے اور لڑائی کے وقت کیا کہے
(١٨٤٦٣) ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کسی قوم کا خوف ہوتا تو آپ فرماتے : ہم تجھی کو ان کے مقابلہ میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
(١٨٤٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ سَلَمَۃَ الْہَمَذَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَاسِی الْمَتُّوثِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَجْعَلُکَ فِی نُحُورِہِمْ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُورِہِمْ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے اور لڑائی کے وقت کیا کہے
(١٨٤٦٤) حضرت صہیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے لیکن ہم اس کو سمجھ نہ پاتے۔ ہم نے کہا : اسے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہونٹوں کو کسی چیز سے حرکت دیتے ہیں لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کی کثرت اچھی لگی۔ اس نے کہا کہ وہ ان کے مقابلے میں کھڑا ہوگا۔ فرماتے ہیں کہ اس سے کہا گیا : اپنے ساتھیوں کا انتخاب کرلو۔ ہم ان پر دشمن کو مسلط کرتے ہیں۔ وہ اپنے لیے خود، بھوک یا موت کو پسند کرلیں۔ ان کو اختیار ملا تو انھوں نے موت کو پسند کیا تو تین ایام کے اندر ستر ہزار آدمی مارے گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تو یہ کہتا ہوں : اے اللہ ! تیری مدد سے میں قتال کرتا ہوں اور تیری توفیق سے معاملات کی تدبیر کرتا ہوں اور تیری توفیق سے مقابلہ کرتا ہوں اور برائی سے پھرنے اور نیکی کرنے کی قوت تیری توفیق سے ہے۔
(١٨٤٦٤) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی قُمَاشٍ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ عِیسَی أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ عَائِشَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ کِلاَہُمَا عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ صُہَیْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ بِشَیْئٍ لاَ نَفْہَمُہُ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ تُحَرِّکُ شَفَتَیْکَ بِشَیْئٍ لاَ نَفْہَمُہُ فَقَالَ : إِنَّ نَبِیًّا مِنَ الأَنْبِیَائِ أَعْجَبَہُ کَثْرَۃُ قَوْمِہِ فَقَالَ مَنْ یَفِی لِہَؤُلاَئِ أَوْ مَنْ یَقُومُ لِہَؤُلاَئِ قَالَ فَقِیلَ لَہُ خَیِّرْ أَصْحَابَکَ بَیْنَ أَنْ نُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا فَیَسْتَبِیحَ بَیْضَتَہُمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَخَیَّرَہُمْ فَاخْتَارُوا الْمَوْتَ قَالَ فَمَاتَ مِنْہُمْ فِی ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا۔ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَأَنَا أَقُولُ اللَّہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ وَبِکَ أُحَاوِلُ وَبِکَ أُصَاوِلُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِکَ ۔
وَسَائِرُ مَا وَرَدَ مِنَ الدُّعَائِ فِی ہَذَا قَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ وَفِی کِتَابِ الدَّعَوَاتِ ۔ [صحیح ]
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ عَائِشَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ کِلاَہُمَا عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ صُہَیْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ بِشَیْئٍ لاَ نَفْہَمُہُ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ تُحَرِّکُ شَفَتَیْکَ بِشَیْئٍ لاَ نَفْہَمُہُ فَقَالَ : إِنَّ نَبِیًّا مِنَ الأَنْبِیَائِ أَعْجَبَہُ کَثْرَۃُ قَوْمِہِ فَقَالَ مَنْ یَفِی لِہَؤُلاَئِ أَوْ مَنْ یَقُومُ لِہَؤُلاَئِ قَالَ فَقِیلَ لَہُ خَیِّرْ أَصْحَابَکَ بَیْنَ أَنْ نُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا فَیَسْتَبِیحَ بَیْضَتَہُمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَخَیَّرَہُمْ فَاخْتَارُوا الْمَوْتَ قَالَ فَمَاتَ مِنْہُمْ فِی ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا۔ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَأَنَا أَقُولُ اللَّہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ وَبِکَ أُحَاوِلُ وَبِکَ أُصَاوِلُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِکَ ۔
وَسَائِرُ مَا وَرَدَ مِنَ الدُّعَائِ فِی ہَذَا قَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ وَفِی کِتَابِ الدَّعَوَاتِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے لیے کونسا وقت مناسب ہے
(١٨٤٦٥) نعمان بن مقرن فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کے ابتدائی حصہ میں لڑائی نہ کرتے بلکہ اسے سورج کے ڈھلنے، ہواؤں کے چلنے اور مدد کے اترنے تک مؤخر فرماتے۔
(١٨٤٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ النُّعْمَانَ یَعْنِی ابْنَ مُقَرِّنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : شَہِدْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا لَمْ یُقَاتِلْ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَہُبَّ الرِّیَاحُ وَیَنْزِلَ النَّصْرُ ۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ٢٦٥٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت خاموشی اختیار کرنے کا بیان
(١٨٤٦٦) قیس بن عباد بیان فرماتے کرتے ہیں کہ صحابہ تین موقعوں پر بلند آواز کو ناپسند کرتے تھے : 1 لڑائی کے وقت 2 جنازہ کے وقت 3 ذکر کے وقت۔
(١٨٤٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ الدَّسْتَوَائِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَکْرَہُونَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ ثَلاَثٍ عِنْدَ الْقِتَالِ وَفِی الْجَنَائِزِ وَفِی الذِّکْرِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت خاموشی اختیار کرنے کا بیان
(١٨٤٦٧) قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ صحابہ قتال کے وقت بلند آواز کو ناپسند کرتے تھے۔
(١٨٤٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَکْرَہُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت خاموشی اختیار کرنے کا بیان
(١٨٤٦٨) خالی۔
(١٨٤٦٨) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ہَمَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِی مَطَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمِثْلِ ذَلِکَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت خاموشی اختیار کرنے کا بیان
(١٨٤٦٩) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ اگر دشمن سے ملاقات ہو ہی جائے تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ اگر وہ شور شرابا کریں تو تم خاموشی کو لازم پکڑو۔
(١٨٤٦٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا الْعَافِیَۃَ فَإِنْ لَقِیتُمُوہُمْ فَاثْبُتُوا وَأَکْثِرُوا ذَکَرَ اللَّہِ فَإِنْ أَجْلَبُوا وَصَیَّحُوا فَعَلَیْکُمْ بِالصَّمْتِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت نعرہ تکبیر لگانا
(١٨٤٧٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کے وقت نعرہ تکبیر لگایا۔ جب وہ اپنے کھیتی باڑی کرنے کے آلات لے کر نکلے۔ جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو قلعے کی جانب بھاگ گئے اور کہنے لگے : محمد اور لشکر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے، پھر فرمایا : اللہ اکبر، تین مرتبہ۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے گھر اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔
(١٨٤٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْہُذَلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : صَبَّحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ بُکْرَۃً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِی فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَائُ وا یَسْعَوْنَ إِلَی الْحِصْنِ وَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ۔ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : خَرِبَتْ خَیْبَرَ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت اشعار پڑھنے کی اجازت
(١٨٤٧١) ایاس بن سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ کیا۔ انھوں نے لمبی حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مویشیوں پر حملہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں ثنیہ پہاڑی پر چڑھ گیا اور مدینہ کی جانب متوجہ ہو کر تین آوازیں لگائیں۔ پھر لوگوں کے پیچھے تیر پھینکتا اور رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں۔ آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
اس میں ہے کہ ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر یہ کہہ رہے تھے :
اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں۔ اگر دشمن سے ملاقات ہوجائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ صحابہ نے جواب دیا : عامر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا رب تجھے معاف فرمائے۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا :
خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار۔ جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا۔
کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ کا ماہر اور بہادر۔
پھر اس نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کرلی اور حضرت علی (رض) نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اس کو قتل کردیا۔
اس میں ہے کہ ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر یہ کہہ رہے تھے :
اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں۔ اگر دشمن سے ملاقات ہوجائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ صحابہ نے جواب دیا : عامر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا رب تجھے معاف فرمائے۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا :
خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار۔ جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا۔
کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ کا ماہر اور بہادر۔
پھر اس نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کرلی اور حضرت علی (رض) نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اس کو قتل کردیا۔
(١٨٤٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْیَمَامِیُّ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ وَفِیہِ حِینَ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ثُمَّ قُمْتُ عَلَی ثَنِیَّۃٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَادَیْتُ ثَلاَثَۃَ أَصْوَاتٍ : یَا صَبَاحَاہْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِی آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِیہِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ
أَنَا ابْنُ الأَکْوَعْ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعْ
وَفِیہِ قَالَ : خَرَجْنَا إِلَی خَیْبَرَ فَجَعَلَ عَمِّی عَامِرٌ یَقُولُ :
تَاللَّہِ لَوْلاَ اللَّہُ مَا اہْتَدَیْنَا
وَمَا تَصَدَّقْنَا وَمَا صَلَّیْنَا
وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَیْنَا
فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
وَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا
فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ ہَذَا ؟ ۔ قَالُوا : عَامِرٌ قَالَ : غَفَرَ لَکَ رَبُّکَ ۔ وَفِیہِ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَیْبَرَ خَرَجَ مَرْحَبٌ یَخْطِرُ بِسَیْفِہِ وَہُوَ یَقُولُ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرَ أَنِّی مَرْحَبُ
شَاکِ السِّلاَحِ بَطَلَ مُجَرِّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
فَبَرَزَ لَہُ عَمِّی فَقَالَ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی عَامِرُ
شَاکِ السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ
ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی رُجُوعِ سَیْفِ عَامِرٍ عَلَی نَفْسِہِ وَخُرُوجِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَجَزِہِ وَقَتْلِہِ إِیَّاہُ وَقَدْ مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
أَنَا ابْنُ الأَکْوَعْ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعْ
وَفِیہِ قَالَ : خَرَجْنَا إِلَی خَیْبَرَ فَجَعَلَ عَمِّی عَامِرٌ یَقُولُ :
تَاللَّہِ لَوْلاَ اللَّہُ مَا اہْتَدَیْنَا
وَمَا تَصَدَّقْنَا وَمَا صَلَّیْنَا
وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَیْنَا
فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
وَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا
فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ ہَذَا ؟ ۔ قَالُوا : عَامِرٌ قَالَ : غَفَرَ لَکَ رَبُّکَ ۔ وَفِیہِ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَیْبَرَ خَرَجَ مَرْحَبٌ یَخْطِرُ بِسَیْفِہِ وَہُوَ یَقُولُ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرَ أَنِّی مَرْحَبُ
شَاکِ السِّلاَحِ بَطَلَ مُجَرِّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
فَبَرَزَ لَہُ عَمِّی فَقَالَ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی عَامِرُ
شَاکِ السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ
ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی رُجُوعِ سَیْفِ عَامِرٍ عَلَی نَفْسِہِ وَخُرُوجِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَجَزِہِ وَقَتْلِہِ إِیَّاہُ وَقَدْ مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت اشعار پڑھنے کی اجازت
(١٨٤٧٢) براء بن عا زب فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اے ابو عمارہ ! کیا آپ حنین کے دن بھاگ گئے تھے ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں بھاگے۔ لیکن قوم کے جلد باز لوگوں پر جب ہوازن نے تیر برسائے اور ابوسفیان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے : میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
(١٨٤٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ وَأَبُو حُذَیْفَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا أَبَا عُمَارَۃَ أَوَلَّیْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ لَمْ یُوَلِّ وَلَکِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْہُمْ ہَوَازِنُ وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِہِ الْبَیْضَائِ وَہُوَ یَقُولُ :
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنْ سُفْیَانَ ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ وَأَبُو حُذَیْفَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا أَبَا عُمَارَۃَ أَوَلَّیْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ لَمْ یُوَلِّ وَلَکِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْہُمْ ہَوَازِنُ وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِہِ الْبَیْضَائِ وَہُوَ یَقُولُ :
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنْ سُفْیَانَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت اشعار پڑھنے کی اجازت
(١٨٤٧٣) ابن اسحاق غزوہ موتہ میں حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کا قصہ ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں :
اے جنت تو ان کے قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حضرم کہتے ہیں : جب عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے :
اے جان ! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی یا کراہت سے لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالت اطمینان میں زندگی گزاری تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا۔
اے جان ! اگر تو قتل کردی گئی تو فوت ہوجائے گی۔ یہ موت کا چشمہ ہے جس کو تو ملی ہے اور جو تو نے خواہش کی تجھے دیا گیا۔ اگر تو نے یہ دونوں کام کرلیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ جعفر اور زید کا تھا۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کردیے گئے۔
اے جنت تو ان کے قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حضرم کہتے ہیں : جب عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے :
اے جان ! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی یا کراہت سے لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالت اطمینان میں زندگی گزاری تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا۔
اے جان ! اگر تو قتل کردی گئی تو فوت ہوجائے گی۔ یہ موت کا چشمہ ہے جس کو تو ملی ہے اور جو تو نے خواہش کی تجھے دیا گیا۔ اگر تو نے یہ دونوں کام کرلیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ جعفر اور زید کا تھا۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کردیے گئے۔
(١٨٤٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقِتَالِہِ فِی غَزْوَۃِ مُؤْتَۃَ قَالَ وَہُوَ یَقُولُ :
یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقْتِرَابُہَا
طَیِّبَۃٌ بَارِدَۃٌ شَرَابُہَا
وَالرُّومُ رُومٌ قَدْ دَنَا عَذَابُہَا
عَلَیَّ إِنْ لاَقَیْتُہَا ضِرَابُہَا
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ رَوَاحَۃَ قَالَ حِینَ أَخَذَ الرَّایَۃَ یَوْمَئِذٍ :
أَقْسَمْتُ یَا نَفْسِ لَتَنْزِلِنَّہْ
طَائِعَۃً أَوْ لَتُکْرَہِنَّہْ
إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّہْ
مَا لِی أَرَاکِ تَکْرَہِینَ الْجَنَّہْ
قَدْ طَالَ مَا قَدْ کُنْتِ مُطْمَئِنَّہْ
ہَلْ أَنْتِ إِلاَّ نُطْفَۃٌ فِی شَنَّہْ
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَالَ أَیْضًا :
یَا نَفْسِ إِلاَّ تُقْتَلِی تَمُوتِی
ہَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلِیتِ
وَمَا تَمَنَّیْتِ فَقَدْ أُعْطِیتِ
إِنْ تَفْعَلِی فِعْلَہُمَا ہُدِیتِ
وَإِنْ تَأَخَّرْتِ فَقَدْ شَقِیتِ
یُرِیدُ جَعْفَرًا وَزَیْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ ثُمَّ أَخَذَ سَیْفَہُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]
یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقْتِرَابُہَا
طَیِّبَۃٌ بَارِدَۃٌ شَرَابُہَا
وَالرُّومُ رُومٌ قَدْ دَنَا عَذَابُہَا
عَلَیَّ إِنْ لاَقَیْتُہَا ضِرَابُہَا
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ رَوَاحَۃَ قَالَ حِینَ أَخَذَ الرَّایَۃَ یَوْمَئِذٍ :
أَقْسَمْتُ یَا نَفْسِ لَتَنْزِلِنَّہْ
طَائِعَۃً أَوْ لَتُکْرَہِنَّہْ
إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّہْ
مَا لِی أَرَاکِ تَکْرَہِینَ الْجَنَّہْ
قَدْ طَالَ مَا قَدْ کُنْتِ مُطْمَئِنَّہْ
ہَلْ أَنْتِ إِلاَّ نُطْفَۃٌ فِی شَنَّہْ
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَالَ أَیْضًا :
یَا نَفْسِ إِلاَّ تُقْتَلِی تَمُوتِی
ہَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلِیتِ
وَمَا تَمَنَّیْتِ فَقَدْ أُعْطِیتِ
إِنْ تَفْعَلِی فِعْلَہُمَا ہُدِیتِ
وَإِنْ تَأَخَّرْتِ فَقَدْ شَقِیتِ
یُرِیدُ جَعْفَرًا وَزَیْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ ثُمَّ أَخَذَ سَیْفَہُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت اشعار پڑھنے کی اجازت
(١٨٤٧٤) ھنیدہ خزاعہ کے ایک فرد ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے۔ ایک شخص نے کہا : میں حق ادا کروں گا، اس نے تلوار کے کر دشمن سے لڑائی کرتے ہوئے کہا :
میں وہ آدمی ہوں جس نے اپنے خلیل سے بیعت کی ہے۔ جب ہم کھجور کے نیچے تھے۔ میں بزدلی سے نہ رہوں گا۔ میں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار چلاتا رہوں گا دوسروں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ آخر کار وہ شھید ہوگئے۔
میں وہ آدمی ہوں جس نے اپنے خلیل سے بیعت کی ہے۔ جب ہم کھجور کے نیچے تھے۔ میں بزدلی سے نہ رہوں گا۔ میں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار چلاتا رہوں گا دوسروں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ آخر کار وہ شھید ہوگئے۔
(١٨٤٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ ہُنَیْدَۃَ رَجُلاً مِنْ خُزَاعَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ یَأْخُذُ ہَذَا السَّیْفَ بِحَقِّہِ ۔ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا قَالَ : فَأَخَذَہُ فَلَمَّا لَقِیَ الْعَدُوَّ جَعَلَ یَقُولُ :
إِنِّی امْرُؤٌ بَایَعَنِی خَلِیلِی
وَنَحْنُ عِنْدَ أَسْفَلِ النَّخِیلِ
أَنْ لاَ أَقُومَ الدَّہْرَ فِی الْکَیُولِ
أَضْرِبْ بِسَیْفِ اللَّہِ وَالرَّسُولِ
زَادَ غَیْرُہُ فِیہِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
إِنِّی امْرُؤٌ بَایَعَنِی خَلِیلِی
وَنَحْنُ عِنْدَ أَسْفَلِ النَّخِیلِ
أَنْ لاَ أَقُومَ الدَّہْرَ فِی الْکَیُولِ
أَضْرِبْ بِسَیْفِ اللَّہِ وَالرَّسُولِ
زَادَ غَیْرُہُ فِیہِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت صف بنانے کا بیان
(١٨٤٧٥) حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا، جب ہم نے قریش کے لیے اور انھوں نے ہمارے لیے صف بندی کی کہ جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو ان کو تیر مارو۔ یہ فضل کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابواحمد اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں : (اذا کثبو کم) یعنی جب وہ زیادہ تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیر برساؤ اور اپنے تیروں کو بچا کر رکھو۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ صحیح لفظ أکثبو کم ہے۔
(١٨٤٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ الْغَسِیلِ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ
(ح) قَالَ إِبْرَاہِیمُ وَحَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِیلِ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ حِینَ صَفَّنَا لِقُرَیْشٍ وَصَفُّوا لَنَا : إِذَا أَکْثَبُوکُمْ فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ الْفَضْلِ وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِی حَدِیثِہِ : إِذَا کَثَبُوکُمْ ۔ یَعْنِی أَکْثَرُوکُمْ : فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَکُمْ ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصَّحِیحُ : إِذَا أَکْثَبُوکُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ وَعَنْ أَبِی یَحْیَی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٩٠٠۔ ٣٩٨٤]
(ح) قَالَ إِبْرَاہِیمُ وَحَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِیلِ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ حِینَ صَفَّنَا لِقُرَیْشٍ وَصَفُّوا لَنَا : إِذَا أَکْثَبُوکُمْ فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ الْفَضْلِ وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِی حَدِیثِہِ : إِذَا کَثَبُوکُمْ ۔ یَعْنِی أَکْثَرُوکُمْ : فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَکُمْ ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصَّحِیحُ : إِذَا أَکْثَبُوکُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ وَعَنْ أَبِی یَحْیَی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٩٠٠۔ ٣٩٨٤]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت تلوار سونتنے کا بیان
(١٨٤٧٦) مالک بن حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیر برساؤ اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں۔ تلواریں نہ سو نتو۔
(١٨٤٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَجِیحٍ وَلَیْسَ بِالْمَلَطِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ : إِذَا أَکْثَبُوکُمْ فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ وَلاَ تَسُلُّوا السُّیُوفَ حَتَّی یَغْشُوکُمْ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت لڑائی کے وقت پیدل چلنے کے بارہ میں
(١٨٤٧٧) ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے کہا : اے ابو عمارہ ! کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں بھاگے۔ لیکن نوجوان جن کے پاس اسلحہ کی کمی یا زیادتی تھی۔ ان کو تیر انداز لوگ ملے۔ انھوں نے ان پر تیر برسائے۔ جن کا نشانہ خطا نہیں تھا اور انھوں نے ان کے ھوازن اور بنو نضر کے جمع شدہ حصے ختم ہونے کے قریب نہ تھے۔ پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجے ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سفید خچر پر سوار تھے۔ ابو سفیان بن حاث بن عبد المطلب اس کو چلا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اتر پڑے اور فرمایا : میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔
(١٨٤٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَبَا عُمَارَۃَ أَکُنْتُمْ فَرَرْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ فَقَالَ : لاَ وَاللَّہِ مَا وَلَّی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَکِنَّہُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِہِ وَأَخِفَّاؤُہُمْ حُسَّرًا لَیْسَ عَلَیْہِمْ سِلاَحٌ أَوْ کَثِیرُ سِلاَحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاۃً لاَ یَکَادُ یَسْقُطُ لَہُمْ سَہْمٌ جَمْعُ ہَوَازِنَ وَبَنِی نَصْرٍ فَرَشَقُوہُمْ رَشْقًا لاَ یَکَادُونَ یُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا ہُنَاکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَغْلَتِہِ الْبَیْضَائِ وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَقُودُ بِہِ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ :
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ثُمَّ صَفَّہُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُہَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح ]
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ثُمَّ صَفَّہُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُہَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت تکبر کا اظہار کرنے کا بیان
(١٨٤٧٨) جابر بن عتیک فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض اوقات غیرت کو اللہ پسند فرماتے ہیں اور بعض اوقات اللہ کو غیرت پسند نہیں ہوتی۔ وہ غیرت جسے اللہ رب العزت پسند کرتے ہیں شک کے بارے میں اور وہ غیرت جو اللہ کو ناپسند ہے جو بغیر شک کے کی جائے اور اللہ رب العزت اس تکبر کو پسند کرتے ہیں جو لڑائی کے موقع پر انسان زختیار کرتا ہے یا صدقہ کے وقت تکبر کرنا اور وہ فخر جس کو اللہ ناپسند کرتے ہیں کہ انسان اپنے بارے میں فخر اور تکبر اختیار کرے۔
(١٨٤٧٨) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ مِنَ الْغَیْرَۃِ مَا یُحِبُّہَا اللَّہُ وَمِنْہَا مَا یُبْغِضُ اللَّہُ فَأَمَّا الْغَیْرَۃُ الَّتِی یُحِبُّ اللَّہُ فَالْغَیْرَۃُ فِی الرِّیبَۃِ وَأَمَّا الْغَیْرَۃُ الَّتِی یُبْغِضُ فَالْغَیْرَۃُ فِی غَیْرِ رِیبَۃٍ وَأَمَّا الْخُیَلاَئُ الَّتِی یُحِبُّہَا اللَّہُ فَاخْتِیَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِہِ عِنْدَالْقِتَالِ وَاخْتِیَالُہُ عِنْدَالصَّدَقَۃِ وَالْخُیَلاَئُ الَّتِی یُبْغِضُ اللَّہُ فَاخْتِیَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِہِ فِی الْفَخْرِ وَالْخُیَلاَئِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظالم بادشاہوں کے خلاف جہاد کرنے کا بیان
(١٨٤٧٩) عروہ بارقی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی باندھی گئی ہے، یعنی ثواب اور غنیمت۔ یہ ابو نعیم کی حدیث کے لفظ ہیں، لیکن ازرق کی روایت میں الاجر والغنیمۃ کے الفاظ نہیں ہیں۔
(١٨٤٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ تَمِیمِ بْنِ سَیَّارٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ الأَجْرُ وَالْغَنِیمَۃُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی نُعَیْمٍ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الأَزْرَقِ : الأَجْرُ وَالْغَنِیمَۃُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ زَکَرِیَّا۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ تَمِیمِ بْنِ سَیَّارٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَۃَ الْبَارِقِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ الأَجْرُ وَالْغَنِیمَۃُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی نُعَیْمٍ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الأَزْرَقِ : الأَجْرُ وَالْغَنِیمَۃُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ زَکَرِیَّا۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظالم بادشاہوں کے خلاف جہاد کرنے کا بیان
(١٨٤٨٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں : 1 اس سے رک جانا جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر نہ کہے عمل کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ کہے۔ 2 جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ جب سے اللہ نے مجھے مبعوث کیا ہے اور میری امت کا آخری فرد دجال سے جہاد کرے گا۔ کسی عادل کا عدل اور کسی ظالم کا ظلم اسے باطل نہ کرے گا۔ 3 تقدیر پر ایمان لانا۔ (ب) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر نیک وبد امیر کے ساتھ جہاد واجب ہے۔
(١٨٤٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی نُشْبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ثَلاَثٌ مِنْ أَصْلِ الإِیمَانِ الْکَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ لاَ یُکَفِّرُہُ بِذَنْبٍ وَلاَ یُخْرِجُہُ مِنَ الإِسْلاَمِ بِعَمَلٍ وَالْجِہَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی أَنْ یُقَاتِلَ آخَرُ أُمَّتِی الدَّجَّالَ لاَ یُبْطِلُہُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ وَالإِیمَانُ بِالأَقْدَارِ ۔
وَحَدِیثُ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الْجِہَادُ وَاجِبٌ عَلَیْکُمْ مَعَ کُلِّ أَمِیرٍ بَرًّا کَانَ أَوْ فَاجِرًا۔ قَدْ مَضَی فِی بَابِ الإِمَامَۃِ وَکِتَابِ الْجَنَائِزِ ۔ [ضعیف ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی نُشْبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ثَلاَثٌ مِنْ أَصْلِ الإِیمَانِ الْکَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ لاَ یُکَفِّرُہُ بِذَنْبٍ وَلاَ یُخْرِجُہُ مِنَ الإِسْلاَمِ بِعَمَلٍ وَالْجِہَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی أَنْ یُقَاتِلَ آخَرُ أُمَّتِی الدَّجَّالَ لاَ یُبْطِلُہُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ وَالإِیمَانُ بِالأَقْدَارِ ۔
وَحَدِیثُ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الْجِہَادُ وَاجِبٌ عَلَیْکُمْ مَعَ کُلِّ أَمِیرٍ بَرًّا کَانَ أَوْ فَاجِرًا۔ قَدْ مَضَی فِی بَابِ الإِمَامَۃِ وَکِتَابِ الْجَنَائِزِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক: