আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৪৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کا جاسوس بھیجنے کا بیان
(١٨٤٤١) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کے دن لوگوں کو آواز دی تو حضرت زبیر (رض) نے لبیک کہا۔ پھر دوسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو پکارا تو زبیر (رض) نے لبیک کہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی تو زبیر (رض) نے لبیک کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کے لیے ایک مخلص ساتھی ہوتا ہے اور میرا مخلص ساتھی زبیر (رض) ہے۔ (ب) ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں میرا حواری زبیر (رض) اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔
(١٨٤٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : نَدَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النَّاسَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَیْرُ ثُمَّ نَدَبَہُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَیْرُ ثُمَّ نَدَبَہُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَیْرُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ فِیہِ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ : وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ وَابْنُ عَمَّتِی ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کا جاسوس بھیجنے کا بیان
(١٨٤٤٢) ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پا لیتا تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کرلیتا تو حذیفہ نے کہا : کیا تو یہ کام کرے گا۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا : اے حذیفہ ! ہمارے پاس قوم کی خبر لیکر آؤ۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام لیکر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا : قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا۔ کہتے ہیں : میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابو سفیان کے قریب آیا : تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا۔ میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات یاد آگئی کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کرسکتا تھا۔ کہتے ہیں : میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ جب میں اپنے کام سے فارغ ہوچکا تھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سونے والے ! اٹھ جا۔
(١٨٤٤٢) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَاتَلْتُ مَعَہُ وَأَبْلَیْتُ فَقَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ : أَنْتَ کُنْتَ تَفْعَلُ ذَاکَ لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیْلَۃَ الأَحْزَابِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتَ رِیحٍ شَدِیدَۃٍ وَقُرٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَلاَ رَجُلٌ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ یَکُونُ مَعِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَلَمْ یُجِبْہُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ الثَّانِیَۃَ مِثْلَہُ ثُمَّ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِی بِاسْمِی أَنْ أَقُومَ فَقَالَ : ائْتِنِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلاَ تَذْعَرْہُمْ عَلَیَّ ۔ قَالَ : فَمَضَیْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ حَتَّی أَتَیْتُہُمْ فَإِذَا أَبُو سُفْیَانَ یَصْلِی ظَہْرَہُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَہْمِی فِی کَبِدِ قَوْسِی وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِیَہُ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَذْعَرْہُمْ عَلَیَّ ۔ وَلَوْ رَمَیْتُہُ لأَصَبْتُہُ قَالَ : فَرَجَعْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ أَصَابَنِی الْبَرْدُ حِینَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَلْبَسَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ فَضْلِ عَبَائَ ۃٍ کَانَتْ عَلَیْہِ یُصَلِّی فِیہَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّی الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا نَوْمَانُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٨]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرے کی فضلیت کا بیان
(١٨٤٤٣) ابو کبشہ سلولی نے سھل بن حنظلہ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حنین کے دن وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شام تک چلے۔ نماز کا وقت ہوگیا تو ایک سوار شخص آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں آپ کے آگے فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا کہ اچانک بنو ھوازن نے اپنے والدین، چوپائے اور بکریوں کو حنین میں جمع کر رکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا : ان شاء اللہ یہ کل مسلمانوں کے لیے مال غنیمت ہوگا۔ پھر کہا : آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا تو ابوانس بن ابومرثد غنوی نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں پہرہ دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ہوجا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ اس سامنے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائیں تو آپ کی جانب سے ہم پر آج رات کوئی حملہ نہ کرلے۔ جب ہم نے صبح کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر پوچھا : کیا تم نے اپنے شاہسوار کو محسوس کیا ہے تو ایک شخص نے کہا : ہم نے محسوس نہیں کیا تو نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مڑ مڑ کر اس گھاٹی کی طرف دیکھتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی اور فرمایا : خوش ہوجاؤ۔ تمہارا شاہسوار آگیا ہے تو ہم درختوں کے درمیان سے دیکھ رہے تھے کہ اچانک اس نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہو کر سلام کہا۔ اس نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق اس گھاٹی کی چوٹی پر پہنچا۔ جب میں نے صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں کے درمیان نظر دوڑائی۔ میں نے کسی کو نہ دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو رات کو نیچے اترا تھا۔ اس نے کہا : نماز اور قضائے حاجت کے علاوہ نہیں اترا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے جنت کو واجب کرلیا ہے تیرے اوپر کوئی حرج نہیں اگر اس کے بعد عمل نہ بھی کرے۔
(١٨٤٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنِی أَبُو کَبْشَۃَ السَّلُولِیُّ : أَنَّہُ سَمِعَ سَہْلَ ابْنَ الْحَنْظَلِیَّۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَذْکُرُ أَنَّہُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ حُنَیْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّیْرَ حَتَّی کَانَ عَشِیَّۃً فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَائَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی انْطَلَقْتُ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ حَتَّی طَلَعْتُ جَبَلَ کَذَا وَکَذَا فَإِذَا أَنَا بِہَوَازِنَ عَلَی بَکْرَۃِ أَبِیہِمْ بِظُعُنِہِمْ وَنَعَمِہِمْ وَشَائِہِمْ فَاجْتَمَعُوا إِلَی حُنَیْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : تِلْکَ غَنِیمَۃٌ لِلْمُسْلِمِینَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔

ثُمَّ قَالَ : مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ ۔ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ : ارْکَبْ ۔ فَرَکِبَ فَرَسًا لَہُ فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اسْتَقْبِلْ ہَذَا الشِّعْبَ حَتَّی تَکُونَ فِی أَعْلاَہُ وَلاَ نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِکَ اللَّیْلَۃَ ۔ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی مُصَلاَّہُ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ : ہَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَکُمْ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ : مَا حَسَسْنَا فَثُوِّبَ بِالصَّلاَۃِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَلْتَفِتُ إِلَی الشِّعْبِ حَتَّی قَضَی صَلاَتَہُ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَبْشِرُوا فَقَدْ جَائَ فَارِسُکُمْ ۔ قَالَ : فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَی خِلاَلِ الشَّجَرِ فِی الشِّعْبِ فَإِذَا ہُوَ قَدْ جَائَ حَتَّی وَقَفَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّی انْطَلَقْتُ حَتَّی کُنْتُ فِی أَعْلَی ہَذَا الشِّعْبِ حَیْثُ أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اطَّلَعْتُ عَلَی الشِّعْبَیْنِ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : نَزَلْتَ اللَّیْلَۃَ ۔ قَالَ : لاَ إِلاَّ مُصَلِّیًا أَوْ قَاضِیَ حَاجَۃٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَدْ أَوْجَبْتَ فَلاَ عَلَیْکَ أَنْ لاَ تَعْمَلَ بَعْدَہَا ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرے کی فضلیت کا بیان
(١٨٤٤٤) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں لیلۃ القدر سے فضیلت والی رات نہ بتاؤں ؟ پھر فرمایا : خوف والی زمین پر پہرہ دینا کہ وہ اپنے اہل کے پاس واپس نہ آسکے۔
(١٨٤٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِلَیْلَۃٍ أَفْضَلَ مِنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ حَارِسٌ حَرَسَ فِی أَرْضِ خَوْفٍ لَعَلَّہُ أَنْ لاَ یَرْجِعَ إِلَی أَہْلِہِ ۔ رَفَعَہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ وَوَقَفَہُ وَکِیعٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرے کی فضلیت کا بیان
(١٨٤٤٥) ابوریحانہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے۔ ایک چوٹی پر چڑھے تو ہمیں سخت سردی لگی۔ ہم گڑھے کھود کر ان کے اندر داخل ہوگئے اور سروں کو چمڑے کی ڈھال سے ڈھانپ لیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا : کوئی شخص ہے جو آج رات ہمارا پہرہ دے تو میں اللہ سے اس کے لیے دعا کروں گا۔ جس کی وجہ سے اس کو فضیلت نصیب ہوگی تو ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں پہرہ دیتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا کی۔ ابو ریحانہ کہتے ہیں : میں بھی پہرہ دیتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصاری کی دعا کے علاوہ میرے لیے کوئی دوسری دعا دی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آنکھ سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے آنسو بہہ گئے، اس پر جہنم حرام اور ایسی آنکھ جو اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتے ہوئے بیدار رہتی ہے اس پر بھی جہنم کی آگ حرام۔ راوی کہتے ہیں : میں تیسری چیز بھول گیا۔ ابوشریح کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمن بن شریح کے پاس تھے۔ میں نے اس کے بعد ان سے سنا کہ وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے محفوظ رہے اس پر بھی جہنم کی آگ حرام یا جو آنکھ اللہ کے راستہ میں پھوڑ دی جائے اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے۔
(١٨٤٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُمَیْرٍ عَنْ أَبِی عَلِیٍّ الْجَنْبِیِّ عَنْ أَبِی رَیْحَانَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ فَأَوْفَی بِنَا عَلَی شَرَفٍ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِیدٌ حَتَّی إِذَا کَانَ أَحَدُنَا یَحْفِرُ الْحَفِیرَ ثُمَّ یَدْخُلُ فِیہِ وَیُغَطِّی عَلَیْہِ بِحَجَفَتِہِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ذَلِکَ مِنَ النَّاسِ قَالَ : أَلاَ رَجُلٌ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ أَدْعُو اللَّہَ لَہُ بِدُعَائٍ یُصِیبُ بِہِ فَضْلاً ۔ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ : أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَدَعَا لَہُ ۔ قَالَ أَبُو رَیْحَانَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتُ : أَنَا فَدَعَا لِی بِدُعَائٍ ہُوَ دُونَ مَا دَعَا بِہِ لِلأَنْصَارِیِّ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَی عَیْنٍ دَمَعَتْ مِنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَی عَیْنٍ سَہِرَتْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَ وَنَسِیتُ الثَّالِثَۃَ قَالَ أَبُو شُرَیْحٍ وَہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَیْحٍ وَسَمِعْتُہُ بَعْدُ أَنَّہُ قَالَ : حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَی عَیْنٍ غُضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللَّہِ أَوْ عَیْنٍ فُقِئَتْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرے کی فضلیت کا بیان
(١٨٤٤٦) قیس بن حارث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہر ہ دینے والے شخص پر اللہ رحم فرمائے۔
(١٨٤٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَمِیلٍ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ قَیْسِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ حَارِسَ الْحَرَسِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرے کی فضلیت کا بیان
(١٨٤٤٧) خالی
(١٨٤٤٧) وَرُوِیَ عَنِ الدَّرَاوَرْدِیِّ عَنْ صَالِحٍ عَنْ عُمَرَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ الأَہْوَازِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ فَذَکَرَہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہرہ دار کی نماز کا بیان
(١٨٤٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ ذات رقاع میں نکلے۔ انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا تو مہاجرین اور انصار میں سے ایک ایک نے حامی بھری۔ ان دونوں نے کہا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم گھاٹی کے منہ پر پہرہ دیں گے۔ جب وہ دونوں گھاٹی پر پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے کہا : رات کے پہلے پہر یا آخری پہر پہرہ دو گے۔ اس نے کہا : میں رات کے ابتدائی حصہ میں پہرہ دوں گا تو مہاجر لیٹ کر سو گیا۔ جبکہ انصاری نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔
(١٨٤٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی صَدَقَۃُ بْنُ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَنْزِلاً فَقَالَ : مَنْ رَجُلٌ یَکْلَؤُنَا لَیْلَتَنَا ہَذِہِ ۔ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالاَ : نَحْنُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَکُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ ۔ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَا إِلَی فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الأَنْصَارِیُّ لِلْمُہَاجِرِیِّ أَیُّ اللَّیْلِ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أَکْفِیکَہُ أَوَّلَہُ أَوْ آخِرَہُ ۔ قَالَ : بَلِ اکْفِنِی أَوَّلَہُ فَاضْطَجَعَ الْمُہَاجِرِیُّ فَنَامَ وَقَامَ الأَنْصَارِیُّ یُصَلِّی۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غزوے کا ارادہ کرے پھر اشارہ کسی دوسری جانب کا دے
(١٨٤٤٩) حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں : جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہ گئے۔ انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو اشارہ کسی اور جانب کرتے، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توریہ فرماتے تھے۔
(١٨٤٤٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُرِیدُ غَزْوَۃً یَغْزُوہَا إِلاَّ وَرَّی بِغَیْرِہَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غزوے کا ارادہ کرے پھر اشارہ کسی دوسری جانب کا دے
(١٨٤٥٠) کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کم ہی ایسا کرتے کہ جب غزوے کا ارادہ فرماتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توریہ کرلیتے۔ جب غزوہ تبوک کا موقع آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سخت گرمی، لمبا سفر اور کثیر دشمن کا سامنا کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے لیے یہ بات واضح کردی تاکہ وہ اپنے دشمن کے لیے تیاری کرلیں اور ان کو صحیح سمت کی خبر دی۔
(١٨٤٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : : کَانَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَلَّ مَا یُرِیدُ غَزْوَۃً یَغْزُوہَا إِلاَّ وَرَّی بِغَیْرِہَا حَتَّی کَانَتْ غَزْوَۃُ تَبُوکَ فَغَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی حَرٍّ شَدِیدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا کَثِیرًا فَجَلَّی لِلْمُسْلِمِینَ أَمْرَہُمْ لِیَتَأَہَّبُوا أُہْبَۃَ عَدُوِّہِمْ وَأَخْبَرَہُمْ بِوَجْہِہِ الَّذِی یُرِیدُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ نَحْوَ إِسْنَادِ عُقَیْلٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غزوے کا ارادہ کرے پھر اشارہ کسی دوسری جانب کا دے
(١٨٤٥١) عبد الرحمن بن کعب بن مالک (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوے کا ارادہ فرماتے تو توریہ کرتے اور فرماتے : لڑائی دھوکا ہے۔
(١٨٤٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَۃً وَرَّی بِغَیْرِہَا وَکَانَ یَقُولُ : الْحَرْبُ خَدْعَۃٌ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غزوے کا ارادہ کرے پھر اشارہ کسی دوسری جانب کا دے
(١٨٤٥٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لڑائی دھوکا ہے۔
(١٨٤٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ وَیَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْحَرْبُ خَدْعَۃٌ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْفَضْلِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَزُہَیْرٍ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غزوے کا ارادہ کرے پھر اشارہ کسی دوسری جانب کا دے
(١٨٤٥٣) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کا نام دھوکا رکھا ہے۔
(١٨٤٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّہُ سَمَّی الْحَرْبَ خَدْعَۃً ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو غزوے کا ارادہ کرے پھر اشارہ کسی دوسری جانب کا دے
(١٨٤٥٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو فتح کیا تو حجاج بن علاط نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مکہ میں میرا مال اور اہل تھا اور میں ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اگر میں آپ سے کوئی چیز حاصل کرلوں تو آپ نے اس کو اجازت دے دی کہ کہہ لے جو چاہے۔ راوی کہتے ہیں : وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا : میرے لیے اپنا تمام مال جمع کر دو ، کیونکہ میں محمد اور ان کے ساتھیوں کے مال غنیمت کو خریدنا چاہتا ہوں۔ بیشک ان کے مالوں کو حاصل کرنا جائز رکھا گیا ہے۔ اس نے یہ بات مکہ میں عام کردی۔ مسلمان چھپ گئے اور مشرکوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ خبر عباس بن عبد المطلب کو پہنچی جو زخمی ہونے کی وجہ سے اٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔

مقسم بیان کرتے ہیں کہ عباس (رض) نے اپنے بیٹے کو لیا جس کو قثم کہا جاتا تھا اور اس کو لٹا کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا۔

میرا محبوب قثم معزز اور بڑے آدمی کی طرح ہے۔ میرا نبی نعمتوں والا ہے جو اس کو رسوا کرنا چاہے خود ہوتا ہے۔

انس (رض) کہتے ہیں کہ عباس بن عبد المطلب نے اپنے غلام کو حجاج بن علاط کے پاس بھیجا کہ تو کیسی خبر لایا ہے اور تو کیا کہتا ہے ؟ کیا اللہ کا وعدہ بہتر نہیں ہے اس سے جو تو خبر لے کے آیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حجاج بن علاط نے اس کے غلام سے کہا کہ ابو الفضل کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہو : گھر کا کوئی حصہ خالی رکھو، میں ان کے پاس آتا ہوں۔ ایسی خبر لے کر جو ان کو خوش کر دے۔ غلام آیا جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو کہا : اے ابو الفضل ! خوش ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : عباس (رض) خوشی سے کودے یہاں تک کہ اس کی پیشانی کا بوسہ لیا تو اس نے عباس کو خبر دی جو حجاج نے کہا تھا۔ عباس نے غلام کو آزاد کردیا۔ پھر حجاج آگیا۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کرلیا ہے۔ ان کے مال بطور غنیمت حاصل کیے ہیں اور ان کے مالوں میں اللہ کے حصے جاری ہوگئے ہیں اور صفیہ بنت حیئی کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے انتخاب کیا ہے اور اسے اختیار دیا کہ آزادی کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی بن جائے یا اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائے تو اس نے آزادی کے بعد بیوی بننا پسند کیا ہے۔ میں تو اپنا مال لینے آیا ہوں۔ میرا تو ارادہ تھا کہ میں جمع کر کے اپنا مال لے جاؤں۔ میں نے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ کہنے کی اجازت مانگی تھی۔ میری بات کو تین دن تک پوشیدہ رکھنا۔ پھر ذکر دینا تو اس کی بیوی نے زیور، سامان جمع کر کے اس کو دے دیا۔ تین دن کے بعد عباس (رض) حجاج کی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا : تیرے خاوند نے کیا کیا ہے ؟ اس نے خبر دی کہ وہ فلاں فلاں دن چلا گیا ہے اور کہنے لگی : اے ابو الفضل ! اللہ آپ کو غم گین نہ کرے۔ ہمارے اوپر بھی وہ خبر شاق گزری جو آپ کو ملی۔ کہنے لگے : اللہ نے مجھے غم نہیں دیا۔ وہی ہوا جو ہم چاہتے تھے۔ اللہ رب العزت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیبر میں فتح دی اور اللہ کے حصے اس میں جاری ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کا اپنے لیے انتخاب کیا۔ اگر تجھے اپنے خاوند کی ضرورت ہے تو ان سے جا ملو۔ کہتی ہے کہ میرا گمان آپ کے بارے میں یہی ہے کہ اللہ کی قسم ! آپ سچے ہیں۔ عباس (رض) کہتے ہیں : میں سچا ہوں اور معاملہ اسی طرح ہے جیسے میں نے تجھے خبر دی ہے۔ پھر وہ قریش کی مجلس کے پاس آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے ابو الفضل ! آپ کو بھلائی پہنچی ہے۔ عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ کی توفیق سے مجھے بھلائی ملی ہے کہ حجاج بن علاط نے مجھے بتایا تھا کہ اللہ نے خیبر کو فتح کردیا ہے اور اللہ کے حصے جاری ہوگئے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کا انتخاب اپنے لیے کیا ہے۔ اس نے مجھ سے تین دن تک بات کو پوشیدہ رکھنے کا سوال کیا تھا۔ وہ تو صرف یہاں پر اپنا موجود مال لینے کیلئے آیا تھا جو لیکر چلا گیا۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کے اندر پایا جانے والا غم دور کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ مسلمان جو غم کے مارے اپنے گھروں میں داخل ہوگئے تھے، وہ عباس (رض) کے پاس آئے تو عباس (رض) نے ان کو بتایا اور مسلمان خوش ہوگئے۔ اللہ رب العزت نے ان کے اندر پایا جانے والا غصہ اور غم ختم کردیا۔
(١٨٤٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلاَطٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی بِمَکَّۃَ مَالاً وَإِنَّ لِی بِہَا أَہْلاً وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ آتِیَہُمْ فَأَنَا فِی حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْکَ شَیْئًا فَأَذِنَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَقُولَ مَا شَائَ قَالَ فَأَتَی امْرَأَتَہُ حِینَ قَدِمَ فَقَالَ : اجْمَعِی لِی مَا کَانَ عِنْدَکِ فَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَشْتَرِیَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِہِ فَإِنَّہُمْ قَدِ اسْتُبِیحُوا وَأُصِیبَتْ أَمْوَالُہُمْ قَالَ وَفَشَا ذَلِکَ بِمَکَّۃَ فَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَظْہَرَ الْمُشْرِکُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقِرَ وَجَعَلَ لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَقُومَ قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِی عُثْمَانُ الْجَزَرِیُّ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَہُ یُقَالَ لَہُ قُثَمُ وَاسْتَلْقَی فَوَضَعَہُ عَلَی صَدْرِہِ وَہُوَ یَقُولُ

حِبِّی قُثَمْ شَبِیہُ ذِی الأَنْفِ الأَشَمْ

نَبِیِّ ذِی النَّعَمْ بِرَغْمِ مَنْ رَغَمْ

قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ فِی حَدِیثِہِ : ثُمَّ أَرْسَلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ غُلاَمًا لَہُ إِلَی الْحَجَّاجِ بْنِ عِلاَطٍ وَیْلَکَ مَاذَا جِئْتَ بِہِ وَمَاذَا تَقُولُ فَمَا وَعَدَ اللَّہُ خَیْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِہِ قَالَ فَقَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلاَطٍ لِغُلاَمِہِ : اقْرَأْ عَلَی أَبِی الْفَضْلِ السَّلاَمَ وَقُلْ لَہُ فَلْیَخْلُ لِی فِی بَعْضِ بُیُوتِہِ لآتِیَہُ فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَی مَا یَسُرُّہُ فَجَائَ غُلاَمُہُ فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ قَالَ : أَبْشِرْ یَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ : فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّی قَبَّلَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ الْحَجَّاجُ فَأَعْتَقَہُ ثُمَّ جَائَ ہُ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِ افْتَتَحَ خَیْبَرَ وَغَنِمَ أَمْوَالَہُمْ وَجَرَتْ سِہَامُ اللَّہِ فِی أَمْوَالِہِمْ وَاصْطَفَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ وَاتَّخَذَہَا لِنَفْسِہِ وَخَیَّرَہَا أَنْ یُعْتِقَہَا وَتَکُونَ زَوْجَتَہُ أَوْ تَلْحَقَ بِأَہْلِہَا فَاخْتَارَتْ أَنْ یُعْتِقَہَا وَتَکُونَ زَوْجَتَہُ وَلَکِنِّی جِئْتُ لِمَالٍ کَانَ لِی ہَا ہُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَہُ فَأَذْہَبَ بِہِ فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَذِنَ لِی أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ فَأخْفِ عَنِّی ثَلاَثًا ثُمَّ اذْکُرْ مَا بَدَا لَکَ قَالَ فَجَمَعَتِ امْرَأَتُہُ مَا کَانَ عِنْدَہَا مِنْ حُلِیٍّ أَوْ مَتَاعٍ فَدَفَعَتْہُ إِلَیْہِ ثُمَّ انْشَمَرَ بِہِ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ بِثَلاَثٍ أَتَی الْعَبَّاسُ امْرَأَۃَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ : مَا فَعَلَ زَوْجُکِ فَأَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ قَدْ ذَہَبَ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا وَقَالَتْ لاَ یَحْزُنْکَ اللَّہُ یَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ شَقَّ عَلَیْنَا الَّذِی بَلَغَکَ قَالَ أَجَلْ فَلاَ یُحْزِنُنِی اللَّہُ لَمْ یَکُنْ بِحَمْدِ اللَّہِ إِلاَّ مَا أَحْبَبْنَا فَتَحَ اللَّہُ خَیْبَرَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَجَرَتْ فِیہَا سِہَامُ اللَّہِ وَاصْطَفَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَفِیَّۃَ لِنَفْسِہِ فَإِنْ کَانَ لَکِ فِی زَوْجِکِ حَاجَۃً فَالْحَقِی بِہِ قَالَتْ : أَظُنُّکَ وَاللَّہِ صَادِقًا قَالَ : فَإِنِّی صَادِقٌ وَالأَمْرُ عَلَی مَا أُخْبِرُکِ قَالَ ثُمَّ ذَہَبَ حَتَّی أَتَی مَجْلِسَ قُرَیْشٍ وَہُمْ یَقُولُونَ إِذَا مَرَّ بِہِمْ : لاَ یُصِیبُکَ إِلاَّ خَیْرٌ یَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ : لَمْ یُصِبْنِی إِلاَّ خَیْرٌ بِحَمْدِ اللَّہِ قَدْ أَخْبَرَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ عِلاَطٍ أَنَّ خَیْبَرَ فَتَحَہَا اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَجَرَتْ فِیہَا سِہَامُ اللَّہِ وَاصْطَفَی صَفِیَّۃَ لِنَفْسِہِ وَقَدْ سَأَلَنِی أَنْ أُخْفِیَ عَلَیْہِ ثَلاَثًا وَإِنَّمَا جَائَ لِیَأْخُذَ مَالَہُ وَمَا کَانَ لَہُ مِنْ شَیْئٍ ہَا ہُنَا ثُمَّ یَذْہَبُ قَالَ فَرَدَّ اللَّہُ الْکَآبَۃَ الَّتِی کَانَتْ فِی الْمُسْلِمِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ قَالَ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَنْ کَانَ دَخَلَ بَیْتَہُ مُکْتَئِبًا حَتَّی أَتَوُا الْعَبَّاسَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَہُمْ وَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ وَرَدَّ اللَّہُ مَا کَانَ فِیہِمْ مِنْ غَیْظٍ وَحُزْنٍ ۔

[صحیح۔ اخرجہ عبد الرزاق ٩٧٧١۔ احمد ١٢٠٠١]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر کے لیے جمعرات کے دن نکلنے کا بیان
(١٨٤٥٥) حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی سفر کے لیے نکلتے تو جمعرات کے دن سفر کا آغاز کرتے۔
(١٨٤٥٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ : قَلَّ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَخْرُجُ فِی سَفَرٍ إِذَا خَرَجَ إِلاَّ یَوْمَ الْخَمِیسِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٩٤٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کے وقت سفر کا آغاز کرنے کا بیان
(١٨٤٥٦) صخر غامدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت ڈال دے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی لشکر روانہ فرماتے تو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے اور صخر تاجر آدمی تھا وہ اپنے غلاموں کو صبح کے وقت بھیجتا تھا۔ اس کا مال اتنا زیادہ تھا کہ رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔
(١٨٤٥٥) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَۃَ بْنَ حَدِیدٍ یُحَدِّثُ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : اللَّہُمَّ بَارِکْ لأُمَّتِی فِی بُکُورِہَا ۔ قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً بَعَثَہَا مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ وَکَانَ صَخْرٌ رَجُلاً تَاجِرًا وَکَانَ یُرْسِلُ غِلْمَانَہُ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ فَکَثُرُ مَالُہُ حَتَّی کَانَ لاَ یَدْرِی أَیْنَ یَضَعُہُ ۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن کو لشکر کے ساتھ ملنے کا حکم دیا جائے گا
(١٨٤٥٧) ابو ثعلبہ خثنی فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو لوگ وادیوں اور گھاٹیوں میں بکھر جاتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے۔ اس کے بعد جب بھی انھوں نے پڑاؤ کہا تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ یوں مل کر رہتے اگر ان پر ایک چادر ڈال دی جائے تو ان کو کافی ہو۔
(١٨٤٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْعَلاَئِ بْنِ زَبْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْکَمٍ أَبَا عُبَیْدِ اللَّہِ أَوْ قَالَ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَنْزِلاً تَفَرَّقُوا فِی الشِّعَابِ وَالأَوْدِیَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ تَفَرُّقَکُمْ فِی ہَذِہِ الشِّعَابِ وَالأَوْدِیَۃِ إِنَّمَا ذَلِکُمْ مِنَ الشَّیْطَانِ ۔ فَلَمْ یَنْزِلُوا بَعْدَ ذَلِکَ مَنْزِلاً إِلاَّ انْضَمَّ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ حَتَّی یُقَالَ لَوْ بُسِطَ عَلَیْہِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّہُمْ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن کو لشکر کے ساتھ ملنے کا حکم دیا جائے گا
(١٨٤٥٨) سھل بن معاذ جہنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر فلاں فلاں غزوہ کیا۔ لوگوں نے جگہ تنگ کردی اور راستہ بند کردیا تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں اعلان کروایا : جس نے جگہ کو تنگ کیا یا راستہ بند کیا اس کا کوئی جہاد نہیں ہے۔
(١٨٤٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَسِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِیِّ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ مُجَاہِدٍ اللَّخْمِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِیِّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزْوَۃَ کَذَا وَکَذَا فَضَیَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِیقَ فَبَعَثَ نَبِیُّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُنَادِیًا یُنَادِی فِی النَّاسِ : إِنَّ مَنْ ضَیَّقَ مَنْزِلاً أَوْ قَطَعَ طَرِیقًا فَلاَ جِہَادَ لَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن کو لشکر کے ساتھ ملنے کا حکم دیا جائے گا
(١٨٤٥٩) خالی۔
(١٨٤٥٩) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَسِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُہَیْنَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِنَحْوِہِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن کو لشکر کے ساتھ ملنے کا حکم دیا جائے گا
(١٨٤٦٠) خالی۔
(١٨٤٦٠) وَرَوَاہُ بَقِیَّۃُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ أَسِیدٍ عَنِ ابْنِ مُجَاہِدٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ نَبِیِّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَعْنَاہُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَذَکَرَہُ ۔
tahqiq

তাহকীক: